مشیر داخلہ کا بیان انتہائ مایوس کن

Posted by Anonymous on 10:51 AM


لاہور مناوا بھاگہ کے مقام پر صبح 7:30 کے لگ بھگ انڈین دہشتگردوں کا حملہ جس میں ابتدای (شیخوپورہ نیوز) اطلاعات کے مطابق 30 کے لگ بھگ ہلاکتیں ہویئں اور 50سے زائد افراد کے زخمی ہو گیے ہیں ۔۔ تازہ اطلاع کے مطابق ایک فائر سے ایک دیہاتی کے پیٹ میں لگا۔۔ مشیر داخلہ کا نجی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو بہت ہی مایوس تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں پاکستان کی جہادی آرگنایزئشن ملوث ہو سکتی ھیں۔۔ جبکہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ھے جب انڈیا میں انتخابات قریب ھیں۔۔ ایک ماہ قبل بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے بمبی حملوں کے خلاف کاروائ نہ کی تو ایسے حملے مزید ہوں گے، جس سے ظاہر ہوتا ھے کہ ان حملوں میں براہ راست انڈین خفیہ ایجنسی راء ملوث ھے۔۔ اگر ان حملوں کو ماضی کی طرح بھلا دیا گیا تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہوا گا۔۔ اور ان حملوں میں عوام پاکستانی حکومت کو ہی ملوث سمجھے گی۔۔

مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں جیش محمد ،لشکر جنگھوی ،تحریک طالبان پاکستان ،اور لشکر طیبہ ملوث ہو سکتی ھے۔۔
جبکہ لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی کا دعوا ھے کہ انھوں نے آج تک پاکستان میں کاروائ نہیں کی اگر اسکا پاکستان کی حکومت کے پاس ثبوت ھے تو ہمیں فراہم کرے ۔۔ آج تک پاکستان کی خکومت اس بات کا ثبوت نہیں دی سکی۔۔ ان کا مزید کہنا تھا کی انکی تحریک کشمیر کی آزادی کے لیے ھے جو کشمیر کی آزادی تک جاری رھے گی۔۔

دوسری جانب جماعتہ الدعوہ کے شیخو پورہ کے امیر نے اسکی مزمت کرتے ہوے اسے دشمن کی پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش قرار دیا ۔۔

’پاکستانی کرکٹر آئی سی ایل سے آزاد‘

Posted by Anonymous on 10:34 AM




راؤنڈر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ بھارت کی متنازعہ انڈین کرکٹ لِیگ نے پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدے ختم کر کے انہیں کسی بھی اور جگہ معاہدہ کرنے کے لیے این او سی بھی جاری کر دیے ہیں۔

عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تمام پاکستانی کھلاڑی جو آئی سی ایل کے لیے کھیل رہے تھے پاکستان کے لیے کھیلنے کے لیے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں وہ اپنی دستیابی سے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر دیں گے۔

یہ خبریں بھی آئیں ہیں کہ محمد یوسف نے آئی سی ایل سے اپنا معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع پاکستان کرکٹ بورڈ کو دے دی ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کے مطابق ابھی کسی کھلاڑی نے باضابطہ طور پر کرکٹ بورڈ کو اس کی اطلاع نہیں دی اور اگر ان کھلاڑیوں نے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا تو وہ اس کی تصدیق آئی سی ایل کی انتظامیہ سے کریں گے اور پھر ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس لِیگ میں پاکستان کے اکیس کھلاڑی شامل ہوئے تھے جن میں محمد یوسف، عبدالرزاق، عمران فرحت، عمران نذیر، شبیر احمد اور رانا نوید الحسن ایسے تھے کہ جن کا پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں بھی مستقبل تھا لیکن آئی سی ایل میں شرکت کے سبب وہ پاکستان کے لیے نہیں کھیل سکتے تھے۔

آئی سی ایل کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مؤقف واضح تھا کہ کوئی کرکٹ بورڈ بھی انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو اپنی قومی ٹیم میں شامل نہیں کر سکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تو آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی لیکن اس سال فروری میں سندھ ہائی کورٹ نے ان کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی
بشکریہ بی بی سی۔

لاہور، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ

Posted by Anonymous on 10:11 AM

لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس کے ٹریننگ سنیٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کے بعد قبضہ کرلیا ہے۔

ٹریننگ سنیٹر سے فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنائی دی گئی ہے اور کم از کم تیس پولیس اہلکارزخمی ہونے اور متعدد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے ٹریننگ سینٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ ٹریننگ سنیٹر جی ٹی روڈ پر لاہور سے کوئی بیس کلومیٹر واہگہ کی جانب واقع ہے اورصبح تقریباً پونے سات بجے چند مسلح افراد نے اس وقت حملہ کیا جب وہاں پولیس اہلکار تربیت لے رہے تھے۔عینی شاہدوں کےمطابق پہلے دھماکے اور پھر فائرنگ کی آواز سنائی دی گئی۔متعدد افراد زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں تاہم ابھی تک ان کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی چینل ایکسپریس نے چند ایسے مناظر دکھائے ہیں جن میں آٹھ کے قریب پولیس اہلکاروں کو کھلے میدان میں بے حس و حرکت پڑے دکھایا گیا ہے جبکہ تین دیگر اہلکار زمین پر رینگ کر ان کی جانب جانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سروسز ہسپتال میں چھ پولیس اہلکاروں کو داخل کرایا گیا ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ چھ سے سات ایسے شدت پسندوں نے کیا جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ٹریننگ سینٹر کے گارڈز کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔شدت پسندوں نے زیر تربیت غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کم از کم چھ ہلکے دھماکوں کی آواز بھی سنی گئی جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ دستی بم چلائے جانے کی آواز بھی ہوسکتی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی بھی شدت پسند ٹریننگ سنیٹر کے اندر موجود ہیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز آرہی ہے۔رینجرز کے علاوہ پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی اور ایلیٹ فورس کے جوان موقع پر پہنچ چکے ہیں۔اس سینٹر کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔خدشہ ہے کہ شدت پسندوں نے ابھی بھی زیرتربیت پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موقع پر موجود ہے اور وہ پولیس اہلکاروں کے کہنے کے باوجود جگہ خالی نہیں کر رہے۔

لاہور میں اسی مہینے کے شروع میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر پندرہ کے قریب شدت پسندوں نے راکٹ لانچر اور فائرنگ کے ذریعے دن دہاڑے حملہ کیا تھا۔اس حملہ میں کرکٹ ٹیم کے کارکن تو زخمی ہوئے تھے جبکہ متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد شدت پسند اطمینان سے فرار ہوگئے تھے اور پولیس ابھی تک ان میں سے کسی کو گرفتار نہیں کرسکی۔

سیکیورٹی ماہرین یہ خدشہ ظاہرکررہے تھےکہ وہ خطرناک شدت پسند کبھی بھی دوبارہ حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حالیہ حملہ میں وہ ہی شدت پسند ملوث ہیں یا کوئی نیا گروہ ہے۔


سیکیورٹی فورسز چاہتی ہیں کہ حملہ آوروں میں سے چند ایک کو زندہ گرفتار کیا جاسکے تاکہ پورے نیٹ ورک کو پکڑا جاسکے

بشکریہ بی بی سی۔


فا سٹ فوڈ بچوں کو موٹا پے کا شکار کر د یتی ہے ۔ سروے

Posted by Anonymous on 2:09 PM




مغربی ممالک میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق جن بچوں کے سکولوں کے نزدیک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس زیادہ ہوتے ہیں ان کی اکثریت موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔ سکول اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے درمیان جتنا فاصلہ کم دیکھا گیا موٹاپے کی شرح میں بھی اسی حساب سے اضافہ نوٹ کیا گیا۔ فاسٹ فوڈ غزاﺅں اور موٹاپے کے درمیان تعلق پر ہونے والی اس تحقیق میں سکولوں میں زیر تعلیم طالب علموں سے جب پوچھا گیا کہ آپ ہفتے میں کتنی مرتبہ فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ دو سے تین مرتبہ ہم وقفہ کے دوران فاسٹ فوڈ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سروے پر طبی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نئی نسل کو موٹاپے سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور دوسری جانب اس طرح کی قانون سازی کی جانی چاہیے جس کے تحت سکولوں کے نزدیک فاسٹ فوڈ کا کاروبار منع ہونا چاہیے
بشکریہ اردو ٹایم۔

زندہ بچھو کھانے کا ورلڈ ریکارڈ

Posted by Anonymous on 2:05 PM

یہ بات بہت سے لوگوں کے لئے ناپسندیدگی و کراہت کا باعث ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیت ہے کہ سعودی شہری ماجد المالکی ایک ہی بار 50 زندہ بچھو نگل سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ محیر العقول شخص سانپ، چھوٹے مگرمچھ اور چھپکلیاں بھی کھانے کے طور پر کھاتا ہے۔



ایک عرب ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے ماجد المالکی نے کہا کہ اسے ان حشرات اور جانوروں کا زہر نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے سب سے زیادہ زہریلے پیلے بچھو کھانے میں زیادہ مزا آتا ہے۔



ماجد المالکی نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر "گینیز بک آۡف ورلڈ ریکارڈ" کی ویب سائٹ پر موجود متعدد ویڈیو کلپ اور تصاویر بھی دکھائیں کہ جن میں اسے ایسے حشرات کو نگلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔۔ المالکی کا نام گذشتہ مہینے "گینیز بک" میں اس وقت شامل کیا گیا کہ جب اس نے سعودی عرب کے دارلحکومت میں 22 بچھو کھا کر ایک امریکی شہری ڈین شیلڈن کا ایک نشت میں 21 بچھو کھانے کا ریکارڈ توڑا۔



ایک سوال کے جواب میں ماجد المالکی نے کہا کہ " کہ میں 22 برس سے یہ کام کر رہا ہے، مجھے ایک مرتبہ بھی ان زہریلے حشرات کھانے سے زہر خورانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچھو کھاتے ہوئے اس کے ڈنگ والے حصے کو تھوڑا توڑ لیتا ہوں تاکہ یہ منہ کی جلد میں نہ پیوست ہو۔ انہوں نے کہا میں ایسے حشرات کھانے سے پہلے ان کا ڈنگ نہیں نکالتا۔ کسی بچھو کے ڈسنے پر مجھ پر زہر اثر نہیں کرتا۔



ماجد المالکی نے کہا کہ بچھو کے ڈسنے سے انسان مرتا نہیں، لیکن ایسی صورت میں کوئی شکار اگر خوف میں مبتلا ہو جائے تو وہ شدید بخار کیوجہ سے فوری طور پر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ "بچھو سے ڈسے جانے والوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ پرسکون رہیں کیونکہ ایسی صورت میں خوف ہی خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان کے معدے یا دانتوں میں السر نہیں تو بچھو کا زہر خطرناک نہیں ہوتا

بشکریہ اردو ٹایم۔

ملازمت پیشہ ماﺅں کے بچے عملی زندگی میں زیادہ ناکام ہوتے ہیں

Posted by Anonymous on 1:58 PM

نئی تحقیق کے مطابق ملازمت پیشہ خواتین کے بچے ،گھریلو خواتین کے بچوں کی نسبت ذہنی اور جسمانی سطح پر زیادہ کمزور اورسست واقع ہوتے ہیں اور یہ بچے عملی زندگی میں زیادہ ناکامیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ چرچ آف انگلینڈ چلڈرن سوسائٹی اور آرچ بشپ آف کنٹربری کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے میں موجودہ عالمی اقتصادی صور تحال، خواتین کی ملازمتوں اور معاشی خود کفالت کیلئے جدوجہد کے تناظر میں بچوں کی فلاح وبہبود سے متعلق حقائق جاننے کی کوشش کی گئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ جن بچوں کی مائیں انہیں ایک سال سے پہلے ہی دوسروں کے حوالے کر کے ملازمت پر جاتی ہیں وہ بچے ڈر خوف کے علاوہ متعدد جسمانی مسائل کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ ملازمت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ایسی مائیں بچوں پر خود پر اور نہ ہی ملازمت پرتوجہ دے پاتی ہیں جس سے پورا خاندان ذہنی دباﺅ کاشکار ہو جاتا ہے۔ سروے میں دیکھا گیا کہ جن 70 فیصد ماﺅں نے 25 سال پہلے 6 سے 9 ماہ کے بچوں کو ” بچے پالنے والے پیشہ ورلوگوں“ کے حوالے کیا تھا وہ بچے16 سال کی عمر تک ذہنی اور جسمانی کمزوری کا شکار نظر آئے جس کی وجہ سے ان کی عملی زندگی متاثر ہوئی، سروے میں ایسے 50 فیصد جوڑوں کے بچوں کو بھی شامل کیا گیا جن کے درمیان طلاق واقع ہوئی ان بچوں کی حالت زار بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ سروے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی ضرورتوں کوپورا کرنے کیلئے خواتین کی ملازمت بظاہر ضروری نظر آتی ہے مگر ان کے بدلے بچوں کی تباہی کا سودا بہت مہنگا ہوتا ہے۔ بچوں کو مکمل تحفظ والد اور والدہ کی ہم آہنگی توجہ اور شفقت سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ مردوں کے بچے پالنے کے عمل میں بیویوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہیے کیونکہ بچے والد اور والدہ کے مکمل اشتراک عمل اور توجہ کے شدید بھوکے ہوتے ہیں
بشکریہ اردو ٹایم۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی کے القاعدہ سے روابط ہیں ، مولن ، پیٹریاس

Posted by Anonymous on 1:52 PM
واشنگٹن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی فوج کے سربراہوں ایڈمرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایک مرتبہ پھر الزام لگایا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے عناصر کے طالبان اور القاعدہ سے گہرے روابط ہیں، تعلقات ختم نہ کئے گئے تو آپریشن ناکام ہوجائے گا۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے اس الزام کو دہرایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے عناصر کے افغانستان اور بھارت میں عسکریت پسندوں سے روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی کامیابی کیلئے سب سے پہلے ان تعلقات کا ختم ہونا لازمی ہے۔ سینٹ کام کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایک اور امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے عناصر نے خود عسکریت پسندوں کے گروپ بنائے ہیں اور ان سے ان کے روابط کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں سے یہ تعلقات ختم نہ ہوئے تو امریکا کی خطے میں قیام امن کی کوششیں ناکام اور اعتماد کی فضا ختم ہوجائے گی۔

عالمی معاشی بحران: لندن میں ہزاروں افراد کا احتجاج

Posted by Anonymous on 1:50 PM


لندن: عالمی معاشی بحران کا شکار ہزاروں افراد نے لندن میں پانچ روزہ احتجاجی مارچ شروع کردیا۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں تاجروں کی تنظیموں، عالمگیریت کے مخالفوں، اور ماحولیات کے لئے کام کرنے والے اداروں کے ہزاروں کارکنان نے پانچ روزہ احتجاجی مارچ کا آغاز کردیا۔ احتجاجی مارچ کا مقصد پانچ روز بعد لندن میں ہونے والے جی ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس کی توجہ اصل مسائل کی جانب مبذول کروانا ہے۔ مارچ کوپٹ پیو پل فرسٹ کا نام دیا گیا ہے ۔مارچ میں مظاہرین نے عالمی رہنماوٴں سے مطالبہ کیا کہ مستقبل کی پالیسیوں میں نوکریوں کا تحفظ، انصاف کی بحالی، اور ماحولیاتی اصلاحات اولین ترجیحات ہونی چاہیں۔ پانچ روزہ مارچ وکٹوریا ایم بینک منٹ سے ہائیڈ پارک تک جاری رہے گا۔ ٹریڈ یونین کانگریس کے جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ احتجاجی مارچ عالمی رہنماوٴں کے لیے کھلا پیغام ہے،کہ کھلی منڈیوں اور معاشی بے قاعدگی کے نظریات ناکام ہوچکے،جنہیں ترک کرنا ہوگا۔ تجارتی کمپنی کے ترجمان جیک کورن نے کہا ہے کہ عوامی مفادات پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ احتجاج میں شرکت کے لیے پورے برطانیہ سے لوگ لندن میں جمع ہوئے احتجاج کے دوران بینکرز کے خلاف تلخ زبان استعمال کرنے پرایک پروفیسر کو معطل کردیا گیا۔ مارچ کے دوران پر تشدد واقعات کا خدشہ ہے۔

قطب جنوبی کے لیے خواتین کا مشن

Posted by Anonymous on 1:38 PM




خواتین پر مشتمل ایک ٹیم قطب جنوبی کے لیے روانہ ہو رہی ہےاور اس کی کوشش ہے کہ وہ دولتِ مشترکہ کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر یہاں پہنچے۔

پانچ برِ اعظموں سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین چھ ہفتے کے دوران آٹھ سو کلومیٹر(تقریباً پانچ سو میل) کا فاصلہ طے کریں گی۔وہ منفی تیس ڈگری فارن ہائٹ تک کے درجہ حرارت میں سفر کریں گی۔

انٹارکٹیکا کے اس دورے کا مقصد ماحولیاتی مسائل اور عالمی حدت کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے۔

ٹیم کی قیادت اکتیس سالہ فلِسٹی ایسٹن کر رہی ہیں جن کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک سے ٹیم کے باقی سات ممبران کا انتخاب کیا۔ اس سفر پر آنے کے لیے آٹھ سو خواتین نے درخواستیں دی ہوئی تھیں۔ ٹیم کی خواتین کا تعلق بھارت، قبرص، گھانا، سنگاپور، برونئی، نیو زی لینڈ اور جمیکا سے ہے۔

انٹارکٹکا میں سفر کرنا خاصا دشوار ہوگا۔ ٹیم کی کئی خواتین نے اس سفر کے لیے ناروے میں ہونے والی تربیت سے پہلے تو کبھی برف بھی نہیں دیکھی تھی۔

بھارت کی رینا کوشل دھرمشکتو اس ٹیم میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی واحد خاتون ہیں۔ وہ قطب جنوبی تک سفر کرنے والی پہلی بھارتی خاتون ہونگی۔ ان کا کہنا ہے کہ 'میرا اس مہم میں شریک ہونا جنوبی ایشیا کی خواتین کے لیے بڑی بات ہوگی کیونکہ اس خطے میں خواتین کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کیا جاتا۔

ناروے میں دو ہفتے کی تربیت کے بعد ٹیم لندن آئی جہاں اس کی ملکہ برطانیہ سے ملاقات ہوئی۔

ٹیم کی قیادت کرنے والی فلسٹی ایسٹن ماہرِ موسمیات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ماحولیاتی مسائل اور عالمی حدت کے بارے میں آگہی بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے رویوں اور عادتوں میں چھوٹی سی تبدیلی بھی بڑے پیمانے پر اثر کر سکتی ہے۔ان کے بقول ا س کی ایک اچھی مثال پلاسٹک کے تھیلوں کی ہے، اب لوگوں میں یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ ان کو پھینکنے کے بجائے ان کو صاف کر کے دو بارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں ماحول کو فائدہ ہوا ہے۔

قطب جنوبی کا یہ خصوصی مشن جنوری سنہ دو ہزار دس کو اختتام پذیر ہوگا۔ امکان ہے کہ اس کے بعد یہ تمام خواتین عالمی حدت کو کم کرنے کی ضرورت کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کوششوں میں مصروف رہیں گی۔

رینا کوشل دھرمشکتو کہتی ہیں کہ لوگوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ یہ دنیا ان کی نہیں، بلکہ انسانی نسلوں سے ادھار لیا ہوا ہے، ایک امانت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 'اس سلسلے میں لوگوں کی بے حِسی اور غیر ذمہ دار رویہ ختم کرنا ضروری ہے۔‘

اس انتہائی مشکل سفر پر جانے والی ٹیم کی ایک اور رکن قبرص کی سٹیفانی سولوموندیس کہتی ہیں کہ اس مہم میں شرکت سے وہ دنیا بھر کی خواتین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ 'ہم سب خواتین میں یہ صلاحیت ہے کہ ہم جس چیز کا بھی فیصلہ کر لیں، وہ ہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں بس یہ ارادہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم یہ کام کر کے ہی دکھائیں گے اور ہم کسی سے کم نہیں۔‘

قطب جنوبی جانے والی اس ٹیم میں گھانا کی باربرا ایریفوا یانئی، برونئی کی نجیبہ السفری، نیو زی لینڈ کی شارمین ٹیٹ، جمیکا کی کِم ماری سپینس اور سنگاپور کی صوفیا پینگ شامل ہیں
بشکریہ بی بی سی

امریکہ: برفانی موسم نے سیلاب کو سُست کردیا

Posted by Anonymous on 1:34 PM
شدید سردی میں درجۀ حرارت کے نقطۀ انجماد سے نیچے چلے جانے وجہ سے اُس سیلاب کی رفتار سُست ہوگئى ہے ، جس سے شمالی ریاستوں نارتھ ڈکوٹا اور منی سوٹا کے دو شہروں کو خطرہ درپیش ہے۔

ماہرین نے اب پیش گوئى کی ہے کہ رَیڈ رِیور میں پانی اُترنے سے پہلے اتوار کے روز بلند ترین سطح پر پہنچ جاےٴ گا ، جو 13 میٹر سے زیادہ بلند ہوسکتی ہے۔

یہ دریا پہلے ہی طغیانی کا گذشتہ بلند ترین ریکارڈ توڑ چکا ہے ، اور اس سے منی سوٹا کے شہر مور ہیڈ اور نارتھ ڈکوٹا کے شہر فارگو میں بدستور سیلاب آجانے کا خطرہ ہے۔

لوگوں نے ان شہروں میں رضاکاروں اور ہنگامی کارکنوں کی مدد سے بڑی محنت کے ساتھ ریت کے تھیلوں سے پُشتے تعمیر کیے ہیں۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ پُشتے سیلاب کا مقابلہ نہ کرسکیں۔

نیشنل گارڈ کے کم سے کم ایک ہزار 700 فوجی علاقے میں گشت پر ہیں اور وہ پُشتوں سے پانی کے ممکنہ اخراج اور ٹوٹ پھوٹ پر نظر رکھے ہوےٴ ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

صدر بارک اوباما نے ریڈیو پر اپنی ہفتہ وار تقریر میں کہا ہے کہ وہ صورتِ حال کا غور سے جائزہ لے رہے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ حکومت مدد کے لیے جو بھی ضروری ہوا وہ کرے گی۔

مسٹر اوباما کی تقریر میں اگرچہ بیشتر توجہ اقتصادی بحران پر مرکوز رہی ، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ ” قدرت کی طاقتیں ایسے طریقوں سے مداخلت کرسکتی ہیں، جو دوسرے بحرانوں کا سبب بن جاتے ہیں اور ہمیں اُن کا لازماً جواب دینا چاہےٴ اور فوراً جوابی اقدامات کرنے چاہئیں۔“

ISIکے خلاف الزمات مسترد

Posted by Anonymous on 1:32 PM




فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے ISPRکے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والے اعتراضات غلط اور بے بنیاد ہیں۔

ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کا اندازہ اس کی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی قربانیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ترجمان نے آئی ایس آئی کے خلاف الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر مصدقہ خبریں بدنیتی پر مبنی ایک مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد ملکی سلامتی کے ادارے کو بدنام کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اس ہفتے بین الاقوامی میڈیا میں افغانستان کے خفیہ اداروں کے سربراہ سے منسوب ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کی طرف سے بعض عناصر افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں مدد فراہم کررہے ہیں
بشکریہ وی او اے۔

خواتین اپنی عمر کے ساڑھے آٹھ سال شاپنگ میں گذارتی ہیں

Posted by Anonymous on 1:14 PM




عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین کا پسندیدہ مشغلہ خریداری ہے۔ تاہم بعض خواتین اس سے انکار کرتی ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں جی ای منی نے یہ جاننے کے لیے سروے کرایا کہ خواتین اوسطاً اپنا کتنا وقت خریداری پر صرف کرتی ہیں۔ اس سروے کے حیرت انگیز نتائج میل آن لائن میں شائع ہوئے ہیں۔


برطانیہ میں کیے جانے والے اس تازہ ترین جائزے سے معلوم ہو اہے کہ خواتین اپنی پوری زندگی میں کا آٹھ سال سے زیادہ عرصہ صرف خریداری پر صرف کرتی ہیں، یعنی اپنے خاندانوں کے لیے کھانے پکانے اور لباس کا بندو بست کرنے کے ساتھ ساتھ اور خریداری کے تھوڑے بہت نشے کے ساتھ ، اوسطاً ایک خاتون اپنی63 سال کی عمر میں حیرت انگیز طور پر 25184 گھنٹے اور53 منٹ تک کا عرصہ خریداری کرتے ہوئے گذارتی ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے 63 کی عمر کو پہنچنے تک ایک خاتون اوسطاً 3148 دن خریداری کے نام کرتی ہے یا آپ اسے اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے ساڑھے آٹھ سال خریداری کرتے ہوئے گذارتی ہے۔

یہ تازہ ترین جائزہ جی ای منی نے کروایا تھا اور اس میں 3000 سے زیادہ خواتین کو شامل کیا گیا تھا ۔ اس جائزے سے معلوم ہواکہ خواتین سال بھر کے دوران اوسطاً 301 مرتبہ خریداری کے لیے جاتی ہیں اور کل 399 گھنٹے اور 46منٹ خریداری میں صرف کرتی ہیں ۔

اس تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوا کہ خواتین خوراک کی خریداری میں ہر بار صرف ایک گھنٹہ صرف کرتی ہیں اور یوں ایک سال میں اوسطاً 84 مرتبہ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے لیے بازار جاتی ہیں او ر اس طرح کل 94 گھنٹے اور 55 منٹ سپر مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیا خریدنے پر صرف کرتی ہیں ۔
خواتین سال میں 90 مرتبہ اپنی ذاتی شخصیت کو بہتر بنانےکے سلسلے میں اشیاء خریدنے بازار جاتی ہیں ۔ اور وہ 30 مرتبہ لباس ، 15 مرتبہ جوتے ، باقی دوسری استعمال کی چیزیں 18 بار اورہار سنگھار کی چیزوں کےلیے27 بار بازارکا رخ کرتی ہیں ۔ وہ کل 100گھنٹے اور48 منٹ لباس اور فیشن کی چیزیں خریدنے پر صرف کرتی ہیں ۔

وہ مزید 40 گھنٹے اور 30 منٹ پیروں کے استعمال کی چیزوں اور 29 گھنٹے اور31 منٹ ایسی چیزیں مثلاً ہینڈ بیگ ، جیولری اور سکارف وغیرہ خریدے پر صرف کرتی ہیں ۔ وہ مزید چھوٹی موٹی چیزوں مثلاً ڈی اوڈرینٹ، شاور جیل وغیرہ خریدنے پرایک سال میں 17 گھنٹے اور 33 منٹ صرف کرتی ہیں
وہ مزید 19 بار یا 36 گھنٹے اور17 منٹ دوستوں اور خاندان کےلیے تحائف خریدنے پر صرف کرتی ہیں ۔

جائزے سے یہ بھی ظاہر ہواکہ خواتین سال میں 15بار ونڈو شاپنگ کے لیے جاتی ہیں اور 48 گھنٹے اور 51 منٹ صرف اپنی اگلی خریداری کی اشیاءکا جائزہ لینے میں صرف کرتی ہیں ۔جی منی کے اسٹیورٹ میک فیل کہتے ہیں کہ خواتین بہت سا وقت صرف اس یقین دہانی کے حصول میں خرچ کرتی ہیں کہ انہیں اپنی ضروریات کے لیے انتہائی موزوں چیزیں انتہائی موزوں قیمت میں مل سکیں ۔


کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اس لیے شاپنگ پرزیادہ وقت صرف کرنا پڑتاہےکہ گھروں کےمرد اس کام میں دلچسپی نہیں لیتے ۔ وہ باقاعدگی سے خریداری کےلیے بازارنہیں جاتے وہ لباس نہیں خریدے ۔جب کہ خواتین ہی ان کےلیےخریداری کرتی ہیں اور جب ان کو وہ چیز پسند نہیں آتی تو اسے واپس کرنےبھی جاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں خریداری میں اس لیے بھی زیادہ وقت لگتا ہے کہ دکاندار چند ہفتوں کے بعد دکان کی اشیاء کی جگہیں تبدیل کر دیتے ہیں اور اس لیے انہیں اپنی پسند کی چیز ڈھونڈھنے میں کافی وقت لگ جاتاہے
۔ بشکریہ وی او اے

لشکرِ طیبہ کی دھمکی کے بعد بھارتی کشمیر میں ہائی سیکیورٹی الرٹ

Posted by Anonymous on 5:07 PM

سرکاری ذرائع کے مطابق، بھارتی زیر ِ انتظام کشمیر میں پولیس کے علاوہ فوج، نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس کے شورش مخالف آپریشن گروپ کوچوکس کر دیا گیا ہے۔

ایسا اقدام لشکرِ طیبہ کی طرف سے دی گئی دھمکی کے نتیجے میں کیا گیا ہے کہ آئندہ ایام بھارتی حفاظتی دستوں کے لیے زیادہ بھاری ثابت نہ ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ دھمکی لشکرِ طیبہ کے سرکاری بیان میں درج تھی جو گذشتہ دِنوں اُس کے جنگجوؤں اور بھارتی فوج کے درمیان سرحدی ضلعے کُپواڑہ میں چھ دِٕن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

بھارتی عہدے داروں نے اعتراف کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران ایک میجر سمیت آٹھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 17 عسکریت پسند بھی مارے گئے جِن میں 15کا تعلق لشکرِ طیبہ سے اور باقی کا البدر مجاہدین سے تھا۔تاہم، لشکرِ طیبہ نے 25فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا کہ اُس کے صرف دس اراکین ہلاک ہوئے۔

لشکر نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں بھارتی فوجیوں اور دوسرے حفاظتی دستوں کو، اُس کے بقول، اِس سے بھی زیادہ شدید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

بھارتی فوج کے اعلیٰ کمانڈر بریگیڈیئر گُرمیت سنگھ نے الزام لگایا کہ لشکرِ طیبہ کو کنٹرول لائن کو عبور کرنے میں پاکستانی فوج کی مدد حاصل تھی۔

لشکرِ طیبہ کی طرف سے مزید حملے کرنے کی دھمکی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کشمیر میں ہائی سیکیورٹی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ بھارتی کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نئی دہلی میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ صورتِ حال اِس قدر گھمبیر نہیں کہ اِس پر تشویش کا اظہار کیا جائے، سری نگر میں عہدے داروں نے بتایا کہ پورے صوبے میں حفاظتی دستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چوکس رہیں۔

سینٹرل رزور پولیس فورس کے سربراہ ڈی کے پاٹک نے کہا کہ لشکر کی طرف سے سری نگر جیسے شہری علاقوں میں پُر تشدد کارروائیاں کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔لہٰذا، ہر جگہ حفاظتی دستے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہیں
بشکریہ وی او اے۔

مشرقی ملکوں میں عورتوں پر پابندیوں کی بنیاد مذہبی نہیں بلکہ معاشرتی ہے

Posted by Anonymous on 11:34 AM

اسلام اورمسلم ممالک میں عورت کا کیا کردار ہے اس بارے میں سوالات تو دنیا بھر میں اٹھاے جاتے ہیں، آج ہم آپکو امریکن ڈاکومنٹری فلم میکر برجڈماہر سے ملوا رہے ہیں جو ا س سوال کا جواب ڈھونڈنے لبنان ، شام اور مصر گئیں۔اور وہاں ایسی کچھ خواتین کی جدوجہد کو فلم بند کیا جنہوں نے اپنی زندگی اسلام کی ترویج و ترقی کے لئے وقف کر دی ہےاور آج معاشرے میں وہ ایک بلند مقام پر فائز ہیں۔ویلڈ وائسز نامی ڈاکومنٹری اسی بارے میں ہے۔

فلم میکر برجڈ ماہر کا کہنا ہے کہ اس فلم کے ذریعے وہ امریکی عوام کو یہ دکھانا چاہتی ہیں کہ اسلام کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں جو انہیں مغربی میڈیا میں عام طور پر نظر نہیں آتے۔ اسلام میں عورت کا ایک اہم کردار ہے اور جہاں ہمیں رکاوٹیں دکھائی دیتی ہیں، ان کی وجہ مذہب نہیں ہے بلکہ وہاں کی مخصوص تہذیب و ثقافت اور معاشرتی نظام ہے۔

برجڈ اس فلم سے پہلے بھی مشرق وسطیٰ اور اسلامی ممالک کے حوالے سے فلمیں بنا چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خطے میں ملنے والا پیار ، محبت اور اپنائیت انہیں اپنی طرف کھینچتے ہیں
بشکریہ وی او اے۔

مشرف، مشیروں کو پہلا نوٹس

Posted by Anonymous on 11:30 AM

سندھ ہائی کورٹ نے آئین پاکستان سے غداری کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے کی ایک درخواست پر سابق صدر پرویز مشرف، ان کے مشیر شریف الدین پیرزادہ، جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ پرویز مشرف کو مستعفی ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کسی عدالت نے نوٹس جاری کیے ہیں۔

جنرل مشرف کو یہ نوٹس آرمی ہاؤس راولپنڈی کے پتہ پر ارسال کیا جائے گا۔

یہ آئینی پٹیشن عوامی حمایت تحریک کے رہنما مولوی اقبال حیدر نے دائر کی تھی، جس کی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس کریم آغا پر مشتمل ڈویژن بینچ میں جمعرات کو سماعت ہوئی۔

اس درخواست میں وزرات قانون، وزارت داخلہ، جنرل پرویز مشرف، شریف الدین پیرزادہ، ملک محمد قیوم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر ججوں کی بحالی کے لیے جو حکم نامہ جاری کیا وہ آئین کی کسی شق کے تحت نہیں بلکہ عوام کے مطالبے کے تحت کیا گیا ہے۔

درخواست گذار کا کہنا ہے کہ اس حکم نامہ کے مطابق افتخار محمد چودھری تین نومبر والی پوزیشن پر بحال ہوگئے ہیں۔درخواست کے مطابق یہ جب افتخار محمد چودھری کو تین نومبر دو ہزار سات سے چیف جسٹس تسلیم کیا جاتا ہے تو اسی عرصے میں دوسرا چیف جسٹس کیسے ہوسکتا لہذا جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کے لفظ کو کالعدم قرار دیا جائے۔

تمام جج صاحبان، آرمی چیف اور دیگر اداروں کے سربراہوں کو کسی قسم کا مارشل لاء یا عبوری حکم تسلیم کرنے سے روکا گیا تھا، مگر سابق صدر پرویز مشرف، ان کے مشیر شریف الدین پیرزادہ اور سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اس حکم نامے کی خلاف ورزی کی اور آئین سے غداری کے مرتکب ہوئے۔

درخواست گذار
درخواست کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے تین نومبر دو ہزار سات کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں تمام جج صاحبان، آرمی چیف اور دیگر اداروں کے سربراہوں کو کسی قسم کا مارشل لاء یا عبوری حکم تسلیم کرنے سے روکا گیا تھا، مگر سابق صدر پرویز مشرف، ان کے مشیر شریف الدین پیرزادہ اور سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اس حکم نامے کی خلاف ورزی کی اور آئین سے غداری کے مرتکب ہوئے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ چونکہ انہی آئینی ترامیم کے ذریعے وجود میں آئی ہے لہذا اس کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرکے وزرات قانون، وزارت داخلہ، جنرل پرویز مشرف، شریف الدین پیرزادہ، ملک محمد قیوم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو پندرہ اپریل تک نوٹس جاری کیا ہے۔

ورلڈ کپ میں فتح، ’جیسے کل کی بات ہو

Posted by Anonymous on 11:27 AM




پچیس مارچ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔ آج سے ٹھیک سترہ سال قبل اسی روز پاکستانی کرکٹ ٹیم نے عمران خان کی قیادت میں عالمی کپ جیتا تھا۔ اس شاندار کارکردگی کو بلاشبہ پاکستانی کرکٹ کا بام عروج کہا جا سکتا ہے۔


سابق کپتان انضمام الحق کے لیے یہ تاریخی لمحہ جیسے کل کی بات ہے۔ انضمام الحق عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں ایک نوجوان کرکٹر کے طور پر شامل تھے لیکن درحقیقت سیمی فائنل اور فائنل میں ان کی دھواں دار بیٹنگ ہی پاکستانی حوصلے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوئی تھی۔


انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ورلڈ کپ کی جیت میری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب عمران خان سر کالن کاؤڈرے سے ٹرافی وصول کررہے تھے تو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں نہ صرف تماشائی بلکہ تمام پاکستانی کھلاڑی بھی زبردست جوش وخروش میں نعرے لگا رہے تھے۔ میں کچھ زیادہ ہی جذباتی تھا۔ ظاہر ہے کسی کے لیے بھی اپنے جذبات پر قابو رکھنا ناممکن تھا‘۔

انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گروپ میچوں میں متعدد ناکامیوں کے بعد ٹیم کی حالات اچھی نہیں تھی اور اس کی وطن واپسی کی باتیں ہورہی تھیں۔ ’ کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ پاکستانی ٹیم اس خراب پوزیشن سے نکل کر سیمی فائنل اور فائنل تک جاپہنچے گی لیکن پھر جیت کا سلسلہ شروع ہوا جو ٹیم کی فاتحانہ انداز میں وطن واپسی پر جاکر ٹھہرا‘۔

میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں نہ صرف تماشائی بلکہ تمام پاکستانی کھلاڑی بھی زبردست جوش وخروش میں نعرے لگا رہے تھے۔ میں کچھ زیادہ ہی جذباتی تھا۔ ظاہر ہے کسی کے لیے بھی اپنے جذبات پر قابو رکھنا ناممکن تھا۔

انضمام الحق
انضمام الحق سیمی فائنل اور فائنل میں اپنی عمدہ بیٹنگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’اس زمانے میں دو سو ساٹھ ستر رنز کا ہدف عبور کرنا آسان نہیں ہوتا تھا، مجھے یاد ہے کہ جب میں سیمی فائنل میں بیٹنگ کے لیے گیا تو عمران خان آؤٹ ہوکر آرہے تھے اور آٹھ رنز کی اوسط سے رنز درکار تھے۔ عمران بھائی نے مجھے صرف اتنا ہی کہا اپنا نیچرل کھیل کھیلنا۔میں بالکل جونیئر لڑکا تھا میں نے کسی پریشر کو محسوس نہ کرتے ہوئے اپنے شاٹس کھیلے۔ خوش قسمتی یہ رہی کہ میں جو شاٹس کھیلنا چاہتا تھا وہ لگ رہے تھے‘۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اب وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن ان کی یہ خواہش ضرور ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی کپ جیتے کیونکہ اس جیت کا مزاہی کچھ اور ھے

بشکریہ بی بی سی

بے روزگاری اور گھروں کی قرقی نے لوگوں کو موٹلوں میں رہنے پر مجبور کردیا

Posted by Anonymous on 11:17 AM
دنیا کے امیر ترین اور انتہائی ترقی یافتہ ملک امریکہ میں بھی بڑی تعداد میں بے گھر افراد موجود ہیں۔ دارالحکومت واشنگٹن میں بے گھر افرادآپ کو کثرت سے پارکوں اور فٹ پاتھوں پر نظر آئیں گے۔ بے گھر افراد سے متعلق ادارے نیشنل سینٹر آن فیملی ہوم لیس نس کے اندازے کے مطابق 2005 اور 2006 کے دوران امریکہ میں بے گھر بچوں کی تعداد 15 لاکھ تھی۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقتصادی بحران کے نتیجے میں امریکہ میں بے گھر افراد کی شرح میں اضافے کا امکان ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے امریکہ کا متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور بہت سے ایسے خاندان جواپنے گھروں کی قسطیں ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے ، اب سستے موٹلوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان میں جونی اور ٹیمی گارزا اور ان کے چار بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک موٹل کو اپنا گھر بنا لیا ہے۔

ٹیمی کہتی ہیں کہ اگرچہ یہ جگہ بہت چھوٹی ہے تاہم گذارہ ہورہاہے۔ کھانا پکانے کے لیے ہمارے پاس دو چولہے اور ایک ٹوسٹر اون ہے اور ضروری برتن بھی ہیں۔

اگر آپ گاڑی پر امریکہ کا سفر کریں تو آپ کو جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے موٹل نظر آئیں گے۔ یہاں سستے داموں کچھ راتوں کے لیے کمرے کرائے پر لیے جا سکتےہیں۔ لیکن بے گھر ہونے والوں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ کمرے کچھ راتوں کے لیے نہیں، بلکہ ایک لمبے عرصے کے لیے کرائے پر لے رہے ہیں۔

جمی پالمر کہتے ہیں کہ اقتصادی بحران کی وجہ سے بے گھر ہونے والے خاندان اب زیادہ دیکھنے میں آر ہے ہیں۔
خوش قسمتی نے جوناتھن ایمی سن کا ساتھ دیا اور انہیں موٹل ٕمیں رہائش کے بعد ایک ایسا اپارٹمنٹ مل گیا جس کا کچھ کرایہ حکومت ادا کر رہی ہے۔ حالیہ معاشی بحران کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے بہت سے خاندان اپنی گاڑیوں یا جنگلوں میں ٹینٹ لگا کر زندگی گذاررہے ہیں۔ جوناتھن کا کہنا ہے کہ اگرچہ موٹل کے کمروں کو اپنا گھر بنانا گاڑیوں میں وقت بسر کرنے سے بہترہے، لیکن موٹلوں میں رہنے والے خاندانوں کو تحفظ کے حوالے سے بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ خطرات گینگز اور مجرموں سے لاحق ہیں جو بے سہارا افراد کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔
حال ہی میں جونی گارزا ملازمت ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ اب انہیں ایک ایسا اپارٹمنٹ بھی مل جائے گا جس کا کچھ کرایہ حکومت اور باقی وہ خود ادا کریں گے
بشکریہ اردو سی او اے۔

خون پتلا کرنے والی ادویات کا معدے کی دوائیوں کے ساتھ استعمال خطرناک ثابت ہوسکتاہے

Posted by Anonymous on 11:03 AM




اکثر معالج دل کے دورے سے صحت یاب ہونے کے بعد خون کو پتلا کرنے والی ادویات کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ کئی دوسرے امراض میں بھی خون پتلا کرنے کروالی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے دی جانے والی دوا کلو پی ڈےگریل اور معدے کے علاج کی دوائیں پی پی آئیز مثلا نیکسیم کا ایک ساتھ استعمال خطرناک ہوسکتا ہے۔

جائزوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ دل کے دورے سے بچ جانے والے وہ مریض جو اپنے ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ان کی تجویز کردہ ادویات استعمال کرتے ہیں، وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ جیتے ہیں۔ تاہم ایک نئی تحقیق ڈاکٹروں کو اپنے نسخوں پر نظر ثانی پرمجبور کر رہی ہے۔

ڈینور ویٹرن میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹرز نے ان دو مشہور ادویات کے درمیان ہونے والےعمل پر تحقیق کی۔ ڈاکٹر جان رمز فیلڈ ان ریسرچرز میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اکثر خون کو پتلا کرنے والی کلو پی ڈےگریل کے ساتھ معدے کی حفاظت کے لیے دی جانے والی ادویات بھی مریض کو دیتے ہیں۔

کلو پی ڈےگریل ایک کیمیاوی مادے پلاویکس کا عام نام ہے۔ یہ خون کو جمنے سےاور دل کے دورے سے بچاتا ہے۔ تاہم یہ دوامعدے میں زخم کرکے اس سے خون رسنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر تھامس میڈوکس کا کہنا ہے کہ بعض دفعہ ڈاکٹر ایسے مریضوں کو جو کلو پی ڈےگریل کررہے ہوتے ہیں، انہیں ایک اور دوا دیتے ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ کلو پی ڈےگریل کے استعمال کے باعث خون رسنے کے خطرے کا معلوم ہونے کی وجہ سے ہم یہ پروٹون پمپ یا پی پی آئیز استعمال کرتے ہیں۔

نیکسیم اور پری لوسک دو مشہور پی پی آئیزہیں۔ ریسرچرز نے دل کے دورے یا دل کے کسی اور مرض سے متاثر ہ ان ہزاروں لوگوں کامشاہدہ کیا جو اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد کلو پی ڈےگریل لے رہے تھے۔ ڈاکٹر مائیکل ہو اس تحقیق کے انچارج تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ کلو پی ڈےگریل کے ساتھ پی پی آئیز قسم کی کوئی دوا لینے والے مریضوں میں صرف کلو پی ڈے گریل لینے والے مریضوں کے مقابلے میں دل کے دورے یا اسپتال میں داخلےکے بعد مرجانے کا امکان پچیس فیصد زیادہ تھا۔

اس مطالعے میں شامل تقریباً دو تہائی مریض دونوں ادویات اکٹھی لے رہے تھے۔

ڈاکٹر مائیکل ہو کہتے ہیں کہ دل کے دورے کے بعد اگر کسی مریض کو کلو پی ڈے گریل دینی ہے تو اسےپی پی آئی دوا صرف اشد ضرورت کے تحت ہی دی جانی چاہیئے۔

ماہرین کے مطابق اگر مریض کو پہلے سے معدے سے خون رسنے کی شکایت ہو تو اسے پی پی آئی دی جاسکتی ہے تاہم صرف احتیاط کے طور پر یہ دوا نہیں دی جانی چاہیئے۔ یہ تحقیق امریکن میڈیکل ایسو سی ایشن کے جریدے میں شائع ہوئی ہے
بشکریہ اردو وی او اے۔

صدر اوباما نے حال ہی میں پھر کہا ہے کہ وہ گوانتانامو بے کیوبا میں امریکی قید خانہ ایک سال کے اندر بند کر دیں گے۔ لیکن گوانتنامو بے میں قید چینی مسلم

Posted by Anonymous on 11:02 AM

روئیٹرز ہیلتھ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے عمررسیدہ افراد ، جو اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ سے محروم ہوجاتے ہیں، یا وہ افراد جو ان کے درمیان رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں،ان کی جسمانی اور ذہنی صحت خراب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین نے تقریباً تین ہزار ایسے امریکی افراد کو اپنے مطالعے میں شامل کیا جن کی عمریں57 سے85 سال کے درمیان تھیں۔ مطالعے میں شامل جن افراد نے اپنے معاشرتی رابطے قائم رکھے ہوئے تھے ، ان کی جسمانی اور دماغی صحت کو ان افراد کی نسبت بہتر تھی جو یا تو معاشرتی طورپر بالکل تنہا تھے یا جو اپنے رشتے دار اور دوست احباب ہونے کے باوجود سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے تھے۔

صحت اور سماجی رویوں سے متعلق سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق عمررسیدہ افراد کے لیے معاشرتی اور سماجی رشتوں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

نیویارک کی کورنل یونیورسٹی کی ڈاکٹر آیرین یارک کارن ول کا کہنا ہے کہ عمررسیدہ افراد کی حقیقی سماجی مدد کے اثرات ہر شخص کے لیے مختلف ہوتے ہیں اور بڑی عمر کے اکثر افرادسماجی تعلقات کی وجہ سے نمایاں تبدیلیوں کے عمل سے گذرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان تعلقات کے نتیجے میں وہ سماجی تنظیموں میں فعال کردار ادا کرنے لگتے ہیں یا اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ زیادہ وقت گذارنا شروع کردیتے ہیں۔تاہم اس کے باوجود بڑی عمر کے بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان مصروفیات کے بعد دن کے اختتام پر خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔جب کہ بعض افراد کم تر سماجی تعلقات اور مصروفیتوں ہی سےمطمئن ہوجاتے ہیں۔

مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ حقیقی معاشرتی تعلقات ان کی جسمانی صحت سے عملی طور پر بھی منسلک ہوسکتے ہیں، مثلاً عمر رسیدہ افراد کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا یا انہیں دواکھانے کے بارے میں یاد دلانا۔
مطالعے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ سماجی طورپر تنہا ہونے کااثر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر پڑتاہے۔

ڈاکٹر کارن ول کہتی ہیں کہ سماجی تعلقات بڑی عمر کے افراد کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں اور تعلقات میں تبدیلیوں کا سامنا ان کے لیے پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے

ڈاکٹر کارن ول کہتی ہیں بڑی عمر کے جو افراد سماجی تعلقات میں کمی کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے ہیں ان کی صحت ایسے افراد کی نسبت بہتر رہتی ہے جو ایسی صورت حال میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کچھ معمر افراد پر سماجی تعلقات میں کمی کا زیادہ اثرکیوں نہیں ہوتا جب کہ دوسرے کئی افراد عمر بڑھنے کے ساتھ اکیلاپن محسوس کرنے لگتے ہیں اس کے باوجود کہ ان کے دوست ، خاندان کے افراد اور سماجی سرگرمیاں اسی طرح موجود رہتی ہیں۔

ڈاکٹر کارن ول کہتی ہیں کہ تنہائی اور اکیلے پن کا احساس بڑی عمر کے افراد کو کئی طرح سے متاثر کرسکتاہے۔مثال کے طورپر وہ تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں، وہ ڈپریشن کی طرف جاسکتے ہیں ، یہ سب چیزیں جسمانی صحت پر اثرانداز ہوتی ہیں جس سے ان کے زندگی گذارنے کے انداز میں تبدیلی آسکتی ہے یا ان کا جسم براہ راست متاثر ہوسکتا ہے یا بیماریوں کے خلاف ان کے جسمانی مدافعتی نظام پر اثر پڑسکتا ہے۔

گوانتاناموبے میں قید چینی مسلمانوں کا مستقبل

Posted by Anonymous on 10:56 AM

صدر اوباما نے حال ہی میں پھر کہا ہے کہ وہ گوانتانامو بے کیوبا میں امریکی قید خانہ ایک سال کے اندر بند کر دیں گے۔ لیکن گوانتنامو بے میں قید چینی مسلمانوں کے وکیلوں نے کہا ہے کہ وہ مزید انتظار کیےبغیرسپریم کورٹ سے درخواست کریں گے کہ وہ وفاقی عدالت کے حالیہ فیصلے پر نظرثانی کرے جس کے تحت چینی Uighur مسلمانوں کی رہائی پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔



دہشت گردوں کے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے چند مہینے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور دشمن کے سینکڑوں نام نہاد جنگجوؤں کو گوانتانامو بے، کیوبا کے قید خانے میں بھیج دیا گیا۔ ان قیدیوں میں بائیس Uighurs بھی شامل تھے۔



یہ مغربی چین کے مسلمان ہیں جن پر چین نے علیحدگی کے مقصد کے لیے دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے ۔ اگرچہ سرکاری طور پر یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ Uighurs کِس راستے سے ہو کر گوانتنامو پہنچے لیکن عام خیال یہ ہے کہ وہ چین سے پہلے افغانستان اور پھر پاکستان گئے جہاں کچھ لوگوں نے پیسے لے کے انہیں امریکی فورسز کے حوالے کر دیا۔



2006 میں بُش انتظامیہ نے طے کیا کہ ان میں سے پانچ Uighur قیدی بے ضرر ہیں۔ انہیں البانیہ میں آباد کر دیا گیا۔ واشنگٹن کے ایک وکیل George Clarke بقیہ سترہ میں سے دو Uighur قیدیوں کی پیروی کر رہے ہیں"گذشتہ ستمبر تک انہیں اس بنیاد پر قید میں رکھا گیا کہ وہ دشمن کے جنگجو ہیں۔ بُش انتظامیہ کا نظریہ یہ تھا کہ انہیں کوئی الزام لگائے بغیر بھی دشمن کے جنگجو کی حیثیت سے قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ گذشتہ ستمبر سے ان کی اسیری کا یہ جواز ختم ہو گیا ہے اور امریکی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ وہ دشمن کے جنگجو نہیں ہیں"۔



Clarke کہتے ہیں کہ ان کے مؤکل اور دوسرے Uighurs جن سے وہ گوانتانامو میں ملے ہیں چین یا کسی دوسرے ملک کے خلاف تشدد کے کوئی عزائم نہیں رکھتے۔ یہ لوگ دہشت گرد نہیں ہیں اور نہ انھوں نے کبھی دہشت گردی کی تربیت لی ہے۔ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ چین کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے سویلین اہداف کو نشانہ بنائیں۔



تا ہم 2004 سے2007 تک Deputy Secretary of Defense for Detainee Affairs کے عہدے پر کام کرنے والے Charles Stimson کا کہنا ہے کہ ایسا کہنا بالکل غلط ہے۔ گوانتانامو میں قید Uighurs معصوم نہیں ہیں۔ انھوں نے مغربی چین اسی لیے چھوڑا تھا کہ دہشت گردی کی تربیت حاصل کریں۔ وہ محکمہ خارجہ کی دہشت گردی کی تربیت لینے والے گروپوں کی فہرست میں شامل ہیں۔



چین کا نظریہ بھی یہی ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ ان قیدیوں کو واپس چین بھیجا جائے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Qin Gang نے کہا ہے"ہم نے بارہا اور بڑی وضاحت سے اپنا موقف بیان کر دیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے ان مشتبہ ملزموں کو جلد از جلد چین واپس کردے"۔



امریکہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ اگرUighurs کو چین بھیجا گیا تو وہاں ان کو اذیتیں دی جائیں گی۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کبھی بھی انہیں گوانتانامو سے رہا کیا جائے گا تو یہ کہاں جائیں گے۔



اٹارنی جارج Clarke کہتے ہیں کہ درجنوں ملکوں نے امریکہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو قبول کر لیں کیوں کہ انہیں چین کی طرف سے انتقامی کارروائی کا ڈر ہے ۔ "چین نے دوسرے ملکوں پر زبردست دباؤ ڈالا ہے کہ وہ Uighurs کو قبول نہ کریں۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ امریکہ کو ان میں سے کچھ کو یا سب کو قبول کر لینا چاہیئے۔ اگر امریکہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنے کو تیار نہیں ہے تو پھر کوئی دوسرا ملک کیوں یہ خطرہ مول لے گا؟ اگر امریکہ چین کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتا تو پھر کوئی دوسرا ملک کیوں تیار ہو گا؟"






گوانتانامو بے کا قید خانہ اس لیے قائم کیا گیا تھا تا کہ وہاں چین نہیں بلکہ امریکہ کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کو رکھا جائے ۔ چین کے بارے میں ان کے عزائم چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہوں گوانتنامو بے میں قید Uighurs پر امریکہ کے خلاف سازش کرنے کا کبھی کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔



لیکن Charles Stimson کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو امریکہ میں رہا کرنے سے پہلےامریکہ اور چین کے درمیان تعلقات ملک کی داخلی سلامتی اور امریکہ میں چینی مفادات پر حملوں کے خطرات سمیت بہت سے چیزوں کو سامنے رکھنا پڑے گا۔ اگر اوباما انتظامیہ کے خیال میں ان لوگوں سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے تو انہیں اب تک رہا کیا جا چکا ہوتا۔



صدر اوباما نے کہا ہے کہ گوانتانامو کے قید خانے سے دنیا میں امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے جب کہ دہشت گردوں کے حملوں سے امریکہ کو محفوظ بنانے میں اس قید خانے سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔گوانتنامو میں اب بھی تقریباً ڈھائی سو قیدی موجود ہیں۔ چند سال پہلے کے مقابلے میں قیدیوں کی یہ تعداد نصف سے بھی کم ہے
حال ہی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودہری نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ کیوبا سے تمام پاکستانیو کی رہای کا مطالبہ کریں گے
بشکریہ اردو وی او اے ۔

ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت تسلی بخش ہے: میڈیکل رپورٹ

Posted by Anonymous on 10:50 AM

استغاثہ کے مطابق امریکہ میں زیر حراست ڈاکٹر عافیہ صدیقی ذہنی طور پر اس قابل ہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔

ڈاکٹر صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش کی۔

جمعرات کو نیو یارک کی ایک عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ نے اپنے ماہرین کے ذریعے کرائی گئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ذہنی معائنے کی رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ کے نتائج اس سے پیشتر ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز کے ڈاکٹر کی اس رپورٹ سے مختلف ہیں جس میں ڈاکٹر صدیقی کو ذہنی مسائل کا شکار اور مقدمہ چلانے کے لیے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

وکیل صفائی ڈان کارڈی نے عدالت سے اپنے ماہرین کے ذریعے ڈاکٹر صدیقی کا ذہنی معائنہ کرانے کا وقت مانگا جس پر انہیں دو ماہ کا وقت دیا گیا۔

اب 28 اپریل کو جج اور دونوں طرف کے وکلاء کے درمیان ایک کانفرنس کال ہوگی جبکہ جون کے پہلے ہفتے میں فیصلہ سنایا جائے گا کہ عدالت کی نظر میں ڈاکٹر صدیقی ذہنی طور پر اس قابل ہیں یا نہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

اگر مقدمہ ہوا تو چھ جولائی کو پہلی پیشی ہوگی۔

ڈاکٹر صدیقی کو گزشتہ برس جولائی میں افغانستان کے صوبے غزنی میں ان کے بیٹے سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق جب امریکی اہلکاروں کی ایک ٹیم ان سے تفتیش کے لیے پہنچی تو وہ ایک پردے کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ ایک امریکی فوجی نے اپنی رائفل زمین پر رکھی تو ڈاکٹر صدیقی نے اسے پردے کے پیچھے سے اٹھا کر امریکی تفتیشی ٹیم پر دو فائر کیے۔ اس دوران امریکی ٹیم کی جوابی فائرنگ سے وہ زخمی ہو گئیں۔

اس کے بعد انہیں افغانستان سے امریکہ منتقل کر دیا گیا جہاں کچھ عرصہ نیو یارک میں زیر حراست رہنے کے بعد انہیں ٹیکساس میں ایک ایسے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا جہاں ذہنی امراض کا علاج بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صدیقی 2003 میں اپنے تین بچوں سمیت لاپتہ ہو گئی تھیں۔ امریکی حکومت کا الزام ہے کہ ڈاکٹر صدیقی کا تعلق القاعدہ کے کچھ افراد سے ہے اور وہ اس وقت اپنے بچوں سمیت زیر زمین چلی گئیں جب ان کے ساتھیوں کو حراست میں لینا شروع کیا گیا۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ جب انہیں حراست میں لیا گیا تو ان کے پاس سے ایسے ہاتھ سے لکھے کاغذات ملے جن میں ایک بڑے حملے کا ذکر تھا اور امریکہ کی کئی مشہور عمارات، مثلًا ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ اور مجسمہ آزادی کے نام تھے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس سے ایسا مواد بھی ملا جن میں امریکہ کو دشمن قرار دیا گیا تھا اور لوگوں کو بھرتی کرنے اور تربیت دینے کا ذکر تھا۔

ڈاکٹر صدیقی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انہیں 2003 میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے ان کے بچوں سمیت اغوا کیا اور بعد میں افغانستان بھیج دیا گیا جہاں انہیں بگرام کے ہوائی اڈے پر بنے حراستی مرکز میں رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ذہنی مریض بن گئیں۔

ڈاکٹر صدیقی کے بیٹے کو ان کی بہن اور نانی کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے باقی بچوں کے بارے میں ابھی کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی
یاد رہے کہ یہ طاغوتی رپورٹ ہے
بشکریہ اردو وی او اے۔

مسلم دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھنے کا سبب عراق کی تباہ کاری ہے: پروفیسر کول

Posted by Anonymous on 10:48 AM

امریکی پروفیسر ہُوان کول کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں مسلم دنیا کے عوام میں امریکہ کے لیے نفرت بڑھ گئی ہے، اور اِس کی بنیادی وجہ عراق کی تباہ کاری ہے۔

بدھ کے روز واشنگٹن میں تقریر میں اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے منفی رجحانات نے پچھلے چند برسوں میں شدت اختیار کر لی ہے اور یہ بات بُش انتظامیہ کے نوٹس میں آئی ، جودرحقیقت امریکہ کے خلاف منفی جذبات بھڑکانے کی ذمے دارہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بش پالیسی ترتیب دینے والے کارل رو نے ابو غُرائب میں اذیت رسانی کے انکشاف کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کو اپنا چہرہ درست کرنے کے لیے پچیس برس درکار ہوں گے۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے اپنے خطاب میں پروفیسر کول نے اپنے حالیہ دورہٴ اردن کا ذکر کیا جِس میں اُنھوں نے یہ پتا کرنے کی کوشش کی کہ عراقی بغداد واپس کیوں نہیں جاتے۔اُن کے مطابق، اِس کی وجہ یہ ہے کہ بغداد میں نسل کشی ہو چکی ہے اور اب وہاںٕ زیادہ تر شیعہ آبادی پائی جاتی ہے۔


سُنی آبادی کے گھَٹنے کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں نے 2006ء میں مغربی بغداد کے علاقوں کا سیٹلائیٹ سے جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ اِن علاقوں کی روشنیاں گُل ہو چکی ہیں، کیونکہ إِن علاقوں سے سنی آبادی جا چکی ہے۔

پروفیسر کول کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنی تحقیق کے ذریعے معلوم کیا کہ اگر سنی اور شیعہ والدین کے بچے عراق واپس جانے کی کوشش کرتے ہیںتو ممکن ہے کہ اُنھیں قتل کیا جائے۔

مثال دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ عراقی دیواروں پر اِس طرح کی تحریریں پائی جاتی ہیں کہ‘اگر محمد جواد نے پھرسے اِس محلے میں اپنی شکل دکھائی تو اُس کی لاش ملے گی۔’

پروفیسر کول نے اِس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ صدر اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ 2012ء تک عراق خالی کردے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عرب ثقافت میں یہ مثبت عنصر پایا ہے کہ عرب لوگ ماضی کو بُھلانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور مستقبل کی طرف دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایک عربی کہاوت کی مثال دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مشرق ِ وسطٰی میں کہا جاتا ہے کہ جو ماضی میں ہوا وہ ماضی ہو چکا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اب وقت آچکا ہے کہ امریکہ مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، کیونکہ اِس میں امریکہ کے تیل اور دیگر مفادات وابستہ ہیں۔

Zardari briefed on law and order, development of Balochistan

Posted by Anonymous on 8:06 PM

Asif Ali Zardari was given warm welcome as he arrived here at airport on his maiden visit in the provincial capital, Aaj TV reported on Thursday.

Balochistan Chief Minister Nawab Muhammad Aslam Raisani, Governor Nawab Zulfiqar Ali Magsi, provincial and federal ministers and senior officials received the President upon his arrival.

He was presented guard of honour in Governor House.

The president held meetings with governor and the CM. They briefed president Zardari about the ongoing developmental projects and law-and-order situation in the province besides exchanging views over the current political scenario.

The President will reportedly make important announcements for progress of Balochistan.

During his stay in provincial capital, he will also meet with parliamentary leaders of various political parties in Balochistan Assembly, members of the provincial cabinet and other Baloch and Pashtoon politicians.

کشمیریوں کی امنگوں کے خلاف کشمیر کا کوئی حل قبول نہیں: سردار خالد ابراہیم

Posted by Anonymous on 8:01 PM

گزشتہ ساٹھ برسوں سے کشمیر۔۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی بنیادی وجہ ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی وجہ سے باقی تمام معاملات سمیت اس مسئلے پر بھی کافی پیش رفت ہوئی ہے مگر ابھی تک کوئی ایسا حل سامنے نہیں آ سکا جس پر تمام فریق مطمعن ہوں۔ جموںو کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر سرادر خالد ابراہیم نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اگر اس مسئلے کا حل کشمیریوں کی امیدوں کے خلاف ہوا تو وہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ سابق صدر مشرف کے دور میں ہونے والی بیک چینل ڈپلومیسی اور حالیہ دنوں میں بھارتی رہنماؤں کے یہ انکشافات کہ وہ صدر مشرف کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے بہت قریب آ چکے تھے،سردار خالد ابراہیم نے کہا کہ مشرف حکومت بہت جلدی میں فیصلہ کرنا چاہتی تھی مگر اس تنازعے پر کوئی بھی فیصلہ جلدبازی میں نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسی صورت میں جمہوری امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہو گا اوراس میں کشمیری عوام کی نمائندگی نہ ہو پائے گی۔

انہوں نے کشمیریوں کے خود ارادیت کے حق کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور سرحد بھی ریفریڈم کے نتیجے میں پاکستان کا حصہ بنے اس لیے پاکستان کو کشمیر پر کسی ایسے فیصلے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ جس میں کشمیریوں کو ان کا جمہوری حق استعمال نہ کرنے دیا جائے۔

واشنگٹن میں ہر بیسواں شخص ایج آئی وی ایڈز میں مبتلا ہے

Posted by Anonymous on 8:00 PM
امریکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایچ آئی وی ایڈز نےایک وبا کی شکل اختیار کر لی ہے۔ گذشتہ دنوں ایک بیان میں سرکاری طورپر یہ تسلیم کیا گیا ہے واشنگٹن میں ہر بیس میں سے ایک شخص ایڈز میں مبتلا ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران یہاں پر اس مرض کی شرح میں 22 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ایڈز کے ایک مریض کا کہنا ہے کہ میرا خیال تھا کہ مجھے کوئی معمولی سی بیماری ہوئی ہے۔ مگر جب میرے خون کی تشخیص کی گئی تو معلوم ہوا کہ مجھے ایڈز ہے۔

واشنگٹن ڈی سی شہر کے حوالے سے گذشتہ ہفتے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق ایڈورد اس مرض میں تنہا نہیں۔ بلکہ ڈی سی میں رہنے والی آبادی کا تین فیصد اس میں مبتلا ہے۔ جو کہ امریکہ کے کسی بھی شہر میں ایڈز کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ یہ شرح افریقہ کے کچھ علاقوں سے بھی زیادہ ہے۔

ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام سے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر شینن حادر کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کو محض ایمرجنسی کا نام دینے سے بات نہیں بنے گی بلکہ اس کی رو ک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس ایک طویل المیعاد مسئلے کا حل بھی طویل المدتی بنیادوں پر نکالا جانا چاہیے۔ یہ ہنگامی صورتحال ہے۔

افریقن امریکن کمیونٹی اس بیماری کا سب سے زیادہ شکار ہوتی ہے۔ ایڈز کے تقریبا ہر دس میں سے آٹھ افراد جن میں ایچ آئی وی پازیٹو پایا جاتا ہے افریقن امریکن ہوتے ہیں۔ ایڈز کے مریض ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ لوگ اس حوالے سے زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنسی روابط میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہم ایڈز سے بچاؤ کر سکتے ہیں۔

کچھ محققین کے مطابق شاید افریقن امریکن کمیونٹی میں جنیاتی طور پر ایڈز کے خلاف زیادہ مدافعت نہ پائی جاتی ہو اسی لیے ممکن ہے وہ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ امریکی ڈاکٹرز کا کہنا ہے ایڈز سے بچاؤ کے ضمن میں اس حوالے سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں 98نمبر پر

Posted by Anonymous on 7:50 PM

عالمی اقتصادی فورم کی طرف سے جاری کردہ گلوبل انفارمیشن ٹیکنالوجی رپورٹ 2009ء کے مطابق دنیا میں اس شعبے سے وابستہ 134ممالک میں پاکستان 98 نمبر پر ہے جو کہ اس شعبے میں اس کی کمزور حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔آٹھویں سالانہ رپورٹ عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لحاظ سے رابطوں کو مد نظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے جس کے مطابق عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی پوزیشن میں نو درجے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس خراب صورتحال کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عالمی اقتصادی فورم کے اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت کی کمی، اس بارے میں منصوبوں پر عمل درآمد میں غیر ضروری طوالت اور تعطل، تعلیم کے لیے کم فنڈز مختص کرنے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے امیدواروں کا آگے نہ آناشامل ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں سرمایہ کاری اور اس سے وابستہ دیگر شعبوں میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈنمارک، سویڈن اور امریکہ بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ سنگاپور گزشتہ سال کی نسبت پانچویں سے چوتھی پوزیشن پر آگیا ہے۔

اگر عورتیں دینا پر حکومت کریں؟

Posted by Anonymous on 7:42 PM
چاروں طرف نظر دوڑائیں تو جنگیں، معاشی بدحالی، سیاسی کشمکش اور انواع و اقسام کے دوسرے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں اور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کہیں وجہ یہ تو نہیںکہ دنیا کی باگ ڈور مردوں کے ہاتھ میں ہے اور اگر یہی کام خواتین کریں تو دنیا جنت کا نمونہ بن جائے گی؟

اگر آپ کو شک ہے توسامنے کی چند مثالیں دیکھ لیں۔ بتائیں کہ امریکہ میں صحتِ عامہ کا ناقص نظام کیا کسی عورت نے مرتب کیا تھا؟ یا ایسا معاشی نظام جس میں بنک اس فکر سے بے نیاز ہو جائیں کہ پیسہ واپس بھی آئے گا یا نہیں۔ لگتا ہے وقت آگیا ہے کہ مرد حضرات گاڑی کی چابیاں عورتوں کے حوالے کریں اور خود پچھلی سیٹ پر آرام سے بیٹھ جائیں لیکن خاموشی شرط ہے۔

ایک تو خواتین کی قوت ِ فیصلہ غضب کی ہوتی ہے۔ بھارت میں ایک گاؤں کے جائزے سے ثابت ہوا کہ خواتین کی سربراہی میں انتظامی امور بہتر طور پر انجام پائے۔ مثلاً گاؤں کے باسیوں کے لئے تازہ پانی کی فراہمی کے لئے کنویں کھدوائے گئے اور رشوتیں بھی نسبتاً کم لی گئیں۔

امریکہ میں ملازمت پیشہ عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جلد ہی یہ تعداد مردوں سے بڑھ جائے گی، تقریباً نصف کمپنیوں کی مالک عورتیں ہیں لیکن پھر بھی عموماً ملازمت پیشہ خواتین گھر اور بچوں پر بھی بہت سا وقت صرف کرتی ہیں۔

ایک بات تو ظاہر ہے کہ مرد اپنے کوضرورت سے زیادہ عقلمند سمجھتے ہیں اور عورتیں ضرورت سے کم۔ مردوں کی خاصیتوں میں خطروں میں کود پڑنا اوراپنے فیصلے پر اڑے رہنا شامل ہے جبکہ عموماً عورتوں میں انکساری زیادہ ہوگی اور تعاون کا مادہ بھی۔ مردوں کی انہیں صفات سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جبکہ خواتین کی ان عادات سے مسائل حل ہوتے ہیں۔

ہو سکتا ہے عورتوں کی انکساری، کمتری کے اس احساس کے باعث ہو جو مردوں کے سلوک کے باعث پیدا ہوا اورجو نسلوں سے ان کے دماغوں میں ڈالا جا رہا ہے؛ لیکن مردوں میں مقابلے کی خو، صحیح غلط کا سخت معیار (صحیح ان کا اپنا نظریہ، اور غلط دوسرے کا)، بحران پیدا کر ڈالنے کی عادت وغیرہ جیسے مسائل ہیں۔ اس نکتے پر سائنسدان متفق نہیں لیکن یاد رہے کہ ان کی اکثریت مردوں کی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مردوں میں قبضہ جمانے کی عادت ہوتی ہے اور مرد ہی ہیں جو ایسے مردوں کو وسیع و عریض بونس دیتے ہیں جنہوں نے خود ان کی کمپنی کو خاک میں ملایا اور جو اب وہاں کام بھی نہیں کر رہے۔

ہو سکتا ہے یہ مسئلہ بنی نوع ِ انسان کی ارتقا کے ساتھ وابستہ ہو۔ تاریخی اعتبار سے مردوں کا کام شکار کرنا تھا۔ وہاں انہیں صحیح یا غلط، جلدی میں فیصلے کرنا پڑتے۔ کسی جانور کے پیچھے بھاگنا ہو یا اس سے جان چھڑانی ہو، ہر صورت میں انہیں تیزی سے عمل کرنا ہوتا۔ جبکہ عورتوں کو اس طرح کے کاموں کا سامنا رہتا کہ بچوں کو ایک دوسرے پہ پتھر برسانے سے کیونکر باز رکھا جائے، کونسے پھل جلدی پک کر تیار ہونگے، قبیلے کو کیسے اکٹھا رکھنا ہے۔ اس سب کے لئے انہیں حالات کو بڑے تناظر میں دیکھنا پڑتا۔

دوسری طرف ہماری دنیا میں، جہاں آج بھی قد کاٹھ کی بڑائی کو پتھر کے زمانے کی طرح اہم سمجھاجاتا ہے، عورتوں کی یہ مجبوری ہو کہ وہ اپنی مہارت کے لئے دوسرے میدان چن لیں جن میں تخلییقی عمل اور مل جل کر ساتھ چلنا زیادہ اہم ہو کیونکہ اوسطاً عورتیں مردوں سے پانچ انچ چھوٹی اور ستائیس پاؤنڈ ہلکی ہوتی ہیں۔

ویسے اب مرد بھی ماننے لگے ہیں کہ عورتوں میں قیادت کی بہتر صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک تازہ سروے کے مطابق مردوں اور عورتوں دونوں کی اکثریت نے کہا کہ عورتوں میں دیانتداری اور ذہانت مردوں سے زیادہ ہوتی ہے، اور یہی دو خصوصیات قیادت کے لئے سب سے اہم ہیں اور انہی کا آج کل توڑا ہے۔

مردوں کے ناک کی سیدھ میں چلنے اور حکم چلانے جیسے کوائف آج کل کارآمد نہیں کیونکہ اب وہ زمانہ نہیں رہا جہاں جغرافیائی اور سیاسی رسہ کشی میں کسی کی فلاح سمجھی جائے۔


بیروزکار اور بے گھر امریکی خیموں میں رہنے پر مجبور

Posted by Anonymous on 7:26 PM


دنیا کی واحد سپر پاور سب سے بڑی معیشت ساری دنیا کے مجموعی دفاعی بجٹ سے زیادہ دفاعی بجٹ والی ریاست جس کا ویزا یا شہریت لینے کی حسرت تیسری دنیا کے اکثر ممالک کے بیشتر باشندوں کی خواہش اور حسرت ہوتی ہے اور ہاں دو مسلمان ممالک پر مکمل طور پر قابض، دیگر پر بالواسطہ مسلط، مسلمانوں کے قدرتی وسائل کا چور اور لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ملک امریکہ اپنی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ بیروز گاروں اور بے گھروں کی خیمہ بستیاں قائم ہو گئی ہیں دسمبر 2007ءسے اب تک 44 لاکھ امریکی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ اوباما حالات کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہیں۔ انڈیپنڈنٹ ٹیلیویژن نیوز نے 13 مارچ کی اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیروز گاری اور زبردستی بے دخل کئے جانے کے سبب خیموں میں زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست میں کینوس سے بنی خیمہ بستیوں میں خطرناک شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹی وی نے ساکر منٹو نامی علاقے میں چالیس ایکڑ پر قائم ایک خیمہ بستی کے مکینوں کے انٹرویوز کئے۔ 6 ماہ سے اس خیمہ بستی میں مقیم ٹریسی دان نے کہا کہ ”ہم دونوں میاں بیوی ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے، دونوں کو ایک ہی دن فارغ کر دیا گیا، بس یہی کچھ ہوا“۔ ایک دوسرے رہائشی ایرک پلائز کا کہنا تھا کہ اسے کوئی نوکری نہیں مل رہی تھی ”کارپٹ، کنکریٹ یا کارپنٹری کی شعبے میں کام نہیں مل رہا“۔ اس علاقے میں بے گھر افراد کے لئے قائم کئے گئے سرکاری شیلٹر پوری طرح بھر چکے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خیمہ بستیوں پر مجبور ہوتے ہیں۔ صدر اوباما نے حال ہی میں معیشت کو بہتر بنانے کے لئے 572 بلین ڈالر کے پیکیج پر دستخط کئے ہیں تاہم ابھی تک اس کے اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔ دریں اثناءبیروز گاری اور بے گھری کے باعث لوگوں نے خود کشیاں شروع کر دی ہیں۔ چند ماہ قبل جنوبی کیلیفورنیا میں پولیس کو ایک شوہر، بیوی، بہن، بچوں اور ساس کی لاشیں ملیں۔ ان افراد کو شوہر نے قتل کر کے خود کشی کر لی اور آخری پیغام میں لکھا کہ یہ سب کچھ مالی مشکلات کے باعث کیا ہے۔ ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مالی مشکلات کے باعث نفسیاتی امراض میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔ دریں اثناءامریکہ میں ایک طرف اقتصادی بحران کے باعث لوگ بیروزگار ہو رہے ہیں تو دوسری طرف قرضوں پر حاصل کئے گئے گھر اور گروی گھروں پر لئے گئے قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کے بعد انہیں زبردستی گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ امریکہ ایک بہت بڑا ہاتھی ہے۔ اسے گرنے میں وقت لگے گا تاہم گرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

مسجد میں امریکی جاسوس نے دہشت گرد بھرتی کئے؛ ایف بی آئی اور امریکی مسلمان

Posted by Anonymous on 2:54 PM

امریکہ میں ایف بی آئی جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے خانہ ساز دہشت گردوں کو پکڑنے میں ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ امریکی مسلمان تنظیموں اور گروہوں کے ساتھ ان کے مراسم اچھے نہیں رہے۔ کیئر یعنی
Council on American Islamic Relations کے ساتھ چند ماہ ہوئے ایف بی آئی نے اپنے تعلقات خاموشی سے منقطع کر لئے۔ جب وجہ پوچھی گئی تو تفصیلات میں جانے سے انکار کر دیا۔ اس صورت حال میں مزید خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب یہ بات مشہور ہو گئی کہ ایف بی آئی نے اپنا جاسوس کیلی فورنیا کی ایک مسجد میں مقرر کیا تھا۔ بہت سی مسلمان تنظیموں کے بقول اس جاسوس نے شد و مد کے ساتھ دہشت گرد بھرتی کرنا شروع کر دئے۔

مسلمان تنظیموں کے سربراہ ادارے نے گذشتہ ہفتے ایف بی آئی پر الزام عاید کیا کہ وہ جاسوسی کے دقیانوسی حربے استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایف بی آئی سے تمام تعلقات ختم کر لیں گے اگر اس نے اس راز کو طشت از بام نہ کیا کہ کئیر سے متعلق اسے کیا تشویش تھی، اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے غلط کام کروا کے اسلامی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ترک نہ کی۔

ایف بی آئی نے کوئی خاص جواب نہیں دیا اور اتنا کہا کہ مسلمان اداروں نے سنید،ہ معاملات میں نیک نیتی سے مذاکرات نہیں کئے۔ اس بیان کو ایسے اسلامی تنظیموں نے بھی پسند نہیں کیا جن کا اس اتحاد سے تعلق نہیں جو ایف بی آئی سے تعلقات توڑنا چاہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں ہمیں مذاکرات میں شامل رہنا چاہئے۔ اسی میں ہم اپنی کمیونٹی کی اور امریکہ کی فلاح سمجھتے ہیں۔

لاس اینجلس میں مسلم پبلک افئرز کونسل کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ جس طرح ایف بی آئی نے کام دکھایا ہے اس سے مسجد جانے والوں کا نام خواہ مخواہ خراب ہوا ہے۔ اور کیئر سے ان کی علحٰدگی اچھی بات نہیں تھی۔

گیارہ ستمبر کے بعد ایف بی آئی نے تمام بڑی مسلمان تنظیموں سے رابطے کئے اور ان کوششوں کو اچھی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ان حملو ں کے بعد ایف بی آئی نے کیئر کے بارے میں بے حد اچھے جذبات کا اظہارکیا تھا کہ انہوں نے ہم سے بڑا تعاون کیا ہے، یہ سب کیئر کی ویب سائیٹ پر موجود ہے۔ایف بی آئی کے عہدیدار ان کے عشائیوں میں شریک ہوتے۔چنانچہ ایف بی آئی کی جانب سے انیس ریاستوں میں تیس دفاتر سے قطع تعلق بہت ہی اچھنبے کا باعث بنا۔اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی البتہ ان کے ترجمان جان ملر نے کہا ہے کہ کیئر کے اعلیٰ حکام کو وجہ سمجھا دی گئی ہے۔

کیئر کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ 2007 سے چلا آ رہا ہے۔جب ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے ایک متنازع مقدمے کے دوران کئیر کو ان سازشی اداروں اور افراد کی فہرست میں شامل کر دیا جن پر دہشت گردی ثابت نہیں ہے لیکن وہ مشتبہ ہیں۔

2008 میں اس ادارے پر حماس کے ساتھ روابط کا الزام ثابت ہو گیا۔ ایف بی آئی کے نام ایک خط میں کئیر نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ کئیر پر یہ چھاپ کبھی نہیں لگنی چاہئے تھی اور خاص کر اس کا علی الاعلان اظہار نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ یہ غیر منصفانہ ہے اور یہ الزام تراشیاں محکمہٴ انصاف کے اپنے ضوابط کی خلاف روزی کرتی ہیں

ایف بی آئی کے ذرائع نے بھی کہا ہے کہ کئیر کےہولی لینڈ فاؤنڈیشن سے روابط ہی ان کے اقدام کی اصل وجہ تھی۔مسلمان اور عرب تنظیموں کو یہ رنجش بھی ہے کہ ایف بی آئی نےاورنج کاؤنٹی، کیلی فورنیا میں ایک سزا یافتہ مجرم کو جاسوس بنا کر بھیجا۔

یہ جاسوس نو مسلم بن کر وہاں جاتا رہا اور اور مبینہ طور پر مسجد کے کئی ارکان کے سامنے دہشت گرد نظریات کا پرچار کرتا رہا۔اس پر ایک ممبر یعنی احمدُاللہ سائیس نیازی نے ایف بی آئی سے شکایت کی کہ یہ شخص اشتعال انگیاز بیانات دے رہا ہے اور اس کا داخلہ یہاں بند کیا جائے۔

امریکی مسلم ٹاسک فورس کے مطابق اس پر ایف بی آئی نے مسٹر نیازی کے خلاف تفتیش شروع کر دی اور پھر ان سے کہا کہ آپ ہمارے جاسوس بن جائیں۔ٹاسک فورس نے ایف بی آئی کو باقاعدہ شکایت نامہ درج کرایا ہے۔ جب نیازی نے جاسوسی سے انکار کر دیا تو ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ نے ان سےکہا کہ ان کی زندگی تباہ کر دی جائے گی۔ تب سے نیازی کو گرفتار کر لیا گیا اور اس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے شہریت حاصل کرنے کے لئےجھوٹے بیان دئے اور یہ بھی چھپایا کہ اس کی ہمشیرہ نے، عدالتی دستاویزات کے مطابق، القاعدہ کے ایک کارکن کے ساتھ شادی کر رکھی ہے۔

مسلمان کمیونٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ انہیں ایف بی آئی کے اس اقدام پر سخت برہمی ہے کہ ان کی کمیونٹی میں ایسے ایجنٹ کو بھیجا گیا جو دہشت گردوں کو بھرتی کرتا رہا تاکہ مسجد پر الزام لگایا جا سکے۔اس حرکت سے دس سال پرانے اعتماد کی دیوار زمین بوس ہو گئی ہے۔

ایف بی آئی بار بار کہتی ہے کہ ہم کسی مسجد کو ہدف نہیں بنا رہے بلکہ افراد کو پکڑنا چاہتے ہیں ۔اور ہم یہ سب قانونی حدود میں رہ کر کرتے ہیں۔اسی قسم کی تفتیش کے سلسلے میں کبھی افراد ہمیں ایسی جگہوں پر لے جاتے ہیں جہاں ان کا آنا جانا رہتا ہے۔

لیکن ایف بی آئی کے جاسوس کریگ مونٹِیل نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہیں متعدد مساجد میں بھیجا گیا تھا اور یہ کہ انہوں نے نیازی کی دہشت گردوں سے مبینہ ہمدردی کے بارے میں ایف آئی کو خبردار کیا تھا
بشکریہ اردو وی او اے۔

بھارتی کشمیر میں مزید بڑے حملے کریں گے:لشکر طیبہ

Posted by Anonymous on 7:52 AM



بھارتی کشمیر میں فوج کے خلاف برسر پیکار عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے مستقبل میں مزید بڑے حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ ہفتے سے جاری شدید لڑائی میں ایک میجر سمیت آٹھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں 17عسکریت پسند بھی مارے جا چکے ہیں جو ان کے مطابق لشکر کے ممبر ہیں لیکن کشمیری نہیں ہیں۔

اس لڑائی میں لشکر طیبہ کے ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے تنظیم کے ترجمان عبداللہ غزنوی نے بدھ کے روز سری نگر کے صحافیوں کو فون پر بتایا کہ آنے والے دن بھارتی افواج کے لیے بدترین ثابت ہوں گے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی اس بات کا پیغام ہے کہ کشمیر میں آزادی کے لیے جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری ہے۔

عبداللہ غزنوی کا دعویٰ تھا کہ کپواڑہ میں جاری لڑائی میں اب تک 25بھارتی فوجی جبکہ 10عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ پر عائد کیا جاتا ہے
بشکریہ وایس ااف امریکہ۔

دماغ حقیقی اور تصوراتی چیزوں میں فرق کیسے کرتاہے : نئی سائنسی تحقیق

Posted by Anonymous on 7:42 AM

فزآرگ ڈاٹ کام پر شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے دماغ کے ان حصوں کی شناخت کرلی ہے جو حقیقی او رتصوراتی چیزوں کے درمیان فرق کی نشان دہی کرتے ہیں۔ دماغ کے یہ حصے اے ایم پی ایف سی اور پی سی سی اس وقت فعال ہوتے ہیں جب آپ اپنی ذاتی زندگی کی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں اور اپنے بارے میں کچھ سوچتے ہیں۔

اس تحقیق کی بنیاد پر سائنس دانوں نے یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ ممکن ہے کہ ہمارا دماغ حقیقی اور تصوراتی چیزوں کے درمیان اس لیے فرق کرسکتا ہو کیونکہ حقیقی چیزوں میں ذاتی حوالہ، تصوراتی چیزوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

ایک نئے مطالعاتی جائزے میں اس مفروضے کو پرکھا گیا ہے کہ حقیقی اور تصوراتی چیزوں کے درمیان فرق کرنے میں ذاتی حوالے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ سائنس دانوں نے حقیقی اور تصوراتی چیزوں کے درمیان فرق کے عمل کے دوران دماغ کی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے فنکشنل میگنیٹک ریزوننس امیجنگ ( ایف ایم آر آئی ) کا طریقہ استعمال کیا۔ یہ ریسرچ جرمنی کے میک پلینک انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن برین اورجرمنی کی یونیورسٹی آف گیسن کی اینا ابراہم اور میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن برین اینڈ کاگنیٹیو سائنسز اور م کلون، جرمنی کے میکس پلینک فار نیورولوجیکل ریسرچ کے ڈاکٹر یویز نے کی اور اس کے نتائج پی ایل اوز ون میں شائع ہوئے ہیں۔

ابراہم نے ویب سائٹ فزآرگ کو بتایا کہ ان کے تجربات سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ دماغ حقیقت سے مراد کیا لیتا ہے۔ تجربات سے دو ہفتے قبل تجربے میں شمولیت کے لیے تیار 19 افراد سے کہا گیا کہ وہ اپنے قریبی دوستوں اور خاندان کے افراد کے نام فراہم کریں اور ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ مشہور شخصیات اور افسانوی کرداروں کی ایک فہرست دیکھ کر یہ تصدیق کریں کہ وہ ان سے مانوس ہیں۔

تجربات کے دوران شرکا کو وہ نام دکھائے گئے جو یا تو ان کے دوست اور خاندان کے افراد تھے ( جن سے ان کا گہرا تعلق تھا) مشہور لوگ ( درمیانے درجے کاذاتی تعلق) یا افسانوی کردار(بہت کم ذاتی تعلق) شرکا نے ا س قسم کے سوالوں کے جواب بھی دیے مثلاً، کیا کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ان لوگوں/کرداروں میں سے کسی سے بات کر سکے ( حقیقی لوگوں اور افسانوی کرداروں کے درمیان بات چیت کو ناممکن خیال کیا گیا تھا)۔

جیسا کہ محققین کو توقع تھی، نتائج سے ظاہرہوا کہ جب تجربے میں شریک افراد نے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے بارے میں ( جن کے ساتھ بہت ذاتی تعلق تھا) سوالات کے جواب دیے تو حقیقی اور تصوراتی چیزوں میں فرق کے عمل سے متعلق دماغ کے حصوں میں بہت زیادہ فعالیت ظاہر ہوئی بہ نسبت ان سوالوں کے جو مشہور لوگوں یا افسانوی کرداروں کے بارے میں کیے گئے۔ مشہور لوگوں کے بارے میں کیے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے دماغ کے یہ حصے میں درمیانے درجے کی جب کہ تصوراتی یا افسانوی کرداروں کے بارے میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کم تر درجے کی فعالیت ظاہرہوئی۔


اس تجربے سے ماہرین نے حقیقی اور تصوراتی چیزوں کے ادراک کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ تو کیا ہے لیکن ان نتائج سے مزید سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں۔

ابراہم کہتی ہیں کہ میں اپنی والدہ اور جارج بش دونوں کو سنڈریلا سے زیادہ حقیقی سمجھتی ہوں لیکن میں جارج بش کو اپنی والدہ کی نسبت کم حقیقی کیوں محسوس کرتی ہوں،کیوں کہ دونو ں لوگ بہر طور معروضی طور پر اپنا وجود رکھتے ہیں۔

شاید ایسا اس لیے ہے کہ میں جارج بش سے کبھی ملی نہیں ہوں اور یا اس لیے کہ میں ان کے بارے میں کم معلومات رکھتی ہوں۔ شاید میں اس سے اس صورت میں زیادہ متعلق ہوتی اگر وہ میرے آبائی ملک کے خلاف جنگ کرتے۔ابراہم کا کہنا ہے کہ یہ تمام کھلے سوال ہیں جن کے جواب صرف اس صورت میں دیے جا سکتے ہیں جب ہم حقیقت کا مفہوم متعین کریں گے۔اور ہماری تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کسی فرد کو حقییقی محسوس کرنے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس شخص کاہم سے کتنا زیادہ ذاتی تعلق یا حوالہ ہے۔

تاہم محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ ذاتی تعلق یا حوالہ کسی چیز سے حقیقی تعلق یا حوالے سے یکسر طور پر مسنلک نہیں ہے کیوں کہ کچھ لوگ مخصوص افسانوی یا تخیلاتی چیزوں سے ذاتی تعلق کا تجربہ رکھ سکتےہیں جیسا کہ کمپیوٹر کی کچھ گیمز یا مذہب میں ہو سکتاہے۔

مثال کے طور پر ایک مخصوص کمپیوٹر گیم انتہائی شوق سے کھیلنے والے کے دماغ کے اس حصے میں جو حقیقی اور تخیلاتی چیزوں کےدرمیان فرق میں مدد دیتاہے، ممکن ہے اس مخصوص گیمز کے کسی کردار کو دیکھ کر اس کے مقابلے میں زیادہ فعالیت ظاہر ہو جتنی کہ اسے کسی ایسے حقیقی شخص کو دیکھ کر ہو جس سے اس کا حقیقی دنیا میں نسبتاً بہت کم تعلق ہو۔ ابراہم مزید کہتی ہیں کہ اگرچہ موجودہ تحقیق تخیلاتی تشدد اور حقیقی تشدد میں کسی تعلق کے بارے میں کوئی فہم یا بصیرت فراہم نہیں کر سکی ہے تاہم ایسی ہی مزید تحقیقات سے اس بات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا ایسا کوئی تعلق موجودہے۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغ کے اے ایم پی ایف سی اور پی سی سی کے یہ حصے ایک ایسا خودکار نیٹ ورک کی طرح کام کرتے ہیں جو کسی بھی شخص کا نام دیکھ کر حرکت میں آجاتے ہیں، چاہے آپ کا اس سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو
بشکریہ وایس ااف امریکہ۔