’ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دی جائے

Posted by Anonymous on 8:51 PM






’میرا بھائی فوجیوں اور طالبان دونوں سے ڈرتا تھا اور مارے جانے سے چند دن پہلے ہی ساڑھے تین ماہ کے بعد پشاور میں پناہ گزین کی حیثیت سے رہنے کے بعد واپس سوات آیا تھا۔ سوات میں امن کی خاطر میرے بھائی کی المناک موت اگر کام آجائے تو کسی حد تک ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ ہمارا فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے مطالبہ ہے کہ میرے بھائی کو گھر کے باہر مارنے والے فوجیوں کو سزا دی جائے۔‘

یہ الفاظ مینگورہ کے علاقے رنگ محلہ میں کپڑے کا کاروبار کرنے والے رفیع اللہ کے بہنوئی فیاض خان کے تھے۔ رفیع اللہ کے ہی چھوٹے سے مکان کے ایک کمرے میں اس موقع پر مرحوم کے پانچ کم عمر بچے بھی موجود تھے۔

فیاض کے بھائی نے درد بھری آواز میں کہا کہ ان کے بھائی اگست کی ایک شام کپڑے کی دوکان بند کر کے گھر آ رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز نے ان کو روک کر ان کی تلاشی لی اور بعد میں انہیں جانے کی اجازت دی۔ جونہی وہ روانہ ہوئے اور مڑ کر دیکھا تو ان پر ایک فوجی نے فائرنگ کر دی۔ ’چھ گولیاں ماریں انہوں نے اور اس نے وہیں گھر سے چند قدم کے فاصلے پر جان دے دی۔ چاہیے تھا کہ کوئی تنبیہ دیتا یا ہوائی فائر کرتا۔‘

فیاض نے، جو اس واقعے کے عینی شاہد تھے، گھر جانے والی تنگ سی گلی میں وہ مقام دکھایا جہاں گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے ایک مکان کی دیوار پر گولیوں کے نشانات بھی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت سکیورٹی فورسز قریبی علاقوں میں تلاشی لے رہے تھے اور علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ لیکن ان کے بقول ان تنگ اور پیچیدہ گلیوں میں عموماً لوگوں کو آمدو رفت کی اجازت ہوتی تھی اور سکیورٹی فورسز نرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔
فیاض نے، جو اس واقعے کے عینی شاہد تھے، گھر جانے والی تنگ سی گلی میں وہ مقام دکھایا جہاں گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے ایک مکان کی دیوار پر گولیوں کے نشانات بھی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت سکیورٹی فورسز قریبی علاقوں میں تلاشی لے رہے تھے اور علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ لیکن ان کے بقول ان تنگ اور پیچیدہ گلیوں میں عموماً لوگوں کو آمدو رفت کی اجازت ہوتی تھی اور سکیورٹی فورسز نرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔

رفیع اللہ کے چھوٹے بھائی فرمان علی نے بتایا کہ انہوں نے حکومت کو اس بابت ایک درخواست بھی دی تھی لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ’ایک وکیل سے مشورہ کیا تو اس نے بتایا کہ ہم فوج کے خلاف رپورٹ نہیں کٹوا سکتے۔‘


مقتول رفیع اللہ کے پانچ بچے ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں
’میرے بھائی کا تعلق طالبان یا کسی اور عسکریت پسند گروپ سے نہیں تھا اور علاقے کے لوگ بھی اس کے گواہ ہیں۔ وہ کئی سالوں سے رنگ محلہ میں کپڑے کی دوکان چلا رہے تھے۔ ان کی موت کے بعد گھر میں اور کوئی کاروبار چلانے کے لیے موجود نہیں۔ دیگر بھائی اپنا اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے بیوی بچوں کا اب کیا ہوگا۔ فوجی بعد میں معاوضہ تو درکنار پوچھنے بھی نہیں آئے۔‘

فیاض کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں اور صرف فوج کے سربراہ سے اپیل ہی کرسکتے ہیں کہ ان کے بھائی کی موت کی تحقیقات کر کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دی جائے۔‘

سوات میں ایک بےگناہ اور پرامن شہری کے قتل کا پہلا واقعہ نہیں۔ مقامی طالبان پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں عام شہریوں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر قتل کیا لیکن متاثرہ خاندان خوف اور غم کو دوبارہ تازہ نہ کرنے کی وجہ سے خاموش ہیں۔ آپریشن کے دوران فوج اور طالبان اپنے اپنے جانی نقصانات کا تو بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن کسی نے بھی تشدد کے واقعات میں مارے جانے والے عام اور بے گناہ افراد کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی ہے۔

وہ بے بس ہیں اور صرف فوج کے سربراہ سے اپیل ہی کرسکتے ہیں کہ ان کے بھائی کی موت کی تحقیقات کر کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دی جائے

فیاض
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سوات آپریشن میں عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی گئی ہے۔

سرحد حکومت نے آپریشن کے دوران مارے جانے والے بے گناہ افراد کی تعداد اور ان کے لواحقین کی امداد کے لیے کسی پالیسی کا علان ابھی تک نہیں کیا ہے محض چند افراد کو چیک دیے گئے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی بہت تھوڑی ہے۔ متاثرہ افراد کو شکایت ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور سرحد کے وزیر اعلیٰ کے اعلانات صرف بیانات تک ہی محدود ہیں۔

پاکستان فوجی کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا اس واقعے کے بارے میں کہنا تھا کہ سوات کے مختلف علاقوں میں کارروائی جاری ہے۔ ’مجھے نہیں معلوم یہ کب کا واقع ہے۔ میں وہاں کے متعلقہ کمانڈر سے تفصیل طلب کروں گا کہ کیا حقیقت ہے۔ یہ بڑی تحقیقات والا واقعہ ہے۔ جب تک اپنے ذرائع سے معلوم نہ کر لوں میں اس پر بات نہیں کر سکتا۔‘

Pak Vs Australia Test Series 2009-10 Score Card=Courteous By BBC

Posted by Anonymous on 3:21 PM
One Time First dy of the Fist test Simen cattage and Sh Watson Stands together in the creas. Then have First Success for pakistan Run Out to Watson. See the Photo.




Score Card of The First Test Between Pakistan An Australia

Score Card
2nd Test Match Between Pakistan and Australia.
Description; Pakistan first go to bowling. and aus all out on 127 runs. then pakistan scored 14 runs in the first daywithout the loss of any wicket. Muhammad sami whose come back in international cricket after two years , he got first 3 wicket of australia. and then Muhammad Asif got next 6 wicket of the australian first innegaz , Umer Gul Get Last wicket of ths Australia.. I will Hope that pakistan would be better in the Ground in the captaincy of Muhammad Yousaf. who Admit the Islam Before 4 years.
Very sad Day In the History of Pakistan cricket. To Day Pakistan cricket team Have failed to chase the 176 runs. Umer Akmal is top scorer of pakistan.
Score Card of 3rd Test Match Between Pakistan and Australia.
This Match will not be decider of the series , because already decide.Australia have won First Two Matches. That Unimportant Match will be Played 14 January 2010 to 18 January 2010. pakistan try to play the kamran akmal in the next match and coach try to play sarfraz ahmed.

ناک اور کان کاٹنے کا حکم=’سزا غیر آئینی اور غیر انسانی ہے

Posted by Anonymous on 6:15 PM


لاہور میں انسدا د دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ایک خاتون کی ناک اور کان کاٹنے کا جرم ثابت ہونے پر دو بھائیوں کو بھی یہی سزا سناتے ہوئے ان کی ناک اور کان کاٹنے کا حکم دیا ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

ایک سرکاری وکیل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ جج نے یہ سزا اسلامی قانون قصاص ودیت کے تحت سنائی ہے ۔ وکیل کے مطابق مجر م شیر محمد اور امانت علی میں سے ایک بھائی اپنی رشتہ دار 22 سالہ فضیلت بی بی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن خاتون کے والد کی طرف سے انکار کرنے پر ستمبر میں دونوں بھائیوں نے اسے پستول دکھا کر اغوا ء کر لیا اور دوران قید چھری سے اس کی ناک اور کان کاٹ ڈالے۔

وکیل احتشام قادر نے بتایا کہ لڑکی کی ماں بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر دل کادورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں قصاص و دیت کا قانون فوجی آمرجنرل ضیاء الحق نے ملک کی مذہبی جماعتوں کی خوشنودی کے لیے نافذکیاتھا ۔ اس قانون کے تحت جیسا جرم کیا جائے مجرم کو ویسی ہی سزا دی جاتی ہے یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ اور خون کے بدلے خون کی سزا ہوسکتی ہے بشرطیکہ متاثرہ شخص جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف نہ کردے۔ تاہم پاکستان میں ایسی سزائیں کم سنائیں جاتی ہیں اور اگر کوئی عدالت اسلامی قوانین کے تحت ایسی سزا سنا بھی دے تو اعلیٰ عدالتوں میں ان کے خلاف اپیلوں سے یہ ختم ہو جاتی ہیں۔
Courteous By VOA

Second Part of dicion. Followed Courteous By BBC
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستانی عدالت کی طرف سے ایک مقدمے میں دو افراد کے کان اور ناک کاٹنے کا حکم دینے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا تو عدالت اسے کالعدم قرار دے دی گی۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شادی سے انکار پر لڑکی کے کان اور ناک کاٹنے والے کلِک دو ملزموں کے ناک اور کان کاٹنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت نے بائیس سالہ فضلیت بی بی کے ناک اور کان کاٹنے پر دو بھائیوں شیر محمد اور امانت علی کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی سنائی ۔

شیر محمد اور امانت علی پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے اس سال اٹھائیس ستمبر بائیس سالہ فضلیت کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں ایک بھٹہ پر کام کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جا رہی تھی۔استغاثہ کے مطابق شیر محمد نے فضلت بی بی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی والد کی طرف سے انکار پر ملزموں نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایااور اس کا ناک اور کان کاٹ دیا۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرمین سید اقبال حیدر نے عدالت کی طرف سے ناک اور کان کاٹنے کی سزا غیر آئینی اور غیر انسانی قرار دیا ۔

ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔ یہ فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی ملکی آئین ضمانت دیتا ہے

سید اقبال حیدر
بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔انہوں نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی ملکی آئین ضمانت دیتا ہے۔ سید حیدر اقبال نے کہا کہ انہیں یہ یقین کامل ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دی گی کیونکہ پہلے اس قسم کے فیصلوں کو اعلیٰ عدلیہ نے کالعدم قرار دے چکی ہے ۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی ہے اور اس اپیل کے ذریعے عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ اعلیٰ عدالت کے سامنے آئے گا تو اس وقت عدالت یہ دیکھے گی کہ گواہی کا معیار کیا ہے ۔ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ ہائی کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے اور بقول ان کے پاکستان میں کبھی ایسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا جس میں جسم کے کسی حصہ کو کاٹنے کا حکم دیا گیا ہو۔

جب یہ فیصلہ اعلیٰ عدالت کے سامنے آئے گا تو اس وقت عدالت یہ دیکھے گی کہ گواہی کا معیار کیا ہے ۔ ہائی کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے اور اکستان میں کبھی ایسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا جس میں جسم کے کسی حصہ کو کاٹنے کا حکم دیا گیا ہو

ڈاکٹر خالد رانجھا
پنجاب کے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اختر علی قریشی کا کہنا ہے کہ جب ماتحت عدالت کوئی فیصلہ دیتی ہے تو اس فیصلے کے خلاف اپیل اور ریفرنس بھی دائر کیے جاتے ہیں اور عدالت ان پر سماعت کرنے کے بعد فیصلہ دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے بھی ماتحت عدلیہ نے جسمانی اعضاء کاٹنے کے احکامات دیے تھے لیکن اعلیٰ عدلیہ نے ان فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قصاص کے تحت جسم کے حصہ کو کاٹنے کی سزا دی جاتی ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ گواہی کے معیار کو پرکھنے کے بعد ان سزاؤں پر عمل درآمد روک دیتی ہے۔

مقدمے میں سرکاری وکیل احتشام قادر کا کہنا ہے کہ عدالت نے دونوں ملزموں کو اسلام کے اس اصول کے تحت سزا دی ہے جس کے تحت آنکھ کا بدلہ آنکھ اور دانت کےبدلے دانت ہے اور بقول ان کے پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی عدالت نے اس قسم کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کے بقول فیصلے میں جہاں قصاص کے تحت کان اور ناک کاٹنے کی سزا دی گئی ہے وہاں تعزیر میں ملزموں کو اسی جرم میں قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے اور قصاص کے تحت دی جانے والی سزا پر عمل درآمد نہ ہونے پر انہیں سزا بھگتنا ہوگی۔

فائر فوکس:موبائل ورژن کا افتتاح عنقریبNew Version Of Mobile Firefox

Posted by Anonymous on 5:53 PM
فائر فوکس براؤزر کے موبائل ورژن کے منصوبے کے سربراہ نے کہاہے کہ موبائل ورژن کا عنقریب افتتاح کر دیا جائے گا۔

موزیلا کے جئے سولیوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فائر فوکس کے موبائل ورژن کا نام فینک رکھا گیا ہے اور ابتدائی طور پر یہ نوکیا موبائل فون کے ماڈل این نو سو پر دستیاب ہو گا۔

موزیلا کے جئے سولیوان نے کہا کہ موبائل ورژن حتمی ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے اور اسے رواں سال کے آخر میں ریلیز کر دیا جائے گا۔ فائر فوکس کا نیا اوپن سورس ورژن ڈیسک ٹاپ پر دستیاب براؤزر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اس سافٹ ویئر کی وجہ سے یہ ممکن ہو گا کہ صارف کے ڈیسک ٹاپ پر جو بھی ویب پیج کھلتا ہے وہ خودکار طریقے سے موبائل ورژن پر بھی دستیاب ہو گا۔جئے کے مطابق کام ختم کرنے کے بعد جب آپ اپنے کمپیوٹر سے اٹھ جائیں گے تو پھر موبائل فون کے ذریعے تمام کام ممکن ہو سکیں گے۔

فائر فوکس کا موبائل ورژن موزیلا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہو گا اور وہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتے گا اس کے علاوہ نوکیا کے سٹوز پر دستیاب ہو گا جہاں سے نوکیا نو سو کے صارفین اس کو ڈاون لوڈ کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ادارہ مائیکرو سافٹ ونڈوز موبائل اور گوگل اینڈویڈ آپریٹنگ سسٹم پر کام کر رہی ہے۔

فائر فوکس کے موبائل ورژن منصوبے کے سربراہ کے مطابق موبائل سافٹ ویر کچھ عرصے کے بعد ایپل کے آئی فون پر دستیاب ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایپل ان معاملات سے دور رہتا ہے اور اس لیے ایسا جلد ممکن نہیں ہو گا۔

Challange of Zardari.By Wusatullah Khan . Courteous by bbc

Posted by Anonymous on 2:36 PM
ہمیں انیس سو اٹھاسی سے اب تک بتایا جا رہا ہے کہ مرحومہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری اور ان کے حوالی موالی اس ملک کا سب سے کرپٹ سیاسی ٹولہ تھا اور ہے۔

مگر یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساڑھے چار برس چھوڑ کر یہ کرپٹ ٹولہ تیسری بار کیسے اقتدار میں آگیا۔مسٹر ٹین پرسنٹ کس طرح پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے مومنینِ کرام، حاجی صاحبان اور متقی و پرہیزگار ارکان کی اکثریت کے ووٹ سے پاکستان کے صدر بن گئے۔یا تو زرداری کو صدر بنانے والے نیند میں چل رہے تھے یا پھر اتنے بھولے اور معصوم تھے کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ جسے وہ صدر منتخب کر رہے ہیں اس کی شکل تو زرداری جیسی ہے لیکن اس مرتبہ اس کے جسم میں ایک معصوم نومولود کی روح حلول کرگئی ہے۔

جس طرح ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آدمی اپنے ووٹ سے پہچانا جاتا ہے۔اگر کروڑوں عام اور ان کے منتخب کردہ پارلیمانی زرداریوں نے ووٹ دے کر آصف علی اور ان کی جماعت کو پانچ برس کے لیے اقتدار دے دیا تو اس میں افسوس اور واویلا کاہے کو ؟

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے ووٹر کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا قانون بنایا جس پر دودھ میں پانی، پٹرول میں مٹی کا تیل، مرچوں میں سرخ اینٹ کا چورا، چائے میں لکڑی کا برادہ ، منرل واٹر کی بوتل میں نلکے کا پانی ملانے، بلیک مارکیٹنگ کرنے اور دو نمبر دوا، جعلی کھاد، جعلی بیج اور کاغذی سڑک بنانے کا الزام ثابت ہوجائے۔

کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سیاست میں آنے والے کسی ایسے ریٹائرڈ ایماندار بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کو قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن یا ضلعی ناظم منتخب کرنے کی کوشش کی جس کے پاس ایک سے زائد گھر، گاڑی ، بینک بیلنس ، سینکڑوں ایکڑ مراعاتی زمین ، کھاد یا گیس کا مراعاتی کوٹہ یا کسی غیرملکی بینک میں اکاؤنٹ نہ ہو۔

کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ مطالبہ کیا کہ ہر حاضر سروس جرنیل، جج، بیوروکریٹ یا سیاستداں، جب بھی اعلیٰ عہدہ یا ترقی پائے تو اپنی منقولہ و غیر منقولہ املاک اور کھاتوں کا گوشوارہ پیش کرے۔اور ان میں سے ہر سال بیس فیصد گوشوارے بذریعہ قرعہ اندازی مکمل چھان بین کے لیے منتخب کیے جائیں تاکہ باقی اسی فیصد اگلے گوشوارے میں غلط بیانی نہ کرسکیں۔

یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ووٹر کے گریبان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن اسے بوجوہ نظر نہیں آتے۔مگر ان گذارشات کا یہ مطلب نہیں کہ گند صاف کرنے کا آغاز ہی نہ ہو۔چلئے آپ مشرف، شوکت، شجاعت سے آغاز نہ کرسکے نہ سہی، زرداری گیلانی سے ہی سہی۔لیکن ان ووٹروں کا بھی تو کچھ کیجئے جو موقع پاتے ہی پھر ایسے لوگوں کو کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔

ایک بات بتاؤں !

براعظم وسطیٰ امریکہ کے ملک نکاراگوا میں سموزا خاندان سنہ انیس سو تیس سے انیس سو اناسی تک مسلسل برسرِ اقتدار رہا۔ کسی نے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حضور نکاراگوا میں جمہوریت کا سورج کب نکلے گا اور وہاں کے لوگوں کو سموزا خاندان کی حرم زدگیوں سے کب چھٹکارا ملےگا۔روزویلٹ نے کہا یہ سچ ہے کہ سموزا حرامزادے ہیں۔لیکن وہ ہمارے حرامزادے ہیں۔۔۔

بقولِ شیخ سعدی اصفہان کے بھیڑئیے سے اصفہان کا کتا ہی نمٹ سکتا ہے۔جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنے حرام زادوں کو تحفظ دیتی رہے گی۔عوام اپنے حرامزادے ان کے مقابل لاتے رہیں گے

2 type of Cancer . voa

Posted by Anonymous on 3:32 PM
سائینس دانوں نے پہلی بار دو عام قسم کے کینسروں کے جینز کے مکمل نقشے بنا لیے ہیں۔

برطانوی سائینس دانوں کی قیادت میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے جِلد کے سرطان میلانوما اور پھیپھڑوں کے سرطان کے پھوڑوں میں رونما ہونے والی اُن تمام تبدیلیوں کو شناخت کرلیا ہے ،جنہیں مِیو ٹیشن کہا جاتا ہے۔

برطانیہ کے ویلکم ٹرسٹ سَینگر انسٹی ٹیوٹ کے مائیک سٹریٹن نے کہا ہے کہ ان نئے نقشوں سے اُن تمام تغیرات کا پتا چلتا ہےجو ہر کینسر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ رو نما ہوتے ہیں۔

ایک اور محقق اینڈی فُٹ رِئیل کا کہنا ہے کہ آنے والے چند برسوں کے دوران اصل چیلنج، اُن تبدیلیوں کی ٹھیک ٹھیک شناخت کا مسئلہ ہوگا،جو حقیقت میں صحت مند خلیوں کو کینسر کے خلیے بنا دیتی ہیں۔

سائینس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے مطالعے کے دوران، پھیپھڑے کے کینسر کے خلیوں میں 23 ہزار سے زیادہ میو ٹیشنز یا تبدیلیوں کا پتہ چلا اور میلا نوما کے خلیوں میں 33 ہزار سے زیادہ تبدیلیوں کا پتہ چلا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اُن تبدیلیوں کو شناخت کرلینے کے نتیجے میں جو کینسر کا سبب بنتی ہیں، مستقبل میں ان بیماریوں کے علاج طریقے یکسر تبدیل ہوجائیں گے۔

ان سائینس دانوں کی ریسرچ رپورٹ جریدے‘ نیچر’ نے شائع کی ہے۔

Irani Syber Group attack on Twiter.

Posted by Anonymous on 3:29 PM

سماجی نیٹ ورکنگ کے لیے مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر کو ’ایرانی سائبر آرمی‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ایک ہیکر گروپ کی جانب سے ہیکنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس گروپ نے ٹویٹر کی ویب سائٹ ہیک کر کے اس کے استعمال کرنے والوں کو اپنی سائٹ کی طرف ڈائریکٹ کر دیا جس پر ایک سیاسی پیغام درج تھا۔

ہیک ہونے کے بعد امیجز ظاہر ہونے کے فورا بعد ٹوئٹر غاب ہوجانے لگا اور یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ بعد میں سائٹ معمول کے مطابق چلنے لگی۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر یہ حملہ سرور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تفتیش کریگی آخر ایسا کیسے ہوا ہے۔

سائٹ کے متعلق ٹوئٹر نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’بغیر کسی منصوبہ کے ڈاؤن ہونے کے بعد ہم اس کی بازیابی میں لگے ہوئے ہیں اور جب ہمیں اس کی وجوہات کا پتہ چلے گا تو ہم اس بارے میں مزید معلومات دیں گے‘۔

اس سے قبل ٹوئٹر نے کہا تھا کہ ’ ڈومین نیم سسٹم‘ یعنی ڈی این ایس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ہیک ہونے کے بعد ٹوئٹر کو براؤز کرنے پر ایک دوسری سائٹ کھلنے لگی جس پر لکھا تھا کہ ایران کی سائبر آرمی نے سائٹ ہائیک کرلی ہے۔

اس سائٹ پر ایک ہرے پرچم پر عربی زبان میں امام حسین کا نام لکھا تھا۔ اس پر فارسی میں ایک نظم بھی درج تھی جس کا مطلب تھا کہ ’ہم اپنے رہنما کے حکم پر حملہ کریں گے اور اپنے رہنما کی خواہش پر سر بھی کٹا دیں گے‘۔

اس پر اس طرح کے جملے بھی تحریر تھے کہ’وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں‘۔ سائٹ کھلتے ہی اس پر یہ پیغام ملتا تھا ’یہ سائٹ ایرانی سائبر آرمی نے ہیک کر لی ہے۔ امریکہ سوچتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کو اپنی پہنچ سے کنٹرول کرتا ہے ، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ ہم اپنی طاقت سے انٹرنیٹ کو کنٹرول اور مینیج کرتے ہیں۔ تو اس لیے ایرانی لوگوں کو اکساؤ مت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘

’تو اب امبارگو کی فہرست میں کونسا ملک ہے؟ امریکہ یا ایران؟ ہم نے انہیں امبارگو میں دھکیل دیا ہے۔ اپنا خیال رکھیے‘۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر پر یہ حملہ ایک طرح کی جوابی کارروائی تھی کیونکہ ایران میں انتخابات کے دوران جو پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے اس میں اس سائٹ کا خوب استعمال ہوا تھا۔

عورتوں کی انگلیاں مردوں کے مقابلے میں زیادہ حساس

Posted by Anonymous on 3:27 PM
خواتین کی انگلیاں عام طورپر مردوں سے چھوٹی ہوتی ہیں لیکن اس فرق سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھوٹی انگلیاں چھونے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔

طویل عرصے سےلوگ یہ جانتے ہیں کہ بصارت سے محروم افراد کی انگلیوں میں چھو کر محسوس کرنے کی صلاحیت نمایاں طورپر زیادہ ہوتی ہے۔ کینیڈا کی مک ماسٹر یوینورسٹی کے نیورو سائنس کے ایک ماہر ڈین گولڈ رک نے اس بارے میں مزید جاننے کے لیے نابینا افراد پر تحقیق کی ۔ اس دوران انہیں احساس ہوا کہ عموماً نابینا خواتین کی انگلیوں میں محسوس کرنے کی حس نابینا مردوں کی نسبت زیاد ہ ہوتی ہے۔اور یہ فرق ان عورتوں اور مردوں کے درمیان بھی موجود ہوتا ہے جو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنی تحقیق کے ثبوت کے لیے گولڈ رک نے پلاسٹک کا ایک ٹکڑا ، جس کی سطح پر بہت باریک جھریاں ڈالی گئی تھیں، رضاکاروں کو دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس تجربے سے ہمیں پتہ چلا کہ مرد وں نے چھوکر جن جھریوں کی نشان دہی کی ، عورتوں نے اس سے تقریباً اعشاریہ دو ملی میٹر زیادہ باریک جھریوں کا بھی اپنی انگلیوں سے چھو کر پتہ چلا لیا۔ یعنی عورتوں میں یہ صلاحیت مردوں کی نسبت اوسطاً دس فی صد زیادہ تھی۔

گولڈ رک عورتوں اور مردوں کی انگلیوں کی حساسیت میں پائے جانے والے فرق کی وجوہات جاننا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے عورتوں اور مردوں کی انگلیوں پر تجربات شروع کیے۔ انہیں معلوم ہوا کہ چھو نے کا احساس انگلیوں کی جلد کے نیچے موجود مخصوص نسوں کے ذریعے دماغ کو منتقل ہوتا ہے۔انگلیوں کی لمبائی چاہے کچھ بھی ہو،ان میں چھو کر محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد تقریباً مساوی ہوتی ہے۔

گولڈ رک کہتے ہیں کہ اگر انگلیاں چھوٹی ہوں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ان میں محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد کم ہے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ انگلی چھوٹی ہونے کے باعث یہ اعصاب ایک دوسرے کے زیادہ قریب آجاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ چھو کر زیادہ بہتر اندازہ لگاسکتے ہیں۔جس کی ایک اورمثال یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں اپنی کلائی کی نسبت ، انگلی سے چھو کر زیادہ بہتر نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔

گولڈ رک کہتے ہیں کہ عورتوں کی انگلیوں میں مردوں کی نسبت چھو کر محسوس کرنے کی صلاحیت اس لیے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان کی انگلیاں چھوٹی ہوتی ہیں، جبکہ دونوں میں محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد یکساں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ انگلی کے سائز کو اپنے سامنے رکھیں ، تو پھر عورت اور مرد کی کوئی تفریق نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اور مرد کی انگلیوں میں محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد ،قطع نظر انگلی کے سائز اور لمبائی کے، اوسطاً مساوی ہوتی ہے۔

گولڈ رک کا ارادہ اب بچوں کی انگلیوں اور ہاتھوں پر تحقیق کرنے کا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بچوں میں چھو کر محسوس کرنے کی حس بہت زیادہ ہوتی ہے ، جو عمر بڑھنے کے ساتھ ، ہاتھوں اور انگلیوں کے بڑے ہونے کے باعث کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ گولڈ رک کی یہ تحقیق جریدے ’ نیورو سائنس ‘ میں شائع ہوئی

’اگر حمل ٹھہرگیا تو سزا ملے گی‘ i f iraqi Girls pregrant So Will be Punishment to Army.

Posted by Anonymous on 3:18 PM

عراق میں امریکی فوج کے ایک کمانڈر میجر جنرل انتھونی کوکولو نے حاملہ ہونے کو ان جرائم کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے جن پر ممکنہ طور پر قید یا کورٹ مارشل جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

یہ پالیسی گزشتہ ماہ تیار کی گئی تھی اور اس کا اطلاق جمعہ سے ہوا ہے۔

یہ پالیسی ان خواتین فوجیوں اور ان کے شوہروں یا پارٹنرز پر لاگو ہوگی جو شمالی عراق میں تعینات ہیں اور اس کے تحت حاملہ ہونے والی خاتون کے علاوہ اس مرد فوجی کو بھی سزا کا سامنا کرنا ہوگا جو حمل ٹھہرنے کا ذمہ دار ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج نے حاملہ ہونے کو ایک قابلِ سزا جرم قرار دیا ہے۔.امریکی فوج کے ایک ترجمان جارج رائٹ کے مطابق حاملہ فوجی کو پندرہ دن کے اندر اندر واپس وطن بھیج دیا جاتا ہے لیکن انہیں سزا دینے کی پالیسی ساری امریکی فوج پر لاگو نہیں ہوتی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جنرل کوکول جیسے ڈویژن کمانڈر اپنے زیرِ کمان فوجیوں پر اس قسم کی پابندی لگا سکتے ہیں۔ جنرل کوکولو کے زیرِ کمان امریکی فوج کرکوک، تکریت اور موصل میں تعینات ہے۔

پاکستان 223 رن بنا کر آؤٹ Pakistan all Out of 233.

Posted by Anonymous on 11:53 AM
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین نیپیئر میں کھیلے جانے والے تیسرے اور فیصلہ کن کرکٹ ٹیسٹ میچ میں پاکستان اپنی پہلی اننگ میں دو سو تئیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی پہلی اننگ کی خاص بات اوپنر عمران فرحت کی سحنچری تھی۔ وہ ایک سو سترہ کے سکور پر ناٹ آؤٹ رہے۔ عمران فرحت کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو تیسرے اوور میں اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب اوپنر سلمان بٹ کو سودی نے کلین بولڈ کر دیا۔ سلمان نے آٹھ رن بنائے تھے۔ ان کے آوٹ ہونے کے بعد فیصل اقبال بھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور وہ چھ رن پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ کپتان محمد یوسف ایک بار پھر فیل ہوئے اور وہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ فیصل اور یوسف کو اور برائن نے آؤٹ کیا۔

کلِک پاکستان نیوزی لینڈ: تیسرے ٹیسٹ کا سکور کارڈ

عمر اکمل جنہوں نے ابھی تک عمدہ بیٹنگ کی اس بار صفر پر آؤٹ ہو گئے اور مصباح بھی صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد کامران اکمل بائیس رن بنا کر جبکہ عامر تئیس رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ فاسٹ بولر عمر گل نے چوبیس رن بنائے جبکہ محمد آصف کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔

آئی او برائن اور ٹفی نے چار چار وکٹیں حاصل کیں۔ برائن نے پندرہ اوور میں صرف پینتیس رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹفی نے پندرہ عشاریہ تین اوور میں 52 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

مارٹن اور سودی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کی ٹیم میں سلمان بٹ، عمران فرحت، فیصل اقبال، مصباح الحق، محمد یوسف، عمر اکمل، کامران اکمل، عامر، عمر گل، محمد آصف اور دانش کنیریا شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم میں میکنٹاش، والنگ، گپٹل، فلِن، ٹیلر، وٹوری، میک کلم، سودی، ٹفی، آئی او برائن اور سی مارٹن شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 141 رن سے شکست دی تھی۔

تنہائی خواتین میں کینسر کا باعث Cancer will be increase in women because he stayed alone

Posted by Anonymous on 2:27 PM

واشنگٹن: امریکہ میں ایک حالیہ تحقیق کے بعد طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ تنہائی نہ صرف بلڈ پریشر اور ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ بلکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی اور اکیلے پن کی شکار خواتین میں کینسر کی رسولیاں عام خواتین کی نسبت تین گُنا تیزی سے بنتی اور بڑھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اپنوں سے دوری نہ صرف پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ اس سے قوتِ مدافعت بھی متاثر ہوتی ہے۔

چینی کے مشروبات : حاملہ عورتوں کے لیے نقصان دہ

Posted by Anonymous on 2:20 PM
چینی سے بنے مشروبات دنیا بھر میں مقبول ہیں اور امیر اور غریب ملکوں میں اس کا استعمال بڑھ رہاہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ چینی کے مشروبات پینے سے حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ میں لوگوں کو درکار حراروں کا تقریباً 20 فی صد حصہ مشروبات سے پورا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کلوریز سوڈا قسم کے چینی کےمشروبات سے حاصل کی جاتی ہیں۔

لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی کی محقق لی وے چن کا کہنا ہے کہ مسائل کی اصل وجہ چینی ہے کیونکہ وہ موٹاپا پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور دل کے امراض جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ چن کا خیال ہے کہ جو خواتین بڑی مقدار میں چینی کے مشروبات پینے کی عادی ہوتی ہیں، ان میں حمل کے ایام میں ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف ماں بننے والی خواتین کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ وہ بچے کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ اور یہی چیز بچے پیدائش سے قبل اور پیدا ئش کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہونے کا سب سے اہم سبب ہے۔

چن نے اس تحقیق میں 13 ہزار سے زیادہ خواتین سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا۔ اس جائزے میں خواتین سے ان کے کھانے پینے سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔ ان کے حاملہ ہونے بعد محققین نے مزید ایک سال تک ان کی صحت کے ریکارڈ پر نظر رکھی۔

چن کہتی ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ جو خواتین چینی کے زیادہ مشروبات پینے کی عادی تھیں، ان میں ایام ِحمل میں ان خواتین کی نسبت ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ تھا، جو بہت کم مشروبات استعمال کرتی تھیں۔

اس تحقیق میں شامل جن خواتین نے زیادہ مقدار میں مشروبات پیئے، وہ تعداد ایک ہفتے میں پانچ تھی۔ یہ اس مقدار سے کہیں کم ہے جو امریکہ اور کسی دوسرے ملکوں میں عام لوگ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اتنی مقدار میں میٹھے شربت سے، چاہے اس کا استعمال حاملہ ہونے سے پہلے ہی کیا گیا تھا، حمل کے دوران، خواتین اور ان کے پیدا ہونے والے بچے کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا۔

چن کہتی ہیں کہ چینی کے مشروبات پینے والی جو خواتین حاملہ ہونے سے قبل صحت مند تھیں، حمل کے دوران ان میں ذیابیطس کی علامتیں ظاہر ہوئیں۔

چن کہتی ہیں کہ آپ کی صحت کو بہت سے عوامل متاثر کرتے ہیں، جیسا کہ ذیابیطس کی طرف خاندانی رجحان کا ہونا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ذیابیطس ایک ایسی چیزہے جس پر لوگ قابو پاسکتے ہیں۔ غذائی عادات کی تبدیلی خواتین کو حمل کے دوران صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دنیا میں ایڈز کے سوا تین کروڑ سے زیادہ مریض

Posted by Anonymous on 2:19 PM
ایڈز کی مہلک بیماری کے بارے میں آگاہی عام ہوئے تقریبا تین دہائیاں بیت چکی ہیں، اور اب اس مرض کا شمار اب تک مہلک ترین بیماریوں میں کیا جارہاہے۔ دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں کا تخمینہ تین کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ ہے اور سائنس دان اس مرض پر قابو پانے کے طریقے ڈھونڈنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

1980 ء کے عشرے میں ایڈز کا شمار مہلک ترین بیماریوں میں کیا گیا۔ تب سے لے کر اب تک اس مرض سےدنیا بھر میں25 لاکھ سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ایڈز کا شکار زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے افراد بنتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق90 فیصد ایڈز کے مریضوں کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہے۔

مگر اس سلسلے میں کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی گئی ہیں۔ گذشتہ دہائی میں ایڈز کے علاج کے اخراجات میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ڈاکٹر اینتھونی کہتے ہیں کہ اگر آپ ان لوگوں کی شرح کا جائزہ لیں جنہیں تھیرپی دی گئی تو اب ترقی یافتہ ممالک میں تقریبا چالیس لاکھ لوگ اس تھراپی سے استفادہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر اینتھونی الرجی اور سوزش کی بیماریوں سے متعلق امریکہ کے قومی مرکز کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف کامیابی کے باوجود ڈاکٹر اور سائنسدان کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر سے ایڈز ختم کرنے کے لیے کوئی مؤثر دوا بنائی جا سکے۔ جیسا کہ ایڈز ویکسین۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین ایڈز کے خاتمے کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ ڈاکٹر اینتھونی کہتے ہیں کہ اس ویکسین سے ہم ایڈز سے بچاؤکےحوالے سےٹھوس کام کر سکتے ہیں۔

سائنسدان مائیکرو باڈیز پر بھی کام کر رہے ہیں جو کہ ایسی کریم یا جیلز ہوتی ہیں جنہیں لگا کر ایچ آئی وی سے بچاجا سکتا ہے۔ مگر ایڈز سے بچاؤ کے لیے کسی تیاری کے عمل میں عالمی کساد بازاری کے باعث فنڈز ہونے سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ہیچٹ کا کہنا ہے کہ جو ممالک بھی ایڈز سے متاثرہ ہیں انہیں اس حوالے سے اپنے انشورنس کے منصوبے ترتیب دینے چاہیں۔ یہ ایک مہلک مرض ہے جس کی روک تھام پر آئندہ چند دہائیوں میں پیش رفت ممکن ہے۔

Waqar Younis appointed as bowling and fielding coach

Posted by Anonymous on 2:13 PM

Media Release - 9 December 2009

PCB announces the appointment of Mr. Waqar Younis as bowling and fielding coach for the upcoming Pakistan-Australia Test and ODI Series 2009-10.

Media Department

Pakistan Cricket Team in Australia 2009/10

Posted by Anonymous on 2:04 PM

The Selection Committee of PCB met in Lahore today and finalized the Pakistan team for the upcoming Test Match Series in Australia. The following will be the players who will tour Australia for the Test matches:

1. Salman Butt
2. Khurrum Manzoor
3. Imran Farhat
4. Mohammad Yousuf - (Captain)
5. Misbah-ul-Haq
6. Shoaib Malik
7. Fawad Alam
8. Faisal Iqbal
9. Kamran Akmal - (Vice Captain)
10. Danish Kaneria
11. Saeed Ajmal
12. Umar Gul
13. Mohammad Asif
14. Mohammad Aamer
15. Abdur Rauf
16. Umar Akmal


Mohammad Yousuf has been appointed to continue as Captain of the Team for Tests and ODI series in Australia whereas Kamran Akmal would be his deputy for the Test matches. Shahid Afridi will be the Captain for T20 and would also be the Vice Captain for ODI matches on the Australia series.

Media Department
Courteous by Pakistan Cricket Board.

Terrorist Attack on (ISI) office in Multan .ملتان میں آئ ایس آئ پر حملہ

Posted by Anonymous on 7:20 PM










ملتان میں آئ ایس آئ کے دفتر پر حملہ اور اسکی تصاویر۔ ۔۔ بعض لوگ جو آئ ایس آئ پر الزام لگاتے ھیں کہ وہ دہشتگردوں کی مدد




کرتی ھے وہ اب سب جھوٹ ثابت ہو چکا ھے۔












۔

Juroselm Falisten sy Sahafi Shazeb Jelani. by bbc

Posted by Anonymous on 2:20 PM
watch this video plz. and leave you comments on end the post.

http://www.hafeez.tk/ http://www.skpsoft.tk/

معذور افراد کا عالمی دن World Day of Special persons

Posted by Anonymous on 11:52 AM
پاکستان سمیت دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن جمعرات کے روز منایا گیا جس کامقصد ان کے حقوق اور سماجی و اقتصادی شعبوں میں انہیں جائز مقام دلانے سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں تقریباً دس فیصدلوگ مختلف نوعیت کی معذوری کا شکار ہیں۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ انہیں معاشرے یا حکومت سے ہمدردی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کا اعتراف چاہیے جنہیں بروئے کار لا کر یہ ایک کارآبد شہری بن سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے معذور آبادی کے لیے نوکریوں میں اگرچہ دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں معاشرتی ناہمواریوں کا سامنا ہے۔

ملتان میں قوس قزح کے نام سے قائم معذور بچوں کے سینٹر کے ایک گریجوایٹ بریل ٹیچرطاہر شہزاد کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سرکاری ہی نہیں بلکہ نجی شعبے میں بھی روزگار کے حصول میں دشواری ہے۔ طاہر کا کہنا ہے ”اگر ہمارے لیے مقررکردہ دو فیصد نوکریوں کے کوٹے پر ہی مئوثر انداز میں عمل درآمد ہوجائے تو شاید تمام معذور افراد کو روزگار مل جائے گا“۔

اسی سکول کے ایک طالب علم حافظ محمد اویس کے خواب صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ وہ مستقبل میں ایک سیاست دان بننا چاہتے ہیں” میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کوئی ایسا قانون بنائے کہ با صلاحیت معذور افراد اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اپنی آواز اٹھا سکیں“۔

معذور افراد کے لیے چھپنے والے ماہ نامے ” پاکستان سپیشل “کے مدیر فرحت انور نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں معذور لوگوں میں زیادہ تر تعداد جسمانی طور پر معذور افراد کی ہے لیکن ان کے مطابق لمحہ فکریہ یہ ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ شمال مغربی پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے میں دشواری کے باعث اس سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یوں ملک کی مفلوج آبادی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستانی بالر چھا گئےPakistan Win The Day in willingtan

Posted by Anonymous on 11:44 AM
پاکستان نے ولنگٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز میں دو سو چونسٹھ رن بنائے۔ اس کے جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم ننانوے رن بنای کر آؤٹ ہو گئی۔

کلِک تفصیلی سکور کارڈ

نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ سکور ٹیلر کا تھا جنہوں نے تیس رن بنائے۔ پاکستان کی طرف سے محمد آصف نے چار، دانش کنیریا نے تین، عمر گل نے دو اور محمد عامر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے مکنٹاش اور گپتل نے کھیل کا آغاز کیا۔ گپتل بغیر کوئی رن بنائے محمد عامر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ مکنٹاش کو محمد آصف نے چار رن پر آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد عمر گل نے ٹیلر اور فلٹن کو آؤٹ کیا۔

اس کے بعد جب ٹیم کا کل سکور پچاسی تھا فلِن اور مکلم کو محمد آصف نے آؤٹ کر دیا۔ نیوزی لینڈ کی ساتویں وکٹ پچانوے رن پر گری جب ایلیٹ کنیریا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ چھیانوے کے سکور پر پھر دانش کنیریا نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ آخری وکٹ محمد آصف کے حصے میں آئی۔

پاکستان کی طرف سے کامران اکمل نے سب سے زیادہ ستر رن بنائے۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے وٹوری اور ٹفی نے چار چار اور او برائن نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

پاکستان کی ٹیم: عمران فرحت، سلمان بٹ، محمد یوسف، شعیب ملک، عمر اکمل، کامران اکمل، مصباح الحق، محمد عامر، عمر گل، محمد آصف اور داشن کنیریا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم: میکنٹاش، گپتل، فلِن، ٹیلر، فلٹن، ایلیٹ، مکلم، وٹوری، اوبرائن، ٹفی اور سی مارٹن۔