ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت تسلی بخش ہے: میڈیکل رپورٹ

Posted by Anonymous on 10:50 AM


استغاثہ کے مطابق امریکہ میں زیر حراست ڈاکٹر عافیہ صدیقی ذہنی طور پر اس قابل ہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔

ڈاکٹر صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش کی۔

جمعرات کو نیو یارک کی ایک عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ نے اپنے ماہرین کے ذریعے کرائی گئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ذہنی معائنے کی رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ کے نتائج اس سے پیشتر ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز کے ڈاکٹر کی اس رپورٹ سے مختلف ہیں جس میں ڈاکٹر صدیقی کو ذہنی مسائل کا شکار اور مقدمہ چلانے کے لیے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

وکیل صفائی ڈان کارڈی نے عدالت سے اپنے ماہرین کے ذریعے ڈاکٹر صدیقی کا ذہنی معائنہ کرانے کا وقت مانگا جس پر انہیں دو ماہ کا وقت دیا گیا۔

اب 28 اپریل کو جج اور دونوں طرف کے وکلاء کے درمیان ایک کانفرنس کال ہوگی جبکہ جون کے پہلے ہفتے میں فیصلہ سنایا جائے گا کہ عدالت کی نظر میں ڈاکٹر صدیقی ذہنی طور پر اس قابل ہیں یا نہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

اگر مقدمہ ہوا تو چھ جولائی کو پہلی پیشی ہوگی۔

ڈاکٹر صدیقی کو گزشتہ برس جولائی میں افغانستان کے صوبے غزنی میں ان کے بیٹے سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق جب امریکی اہلکاروں کی ایک ٹیم ان سے تفتیش کے لیے پہنچی تو وہ ایک پردے کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ ایک امریکی فوجی نے اپنی رائفل زمین پر رکھی تو ڈاکٹر صدیقی نے اسے پردے کے پیچھے سے اٹھا کر امریکی تفتیشی ٹیم پر دو فائر کیے۔ اس دوران امریکی ٹیم کی جوابی فائرنگ سے وہ زخمی ہو گئیں۔

اس کے بعد انہیں افغانستان سے امریکہ منتقل کر دیا گیا جہاں کچھ عرصہ نیو یارک میں زیر حراست رہنے کے بعد انہیں ٹیکساس میں ایک ایسے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا جہاں ذہنی امراض کا علاج بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صدیقی 2003 میں اپنے تین بچوں سمیت لاپتہ ہو گئی تھیں۔ امریکی حکومت کا الزام ہے کہ ڈاکٹر صدیقی کا تعلق القاعدہ کے کچھ افراد سے ہے اور وہ اس وقت اپنے بچوں سمیت زیر زمین چلی گئیں جب ان کے ساتھیوں کو حراست میں لینا شروع کیا گیا۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ جب انہیں حراست میں لیا گیا تو ان کے پاس سے ایسے ہاتھ سے لکھے کاغذات ملے جن میں ایک بڑے حملے کا ذکر تھا اور امریکہ کی کئی مشہور عمارات، مثلًا ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ اور مجسمہ آزادی کے نام تھے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس سے ایسا مواد بھی ملا جن میں امریکہ کو دشمن قرار دیا گیا تھا اور لوگوں کو بھرتی کرنے اور تربیت دینے کا ذکر تھا۔

ڈاکٹر صدیقی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انہیں 2003 میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے ان کے بچوں سمیت اغوا کیا اور بعد میں افغانستان بھیج دیا گیا جہاں انہیں بگرام کے ہوائی اڈے پر بنے حراستی مرکز میں رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ذہنی مریض بن گئیں۔

ڈاکٹر صدیقی کے بیٹے کو ان کی بہن اور نانی کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے باقی بچوں کے بارے میں ابھی کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی
یاد رہے کہ یہ طاغوتی رپورٹ ہے
بشکریہ اردو وی او اے۔