Bjli Bohran BBC kya kehti hai:بجلی بحران پر بی بی سی کی ویڈیو سیریز

Posted by Anonymous on 12:25 PM
بجلی بحران پر بی بی سی کی ویڈیو سیریز
پاکستان میں مشرف دور سے بجلی بحران جاری ھے جس پر BBC کے نمایندے آصف فاروقی نے ایک رپورٹ تیار کی ھے جو پیش خدمت ھے۔۔ ھم تہ دل سے BBC-
URDU سروس کے مشکور ھیں ۔۔۔۔



Click to view

Bjli Buhran in Pakistan

Scholar Speeches Visit Our Paren Folder

Posted by Anonymous on 2:22 PM
Click Below to go to Folder:
Speeches of Ahlul Hadith



Watch Online Pakista News Tv Channels on SheikhupuraTv www.skptv.tk/ other link www.hafeez.110mb.com

Result of 5th Class District Sheikhupura

Posted by Anonymous on 4:04 PM
Result of 5th class Ditrict Sheikhupura click below: you can download result and view online click below on the link of Download.

Download

Due to some problem the result of 5th of Sheikhupura 2010 was not availble.

Jamat Dawa BBC ke nazar men

Posted by Anonymous on 12:51 AM
Jamat-ud-Dawa Pakistan ke rally Water or War with India bbc ke nazar mein. dekhiay video bbc sy click below

محمد یوسف کا شاندار کریئر بے قدری کی نذر

Posted by Anonymous on 9:21 PM




محمد یوسف کے کریئر میں سب کچھ دیکھنے کو ملا ہے۔ قوت کے بجائے کلائی سے کھیلے گئے خوبصورت سٹروکس، ساتھی بیٹسمین کو رن آؤٹ کرانے کی عادت، دفاعی کپتانی اور اپنے فیصلوں پر قائم نہ رہنا۔

محمد یوسف نے اپنی شاندار کارکردگی پر اظہار تشکر، سینے پر صلیب بنا کر شروع کیا تھا جو بعد میں سجدۂ شکر بجا لانے میں تبدیل ہوگیا لیکن’ یوحنا‘ یا ’ محمد‘ دونوں صورتوں میں بیٹنگ کرتے ہوئے ان کے ذہن میں صرف ایک ہی نکتہ رہا یعنی حریف بولنگ پر حاوی ہونا۔

اپنے بارہ سالہ کریئر میں انہوں نے بہت کم حریف بولنگ کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیا۔ اسی لیے وہ آئی سی سی کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آئے۔ آئی سی سی کے بہترین ٹیسٹ کرکٹر کے ایوارڈ کے حقدار ٹھہرے اور وزڈن نے انہیں سال کے پانچ بہترین کرکٹرز میں بھی شامل کیا۔

محمد یوسف کے کریئر کا نقطۂ عروج اس وقت آیا جب انہوں سال دو ہزار چھ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز کے عالمی ریکارڈ سے سر ویوین رچرڈز کا نام تیس سال رہنے کے بعد ہٹا کر اپنا نام 1788 رنز کے ساتھ درج کرایا۔ یہ وہ سال تھا جب انہوں نے نو ٹیسٹ سنچریاں بنائیں، یہ بھی نیا عالمی ریکارڈ تھا۔
محمد یوسف کے کریئر کا نقطۂ عروج اس وقت آیا جب انہوں سال دو ہزار چھ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز کے عالمی ریکارڈ سے سر ویوین رچرڈز کا نام تیس سال رہنے کے بعد ہٹا کر اپنا نام 1788 رنز کے ساتھ درج کرایا۔ یہ وہ سال تھا جب انہوں نے نو ٹیسٹ سنچریاں بنائیں، یہ بھی نیا عالمی ریکارڈ تھا۔

اس سال ان کے بلے سے رنز کے نہ رکنے والے سلسلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انگلینڈ کے دورے میں انہوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں چھ سو سے زائد رنز بنا ڈالے جس میں لارڈز پر ڈبل سنچری اور ہیڈنگلے میں ڈبل سنچری سے صرف آٹھ رنز کی دوری پر رہ جانے والی اننگز شامل تھی۔

اسی سال جب ویسٹ انڈیز پاکستان آئی تو محمد یوسف نے برائن لارا کی چمک بھی ماند کر ڈالی جب ملتان اور لاہور میں وہ دو بار ڈبل سنچری کے بہت قریب آ کر رہ گئے جب کہ کراچی میں انہوں نے دونوں اننگز میں تین تین ہندسوں والی اننگز کھیل ڈالیں۔

محمد یوسف انضمام الحق اور یونس خان کا تکون پاکستانی بیٹنگ کے لیے ہمیشہ تقویت کا باعث رہا۔ تینوں کے نام کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جیت اور کسی نہ کسی بڑی شراکت میں ضرور نظر آتے ہیں۔

محمد یوسف دو ٹرپل اور دو ڈبل سنچری کی شراکتوں میں یونس خان کے ساتھ شریک رہے ہیں جب کہ انضمام الحق کے ساتھ ان کی ایک ڈبل سنچری کی شراکت رہی ہے۔محمد یوسف کبھی بھی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں رہے۔ سال دو ہزار دو میں نیٹ پریکٹس میں حصہ لینے کے احکامات نہ ماننے کی پاداش میں انہیں کینیا سے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

محمد یوسف نے دو بار آئی سی ایل میں شمولیت اختیار کی ۔ پہلی مرتبہ جب انہیں ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تو انہوں نے انضمام الحق اور دوسرے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ آئی سی ایل کے معاہدے پر دستخط کر دیئے لیکن ڈاکٹر نسیم اشرف انہیں واپس پاکستانی ٹیم میں لے آئے جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی ایک بڑی قیمت پاکستان کرکٹ بورڈ نے چکائی جب کہ محمد یوسف اس کی تردید کرتے ہیں کہ یہ واپسی بھاری رقم کے عوض ہوئی تھی۔
سال دو ہزار چھ میں یونس خان کے انکار کے بعد انہیں کپتان بنایا گیا لیکن جنرل پرویز مشرف کے دست راست ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالتے ہی محمد یوسف کو کپتانی کرنے سے پہلے ہی ہٹا دیا اور ناراض یونس خان کو منا کر قیادت کی ذمہ داری سونپ دی۔

محمد یوسف نے دو بار آئی سی ایل میں شمولیت اختیار کی ۔ پہلی مرتبہ جب انہیں ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تو انہوں نے انضمام الحق اور دوسرے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ آئی سی ایل کے معاہدے پر دستخط کر دیئے لیکن ڈاکٹر نسیم اشرف انہیں واپس پاکستانی ٹیم میں لے آئے جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی ایک بڑی قیمت پاکستان کرکٹ بورڈ نے چکائی جب کہ محمد یوسف اس کی تردید کرتے ہیں کہ یہ واپسی بھاری رقم کے عوض ہوئی تھی۔

آئی سی ایل نے محمد یوسف کا اپنے سے تعلق اس طرح ختم کرنا قبول نہ کیا اور یہ معاملہ کافی دنوں تک ممبئی کی ثالثی عدالت میں زیر سماعت رہا۔

محمد یوسف نے دوسری مرتبہ آئی سی ایل کا رخ اس وقت کیا جب انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کر لیا گیا تھا لیکن مبینہ طور پر کپتان شعیب ملک سے اختلافات کے نتیجے میں وہ خاموشی سے کیمپ چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے۔

جب مالی مشکلات کے سبب آئی سی ایل نے اپنی بساط لپیٹی تو تمام مسترد کرکٹرز بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے پر تولنے لگے اور کپتان یونس خان کے توسط سے اعجاز بٹ سے ملاقات نے محمد یوسف پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے دوبارہ کھول دیئے اور جب یونس خان اندرون خانہ سیاست کا شکار ہوئے تو کپتانی یوسف کو ملی لیکن صرف ایک ہی دورے نے ان کے مستقبل کا فیصلہ کردیا ۔

محمد یوسف کے شعیب ملک سے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے اور انہوں نے آسٹریلوی دورے سے وطن واپسی پر ہر انٹرویو میں سابق کپتان کا نام لیے بغیر انہیں ٹیم میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔


محمد یوسف ماضی میں فیصلے کرکے انہیں تبدیل کرتے رہے شاید اسی لیے اس بار بھی ان سے اسی کی توقع کی جا رہی ہے
مبصرین کو محمد یوسف کی شخصیت پر سب سے بڑا اعتراض یہی رہا ہے کہ ان میں قوت فیصلے کی کمی ہے۔اسی لیے ان سے یہ سوال کیاجاتا رہا ہے اگر ان کے خیال میں شعیب ملک ٹیم میں انتشار پھیلارہے تھے تو انہوں نے کپتان کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں وطن واپس کیوں نہیں بھیجا اور وطن واپسی پر ان کا نام لیے بغیر میڈیا میں تنقید کرتے رہے۔

محمد یوسف کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو بعض حلقے کرکٹ بورڈ پر دباؤ ڈالنے کے قدم کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس بات کا سبھی کو احساس ہے کہ حالیہ دنوں میں کسی غیرمعمولی کارکردگی نہ دکھانے کے باوجود انگلینڈ کے دورے میں کھیلے جانے والے چھ ٹیسٹ میچوں میں محمد یوسف اور یونس خان کی ٹیم کو اشد ضرورت ہے۔

محمد یوسف ماضی میں فیصلے کرکے انہیں تبدیل کرتے رہے شاید اسی لیے اس بار بھی ان سے اسی کی توقع کی جا رہی ہے لیکن اگر واقعی وہ اپنی’ اننگز‘ کھیل چکے تو اس انجام کو پاکستان کے ہر بڑے بیٹسمین سے مختلف نہیں کہا جاسکتا۔

حنیف محمد کو جبراً ریٹائر کردیا گیا۔ ظہیر عباس کو اعلان شدہ الوداعی ٹیسٹ نہیں کھیلنے دیا گیا۔جاوید میانداد اور انضمام الحق بھی حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوئے اور آج محمد یوسف کو بھی ارباب اختیار کی بے قدری کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے
Courteous by BBC۔

یوسف،یونس آؤٹ، شعیب اور نوید پر ایک سالہ پابندی

Posted by Anonymous on 2:01 PM

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورۂ آسٹریلیا کے دوران نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر محمد یوسف اور یونس خان پر تاحیات جبکہ شعیب ملک اور رانا نوید پر ایک سال کی پابندی لگا دی ہے۔
کرکٹ بورڈ نے بال ٹیمپرنگ اور سنٹرل کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کی بنیاد پر شاہد آفریدی اور اکمل برادران پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ دورۂ آسٹریلیا میں قومی کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارشات پر کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق کرکٹ بورڈ نے وسیم باری کی سربراہی میں بنائی جانے والی اس تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کو من وعن تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان سفارشات کے مطابق محمد یوسف اور یونس خان کی باہمی چپقلش کی وجہ سے ٹیم پر برا اثر پڑا اس لیے ان دونوں کو قومی ٹیم میں کسی بھی قسم کی کرکٹ کے لیے شامل نہیں کرنا چاہیے۔

رانا نوید الحسن اور سابق کپتان شعیب ملک پر ایک سال تک کسی بھی قسم کی بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی پابندی کے علاوہ بیس بیس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ انہیں نظم و ضبط کی کس خلاف ورزی پر سزا سنائی گئی ہے تاہم اخبارات میں کئی روز سے یہ شائع ہو رہا ہے کہ ان دونوں نے ٹیم میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔


شاہد آفریدی کو بال ٹمپرنگ پر تیس لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے
کمیٹی نے شاہد آفریدی کی بال ٹمپرنگ کی حرکت کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کرکٹ کے کھیل کو بدنام کیا ہے اس لیے ان پر تیس لاکہ روپے جرمانے کی سزا عائد کی گئی ہے۔ شاہد آفریدی کو بورڈ کے چئرمین نے تنبیہ بھی کی ہے اور آئندہ چھ ماہ ان کے لیے آزمائشی ہوں گے اور ان کے رویے پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

تحقیقاتی کمیٹی نے ٹیم میں شامل دو بھائیوں وکٹ کیپر کامران اکمل اور بلے باز عمر اکمل پر بالترتیب تیس لاکھ اور بیس لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں کے رویے پر اگلے چھ ماہ کڑی نظر رکھی جائے گی۔

اس کمیٹی کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ سفارشات ایک سنگ میل کی حثیت رکھتی ہیں اور اس سے پاکستان کی کرکٹ کا معیار بہتر ہو گا جو کچھ عرصے سے تنزلی کا شکار تھا۔

پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ سال سے پاکستانی ٹیم کا آسٹریلیا کا دورہ شروع ہونے کے بعد قومی ٹیم نے جس خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اس پر بورڈ کے چیئرمین نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا کہ وہ دورے پر کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ تیار کرے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین وسیم باری تھی جبکہ دیگر اراکین میں وزیر علی کھوجا، یاور سعید، ذاکر خان اور تفضل حیدر رضوی شامل تھے۔

کمیٹی کے ذمے یہ دیکھنا بھی کہ ٹیم کا آسٹریلیا کا دورہ کیسا رہا، اس دورے میں کھلاڑیوں نے ڈسپلن کا کیسا مظاہرہ کیا، شاہد آفریدی کا بال ٹیمپرنگ کا ارتکاب اور سینٹرل کانٹریکٹ کے تحت اس کے نتائج و عواقب، آسٹریلیا کے دورے میں دیگر ایشوز شامل تھے۔ کمیٹی کو فروری کے آخر تک رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔

Pakistan T 20 Has Lost against Australia 5 feburary 2010

Posted by Anonymous on 5:27 PM
score Card This Match was palyed in MCG (Melburan Cricket Ground) IN Australa. It was the Last Match of the tour. Pakistan has lost the all matches in this tour. Pakistan has played the 28 T20 Matches 21 win and 6 Lost ,but One match has been tai against INdia.

کائنات کی 13 ارب سال پرانی تصویریں VOA

Posted by Anonymous on 6:54 AM
حال ہی میں خلائی دوربین ہبل نے کائنات کی چند ایسی تصویریں زمینی مرکز کو بھیجی ہیں جن سے 12 ارب سال سے زیادہ پہلے کے اس دور کی نشاندہی ہوتی ہے جب کائنات اپنے ارتقائی مراحل سے گذر رہی تھی۔ ان رنگین تصویروں میں کائنات کے ابتدائی دور کی ہزاروں کہکشاؤں کے عکس موجود ہیں۔امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ہبل سے اتاری جانے والی ان تصویروں کے ذریعے سب سے زیادہ فاصلے پر واقع کہکشاؤں کے 13 ارب سال سے زیادہ عرصہ پہلے کے دور کو ظاہر کرتی ہیں اوران رنگین تصویروں سے یہ پتا چلتا ہے کہ اپنے ابتدائی زمانے میں کہکشائیں اپنی تکمیل کے مختلف مراحل سے کس طرح گذر رہی تھیں۔ ناسا کا کہنا ہے یہ تصویریں کائنات کے وجود میں آنے یعنی ’ بگ بینگ‘ سے 65 کروڑ سال بعد کے زمانے کو ہمارے سامنے لاتی ہیں۔ اکثر سائنس دانوں کاخیال ہے کہ یہ کائنات ایک بڑے دھماکے ’ بگ بینگ‘ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ خلائی دور بین ہبل سے حاصل ہونے والی تصویروں میں پرانی اور چھوٹی کہکشائیں زیادہ بہتر طور پر ایک ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔یہ تصویریں کہکشاؤں کے ارتقائی دور کے مختلف مراحل سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ناسا کا کہنا ہے کہ گہرائی ، درستگی اور تفصیلات کے نقطہ نظر سے کائنات کی اب تک حاصل ہونے والی یہ سب سے بہتر تصویریں ہیں۔
ہبل دور بین ناسااور یورپیئن سپیس ایجنسی کا ایک مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

6 Boxers of Central africa , Have embraced the Islam.

Posted by Anonymous on 8:30 PM
بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لئے پاکستان آئے ہوئے وسطی افریقہ کے چھ باکسرز نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ وسطی افریقی باکسنگ اسکواڈ کے کوچ محمد، مسلمان ہیں۔

پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر دودا خان بھٹو کے مطابق یہ باکسرز منگل کو جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مفتی نعیم کے ہاتھوں اسلام قبول کرینگے۔

اسلام قبول کرنے والے باکسرز میں نیام بنگوئی، این گوکو، این درش، بنگولا، یاگرجی بوڈو اورسیلے بینگے شامل ہیں۔ یہ تمام باکسرز صرف فرانسیسی زبان میں بات کرتے ہیں۔

وسطی افریقی باکسنگ ٹیم کے کوچ محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور پاکستانی لوگوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک غریب ہے اور اگر پاکستان باکسنگ فیڈریشن ان کی مالی مدد نہ کرتی تو ان کے باکسرز کے لیے یہاں آکر کھیلنا ممکن نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ وسطی افریقہ دنیا کے غریب ملکوں میں سے ایک ہے جہاں کی آْبادی کا پچاس فیصد عیسائی ہیں جبکہ مسلمان پندرہ فیصد ہیں۔

وسطی افریقہ میں باسکٹ بال کے بعد باکسنگ دوسرا مقبول کھیل ہے
Courteous By BBC۔

’ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دی جائے

Posted by Anonymous on 8:51 PM






’میرا بھائی فوجیوں اور طالبان دونوں سے ڈرتا تھا اور مارے جانے سے چند دن پہلے ہی ساڑھے تین ماہ کے بعد پشاور میں پناہ گزین کی حیثیت سے رہنے کے بعد واپس سوات آیا تھا۔ سوات میں امن کی خاطر میرے بھائی کی المناک موت اگر کام آجائے تو کسی حد تک ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ ہمارا فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے مطالبہ ہے کہ میرے بھائی کو گھر کے باہر مارنے والے فوجیوں کو سزا دی جائے۔‘

یہ الفاظ مینگورہ کے علاقے رنگ محلہ میں کپڑے کا کاروبار کرنے والے رفیع اللہ کے بہنوئی فیاض خان کے تھے۔ رفیع اللہ کے ہی چھوٹے سے مکان کے ایک کمرے میں اس موقع پر مرحوم کے پانچ کم عمر بچے بھی موجود تھے۔

فیاض کے بھائی نے درد بھری آواز میں کہا کہ ان کے بھائی اگست کی ایک شام کپڑے کی دوکان بند کر کے گھر آ رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز نے ان کو روک کر ان کی تلاشی لی اور بعد میں انہیں جانے کی اجازت دی۔ جونہی وہ روانہ ہوئے اور مڑ کر دیکھا تو ان پر ایک فوجی نے فائرنگ کر دی۔ ’چھ گولیاں ماریں انہوں نے اور اس نے وہیں گھر سے چند قدم کے فاصلے پر جان دے دی۔ چاہیے تھا کہ کوئی تنبیہ دیتا یا ہوائی فائر کرتا۔‘

فیاض نے، جو اس واقعے کے عینی شاہد تھے، گھر جانے والی تنگ سی گلی میں وہ مقام دکھایا جہاں گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے ایک مکان کی دیوار پر گولیوں کے نشانات بھی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت سکیورٹی فورسز قریبی علاقوں میں تلاشی لے رہے تھے اور علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ لیکن ان کے بقول ان تنگ اور پیچیدہ گلیوں میں عموماً لوگوں کو آمدو رفت کی اجازت ہوتی تھی اور سکیورٹی فورسز نرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔
فیاض نے، جو اس واقعے کے عینی شاہد تھے، گھر جانے والی تنگ سی گلی میں وہ مقام دکھایا جہاں گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے ایک مکان کی دیوار پر گولیوں کے نشانات بھی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت سکیورٹی فورسز قریبی علاقوں میں تلاشی لے رہے تھے اور علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ لیکن ان کے بقول ان تنگ اور پیچیدہ گلیوں میں عموماً لوگوں کو آمدو رفت کی اجازت ہوتی تھی اور سکیورٹی فورسز نرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔

رفیع اللہ کے چھوٹے بھائی فرمان علی نے بتایا کہ انہوں نے حکومت کو اس بابت ایک درخواست بھی دی تھی لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ’ایک وکیل سے مشورہ کیا تو اس نے بتایا کہ ہم فوج کے خلاف رپورٹ نہیں کٹوا سکتے۔‘


مقتول رفیع اللہ کے پانچ بچے ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں
’میرے بھائی کا تعلق طالبان یا کسی اور عسکریت پسند گروپ سے نہیں تھا اور علاقے کے لوگ بھی اس کے گواہ ہیں۔ وہ کئی سالوں سے رنگ محلہ میں کپڑے کی دوکان چلا رہے تھے۔ ان کی موت کے بعد گھر میں اور کوئی کاروبار چلانے کے لیے موجود نہیں۔ دیگر بھائی اپنا اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے بیوی بچوں کا اب کیا ہوگا۔ فوجی بعد میں معاوضہ تو درکنار پوچھنے بھی نہیں آئے۔‘

فیاض کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں اور صرف فوج کے سربراہ سے اپیل ہی کرسکتے ہیں کہ ان کے بھائی کی موت کی تحقیقات کر کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دی جائے۔‘

سوات میں ایک بےگناہ اور پرامن شہری کے قتل کا پہلا واقعہ نہیں۔ مقامی طالبان پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں عام شہریوں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر قتل کیا لیکن متاثرہ خاندان خوف اور غم کو دوبارہ تازہ نہ کرنے کی وجہ سے خاموش ہیں۔ آپریشن کے دوران فوج اور طالبان اپنے اپنے جانی نقصانات کا تو بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن کسی نے بھی تشدد کے واقعات میں مارے جانے والے عام اور بے گناہ افراد کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی ہے۔

وہ بے بس ہیں اور صرف فوج کے سربراہ سے اپیل ہی کرسکتے ہیں کہ ان کے بھائی کی موت کی تحقیقات کر کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دی جائے

فیاض
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سوات آپریشن میں عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی گئی ہے۔

سرحد حکومت نے آپریشن کے دوران مارے جانے والے بے گناہ افراد کی تعداد اور ان کے لواحقین کی امداد کے لیے کسی پالیسی کا علان ابھی تک نہیں کیا ہے محض چند افراد کو چیک دیے گئے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی بہت تھوڑی ہے۔ متاثرہ افراد کو شکایت ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور سرحد کے وزیر اعلیٰ کے اعلانات صرف بیانات تک ہی محدود ہیں۔

پاکستان فوجی کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا اس واقعے کے بارے میں کہنا تھا کہ سوات کے مختلف علاقوں میں کارروائی جاری ہے۔ ’مجھے نہیں معلوم یہ کب کا واقع ہے۔ میں وہاں کے متعلقہ کمانڈر سے تفصیل طلب کروں گا کہ کیا حقیقت ہے۔ یہ بڑی تحقیقات والا واقعہ ہے۔ جب تک اپنے ذرائع سے معلوم نہ کر لوں میں اس پر بات نہیں کر سکتا۔‘

Pak Vs Australia Test Series 2009-10 Score Card=Courteous By BBC

Posted by Anonymous on 3:21 PM
One Time First dy of the Fist test Simen cattage and Sh Watson Stands together in the creas. Then have First Success for pakistan Run Out to Watson. See the Photo.




Score Card of The First Test Between Pakistan An Australia

Score Card
2nd Test Match Between Pakistan and Australia.
Description; Pakistan first go to bowling. and aus all out on 127 runs. then pakistan scored 14 runs in the first daywithout the loss of any wicket. Muhammad sami whose come back in international cricket after two years , he got first 3 wicket of australia. and then Muhammad Asif got next 6 wicket of the australian first innegaz , Umer Gul Get Last wicket of ths Australia.. I will Hope that pakistan would be better in the Ground in the captaincy of Muhammad Yousaf. who Admit the Islam Before 4 years.
Very sad Day In the History of Pakistan cricket. To Day Pakistan cricket team Have failed to chase the 176 runs. Umer Akmal is top scorer of pakistan.
Score Card of 3rd Test Match Between Pakistan and Australia.
This Match will not be decider of the series , because already decide.Australia have won First Two Matches. That Unimportant Match will be Played 14 January 2010 to 18 January 2010. pakistan try to play the kamran akmal in the next match and coach try to play sarfraz ahmed.

ناک اور کان کاٹنے کا حکم=’سزا غیر آئینی اور غیر انسانی ہے

Posted by Anonymous on 6:15 PM


لاہور میں انسدا د دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ایک خاتون کی ناک اور کان کاٹنے کا جرم ثابت ہونے پر دو بھائیوں کو بھی یہی سزا سناتے ہوئے ان کی ناک اور کان کاٹنے کا حکم دیا ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

ایک سرکاری وکیل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ جج نے یہ سزا اسلامی قانون قصاص ودیت کے تحت سنائی ہے ۔ وکیل کے مطابق مجر م شیر محمد اور امانت علی میں سے ایک بھائی اپنی رشتہ دار 22 سالہ فضیلت بی بی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن خاتون کے والد کی طرف سے انکار کرنے پر ستمبر میں دونوں بھائیوں نے اسے پستول دکھا کر اغوا ء کر لیا اور دوران قید چھری سے اس کی ناک اور کان کاٹ ڈالے۔

وکیل احتشام قادر نے بتایا کہ لڑکی کی ماں بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر دل کادورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں قصاص و دیت کا قانون فوجی آمرجنرل ضیاء الحق نے ملک کی مذہبی جماعتوں کی خوشنودی کے لیے نافذکیاتھا ۔ اس قانون کے تحت جیسا جرم کیا جائے مجرم کو ویسی ہی سزا دی جاتی ہے یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ اور خون کے بدلے خون کی سزا ہوسکتی ہے بشرطیکہ متاثرہ شخص جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف نہ کردے۔ تاہم پاکستان میں ایسی سزائیں کم سنائیں جاتی ہیں اور اگر کوئی عدالت اسلامی قوانین کے تحت ایسی سزا سنا بھی دے تو اعلیٰ عدالتوں میں ان کے خلاف اپیلوں سے یہ ختم ہو جاتی ہیں۔
Courteous By VOA

Second Part of dicion. Followed Courteous By BBC
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستانی عدالت کی طرف سے ایک مقدمے میں دو افراد کے کان اور ناک کاٹنے کا حکم دینے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا تو عدالت اسے کالعدم قرار دے دی گی۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شادی سے انکار پر لڑکی کے کان اور ناک کاٹنے والے کلِک دو ملزموں کے ناک اور کان کاٹنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت نے بائیس سالہ فضلیت بی بی کے ناک اور کان کاٹنے پر دو بھائیوں شیر محمد اور امانت علی کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی سنائی ۔

شیر محمد اور امانت علی پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے اس سال اٹھائیس ستمبر بائیس سالہ فضلیت کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں ایک بھٹہ پر کام کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جا رہی تھی۔استغاثہ کے مطابق شیر محمد نے فضلت بی بی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی والد کی طرف سے انکار پر ملزموں نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایااور اس کا ناک اور کان کاٹ دیا۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرمین سید اقبال حیدر نے عدالت کی طرف سے ناک اور کان کاٹنے کی سزا غیر آئینی اور غیر انسانی قرار دیا ۔

ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔ یہ فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی ملکی آئین ضمانت دیتا ہے

سید اقبال حیدر
بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔انہوں نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی ملکی آئین ضمانت دیتا ہے۔ سید حیدر اقبال نے کہا کہ انہیں یہ یقین کامل ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دی گی کیونکہ پہلے اس قسم کے فیصلوں کو اعلیٰ عدلیہ نے کالعدم قرار دے چکی ہے ۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی ہے اور اس اپیل کے ذریعے عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ اعلیٰ عدالت کے سامنے آئے گا تو اس وقت عدالت یہ دیکھے گی کہ گواہی کا معیار کیا ہے ۔ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ ہائی کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے اور بقول ان کے پاکستان میں کبھی ایسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا جس میں جسم کے کسی حصہ کو کاٹنے کا حکم دیا گیا ہو۔

جب یہ فیصلہ اعلیٰ عدالت کے سامنے آئے گا تو اس وقت عدالت یہ دیکھے گی کہ گواہی کا معیار کیا ہے ۔ ہائی کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے اور اکستان میں کبھی ایسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا جس میں جسم کے کسی حصہ کو کاٹنے کا حکم دیا گیا ہو

ڈاکٹر خالد رانجھا
پنجاب کے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اختر علی قریشی کا کہنا ہے کہ جب ماتحت عدالت کوئی فیصلہ دیتی ہے تو اس فیصلے کے خلاف اپیل اور ریفرنس بھی دائر کیے جاتے ہیں اور عدالت ان پر سماعت کرنے کے بعد فیصلہ دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے بھی ماتحت عدلیہ نے جسمانی اعضاء کاٹنے کے احکامات دیے تھے لیکن اعلیٰ عدلیہ نے ان فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قصاص کے تحت جسم کے حصہ کو کاٹنے کی سزا دی جاتی ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ گواہی کے معیار کو پرکھنے کے بعد ان سزاؤں پر عمل درآمد روک دیتی ہے۔

مقدمے میں سرکاری وکیل احتشام قادر کا کہنا ہے کہ عدالت نے دونوں ملزموں کو اسلام کے اس اصول کے تحت سزا دی ہے جس کے تحت آنکھ کا بدلہ آنکھ اور دانت کےبدلے دانت ہے اور بقول ان کے پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی عدالت نے اس قسم کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کے بقول فیصلے میں جہاں قصاص کے تحت کان اور ناک کاٹنے کی سزا دی گئی ہے وہاں تعزیر میں ملزموں کو اسی جرم میں قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے اور قصاص کے تحت دی جانے والی سزا پر عمل درآمد نہ ہونے پر انہیں سزا بھگتنا ہوگی۔

فائر فوکس:موبائل ورژن کا افتتاح عنقریبNew Version Of Mobile Firefox

Posted by Anonymous on 5:53 PM
فائر فوکس براؤزر کے موبائل ورژن کے منصوبے کے سربراہ نے کہاہے کہ موبائل ورژن کا عنقریب افتتاح کر دیا جائے گا۔

موزیلا کے جئے سولیوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فائر فوکس کے موبائل ورژن کا نام فینک رکھا گیا ہے اور ابتدائی طور پر یہ نوکیا موبائل فون کے ماڈل این نو سو پر دستیاب ہو گا۔

موزیلا کے جئے سولیوان نے کہا کہ موبائل ورژن حتمی ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے اور اسے رواں سال کے آخر میں ریلیز کر دیا جائے گا۔ فائر فوکس کا نیا اوپن سورس ورژن ڈیسک ٹاپ پر دستیاب براؤزر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اس سافٹ ویئر کی وجہ سے یہ ممکن ہو گا کہ صارف کے ڈیسک ٹاپ پر جو بھی ویب پیج کھلتا ہے وہ خودکار طریقے سے موبائل ورژن پر بھی دستیاب ہو گا۔جئے کے مطابق کام ختم کرنے کے بعد جب آپ اپنے کمپیوٹر سے اٹھ جائیں گے تو پھر موبائل فون کے ذریعے تمام کام ممکن ہو سکیں گے۔

فائر فوکس کا موبائل ورژن موزیلا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہو گا اور وہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتے گا اس کے علاوہ نوکیا کے سٹوز پر دستیاب ہو گا جہاں سے نوکیا نو سو کے صارفین اس کو ڈاون لوڈ کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ادارہ مائیکرو سافٹ ونڈوز موبائل اور گوگل اینڈویڈ آپریٹنگ سسٹم پر کام کر رہی ہے۔

فائر فوکس کے موبائل ورژن منصوبے کے سربراہ کے مطابق موبائل سافٹ ویر کچھ عرصے کے بعد ایپل کے آئی فون پر دستیاب ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ایپل ان معاملات سے دور رہتا ہے اور اس لیے ایسا جلد ممکن نہیں ہو گا۔

Challange of Zardari.By Wusatullah Khan . Courteous by bbc

Posted by Anonymous on 2:36 PM
ہمیں انیس سو اٹھاسی سے اب تک بتایا جا رہا ہے کہ مرحومہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری اور ان کے حوالی موالی اس ملک کا سب سے کرپٹ سیاسی ٹولہ تھا اور ہے۔

مگر یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساڑھے چار برس چھوڑ کر یہ کرپٹ ٹولہ تیسری بار کیسے اقتدار میں آگیا۔مسٹر ٹین پرسنٹ کس طرح پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے مومنینِ کرام، حاجی صاحبان اور متقی و پرہیزگار ارکان کی اکثریت کے ووٹ سے پاکستان کے صدر بن گئے۔یا تو زرداری کو صدر بنانے والے نیند میں چل رہے تھے یا پھر اتنے بھولے اور معصوم تھے کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ جسے وہ صدر منتخب کر رہے ہیں اس کی شکل تو زرداری جیسی ہے لیکن اس مرتبہ اس کے جسم میں ایک معصوم نومولود کی روح حلول کرگئی ہے۔

جس طرح ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آدمی اپنے ووٹ سے پہچانا جاتا ہے۔اگر کروڑوں عام اور ان کے منتخب کردہ پارلیمانی زرداریوں نے ووٹ دے کر آصف علی اور ان کی جماعت کو پانچ برس کے لیے اقتدار دے دیا تو اس میں افسوس اور واویلا کاہے کو ؟

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے ووٹر کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا قانون بنایا جس پر دودھ میں پانی، پٹرول میں مٹی کا تیل، مرچوں میں سرخ اینٹ کا چورا، چائے میں لکڑی کا برادہ ، منرل واٹر کی بوتل میں نلکے کا پانی ملانے، بلیک مارکیٹنگ کرنے اور دو نمبر دوا، جعلی کھاد، جعلی بیج اور کاغذی سڑک بنانے کا الزام ثابت ہوجائے۔

کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سیاست میں آنے والے کسی ایسے ریٹائرڈ ایماندار بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کو قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن یا ضلعی ناظم منتخب کرنے کی کوشش کی جس کے پاس ایک سے زائد گھر، گاڑی ، بینک بیلنس ، سینکڑوں ایکڑ مراعاتی زمین ، کھاد یا گیس کا مراعاتی کوٹہ یا کسی غیرملکی بینک میں اکاؤنٹ نہ ہو۔

کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ مطالبہ کیا کہ ہر حاضر سروس جرنیل، جج، بیوروکریٹ یا سیاستداں، جب بھی اعلیٰ عہدہ یا ترقی پائے تو اپنی منقولہ و غیر منقولہ املاک اور کھاتوں کا گوشوارہ پیش کرے۔اور ان میں سے ہر سال بیس فیصد گوشوارے بذریعہ قرعہ اندازی مکمل چھان بین کے لیے منتخب کیے جائیں تاکہ باقی اسی فیصد اگلے گوشوارے میں غلط بیانی نہ کرسکیں۔

یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ووٹر کے گریبان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن اسے بوجوہ نظر نہیں آتے۔مگر ان گذارشات کا یہ مطلب نہیں کہ گند صاف کرنے کا آغاز ہی نہ ہو۔چلئے آپ مشرف، شوکت، شجاعت سے آغاز نہ کرسکے نہ سہی، زرداری گیلانی سے ہی سہی۔لیکن ان ووٹروں کا بھی تو کچھ کیجئے جو موقع پاتے ہی پھر ایسے لوگوں کو کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔

ایک بات بتاؤں !

براعظم وسطیٰ امریکہ کے ملک نکاراگوا میں سموزا خاندان سنہ انیس سو تیس سے انیس سو اناسی تک مسلسل برسرِ اقتدار رہا۔ کسی نے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حضور نکاراگوا میں جمہوریت کا سورج کب نکلے گا اور وہاں کے لوگوں کو سموزا خاندان کی حرم زدگیوں سے کب چھٹکارا ملےگا۔روزویلٹ نے کہا یہ سچ ہے کہ سموزا حرامزادے ہیں۔لیکن وہ ہمارے حرامزادے ہیں۔۔۔

بقولِ شیخ سعدی اصفہان کے بھیڑئیے سے اصفہان کا کتا ہی نمٹ سکتا ہے۔جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنے حرام زادوں کو تحفظ دیتی رہے گی۔عوام اپنے حرامزادے ان کے مقابل لاتے رہیں گے

2 type of Cancer . voa

Posted by Anonymous on 3:32 PM
سائینس دانوں نے پہلی بار دو عام قسم کے کینسروں کے جینز کے مکمل نقشے بنا لیے ہیں۔

برطانوی سائینس دانوں کی قیادت میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے جِلد کے سرطان میلانوما اور پھیپھڑوں کے سرطان کے پھوڑوں میں رونما ہونے والی اُن تمام تبدیلیوں کو شناخت کرلیا ہے ،جنہیں مِیو ٹیشن کہا جاتا ہے۔

برطانیہ کے ویلکم ٹرسٹ سَینگر انسٹی ٹیوٹ کے مائیک سٹریٹن نے کہا ہے کہ ان نئے نقشوں سے اُن تمام تغیرات کا پتا چلتا ہےجو ہر کینسر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ رو نما ہوتے ہیں۔

ایک اور محقق اینڈی فُٹ رِئیل کا کہنا ہے کہ آنے والے چند برسوں کے دوران اصل چیلنج، اُن تبدیلیوں کی ٹھیک ٹھیک شناخت کا مسئلہ ہوگا،جو حقیقت میں صحت مند خلیوں کو کینسر کے خلیے بنا دیتی ہیں۔

سائینس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے مطالعے کے دوران، پھیپھڑے کے کینسر کے خلیوں میں 23 ہزار سے زیادہ میو ٹیشنز یا تبدیلیوں کا پتہ چلا اور میلا نوما کے خلیوں میں 33 ہزار سے زیادہ تبدیلیوں کا پتہ چلا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اُن تبدیلیوں کو شناخت کرلینے کے نتیجے میں جو کینسر کا سبب بنتی ہیں، مستقبل میں ان بیماریوں کے علاج طریقے یکسر تبدیل ہوجائیں گے۔

ان سائینس دانوں کی ریسرچ رپورٹ جریدے‘ نیچر’ نے شائع کی ہے۔

Irani Syber Group attack on Twiter.

Posted by Anonymous on 3:29 PM

سماجی نیٹ ورکنگ کے لیے مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر کو ’ایرانی سائبر آرمی‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ایک ہیکر گروپ کی جانب سے ہیکنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس گروپ نے ٹویٹر کی ویب سائٹ ہیک کر کے اس کے استعمال کرنے والوں کو اپنی سائٹ کی طرف ڈائریکٹ کر دیا جس پر ایک سیاسی پیغام درج تھا۔

ہیک ہونے کے بعد امیجز ظاہر ہونے کے فورا بعد ٹوئٹر غاب ہوجانے لگا اور یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ بعد میں سائٹ معمول کے مطابق چلنے لگی۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر یہ حملہ سرور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تفتیش کریگی آخر ایسا کیسے ہوا ہے۔

سائٹ کے متعلق ٹوئٹر نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’بغیر کسی منصوبہ کے ڈاؤن ہونے کے بعد ہم اس کی بازیابی میں لگے ہوئے ہیں اور جب ہمیں اس کی وجوہات کا پتہ چلے گا تو ہم اس بارے میں مزید معلومات دیں گے‘۔

اس سے قبل ٹوئٹر نے کہا تھا کہ ’ ڈومین نیم سسٹم‘ یعنی ڈی این ایس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ہیک ہونے کے بعد ٹوئٹر کو براؤز کرنے پر ایک دوسری سائٹ کھلنے لگی جس پر لکھا تھا کہ ایران کی سائبر آرمی نے سائٹ ہائیک کرلی ہے۔

اس سائٹ پر ایک ہرے پرچم پر عربی زبان میں امام حسین کا نام لکھا تھا۔ اس پر فارسی میں ایک نظم بھی درج تھی جس کا مطلب تھا کہ ’ہم اپنے رہنما کے حکم پر حملہ کریں گے اور اپنے رہنما کی خواہش پر سر بھی کٹا دیں گے‘۔

اس پر اس طرح کے جملے بھی تحریر تھے کہ’وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں‘۔ سائٹ کھلتے ہی اس پر یہ پیغام ملتا تھا ’یہ سائٹ ایرانی سائبر آرمی نے ہیک کر لی ہے۔ امریکہ سوچتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کو اپنی پہنچ سے کنٹرول کرتا ہے ، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ ہم اپنی طاقت سے انٹرنیٹ کو کنٹرول اور مینیج کرتے ہیں۔ تو اس لیے ایرانی لوگوں کو اکساؤ مت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘

’تو اب امبارگو کی فہرست میں کونسا ملک ہے؟ امریکہ یا ایران؟ ہم نے انہیں امبارگو میں دھکیل دیا ہے۔ اپنا خیال رکھیے‘۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر پر یہ حملہ ایک طرح کی جوابی کارروائی تھی کیونکہ ایران میں انتخابات کے دوران جو پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے اس میں اس سائٹ کا خوب استعمال ہوا تھا۔

عورتوں کی انگلیاں مردوں کے مقابلے میں زیادہ حساس

Posted by Anonymous on 3:27 PM
خواتین کی انگلیاں عام طورپر مردوں سے چھوٹی ہوتی ہیں لیکن اس فرق سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھوٹی انگلیاں چھونے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔

طویل عرصے سےلوگ یہ جانتے ہیں کہ بصارت سے محروم افراد کی انگلیوں میں چھو کر محسوس کرنے کی صلاحیت نمایاں طورپر زیادہ ہوتی ہے۔ کینیڈا کی مک ماسٹر یوینورسٹی کے نیورو سائنس کے ایک ماہر ڈین گولڈ رک نے اس بارے میں مزید جاننے کے لیے نابینا افراد پر تحقیق کی ۔ اس دوران انہیں احساس ہوا کہ عموماً نابینا خواتین کی انگلیوں میں محسوس کرنے کی حس نابینا مردوں کی نسبت زیاد ہ ہوتی ہے۔اور یہ فرق ان عورتوں اور مردوں کے درمیان بھی موجود ہوتا ہے جو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنی تحقیق کے ثبوت کے لیے گولڈ رک نے پلاسٹک کا ایک ٹکڑا ، جس کی سطح پر بہت باریک جھریاں ڈالی گئی تھیں، رضاکاروں کو دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس تجربے سے ہمیں پتہ چلا کہ مرد وں نے چھوکر جن جھریوں کی نشان دہی کی ، عورتوں نے اس سے تقریباً اعشاریہ دو ملی میٹر زیادہ باریک جھریوں کا بھی اپنی انگلیوں سے چھو کر پتہ چلا لیا۔ یعنی عورتوں میں یہ صلاحیت مردوں کی نسبت اوسطاً دس فی صد زیادہ تھی۔

گولڈ رک عورتوں اور مردوں کی انگلیوں کی حساسیت میں پائے جانے والے فرق کی وجوہات جاننا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے عورتوں اور مردوں کی انگلیوں پر تجربات شروع کیے۔ انہیں معلوم ہوا کہ چھو نے کا احساس انگلیوں کی جلد کے نیچے موجود مخصوص نسوں کے ذریعے دماغ کو منتقل ہوتا ہے۔انگلیوں کی لمبائی چاہے کچھ بھی ہو،ان میں چھو کر محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد تقریباً مساوی ہوتی ہے۔

گولڈ رک کہتے ہیں کہ اگر انگلیاں چھوٹی ہوں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ان میں محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد کم ہے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ انگلی چھوٹی ہونے کے باعث یہ اعصاب ایک دوسرے کے زیادہ قریب آجاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ چھو کر زیادہ بہتر اندازہ لگاسکتے ہیں۔جس کی ایک اورمثال یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں اپنی کلائی کی نسبت ، انگلی سے چھو کر زیادہ بہتر نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔

گولڈ رک کہتے ہیں کہ عورتوں کی انگلیوں میں مردوں کی نسبت چھو کر محسوس کرنے کی صلاحیت اس لیے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان کی انگلیاں چھوٹی ہوتی ہیں، جبکہ دونوں میں محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد یکساں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ انگلی کے سائز کو اپنے سامنے رکھیں ، تو پھر عورت اور مرد کی کوئی تفریق نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اور مرد کی انگلیوں میں محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد ،قطع نظر انگلی کے سائز اور لمبائی کے، اوسطاً مساوی ہوتی ہے۔

گولڈ رک کا ارادہ اب بچوں کی انگلیوں اور ہاتھوں پر تحقیق کرنے کا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بچوں میں چھو کر محسوس کرنے کی حس بہت زیادہ ہوتی ہے ، جو عمر بڑھنے کے ساتھ ، ہاتھوں اور انگلیوں کے بڑے ہونے کے باعث کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ گولڈ رک کی یہ تحقیق جریدے ’ نیورو سائنس ‘ میں شائع ہوئی

’اگر حمل ٹھہرگیا تو سزا ملے گی‘ i f iraqi Girls pregrant So Will be Punishment to Army.

Posted by Anonymous on 3:18 PM

عراق میں امریکی فوج کے ایک کمانڈر میجر جنرل انتھونی کوکولو نے حاملہ ہونے کو ان جرائم کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے جن پر ممکنہ طور پر قید یا کورٹ مارشل جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

یہ پالیسی گزشتہ ماہ تیار کی گئی تھی اور اس کا اطلاق جمعہ سے ہوا ہے۔

یہ پالیسی ان خواتین فوجیوں اور ان کے شوہروں یا پارٹنرز پر لاگو ہوگی جو شمالی عراق میں تعینات ہیں اور اس کے تحت حاملہ ہونے والی خاتون کے علاوہ اس مرد فوجی کو بھی سزا کا سامنا کرنا ہوگا جو حمل ٹھہرنے کا ذمہ دار ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج نے حاملہ ہونے کو ایک قابلِ سزا جرم قرار دیا ہے۔.امریکی فوج کے ایک ترجمان جارج رائٹ کے مطابق حاملہ فوجی کو پندرہ دن کے اندر اندر واپس وطن بھیج دیا جاتا ہے لیکن انہیں سزا دینے کی پالیسی ساری امریکی فوج پر لاگو نہیں ہوتی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جنرل کوکول جیسے ڈویژن کمانڈر اپنے زیرِ کمان فوجیوں پر اس قسم کی پابندی لگا سکتے ہیں۔ جنرل کوکولو کے زیرِ کمان امریکی فوج کرکوک، تکریت اور موصل میں تعینات ہے۔

پاکستان 223 رن بنا کر آؤٹ Pakistan all Out of 233.

Posted by Anonymous on 11:53 AM
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین نیپیئر میں کھیلے جانے والے تیسرے اور فیصلہ کن کرکٹ ٹیسٹ میچ میں پاکستان اپنی پہلی اننگ میں دو سو تئیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی پہلی اننگ کی خاص بات اوپنر عمران فرحت کی سحنچری تھی۔ وہ ایک سو سترہ کے سکور پر ناٹ آؤٹ رہے۔ عمران فرحت کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو تیسرے اوور میں اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب اوپنر سلمان بٹ کو سودی نے کلین بولڈ کر دیا۔ سلمان نے آٹھ رن بنائے تھے۔ ان کے آوٹ ہونے کے بعد فیصل اقبال بھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور وہ چھ رن پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ کپتان محمد یوسف ایک بار پھر فیل ہوئے اور وہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ فیصل اور یوسف کو اور برائن نے آؤٹ کیا۔

کلِک پاکستان نیوزی لینڈ: تیسرے ٹیسٹ کا سکور کارڈ

عمر اکمل جنہوں نے ابھی تک عمدہ بیٹنگ کی اس بار صفر پر آؤٹ ہو گئے اور مصباح بھی صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد کامران اکمل بائیس رن بنا کر جبکہ عامر تئیس رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ فاسٹ بولر عمر گل نے چوبیس رن بنائے جبکہ محمد آصف کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔

آئی او برائن اور ٹفی نے چار چار وکٹیں حاصل کیں۔ برائن نے پندرہ اوور میں صرف پینتیس رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹفی نے پندرہ عشاریہ تین اوور میں 52 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

مارٹن اور سودی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کی ٹیم میں سلمان بٹ، عمران فرحت، فیصل اقبال، مصباح الحق، محمد یوسف، عمر اکمل، کامران اکمل، عامر، عمر گل، محمد آصف اور دانش کنیریا شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم میں میکنٹاش، والنگ، گپٹل، فلِن، ٹیلر، وٹوری، میک کلم، سودی، ٹفی، آئی او برائن اور سی مارٹن شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 141 رن سے شکست دی تھی۔

تنہائی خواتین میں کینسر کا باعث Cancer will be increase in women because he stayed alone

Posted by Anonymous on 2:27 PM

واشنگٹن: امریکہ میں ایک حالیہ تحقیق کے بعد طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ تنہائی نہ صرف بلڈ پریشر اور ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ بلکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی اور اکیلے پن کی شکار خواتین میں کینسر کی رسولیاں عام خواتین کی نسبت تین گُنا تیزی سے بنتی اور بڑھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اپنوں سے دوری نہ صرف پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ اس سے قوتِ مدافعت بھی متاثر ہوتی ہے۔