Halery Clinton In Lahore Badshahi masjad.

Posted by Anonymous on 1:26 PM
www.hafeez.tk

Hallery Clinton In badshahi masjad lahore. Watch the video of bbc about of hallery visit lahore.
Hallery visited badshahi mosque withe Imam of masjad and 700 security officalles.

’دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان‘ Every 4 man of the world is muslim

Posted by Anonymous on 7:51 PM

یک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے اور ان میں سے ساٹھ فیصد براعظم ایشیا میں رہتے ہیں۔

پیو فورم آن رلیجن اینڈ پبلک لائف کی اس رپورٹ کی تیاری میں تین برس کا عرصہ لگا اور اس دوران دنیا کے دو سو بتیس ممالک اور علاقوں سے مردم شماری کے اعدادوشمار اکٹھے کیے گئے۔

محققین نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے مردم شماری رپورٹس، ڈیموگرافک سٹڈیز اور آبادی کے عام سروے جیسے پندرہ سو ماخذ سے استفادہ کیا۔

اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی کل تعداد کا بیس فیصد مشرقِ وسطٰی اور شمالی افریقہ میں رہتا ہے جبکہ اعداوشمار کے مطابق اس وقت جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں اور روس میں مسلمانوں کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

یہ رپورٹ تیار کرنے والے سینئر محقق برائن گرم نے سی این این کو بتایا ہے کہ ان کے لیے مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد حیران کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ مسلمانوں کی کل تعداد میرے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے‘۔

زیادہ مسلم آبادی والے ملک

انڈونیشیا

پاکستان

انڈیا

بنگلہ دیش

مصر

بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا اور افغانستان میں مسلمانوں کی تعداد قریباً برابر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق تین سو ملین مسلمان ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں اسلام اکثریتی مذہب نہیں ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر امانی جمال کے مطابق ’یہ خیال کہ مسلمان عرب ہیں یا صرف عرب ہی مسلمان ہیں اس رپورٹ کے بعد مکمل طور پر رد ہوجاتا ہے‘۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے دنیا کے کل مسلمانوں میں سے ستاسی سے نوے فیصد سنی العقیدہ جبکہ دس سے تیرہ فیصد شیعہ العقیدہ مسلمان ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر شیعہ ایران، عراق ، پاکستان اور بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔

براعظم یورپ تین کروڑ اڑتیس لاکھ مسلمانوں کا گھر ہے جو کہ یورپ کی کل آبادی کا پانچ فیصد ہیں۔ براعظم امریکہ میں رہنے والےچھیالیس لاکھ مسلمانوں میں سے نصف سے زائد ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتے ہیں تاہم وہ امریکہ کی کل آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔

Black Water Activities in pakistan Are so danger of pakistan

Posted by Anonymous on 10:50 PM
Black water is a organization of usa . whos work in major cities in pakistan .These activities are very dangreous of pakistan. These activities are continued in karachi and islamabad and peshawer .so more information you can watch this video.

Fight between Kashmala Tariq and Dr Firdous Ashiq Awan

Posted by Anonymous on 11:36 PM
Watch this video about if fight in talk show . Fight between kashmala tariq and dr. firdous .Dr firdous ashiq awan is minister.who abused ti kashmala tariq.kashmala play the beautiful role in talk show without harsh word.
This video you can wtch with real player .May be you need to install the Real player.you can install the real player this website link below:
http://www.skpsoft.tk/

فیس بک کی وجہ سے’بیمار‘ کی نوکری گئی

Posted by Anonymous on 10:08 PM


سوئٹرزلینڈ میں ایک آجر نے بیماری کی رخصت پر گئی ہوئی خاتون ملازم کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر موجود پا کر نوکری سے نکال دیا ہے۔

یہ خاتون جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اپنے دفتر سے بیماری کی وجہ سے رخصت پر تھیں اور اپنی درخواست میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اتنی بیمار ہیں کہ کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتیں۔

ئہ خاتون نیشنل سوئس نامی کمپنی کی ملازم تھیں اور انہوں نے سردرد کی وجہ سے یہ کہہ کر چھٹی لی تھی کہ انہیں ایک تاریک کمرے میں لیٹنے کو کہا گیا ہے۔ نیشنل سوئس کمپنی کے مطابق ان کی ملازمہ نے کمپنی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور یہی ان کی برخاستگی کی وجہ بنی۔

کمپنی کے مطابق جو شخص میگرین کا مریض ہوتے ہوئے فیس بک استعمال کر سکتا ہے وہ نوکری بھی کر سکتا ہے۔


تاہم اس خاتون نے ایک سوئس اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بےقصور ہے۔ باسل سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے کہا کہ وہ اپنے بستر پر لیٹ کر اپنے آئی فون کی مدد سے انٹرنیٹ چلا رہی تھی۔ خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے ان کی جاسوسی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ایک جعلی فیس بک آئی ڈی بنا کر انٹرنیٹ پر اس کی مصروفیات کی جاسوسی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ شک اس وقت ہوا جب انہیں نوکری سے نکالے جانے کے بعد ان کا ایک دوست اچانک فیس بک سے غائب ہوگیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ دفتری معاملات میں فیس بک کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہوا ہو۔ جہاں کچھ کمپنیوں نے دفتر میں فیس بک پر پابندی لگائی ہے وہیں کچھ کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو اس بنیاد پر نوکری سے برخاست کیا ہے کہ انہوں نے کمپنی نے بارے میں فیس بک پر اپنے خیالات ظاہر کیے تھے۔

پانچ سوگیگا بائٹ کی ڈسک تیار

Posted by Anonymous on 8:55 PM




امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک نے ایک ایسی ڈسک تیار کرنے کا دعوٰی کیا ہے جس پر پانچ سو گیگا بائٹ یا سو ڈی وی ڈیز کے برابر ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

اس مائیکرو ہولوگرافک ڈسک کا حجم ایک عام ڈی وی ڈی کے برابر ہے اور اسے بنیادی طور پر ’آرکائیو‘ مقاصد کے تیار کیا گیا ہے۔

تاہم امریکی کمپنی کا ماننا ہے کہ عام کمپیوٹر صارفین بھی یہ ڈسک استعمال کریں گے۔ اس وقت ہائی ڈیفینیشن فلموں اور گیمز کے لیے مارکیٹ میں موجود بلیو رے ڈسکس پر پچیس سے پچاس گیگا بائٹ ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

مائیکرو ہولوگرافک ڈسکس ایک عام ڈی وی ڈی یا بلیو رے ڈسک کے مقابلے میں زیادہ ڈیٹا اس لیے محفوظ کر پاتی ہیں کیونکہ ان پر معلومات سہ رخی انداز میں محفوظ ہوتی ہیں۔

مائیکرو ہولوگرافک ڈسکس ایک عام ڈی وی ڈی یا بلیو رے ڈسک کے مقابلے میں زیادہ ڈیٹا اس لیے محفوظ کر پاتی ہیں کیونکہ ان پر معلومات سہ رخی انداز میں محفوظ ہوتی ہیں۔جنرل الیکٹرک کے برائن لارنس کے مطابق ’حال ہی میں جنرل الیکٹرک ٹیم نے ایسے عناصر کی تیاری کے حوالے سے ڈرامائی کامیابی حاصل کی ہے جن کی مدد سے ہولوگرامز سے منعکس ہونے والی روشنی کی مقدار میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے‘۔ خیال رہے کہ ڈسک پر ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت کا دارومدار ہولوگرام سے روشنی کے انعکاس پر ہوتا ہے۔

اب جنرل الیکٹرک کو ڈسک پلیئرز بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کرنا ہو گا تاکہ یہ ڈسک چلانے کے لیے مشین تیار کی جا سکے۔ کمپنی کے مطابق اس ڈسک کو چلانے کے لیے جن ہولوگرافک پلیئرز کی ضرورت ہوگی ان پر باآسانی سی ڈی، ڈی وی ڈی اور بلیو رے ڈسک بھی چلائی جا سکے گی اور یہی اس نئی ڈسک کی مقبولیت کی اہم وجہ بن سکتی ہے
bbc۔

اوبامہ کی باحجاب مشیر

Posted by Anonymous on 8:54 PM




امریکی تاریخ میں پہلی بار وائٹ ہاؤس میں ایک مسلمان خاتون کو مذاہب پر مشاورت کی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ہے جسے امریکی میڈیا کا ایک حصہ امریکی صدر کے مشیروں میں پہلی ححاب اوڑھنے والی خاتون کی شمولیت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

امریکی صدر براک اوبامہ کی بیورو آف ریلیجن اینڈ نیبرہوڈ پارٹنرشپس کی پچیس رکنی کونسل میں شامل کی گئي مصری نژاد امریکی خاتون کا نام دالیہ مجاہد ہے جن کا خاندان تیس برس قبل مصر سے آ کر امریکہ میں آباد ہوا تھا۔

دالیہ مجاہد معرف سرویئرز اور تحقیقی ادارے گیلپ کے اسلامک سٹڈیز سینٹر کی سربراہ ہیں اور امریکی میڈیا خاص طور الیکٹرانک میڈیا اور تھنک ٹینکس میں اسلام اور مسلمانوں کے حق میں معتدل لیکن مدلل بات چیت کے بار ے میں جانی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ان کی پینتیس مسلم ممالک میں تحقیق و جائزے پر مبنی کتاب ’ہو سپیکس فار مسلمز؟‘ یا ’مسلمانوں کیلیے کون بولے گا‘ کے عنوان سے شائع ہوئي ہے۔

مصری اخبار 'الااہرام‘ کے نیویارک میں نمائندے اور مصری و عرب سماجیات کے تجزیہ نگار طارق فتی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دالیہ مجاہد کی وائٹ ہاؤس میں تقرری نہ صرف ایک اہم واقعہ ہے بلکہ ان کی تقرری اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل میں موجودہ امریکی انتظامیہ کتنی دلچسپی لے رہی ہے۔ طارق قتی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ دالیہ مجاہد کا اصل کام امریکہ کو عالمی اور مقامی سطح پر دنیا اور امریکہ کے عام مسلمانوں کے مسائل اور حالات پر واقف حال کرنا ہے جیسے بقول دالیہ مجاہد 'گيارہ ستمبر کے بعد مسمانوں کو مصبیت بنا کر پیش کیا گيا ہے‘۔

خیال رہے کہ صدر اوبامہ کی انتظامیہ اور مشیروں میں دالیہ پہلی مسمان نہیں ہیں بلکہ مسلم امور پر مشاورت کیلیے صدر اوبامہ کی انتظامیہ میں اور بھی مسلمان مشیر شامل ہیں جن میں امریکی صدر کے افغانستان اور پاکستان پر مشیر رچرڈ ہالبروک کی ٹیم میں شامل مشہور محقق و عالم ڈاکٹر ولی نصر بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر ولی نصر کا تعلق ایران سے ہے او وہ ہمعصر اسلامی تاریخ اور سماجیات و سیاسات پر اتھارٹی مانے جاتے ہیں
bbc۔

آئی سی ایل: کھلاڑیوں پر سے پابندی ختم

Posted by Anonymous on 8:51 PM




بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے انڈین کرکٹ لیگ یعنی آئی سی ایل کے کھلاڑیوں پر عائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن بورڈ نے یہ بھی کہا ہے آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑيوں کو اس لیگ کے ساتھ اپنے رشتے ختم کرنے ہوں گے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئي کے مطابق ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر ششانک منوہر نے کہا کہ یہ فیصلہ بعض کھلاڑیوں کی جانب سے اس اعتراف کے بعد کیا گیا ہے کہ باغی لیگ میں شامل ہوکر ان سے غلطی سرزد ہوئی تھی۔

ممبئی میں بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ششانک منوہر نے صحافیوں سے بتایا ’ہم نے آئی سی ایل کے کھلاڑیوں کو معاف کرنے اور بی سی سی آئی میں ان کی واپسی کا خیرمقدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

لیکن پابندی ختم کرنے کا فیصلہ غیر مشروط نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کو اکتیس مئی تک انڈین کرکٹ لیگ سے وابستگی ختم کرنی ہوگی اور وہ ایک سال تک کوئی بین الاقوامی میچ میں نہیں کھیل پائیں گے۔ تاہم وہ ڈومیسٹک یعنی گھریلو کرکٹ میں فوری طور پر شرکت کر سکیں گے۔

آئی سی ایل سے کئی بڑے ستارے جڑے ہوئے ہیں جن میں برائن لارا، انضمام الحق اور شین بانڈ شامل ہیں۔

انڈین کرکٹ بورڈ نے آئی سی ایل کے وجود میں آنے کے بعد ہی انڈین پریمیر لیگ کا اعلان کیا تھا اور باغی لیگ سے وابستگی رکھنے والے کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی تھی۔

آئی سی ایل نے کپل دیو کو اپنی مجلس عاملہ کا چئرمین بنایا تھا
bbc۔

امریکہ میں بے روزگاری کی شرح ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی

Posted by Anonymous on 8:47 PM

عالمی اقتصادی بحران کے اثرات یوں تو دنیا کے اکثر ملکوں میں محسوس کیے جارہے ہیں لیکن امریکی معیشت اس کا بطور خاص ہدف بنی ہوئی ہے۔ تازہ ترین معاشی جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں بے روزگاری کی سطح کئی عشروں کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس وقت یہ شرح ساڑھے آٹھ فی صد ہے اور اقتصادی ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اس میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔ سرکاری اعداد وشمار میں کہا گیا ہے کہ بے روزگاری الاؤنس وصول کرنے والوں کی تعداد گذشتہ 26 برس میں سب سے اونچی ہے اور یہ سطح گذشتہ 10 ہفتوں سے نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ ہورہاہے۔

دسمبر2007 سے، جب سے کسادبازاری کا آغاز ہواہے، امریکہ میں اب تک 50 لاکھ سے زیادہ افراد اپنے روزگار سے محروم ہوچکے ہیں۔ صرف پچھلے ماہ کے دوران 6 لاکھ63 ہزار افراد بے روزگار ہوئے۔ کانگریس کی رکن کیرولین میلونی جو جوائنٹ اکنامک کمیٹی کی چیئر پرسن ہیں کہتی ہیں کہ ہر ماہ اوسطاً 6 لاکھ 67 ہزار افراد بے روزگار ہورہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وال اسٹریٹ اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے جس کے مارکیٹ پر مثبت نتائج ظاہر ہوں گے۔

اس کے ساتھ گذشتہ ہفتے جی ٹونٹی ممالک کے راہنماؤں کی جانب سے عالمی معاشی بحران کو حل کرنے کی یقین دہانی کے بھی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہر معاشیات فریڈ بریگسٹن کا خیال ہے کہ اگر کوئی غیر متوقع واقعہ رونما نہ ہوا تو عالمی کساد بازاری جلد ختم ہوجانی چاہیے۔

تاہم بے روزگار ہونے والوں کو مثبت تبدیلیوں کی باتیں کھوکھلی لگتی ہیں ۔ بے روزگار ہونے والے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ یہاں ایسے خاندان بھی ہیں جن میں میاں بیوی دونوں ہی بے روزگار ہوگئے ہیں اوراب ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

ملبوسات تیار کرنے کے ایک برانڈ ادارے سے وابستہ وکی کا کہنا ہے کہ بینکوں میں آنے والے مالیاتی بحران کے باعث انہوں نے قرضوں سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جس کی وجہ سے کارباروی اور صنعتی کمپنیاں مالی مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں اور ان کے لیے اپنا کاروبار جاری رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا جس کی وجہ سے کارکن بے روزگار ہورہے ہیں۔

یارک کاؤنٹی میں ایک امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے والے کونسلر ایلن وین سلوٹ کہتے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں ملازمت تلاش کرنا آسان نہیں ہے مگر کچھ شعبوں میں جیسے کہ صحت عامہ کا شعبہ، وہاں پر بہرحال مواقع موجود ہیں
thanks for voa۔

کراچی میں صرف پانچ فیصد خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی

Posted by Anonymous on 8:39 PM

ایک صحت مند معاشرہ اس وقت تشکیل پاتا ہے جب اس میں رہنے والا ہر فرد متحرک ہو ۔ معاشرے کی فلا ح و بہبود کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی یہ تحریک علم و آگہی ، یکساں مواقع او ر وسائل کے صحیح تعین سے ملتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال مختلف ہے ۔ یہاں تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں ۔ معاشی و معاشرتی حدبندیوں کے سبب مواقع محدود ۔ وسائل بے شمار لیکن اخلاص کی قلت اور وژن۔۔۔ ناقص۔ پاکستان کی 51فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن بیشتر تعلیم سے محروم ہونے کے سبب اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ دیہی علاقے تو ایک طرف شہری علاقوں میں بھی خواندگی کی صورتحال حوصلہ افزانہیں۔ اس کا بخوبی اندازہ کراچی میں قائم ایک نجی یونی ورسٹی ”اقراء“ کے شعبہ پی ایچ ڈی کی سربراہ ڈاکٹر زائرہ وہاب کی اس تحقیق سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صرف 5 فیصد خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی ہے اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی ان میں سے صرف دو فیصد کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔

اگرچہ ڈاکٹرزائرہ وہاب نے یہ تحقیق 2006 ء میں مرتب کی تھی لیکن وہ ہر سال اسے اپ ڈیٹ کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دوران کالجوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن کہیں آرٹس ہے تو کہیں کامرس نہیں اور کامرس ہے تو کہیں سائنس نہیں۔ اسٹاف اور ڈپارٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی تعلیمی اداروں میں خواتین کی نمائندگی کم و بیش وہی ہے۔


ڈاکٹرزائرہ وہاب

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زائرہ نے اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ غربت ، معاشرتی روایات ، بنیاد پرستی ، سماجی رکاوٹیں ، قول و فعل میں تضاف جیسے عناصر سمیت حکومت کی عدم توجہی بھی ایک وجہ ہے۔ بلند و بانگ دعووٴں کے با وجود ہم بحیثیت قوم آج تک یہ تعین ہی نہیں کر سکے کہ ہم اپنی خواتین کو کیسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی اقتصادی آزادی حاصل کر سکتی ہیں لیکن اپنی تحقیق کے دوران میں نے یہ دیکھا کہ اعلیٰ تعلیم ایک خاص طبقے تک ہی محدود ہے اس لیے غریب گھرانے کی لڑکیاں نہ تو اقتصادی طور پر خود مختار ہوتی ہیں اور نہ ان میں انفرادیت ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ پھر نسل در نسل چلتا ہے ۔ جب کہ خوشحال گھرانوں کی خواتین تعلیم کے بعد ملک چھوڑ کے چلی جاتی ہیں یا پھر ان کو کام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور تبدیلی ان کے لیے اتنی معنی بھی نہیں رکھتی ۔ مسئلہ درمیانے اور غریب طبقے کی خواتین کا ہے جنہیں خود انحصار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غربت سے لڑ سکیں۔

جامعات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مختلف شعبوں میں تیزی سے قدم رکھتی خواتین کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے پبلک سیکٹر میں واحد ادارہ جامعہ کراچی ہے۔ وہاں خواتین کی نمائندگی مردوں سے زیادہ ہے مگر غریب طبقے کی خواتین وہاں بھی نہیں۔ دوسرا وہاں بیشتر خواتین سوشل سائنسز سے منسلک ہیں اور مارکیٹ میں ان کے لیے کوئی جاب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین مسابقتی میدانوں میں نہیں آتیں جیسا کہ منجمنٹ سائنسز ، قانون ، انجینئرنگ ۔ ان شعبوں میں آکر درمیانے اور غریب طبقے کی خواتین براہ راست ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ مگر ان کے لیے مواقع نہیں۔ نجی جامعات میں فیس اتنی زیادہ ہے کہ ادائیگی ان کے بس سے باہر ہے۔



وہ کہتی ہیں کہ بحیثیت قوم ہماری منزل اور مقاصد واضح نہیں ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس مین پاور پلاننگ ہونی چاہیے کہ کس شعبے میں کتنے لوگو ں کی ضرورت ہے اور کون سے لوگ کہاں ہوں۔ وہ جگہیں جہاں خواتین زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں ان کے لیے مخصوص کوٹے مقرر کیے جائیں۔ اگر وسائل نہیں اور لوگ اپنی بیٹیوں کو نہیں بھیجتے تو حکمت عملی مرتب کی جائے ۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے علاوہ خواتین کو پرائمری کی سطح پر بھی تعلیم کے حصول کے لئے صورتحال حوصلہ افزاء نہیں۔حکومت سندھ کے ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان ایسے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔صرف سندھ میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 50 فیصد ہے جبکہ کچھ علاقوں میں یہ شرح 72 فیصد ہے۔

پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ڈاکٹر زائرہ کے مطابق میڈیا کا کردار ، مواقع اور لٹریسی ریسورس سینٹر کا قیام بہت اہم ہے۔ بھارت کی صرف ایک ریاست چنائے میں چھبیس ریسورس سینٹر ہیں جہاں نہ صرف بچوں کی کاوٴنسلنگ ہوتی ہے بلکہ ان کے والدین کی بھی جبکہ کراچی میں ہم نے ایک کے بارے میں بھی نہیں سنا ۔ ساتھ ہی یہاں کالجوں میں تعلیم کو ہنر کے ساتھ مشروط کرنا چاہئے تاکہ لوگ تعلیم کی جانب راغب ہوں اورپچاس فیصد ضائع ہونے والے انسانی وسائل سے ملک استفادہ کر سکے ۔

sheikhupura news: دبئی میں شاہد آفریدی کے فین

Posted by Anonymous on 4:12 PM

دبئی میں شاہد آفریدی کے فین

Posted by Anonymous on 1:17 PM
دبئی کے سپورٹس سٹی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک روزہ میچ دیکھنے کے لئے آنے والے ہزاروں تماشائیوں میں ایک بڑی تعداد پشتو بولنے والے کرکٹ شائقین کی ہے جن میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ وہ صرف شاہد آفریدی کی باؤلنگ اور بیٹنگ دیکھنے آئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کرکٹ سیریز کے افتتاحی میچ کے 'میں آف دی میچ' شاہد آفریدی کراچی کے پشتون خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

دبئی اور اسکے گرد عرب ریاستوں میں بڑی تعداد میں پشتو بولنے والے روزگار کی غرض سے رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر محنت مزدوری یا ٹیکسی چلانے کا کام کرتے ہیں۔

میچ شروع ہونے سے قبل سٹیڈیم کے اندر آنے کے لئے طویل قطار میں کھڑے ہنگو کے ناصراللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شاہد آفریدی کو بہت پسند کرتے ہیں اور انہی کی کارکردگی دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔ پشاور کے محب نے کہا کہ 'کھیلتے تو سب ہی اچھا ہیں لیکن آفریدی کے ایکشن کا جواب نہیں'۔

کوہاٹ کے نور نواز نے کہا کہ وہ شاہد آفریدی کے باؤلنگ ایکشن سے بہت متاثر ہیں۔'میں بہت دن سے شاہد آفریدی کو ٹی وی پر دیکھتا رہا ہوں۔ آج اسے لائیو دیکھنے کا پہلی بار موقع ملے گا'۔

پشاور کے گل محمد نے کہا کہ انہوں نے دبئی میں گزشتہ میچ بھی دیکھا تو اور آج انکا میچ دیکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ 'لیکن آفریدی نے ایسا جادو چلایا کہ یں آج بھی چھٹی لیکر یہ میچ دیکھنے آگیا'۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز دبئی میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عام پبلک کے لئے مخصوص نشستوں کے تمام ٹکٹ میچ سے پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے جبکہ پچیس ہزار گنجائش کے اس گراؤنڈ میں وی آئی پی باکس کے چند ٹکٹ رہ گئے ہیں۔

فحاشی کے الزام کی تردید

Posted by Anonymous on 1:11 PM


لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو ایڈوکیٹ آصف محمود کی ایک درخواست پر دو گلو کاراؤں نصیبو لال اور نوراں لال کے مبینہ طور پر فحش گانوں پر پابندی عائد کر دی تھی اور دونوں کو پچیس مئی کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

نصیبو لال کے گانوں پر پابندی


درخواست گزار نے عدالت کو کہا تھا کہ یہ دونوں بہنیں نصیبو لال اور نوراں لال فحش گانے گاتی ہیں اور ان کے ان گانوں پر پابندی عائد کی جائے۔

اس عدالتی حکم پر ان دونوں کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم بارہا کوشش کے باوجود نصیبو لال سے رابطہ نہ ہو سکا، البتہ نوراں لال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو خود ہمیشہ فحش گانوں کی مخالفت کی ہے اور وہ ایسے گانے نہیں گاتیں جو مخرب اخلاق ہوں۔


نوراں لال کا کہنا ہے کہ ان کا تو نصیبو لال سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔


نوراں لال نے کہا کہ ان کے گانے ایسے ہوتے ہیں جو خاندان کے مرد اور عورتیں اکٹھے بیٹھ کر سنتے ہیں اسی لیے انہیں شادی بیاہ اور دیگر نجی تقریبات پر گانا گانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔


نوراں لال نے کہا کہ ان کا نام ویسے ہی ساتھ شامل کر لیا گیا ہے اور کسی اور کے قصور کے سبب وہ بھی ملزم بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے تو یہ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔


نوراں لال نے کہا کہ وہ بہت کم فلمی گانے گاتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ صرف اسی گانے کو گانے کی پیشکش قبول کرتی ہیں جو اچھا ہو اور فحش گانے کی پیشکش ٹھکرا دیتی ہیں۔


نوراں لال نے کہا کہ کافی گانے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے بول اتنے خراب نہیں ہوتے لیکن ان گانوں پر رقص کرنے والی خواتین کی حرکات و سکنات انہیں فحش بنا دیتی ہیں۔


نوراں لال کے شوہر شفیق بٹ نے بھی کہا کہ یہ نوراں لال پر سراسر الزام ہے کہ وہ اخلاق سے گرے ہوئے گانے گاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان اکتالیس گانوں کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں فحش قرار دے کر پابندی لگائی گئی ہے، اس کے بعد وہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیاری کریں گے۔

بشکریہ بی بی سی

دنیا کے بڑے دریا ’سوکھ رہے ہیں

Posted by Anonymous on 12:15 PM

امریکی محققین کے مطابق گزشتہ پچاس برس میں دنیا کے اہم ترین دریاؤں میں پانی کی سطح میں قابلِ ذکر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

محققین اس کمی کا تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی دنیا کی تیزی سے بڑھتی آبادی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

یہ تحقیق امریکی میٹیورولاجیکل سوسائٹی کے جریدے میں شائع کی گئی ہے۔.

اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے نو سو سے زائد دریاؤں کا جائزہ لیا اور ان کے مطابق چین کے زرد دیا سے لے کر بھارتی گنگا اور وہاں سے امریکہ کے دریائے کولاراڈو تک دنیا کے لیے میٹھے پانی کے ذخائر میں واضح کمی دیکھی جار ہی ہے۔

دنیا میں جس خطے میں پانی کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا ہے وہ انٹارکٹک ہے جہاں گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے پانی کی سطح بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیا میں دریائے برہم پتر اور چین میں ینگزے دریا میں پانی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کی وجہ بھی سائنسدانوں نے ہمالیہ کے گلیشیئرز کا پگھلنا قرار دیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق دریاؤں سے سمندر میں جانے والے پانی کی مقدار میں بھی کمی آ رہی ہے اور اس کمی کی وجہ ڈیموں کی تعمیر اور زرعی مقاصد کے لیے پانی کا رخ موڑنا شامل ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ سب ثانوی وجوہات ہیں اور سب سے اہم وجہ درجۂ حرارت میں اضافے جیسی ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف بارشوں کے نمونے بدل گئے ہیں بلکہ عملِ تبخیر بھی تیز ہوگیا ہے۔

مائیکرو سافٹ کی سیلز میں کمی

Posted by Anonymous on 12:13 PM


مائیکرو سافٹ نے کہا ہے کہ اس کی تیئس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ سن دو ہزار نو کے پہلے تین مہینوں میں اس کی سیلز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی نے کہا کہ اس کے منافع میں بتیس فصید کمی ہوئی ہے۔

مائیکرو سافٹ کو زیادہ تر منافع اس کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کی فروخت سے ہوتا ہے۔

تاہم ونڈوز کی مانگ میں کمی کمپیوٹروں کی فروخت کم ہونے سے ہوئی ہے۔

کمپنی کے چیف فائننشل آفیسر کرس لڈل نے کہا کہ انہیں اگلی سہ ماہی میں بھی سیلز میں بہتری کی توقع نہیں ہے۔

مائیکرو سافٹ جو انیس سو چھیاسی میں پبلک کمپنی بنی تھی اب خرچے کم کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے منافع میں کمی ماہرین کی توقع سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

شمالی کوریہ : امریکی صحافیوں پر مقدمہ

Posted by Anonymous on 12:11 PM

شمالی کوریہ کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ خبر شائع کی ہے کہ جن دو امریکی صحافیوں کو شمال کوریا اور چین کی سرحد کے نزدیک گرفتار کیا گیا تھا ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

کوریائی امریکی یونا لی اور چینی امریکی لورا لنگ کرنٹ ٹی وی کی ملازم ہیں اور انہیں سترہ مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

شمال کوریا کا کہنا ہے کہ ان صحافیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ تفتیشی رپورٹ آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ حالانکہ اب تک یہ واضح نہيں ہے کہ ان لوگوں کے خلاف کن الزامات کے تحت مقدہ چلایا گیا ہے۔

شمالی کوریہ کا کے مطابق دونوں خواتین غیر قانونی طریقے سے چین کے راستے سرحد پار کر کے ملک میں داخل ہوئی تھیں۔

کے سی این اے کے مطابق " ہماری جانب سے ان کے جرم کی تفتیش کے بعد دو امریکی صحافیوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔"

اس سے قبل سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ صحافیوں پر ملک دشمنی اور ملک میں غیر قانونی داخلے کے تحت مقدمہ چلائے گی۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اگر یہ خواتین قصوروار ثابت ہو جاتی ہیں تو ان ہیں کم از کم پانچ برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایسا مانا جا رہا ہے کہ یہ صحافی چین کی سرحد کی طرف تھیں جب شمالی کوریا کے گارڈز نے انہيں گرفتار کر لیا اور انہیں شمالی کوریا لے گئے، حالانکہ شمال کوریا اس کی تردید کرتا ہے۔

اس وقت یہ صحافی کمیونسٹ شمالی کوریا سے بھاگنے والے پناہ گزینوں سے متعلق ایک سٹوری پر کام کر رہیں تھی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پہ ہوا ہے جب شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ یہ کشیدگی شمالی کوریا کے اس اعلان سے متعلق ہے کہ وہ آٹھ اپریل کو خلا میں ایک سیٹلائٹ چھوڑے گا۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ ایک مواصلاتی سیٹلائٹ ہے لیکن کچھ دفاعی مبصرین نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ در اصل کمیونسٹ حکومت والا ملک دور مار میزائل کا تجربہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ اور خطے کے کئی ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شمالی کوریا نے حال میں اپنی فوج کو مکمل جنگی تیاری کا حکم دیا تھا اور جنوبی کوریا کے ساتھ سرحد کو بھی بند کر دیا تھا۔
bbe

دنیا میں ہر سال پچاس لاکھ افراد کو سانپ ڈس لیتے ہیں

Posted by Anonymous on 9:22 PM
دنیا بھرمیں ہر سال پچاس لاکھ افراد ، جن میں سے بیشترایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں، سانپ کے کاٹے کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ہزاروں ہلاک ہو جاتے ہیں یا مستقل طور پرمعذور ہو جاتے ہیں ۔ غریب ملکوں میں زہر کے علاج کی ادویات کی قلت کے باعث بے شمار کاشتکار، نوجوان اور بچوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے

فلپائن میں لیری بولیندی ، زہریلے سانپوں کو بڑی مہارت کےساتھ پکڑنے کی وجہ سے کوبرا کنگ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان سےاکثر علاقےکےکاشتکار، اپنے کھیتوں سے،کوبرا سانپوں کو پکڑنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔

آج بلیدی کو اس کاشتکار نے بلایا ہے جس نے اپنے کھیت میں دو سانپ دیکھے تھے۔ اگر اسے کوبرا کاٹ لیتا تو وہ فوراً ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ فلپائن کے اکثر دیہی علاقوں سے اسپتال بہت دور ہیں اور اکثراوقات تو وہاں پر زہرکے کاٹے کی دوائی موجود ہی نہیں ہوتی ۔ بلیدی کہتے ہیں کہ کاشت کار ہمیں اپنے کھیتوں سےسانپ ختم کرنے کے لیے کہتے ہیں کیوں کہ یہ ان کی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال لگ بھگ پچاس لاکھ افرادسانپ کے کاٹے کا نشانہ بنتے ہیں۔ان میں سے تقریباً دو لاکھ افراد ہلاک اور لگ بھگ چار لاکھ اپنے ہاتھ پاؤں سے محروم ہو جاتے ہیں ۔بیشتر متاثرہ افراد کاتعلق افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر ملکوں سے ہوتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کے سانپ کے کاٹے سے زیادہ تر افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں ،اس لیے ہلاک ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ، طبی مراکز سے بہت دور ہوتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں زہر کے کاٹے کی دوائیوں قلت ہے۔

ڈاکٹر وسیتھ سیت پریجا بنکاک میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کام کرنے والے زہریلے سانپ کے علاج اور ریسرچ کےایک مرکزکے انچارج ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زہر کے کاٹے کی مہنگی دوا تیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غریب ممالک مثلاً کمبوڈیا اوربرما، ان ادویات کی مناسب مقدار حاصل کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا عزم ہے اور جہاں تک صحت کے عالمی ادارے کا تعلق ہے تو ہمیں زہر کے کاٹے کی دوا فراہم کرنا ہے ۔ وہ ہم سے گاہے گاہے اس کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہم ابھی تک ان کے پورے ملک کو یہ دوا فراہم نہیں کر پا رہے۔

ڈاکٹر وسیتھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ زہر کے کاٹے کی بڑے پیمانے پر تیار کی جاسکنے والی دوسری طرح ادویات ، اکثر اوقات کچھ مخصوص علاقوں کے سانپوں کے زہر ہی سے تیار کی جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ان سانپوں میں کچھ مشترکہ زہریلے اجزا ہو سکتے ہیں لیکن ان کے حیاتیاتی اثرات مختلف ہوتے ہیں ۔اس کا انحصار ماحول، جنیٹکس اور ان کی خوراک پر ہوتاہے۔

اس کامطلب یہ ہے کہ فلپائن میں کوبرا سانپ کے کاٹے کے لیےجودوا کارگر ہوتی ہے ممکن ہے وہ مغربی افریقہ میں اسی طرح کےکسی سانپ کے کاٹے کے لیے کام نہ دے۔

بنکاک میں کھیتوں میں جانے والے بچوں کو مختلف قسم کے سانپوں کا سامنا ہوتا ہے۔ چنانچہ انہیں سانپوں کے بارے میں تریبت دی جاتی ہے۔ انہیں یہ علم ہوجاتا ہےکہ زیادہ تر سانپ حادثاتی طورپر کاٹتے ہیں ، اور انہیں یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ سانپوں کے کاٹے سے کس طرح بچا جا سکتاہے مثلاً یہ کہ ربڑکے جوتے پہن کر۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سانپوں کے کاٹے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں کمی لانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے بچاؤ کے طریقوں پر عمل کیا جائے اور اس بارے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں۔
بشکریہ وی ای اے

عالمی حدت کے اثرات: قطبین پر سزہ اگنے لگا

Posted by Anonymous on 11:44 PM

قطب جنوبی یا اینٹارکٹک کے جزیرہ نما پر اگر آپ قدم رکھیں تو آپ کو اپنی توقعات کے مطابق برف دکھائی نہیں دے گی۔ درحقیقت یہاں کی پتھریلی زمین کا بیشتر حصہ برف سے پاک ہے۔ روس کے بیلنگ ہاوسن سٹیشن کے ڈاکٹرمیخائل اندریو کے مطابق سیاہ، بھورے اور سفید رنگوں بھرے اس منظر میں کہیں کہیں سے سبزہ بھی جھانکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں پودے بہت کم دیکھنے میں آتے تھے۔ لیکن اب ہمیں یہ ہر جگہ نظر آنے لگے ہیں اور ایک جگہ تو گھاس ہی گھا س ہے۔

چیمپ سیا انٹارکٹکا نامی کائی جیسے پودے یہاں پہلے نہیں پائے جاتے تھے۔ لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی حالات کی وجہ سے نہ صرف یہ پودے یہاں زیادہ مقدار میں پھلنے پھولنے لگے ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے یہاں کے مقامی پودوں کو بھی خطرہ ہے۔ سائنس دان پودوں کی ان نئی اقسام کو قطب جنوبی کودرپیش ماحولیاتی مسائل کی نشانی قرار دے رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہاں کا موسم بے انتہا خشک تھا، لیکن سالہا سال یہاں کی ہوا میں نمی کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب یہاں بارش نہیں ہوا کرتی تھی، صرف برف باری کے ذریعے بادل اپنی نمی کا بوجھ ہلکا کرتے تھے۔ لیکن ہوزے مڈیئروس کہتے ہیں کہ اب یہاں تقریبا روزانہ بارش ہوتی ہےجو بیس برس پہلےنہیں ہوا کرتی تھی۔

قطب جنوبی میں موجود 60 سائنسی تجرباتی اداروں کی تحقیقات میں موسمی تبدیلیاں سر فہرست ہیں۔ تھائیس سینٹوز جیسے سائنسدان روزانہ گلوبل وارمنگ کے نتائج پر معلومات اکھٹی کرنے کے لیے تجربات کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہم الٹرا وائلٹ ریڈیشن پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس کے اثرات کے بارے میں زیادہ بہتر طورپر جان سکیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قطب جنوبی پر اوزون کی تہہ کمزور ہے جس کی وجہ سے یہاں موسمی تبدیلیاں زیادہ شدت اختیار کر تی ہیں۔ فرنچ پولر انسٹٹیوٹ کے یوز فرنو کہتے ہیں کہ اسی لیے سائنسدانوں کو زیادہ ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ 50 برسوں میں اینٹارکٹک کے جزیرہ نما کے درجہ حرارت میں 2 یا 3 ڈگری کا اضافہ ہوا ہے۔ موسمی لحاظ سے اسے ایک بہت بڑی تبدیلی تصور کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی اور خطے میں اس قسم کا اضافہ ہزاروں سال کےوقفے میں پیش آتا ہے۔ چلی کی اینٹارکٹک انسٹٹیوٹ کے ہوزے ریٹامالیز کہتے ہیں کہ اینٹارکٹک کے جزیرہ نما پر موسمی تبدیلیوں کے ثبوت نمایاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چند ہی ہفتوں میں برف کا ایک بڑا تودا پانی میں پگھل کر غائب ہو جائے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ درجہ حرارت میں چھوٹی سی تبدیلی کے نتائج بھی بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔


فرنو کا کہنا ہے کہ یہاں موسمی حالات میں پیش آنے والی تبدیلیاں دنیا بھر کے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قطب جنوبی اور قطب شمالی کے خطے عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں کے مستقبل کی عکاسی کرتی ہیں۔ جو تبدیلیاں یہاں پیش آرہی ہیں، ان کی وجہ سے عالمی سطح پر موسم متاثر ہو سکتا ہے۔

سائنسدان اس علاقے میں موسم پر کڑی نظر اس لیے بھی رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں پیش آنے والی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ دنیا کے دیگر خطوں کے بارے میں پیش گوئی کر سکیں گے۔ اور ان تبدیلیوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی تشکیل دے سکیں گے۔


بشکریہ وی ای اے

انٹارکٹکا پر 46 ملکوں کے سائنس دان مل کر تحقیق کررہے ہیں

Posted by Anonymous on 11:41 PM

براعظم قطب جنوبی جو عام طورپر انٹارکٹکا کے نام سے جانا جاتا ہے، سائنس دانوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں پر مختلف حوالوں سے سائنسی تحقیقات جاری رہتی ہیں۔ 50 برس قبل ہونے والے ایک معاہدے کے تحت وہاں ریسرچ کرنے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحقیق سے ایک دوسرے کو آگاہ رکھیں۔ان دنوں امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں اس معاہدے میں شریک ممالک اور ان کے ماہرین کی کانفرنس ہورہی ہے جس کا ایک اہم مقصد سائنسی تحقیق میں تعاون کو مزید مربوط کرنا بھی ہے۔

انٹارکٹکا میں کنگ جارج آئی لینڈ پر فیراز ریسرچ اسٹیشن سرکاری طور پر برازیل کا علاقہ ہے لیکن یہاں مختلف ملکوں کے سائنسدان مشترکہ طور پر تحقیق و تجربات کرتے ہیں ۔ روس کے بیلنگس ہاسن اسٹیشن پربھی اسی طرح ہی کام ہوتاہے۔ اسٹیشن کے سر براہ الیکزینڈر اروپ کہتے ہیں کہ یہ اشتراک بہت ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم اس بر اعظم پر صرف اکٹھے کام کر کے ہی سائنسی مواد کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور اسے اکٹھاکر سکتے ہیں۔

انٹارکٹکا پر سائنسدان اپنے پراجیکٹس پر سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے کام کررہے ہیں اور یہ تعاون بر اعظم کے انتظام سے متعلق معاہدے میں تحریر ہے اور اس انتہائی سرد اور الگ تھلک ماحول میں مختلف پراجیکٹس پر مل کر کام کرنے سے وقت اور پیسے کی بچت ہو سکتی ہے ۔

نیشنل انٹارکٹک پروگراموں کی کونسل آف مینیجرز کے اینٹوئن گوچرڈ کہتے ہیں کہ موجودہ مالیاتی بحران میں ایسا کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اتنا مہنگا کام ہے کہ اگر آپ ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تو آپ اسے انجام نہیں دے سکتے ۔ اور اب جب کہ انٹارکٹک سائنس گلوبل سائنس بن چکی ہے اور یہ آگہی بڑھ چکی ہے کہ پوری دینا کس طرح کام کر سکتی ہے تو اس لیے اب یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ سب مل کر کام کریں۔

انٹارکٹکا میں کوئی اسٹیشن قائم کرنے پر بہت لاگت آسکتی ہے اوراس کے لیے بجٹ بھی زیادہ نہیں ہوتا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کسی بھی تحقیقی مرکز کےلیے مجموعی آپریشنز پر آنے والی لاگت میں ایندھن کا خرچ سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔

2008 میں ایندھن کی قیمت میں ساٹھ سے ستر فیصد ااضافہ ہو گیا تھا۔

چلی کے انٹارکٹک پروگرام کے سر براہ ہوزے ریٹامیلس کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے اب مل کرکام کرنا سائنس دانوں کی مجبوری بن گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کا پروگرام تین سال کا ہوتو اس کے لیے آپ کیا کریں گے ۔بجٹ کی کمی کی صورت میں یقنناً آپ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے ۔

اس طرح کا تعاون ان علاقوں میں عیاں ہے جہاں بہت سے مرکز قائم ہیں ۔ جیساکہ جزیرہ نما کنگ جارج جزیرہ ہے۔ یہاں چلی میں ایک ائیر اسٹرپ ہے جو ہمسایہ روسی ریسرچ سنٹر کو انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں ایک اسٹور ، ہسپتال ہے اور ایک پوسٹ آفس بھی ہے۔ سائنس دانوں کےلیے یہ معمول کی بات ہے کہ اپنا سامان لانے کے اخراجات بچانے کے لیے ہمسایہ اسٹیشنوں سے ساز و سامان ادھار مانگ لیتے ہیں ۔

انٹارکٹک پر اٹلی اور فرانس میں تعاون اس حدتک بڑھ گیا ہے کہ اپنا نیا مشترکہ اسٹیشن قائم کر رہے ہیں ۔ پھر بھی ریٹامیلس کہتے ہیں کہ الگ تھلگ علاقے میں کام کرنا بعض اوقات انسانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ ان کے اپنے ملک کے شہریوں کے درمیان مشکل ہو جاتا ہے کیوں کہ آپ صرف اپنے شعبے پر توجہ دیتے ہیں اور یہ جاننا ضروری نہیں سمجھتے کہ دوسروں کے لیے آپ اور کیا کر سکتے ہیں۔

انٹارکٹک معاہدے پر دستخط ہوئے پچاس برس ہو گئے ہیں ۔ اس معاہدے میں مزید ملکوں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ 46 رکن ملک باقاعدگی سے اجلاس کرتے ہیں تاکہ اپنے تحقیقی مراکز کے درمیان مشترکہ کوششیں بر قرار رکھیں اور انکشافات سے ایک دوسرے کو باخبر رکھیں ۔

ابتدا ہی سےبا ضابطہ اور بے ضابطہ دونوں طرح کے نیٹ ورک موجود ہیں تاکہ اطلاعات کا تبادلہ کیا جاتا رہے ۔
انٹارکٹک کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دو دراز علاقہ سائنس دانوں کو عالمی سیاست سے الگ رہنے میں مدد دیتا ہے ۔ ہو سکتاہے کہ ان کے ملک آپس میں دوست نہ ہوں مگر وہ یہاں سائنس کی خاطر ایک دوسرے سے مل کرکام کرتے ہیں ۔

بشکریہ وی ای اے

سخت اذیتوں کی اجازت دینے والےبش انتظامیہ کے افراد پر مقدمات کا امکان موجود ہے؛ اوباما

Posted by Anonymous on 11:38 PM
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی اٹارنی جنرل کے ہاتھ میں ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں کی تفتیش کے لئے سخت اذیتوں کی اجازت دینے والوں کے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں یا نہیں۔

وہائیٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ جو لوگ گذشتہ انتظامیہ کے حکم کے تحت ایسے کاموں کے مرتکب ہوئے تھے، میں انہیں سزا دینے کے حق میں نہیں ہوں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ، یہ فیصلہ کرنا مسٹر ایرک ہولڈر کا کام ہے کہ ان قانونی فیصلوں کے ذمہ افراد پر فرد ِ جرم عاید کی جائے یا نہ کی جائے۔

مسٹر اوباما نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے سی آئی اے کی دستاویزات کو بر سر عام لانا انتہائی مشکل فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان حکم ناموں میں سخت اذیتوں کی تفصیلات درج تھیں جن میں نیند سے محرومی اور مصنوعی ڈبکیاں لگوانا شامل تھا اور ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے اخلاقی ضابطوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

ادھر پیر کی رات سابق نائب صدر ڈک چینی نے ان حربوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان سے بڑی فائدہ مند معلومات حاصل ہوئیں۔

مسٹر اوباما کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ہمارے ضابطہٴ اخلاق پر زد پڑتی ہے اور ہماری سلامتی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

بشکریہ وی ای اے