kia Music Jayez hy? plz Read the Full post

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 6:35 PM
ديا ہے، اس كا مطالعہ كريں.




اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:






يہ حديث صحيح ہے امام بخارى رحمہ اللہ نے صحيح بخارى ميں اس سے حجت ليتے اسے بالجزم معلق روايت كيا ہے، اور باب كا عنوان باندھتے ہوئے كہا ہے:






" باب فيمن يستحل الخمر و يسميہ بغير اسمہ "






شراب كو حلال كرنے اور اسے كوئى نام دينے والے كے متعلق باب.






اور اس حديث ميں گانے بجانے اور ناچ كى حرمت كى دليل دو وجہ سے پائى جاتى ہے






پہلى وجہ:






نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان: " وہ حلال كر لينگے "






يہ اس بات كى صراحت ہے كہ يہ مذكور اشياء شريعت ميں حرام ہيں، تو يہ لوگ انہيں حلال كر لينگے، اور ان مذكورہ اشياء ميں معازف يعنى گانے بجانے كے آلات بھى شامل ہيں، جو كہ شرعا حرام ہيں جنہيں يہ لوگ حلال كر لينگے.






دوم:






ان گانے بجانے والى اشياء كو ان اشياء كے ساتھ ملا كر ذكر كيا ہے جن كى حرمت قطعى طور پر ثابت ہے، اور اگر يہ حرام نہ ہوتى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے ان حرام اشياء كے ساتھ ملا كر ذكر نہ كرتے "






ديكھيں: السلسلۃ الصحيحۃ للالبانى ( 1 / 140 - 144 ).






شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:






يہ حديث معازف ( يعنى گانے بجانے كے آلات ) كى حرمت پر دلالت كرتى ہے، اور اہل لغت كے ہاں معازت گانے بجانے كے آلات كو كہا جاتا ہے، اور يہ اسم ان سب آلات كو شامل ہے "






ديكھيں: المجموع ( 11 / 535 ).






اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" اور اس باب ميں سعد الساعدى، اور عمران بن حصين اور عبد اللہ بن عمرو، اور عبد اللہ بن عباس، اور ابو ہريرہ، اور ابو امامہ الباھلى، اور ام المومنين عائشہ، اور على بن ابى طالب، اور انس بن مالك، ار عبد الرحمن بن سابط، اور الغازى بن ربيعۃ رضى اللہ تعالى عنہم بھى ہيں ) پھر اپنى كتاب اغاثۃ اللھفان ميں اس حديث كو ذكر كيا ہے، اور كہا ہے كہ يہ حديث حرمت پر دلالت كرتى ہے.






اور نافع رحمہ اللہ بيان كرتےہيں كہ:






" ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے بانسرى بجنے كى آواز سنى تو انہوں نے اپنے كانوں ميں انگلياں ركھ ليں اور راستے سے ہٹ كر مجھے كہنے لگے نافع كيا تم كچھ سن رہے ہو ؟






تو ميں نے عرض كيا: نہيں، تو انہوں نے اپنے كانوں سے انگلياں نكال ليں، اور كہنے لگے، ميں ايك بار نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ تھا تو انہوں نے آواز سنى تو اسى طرح كيا "






صحيح سنن ابو داود.






كچھ لوگ سمجھتے ہيں كہ يہ حديث اس كى حرمت كى دليل نہيں كيونكہ اگر ايسا ہى ہوتا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو اپنے كان بند كرنے كا حكم ديتے، اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بھى اسى طرح نافع كو حكم ديتے!






تو اس كا جواب يہ ديا جاتا ہے كہ: وہ اسے غور سے كان لگا كر نہيں سن رہے تھے بلكہ اس كى آواز ان كے كان ميں پڑ گئى تھى، اور سامع اور مستمع ميں فرق پايا جاتا ہے، سامع صرف سننے والے كو كہتے ہيں،اور مستمع كان لگا كر سننے والے كو كہتے ہيں.






شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" انسان جو چيز ارادہ اور قصد سے نہ سنے بالاتفاق آئمہ كرام كے اس پر كوئى چيز مرتب نہيں ہوتى نہ تو نہى اور نہ ہى مذمت، اسى ليے كان لگا كر سننے كے نتيجہ ميں مذمت اور مدح مرتب ہوتى ہے، نہ كہ سننے كے نيتجہ ميں، اس ليے قرآن مجيد كان لگا كر سننے والے كو اجروثواب ہو گا ليكن بغير ارادہ و قصد كے قرآن مجيد سننے والے كو كوئى ثواب نہيں، كيونكہ اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور اسى طرح گانے بجانے سے منع كيا گيا ہے، اگر وہ بغير كسى ارادہ و قصد كے سنتا ہے تو اسے ضرر نہيں ديگا "






ديكھيں: المجموع ( 10 / 78 ).






اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" مستمع وہ ہے جو قصدا اور ارادتا سنتا ہے، اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے ايسا نہيں پايا گيا، بلكہ ان سے سماع پايا گيا ہے، يعنى انہوں نے بغير كسى ارادہ قصد كے سنا اور اس كى آواز كان ميں پڑ گئى اور اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كى ضرورت تھى كہ انہيں آواز بند ہونے كى خبر دى جائے، كيونكہ وہ راستے سے دوسرى طرف ہو گئے تھے، اور انہوں نے اپنے كان بند كر ليے تھے، تو وہ دوبارہ اس راستے پر آنے والے نہ تھے، اور نہ ہى آواز ختم ہونے سے قبل كانوں سے انگلياں نكالنے والے تھے، تو اس ليے ضرورت كى بنا پر مباح كر ديا گيا "






ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 10 / 173 ).






لگتا ہے كہ دونوں اماموں كى كلام ميں مذكور سماع مكروہ ہو، اور ضرورت كى بنا پر مباح كيا گيا ہو، جيسا كہ امام مالك رحمہ اللہ كے قول ميں آگے بيان كيا جائيگا، واللہ اعلم.






اس كے متعلق آئمہ اسلام كے اقوال:






قاسم رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" گانا بجانا باطل ميں سے ہے "






اور حسن رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" اگر وليمہ ميں لہو اور گانا بجانا ہو تو اس كى دعوت قبول نہيں "






ديكھيں: الجامع للقيروانى صفحہ نمبر ( 262 - 263 ).






اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" آئمہ اربعہ كا مذہب ہے كہ گانے بجانے كے سب آلات حرام ہيں، صحيح بخارى وغيرہ ميں ثابت ہے كہ:






" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خبر دى ہے كہ ان كى امت ميں كچھ ايسے لوگ بھى آئينگے جو زنا اور ريشم اور شراب اور گانا بجانا حلال كر لينگے "






اور اس حديث ميں يہ بيان كيا كہ ان كى شكليں مسخ كر كے انہيں بند اور خنزير بنا ديا جائيگا....






اور آئمہ كرام كے پيروكاروں ميں سے كسى نے بھى گانے بجانے كے آلات ميں نزاع و اختلاف ذكر نہيں كيا "






ديكھيں: المجموع ( 11 / 576 ).






علامہ البانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" مذاہب اربعہ اس پر متفق ہيں كہ گانے بجانے كے آلات حرام ہيں "






ديكھيں: السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ( 1 / 145 ).






ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:






" اس ميں سب سے سخت ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا مذہب ہے، اور اس كے متعلق ان كا قول سب سے سخت اور شديد ہے، اور ابو حنيفہ كے اصحاب نے آلات موسيقى مثلا بانسرى اور دف وغيرہ كى سماعت صراحتا حرام بيان كى ہے، حتى كہ شاخ سے بجانا بھى، اور انہوں نے بيان كيا ہے كہ يہ ايسى معصيت ہے جو فسق كو واجب كرتى اور گواہى كو رد كرنے كا باعث بنتى ہے، بلكہ اس سے بھى زيادہ سخت قول يہ كہتے ہيں:






سماع فسق ہے، اور اس سے لذت كا حصول كفر ہے، يہ احناف كے الفاظ ہيں، اور اس سلسلہ ميں انہوں نے ايك حديث بھى روايت كى ہے جو مرفوع نہيں، ان كا كہنا ہے: اس پر واجب ہے كہ وہ جب وہ وہاں يا اس كے قريب سے گزرے تو اسے سننے كى كوشش نہ كرے.






اور جس گھر سے گانے بجانے كى آواز آ رہى ہو ابو يوسف رحمہ اللہ اس كے متعلق كہتے ہيں:






وہاں بغير اجازت داخل ہو جاؤ، كيونكہ برائى سے روكنا فرض ہے، كيونكہ اگر اجازت كے بغير داخل ہونا جائز نہ ہو تو پھر لوگ فرض كام كرنا چھوڑ ديں گے "






ديكھيں: اغاثۃ اللھفان ( 1 / 425 ).






امام مالك رحمہ اللہ سے كسى نے ڈھول اور بانسرى بجانے كے متعلق دريافت كيا گيا، يا اگر راستے يا كسى مجلس ميں اس كى آواز كان ميں پڑ جائے اور آپ كو اس سے لذت محسوس ہو تو كيا حكم ہے ؟






تو ان كا جواب تھا:






" اگر اسے اس سے لذت محسوس ہو تو وہ اس مجلس سے اٹھ جائے، ليكن اگر وہ كسى ضرورت كى بنا پر بيٹھا ہو، يا پھر وہاں سے اٹھنے كى استطاعت نہ ركھے، اور اگر راہ چلتے ہوئے آواز پڑ جائے تو وہ وہاں سے واپس آ جائے يا آگے نكل جائے "






ديكھيں: الجامع للقيروانى ( 262 ).






اور ان كا قول ہے:






ہمارے نزديك تو ايسا كام فاسق قسم كے لوگ كرتے ہيں.






ديكھيں: تفسير القرطبى ( 14 / 55 ).






ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" جس كمائى كے حرام ہونے پر سب كا اتفاق ہے، وہ سود، اور زانى عورتوں كى زنا سے كمائى، اور حرام، اور رشوت، اور نوحہ كرنے كى اجرت لينا، اور گانے كى اجرت لينا، اور نجومى كى كمائى، اور علم غيب كا دعوى اور آسمان كى خبريں دينا، اور بانسرى بجا كر اجرت لينا، اور باطل قسم كے كھيل كر كمانا يہ سب حرام ہيں "






ماخوذ از: الكافى.






اور ابن قيم رحمہ اللہ امام شافعى رحمہ اللہ كا مسلك بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:






" امام شافعى رحمہ اللہ كا مسلك جاننے والے صراحتا اس كى حرمت بيان كرتے ہيں، اور جس نے ان كى طرف اس كے حلال ہونے كا قول منسوب كيا ہے، انہوں نے اس قول كا انكار كيا ہے "






ديكھيں: اغاثۃ اللھفان ( 1 / 425 ).






اور شافعيہ ميں سے كفايۃ الاخبار كے مؤلف نے گانے بجانے اور بانسرى وغيرہ كو منكر ميں شمار كيا ہے، اور اس مجلس ميں جانے والے پر اس برائى اور منكر سے روكنے كو واجب قرار ديا ہے، وہ اس سلسلہ ميں كہتے ہيں:






" اور فقھاء سوء كا وہاں حاضر ہونا اس برائى كو روكنا ساقط نہيں كرتان كيونكہ وہ شريعت كو خراب كر رہے ہيں، اور نہ ہى وہاں گندے اور پليد فقراء كے حاضر ہونے سے برائى كو روكنا ساقط ہوتا ہے ( اس سے اس كى مراد صوفياء ہيں، كيونكہ وہ اپنے آپ كو فقراء كہتے ہيں ) كيونكہ يہ جاہل اور ہر بھونكنے والے كے پيچھے بھاگنے والے ہيں، ان كے پاس علم كا نور نہيں جس سے وہ سيدھى راہ پر چليں، بلكہ وہ ہوا كے ہر جھونكے كے ساتھ مائل ہو جاتے ہيں "






ديكھيں: كفايۃ الاخيار ( 2 / 128 ).






ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" اس ميں امام احمد كا مسلك يہ ہے كہ: ان كے بيٹے عبد اللہ كہتے ہيں ميں نے اپنے باپ سے گانے بجانے كے متعلق دريافت كيا تو ان كا كہنا تھا: يہ دل ميں نفاق پيدا كرتا ہے، مجھے پسند نہيں، پھر انہوں نے امام مالك رحمہ اللہ كا قول ذكر كيا كہ: ہمارے نزديك ايسا كام فاسق قسم كے لوگ كرتے ہيں "






ماخوذ از: اغاثۃ اللھفان.






اور حنبلى مسلك كے محقق ابن قدامہ المقدسى رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" گانے بجانے كى تين اقسام ہيں:






پہلى قسم: حرام.






وہ بانسرى اور سارنگى اور ڈھول اور گٹار وغيرہ بجانا ہے.






تو جو شخص مستقل طور پر اسے سنتا ہے اس كى گواہى قبول نہيں كى جائيگى، وہ گواہى ميں مردود ہے "






ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 10 / 173 ).






اور ايك دوسرى جگہ پر كہتے ہيں:






" اور اگر اسے كسى ايسے وليمہ كى دعوت ملے جس ميں برائى ہو مثلا شراب نوشى، گانا بجانا، تو اس كے ليے اگر وہاں جا كر اس برائى سے منع كرنا ممكن ہو تو وہ اس ميں شركت كرے اور اسے روكے، كيونكہ اس طرح وہ دو واجب كو اكٹھا كر سكتا ہے، اور اگر روكنا ممكن نہ ہو تو پھر وہ اس ميں شركت نہ كرے "






ديكھيں: الكافى ( 3 / 118 ).






طبرى رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" سب علاقوں كے علماء كرام گانے بجانے كى كراہت اور اس سے روكنے پر متفق ہيں، صرف ان كى جماعت سے ابراہيم بن سعد،اور عبيد اللہ العنبرى نے عليحدگى اختيار كى ہے.






اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان تو يہ ہے كہ:






" آپ كو سواد اعظم كے ساتھ رہنا چاہيے، اور جو كوئى بھى جماعت سے عليحدہ ہوا وہ جاہليت كى موت مرا "






ديكھيں: تفسير قرطبى ( 14 / 56 ).






پہلے ادوار ميں كراہت كا لفظ حرام كے معنى ميں استعمال ہوتا تھا ليكن پھر بعد ميں اس پر تنزيہ كا معنى كا غالب آگيا، اور يہ تحريم كا معنى اس قول ليا گيا ہے: اور اس سے روكا جائے، كيونكہ جو كام حرام نہيں اس سے روكا نہيں جاتا، اور اس ليے بھى كہ دونوں حديثوں ميں اس كا ذكر ہوا ہے، اور اس ميں بہت سختى سے منع كيا گيا ہے.






اور امام قرطبى رحمہ اللہ نے ہى اس اثر كو نقل كيا ہے، اور اس كے بعد وہى يہ كہتے ہيں:






" ہمارے اصحاب ميں سے ابو الفرج اور ابو قفال كہتے ہيں: گانا گانے اور رقص كرنے والے كى گواہى قبول نہيں ہو گى "






ميں كہتا ہوں: اور جب يہ چيز ثابت ہو گئى كہ يہ جائز نہيں تو پھر اس كى اجرت لينا بھى جائز نہيں"






شيخ فوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:






" ابراہيم بن سعد اور عبيد اللہ عنبرى نے جو گانا مباح قرار ديا ہے وہ اس گانے كى طرح نہيں جو معروف ہے ..... تو يہ دونوں مذكور شخص كبھى بھى اس طرح كا گانا مباح نہيں كرتے جو انتہائى غلط اور گرا ہوئى كلام پر مشتمل ہے "






ماخوذ از: الاعلام.






ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" گانے بجانے كے آلات تيار كرنا جائز نہيں "






ديكھيں: المجموع ( 22 / 140 ).






اور دوسرى جگہ كہتے ہيں:






" گانے بجانے كے آلات مثلا ڈھول وغيرہ كا تلف اور ضائع كرنا اكثر فقھاء كے ہاں جائز ہے، امام مالك رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے، اور امام احمد كى مشہور روايت يہى ہے "






ديكھيں: المجموع ( 28 / 113 ).






اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:






" چھٹى وجہ: ابن منذر رحمہ اللہ گانے بجانے اور نوحہ كرنے كى اجرت نہ لينے پر علماء كرام كا اتفاق ذكر كرتے ہوئے كہتے ہيں:






اہل علم ميں سے جس سے بھى ہم نے علم حاصل كيا ہے ان سب كا گانے والى اور نوحہ كرنے والى كو روكنے پر اتفاق ہے، شعبى اور نخعى اور مالك نے اسے مكروہ كہا ہے، اور ابو ثور نعمان ـ ابو حنيفہ ـ اور يعقوب اور محمد ـ امام ابو حنيفہ كے دونوں شاگرد ـ رحمہم اللہ كہتے ہيں:






گانا گانے اور نوحہ كرنے كے ليے اجرت پر كوئى بھى چيز دينا جائز نہيں، اور ہمارا قول بھى يہى ہے "






اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:






گانا بجانا نفس كى شراب ہے، اور اسے خراب كر ديتا ہے، اور يہ نفس كے ساتھ وہ كچھ كرتا ہے جو شراب كا جام بھى نہيں كرتا "






ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 10 / 417 ).






اور ابن ابى شيبہ نے روايت كيا ہے كہ:






" ايك شخص نے كسى شخص كا ڈھول توڑ ديا، تو وہ اپنا معاملہ قاضى شريح كے پاس لےگيا تو شريح نے اس پر كوئى ضمان قائم نہ كى ـ يعنى اس كو ڈھول كى قيمت كا نقصان بھرنے كا حكم نہيں ديا، كيونكہ وہ حرام ہے اور اس كى كوئى قيمت نہيں تھى "






ديكھيں: المصنف ( 5 / 395 ).






اور امام بغوى رحمہ اللہ نے گانے بجانے كے تمام آلات مثلا ڈھول، بانسرى باجا، اور سب آلات گانے بجانے كى خريد و فروخت حرام كا فتوى دينے كے بعد كہا ہے:






" تو جب تصويريں مٹا دى جائيں، اور گانے بجانے كے آلات كو اپنى حالت سے تبديل كر ديا جائے، تو اس كى اصل چيز اور سامان فروخت كرنا جائز ہے، چاہے وہ چاندى ہو يا لوہا، يا لكڑى وغيرہ "






ديكھيں: شرح السنۃ ( 8 / 28 ).






استثناء حق:






اس ميں سے جس چيز كا استنثاء حق ہے وہ صرف دف ہے ـ اور دف بھى وہ جس ميں كوئى كڑا اور چھلا وغيرہ نہ لگا ہو ـ اور پھر يہ دف شادى بياہ اور عيد كے موقع پر بجائى جائے، اور صرف عورتيں ہى استعمال كريں اس پر صحيح دلائل ملتے ہيں.






شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شادى وغيرہ كے موقع پر لہو كى ايك قسم كى رخصت دى ہے، كہ صرف عورتيں شادى بياہ كے موقع پر دف بجا سكتى ہيں، ليكن مرد حضرات نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں نہ تو دف بجاتے تھے، اور نہ ہى ہاتھ سے تالى، بلكہ صحيح بخارى ميں ثابت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:






" تالى بجانا عورتوں كے ليے ہے، اور سبحان اللہ كہنا مردوں كے ليے "






اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مردوں كے ساتھ مشابہت كرنے والى عورتوں اور عورتوں سے مشابہت كرنے والے مردوں پر لعنت فرمائى ہے "






اور جب گانا اور دف بجانا عورتوں كا عمل تھا، تو سلف رحمہ اللہ مردوں ميں سے ايسا كام كرنے والوں كو مخنث اور ہيجڑا كے نام سے موسوم كرتے تھے، اور گانے والے مردوں كو ہيجڑے كا نام ديتے تھے، ـ آج كے ہمارے اس دور ميں يہ تو بہت زيادہ ہو چكے ہيں ـ اور سلف رحمہ اللہ كى كلام ميں يہ مشہور ہے، اس باب ميں سب سے مشہور حديث عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى ہے، جس ميں وہ بيان كرتى ہيں:






عيد كے ايام ميں ان كے والد ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ ان كے گھر آئے تو ان كے پاس انصار كى دو چھوٹى بچياں وہ اشعار گا رہى تھيں جو انصار نے يوم بعاث كے موقع پر كہے تھے ـ اور شائد كوئى عقل مند شخص اس كا ادراك كرے كہ لوگ جنگ ميں كيا كہا كرتے تھے ـ تو ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:






كيا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے گھر ميں شيطان كى سر اور مزمار ميں سے ايك سر ؟






اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا چہرہ ان دونوں بچيوں سے پھير كر دوسرى طرف ديوار كى جانب كيا ہوا تھا ـ اس ليے بعض علماء كا كہنا ہے، ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے كسى شخص كو ڈانٹنے اور اس پر انكار كرنے والے نہيں تھے، ليكن انہوں نے يہ خيال اور گمان كيا كہ جو كچھ ہو رہا ہے اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو علم نہيں ہے، اگر علم ہوتا تو ايسا نہ ہوتا، و اللہ اعلم ـ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كہنے لگے:






اے ابو بكر انہيں كچھ نہ كہو، كيونكہ ہر قوم كى عيد ہوتى ہے، اور ہمارى اہل اسلام كى عيد يہ ہے "






تو اس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام كى عادت ميں يہ چيز شامل نہ تھى، اسى ليے ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ نے اسے شيطان كى آواز اور مزمار قرار ديا ـ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس نام كو برقرار ركھا، اور اس سے انكار اور منع نہ كيا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كو يہ فرمايا تھا:






" انہيں رہنے دو اور كچھ نہ كہو، كيونكہ ہر قوم كى عيد ہوتى ہے، اور ہمارى عيد يہ ہے "






تو اس ميں اشارہ كيا كہ اس كے مباح ہونے كا سبب عيد كا وقت ہونا ہے، تو اس سے يہ سمجھ آتى ہے كہ عيد كے علاوہ باقى آيام ميں يہ حرام ہے، ليكن دوسرى احاديث ميں اس سے شادى بياہ كا موقع مستثنى كيا گيا ہے، علامہ البانى رحمہ اللہ نے اپنى كتاب " تحريم الآت الطرب " ميں اس كى تفصيل بيان كرتے ہوئے كہا ہے:






" اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عيد كے موقع پر بچيوں كو اس كى اجازت دى ہے، جيسا كہ حديث ميں ہے "






تا كہ مشركوں كو علم ہو جائے كہ ہمارے دين ميں وسعت ہے "






اور ان بچيوں كے قصہ والى حديث ميں يہ نہيں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے كان لگا كر سنا تھا، كيونكہ نيكى كا دينا، اور برائى سے منع كرنے كا تعلق تو استماع يعنى كان لگا كر سننے سے ہے، نا كہ صرف سماع اور كان ميں پڑنے كے متعلق، جيسا كہ ديكھنے ميں ہے، كيونكہ اس كا تعلق بھى قصدا ديكھنے سے ہے، نہ كہ جو بغير كسى ارادہ و قصد كے ہو "






تو اس سے يہ ظاہر ہوا كہ يہ صرف عورتوں كے ليے ہے، حتى كہ امام ابو عبيد رحمہ اللہ نے تو دف كى تعريف كرتے ہوئے يہ كہا ہے:






" دف وہ ہے جو عورتيں بجائيں "






ديكھيں: غريب الحديث ( 3 / 64 ).






تو ان ميں سے بعض كو چاہيے كہ وہ شرعى پردہ ميں باہر نكليں .






باطل استثناء:






بعض افراد نے جنگ ميں ڈھول كو مستثنى كيا ہے، اور بعض معاصرين حضرات نے اس سے فوج بينڈ اور موسيقى اس سے ملحق كى ہے، حالانكہ بالكل اس كى كوئى وجہ نہيں ہے، اس كى كئى ايك وجوہات ہيں:






پہلى وجہ:






يہ حرمت والى احاديث كو بلا كسى مخصص كے خاص كرنا ہے، صرف ايك رائے اور استحسان ہے، اور يہ باطل ہے.






دوسرى:






جنگ كى حالت ميں مسلمانوں پر فرض تو يہ ہوتا ہے كہ وہ اپنے دلوں و جان كے ساتھ اپنے پروردگار كے طرف متوجہ ہوں.






اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:






وہ آپ سے غنيمتوں كے متعلق دريافت كرتے ہيں، آپ كہہ ديجئے كہ غنيمت اللہ تعالى اور اس كے رسول كے ليے ہے، تو تم اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو، اور آپس ميں اصلاح كرو "






اور موسيقى كا استعمال تو انہيں خراب كريگا، اور انہيں اللہ تعالى كے ذكر اور ياد سے دور كريگا.






تيسرى:






موسيقى كا استعمال كفار كى عادت ميں شامل ہوتا ہے، اس ليے ان سے مشابہت اختيار كرنا جائز نہيں، اور خاص كر اس ميں جو اللہ تعالى نے حرام كيے ہيں، اور يہ حرمت عمومى ہے، مثلا موسيقى وغيرہ "






ديكھيں: السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ( 1 / 145 ).






حديث ميں وارد ہے:






" ہدايت پر ہونے كے بعد قوم كبھى گمراہ نہيں ہوئى، الا يہ كہ وہ جھگڑا كرنے لگے "






صحيح.






اور بعض افراد نے مسجد نبوى شريف ميں حبشيوں كے كھيل والى حديث سے گانے بجانے كى اباحت پر استدلال كيا ہے! امام بخارى رحمہ نے اس حديث پر صحيح بخارى ميں يہ باب باندھا ہے: " عيد كے روز نيزہ بازى اور ڈھال استعمال كرنے كا باب "






امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:






اس ميں آلات حرب كے ساتھ مسجد ميں كھيلنے كا جواز پايا جاتا ہے، اور اس كے ساتھ ان اسباب كو بھى ملحق كيا جائيگا جو جھاد ميں ممد و معاون ثابت ہوتے ہيں "






ماخوذ از: شرح مسلم للنووى.






ليكن جيسا كہ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" جو شخص اپنے فن كے علاوہ كسى اور كے متعلق بات كريگا تو وہ اس طرح كے عجائبات ہى لائيگا "






اور بعض افراد نے ان بچيوں كے اشعار گانے والى حديث سے استدلال كيا ہے، اور اس پر پہلے كلام كى جا چكى ہے، ليكن يہاں ہم ابن قيم رحمہ اللہ كى كلام ذكر كرتے ہيں، كيونكہ يہ كلام بہت اچھى اور قيمتى ہے:






" اور اس سے بھى زيادہ تعجب والى چيز تو آپ لوگوں كا ايك كم عورت كے ہاں دو چھوٹى اور نابالغ بچيوں كے عيد و خوشى والے دن عرب كے ان اشعار كے پڑھنے سے جن ميں شجاعت و بہادرى، اور مكارم اخلاق كا بيان ہے، اس مركب گانے بجانے پر استدلال ہے جس كى اجتماعى شكل و ہئيت ہم بيان كر چكے ہيں، كہاں يہ گانے اور كہاں وہ اشعار، عجيب تو يہ ہے كہ يہ حديث تو ان كے خلاف دلائل ميں سب سے بڑى حجت ہے.






اس ليے كہ صديق اكبر رضى اللہ تعالى عنہ نے تو ان اشعار كو بھى مزمار شيطان قرار ديا، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كے اس نام كو برقرار ركھا، اور ان دو غير مكلف بچيوں كو اس كى رخصت دى، نہ تو ان كے اشعار پڑھنے ميں اور نہ ہى انہيں سننے ميں كوئى خرابى ہے.






تو كيا يہ حديث اس كى اباحت اور جواز پر دلالت كرتى ہے جو آپ لوگ سماع كى محفل ميں اور گانے بجانے كا كام كرتے ہو جو ايسى اشياء پر مشتمل ہے جو مخفى نہيں ؟!






سبحان اللہ عقليں اور سمجھ كيسے گمراہ ہو چكے ہيں "






ديكھيں: مدارج السالكين ( 1 / 493 ).






اور ابن جوزى رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بھى اس وقت چھوٹى عمر كى تھيں، اور بلوغت كے بعد ان سے بھى گانے بجانے كى مذمت ہى ثابت ہے، ان كے بھانجے قاسم بن محمد گانے بجانے كى مذمت كيا كرتے تھے، اور اسے سننے سے منع كيا كرتے تھے، اور انہوں نے علم عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے حاصل كيا تھا "






ديكھيں: تلبيس ابليس ( 229 ).






اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" صوفيوں نے اس باب والى حديث سے گانے بجانے كے آلات اور آلات كے بغير محفل سماع سننے اور منعقد كرنے پر استدلال كيا ہے، اس كے رد كے ليے اسى باب كى عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا والى حديث ہى كافى ہے جس ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى صريح موجود ہے كہ " وہ دونوں بچياں گانے بجانے والى نہ تھيں "






تو ان دونوں سے معنى كے اعتبار سے اس كى نفى ہو گئى جو الفاظ سے ثابت كيا گيا ہے... تو اصل ( يعنى حديث ) كے مخالف ہونے كى وجہ سے اسے نص ميں وارد وقت اور كيفيت اور قلت پر ہى مقتصر ركھا جائيگا، واللہ اعلم "






ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 442 - 443 ).






اور بعض نے تو اتنى جرات كى ہے كہ گانے بجانے كى سماعت كو صحابہ كرام كى طرف منسوب كر ديا ہے، اور يہ كہا ہے كہ وہ اس ميں كوئى حرج نہيں سمجھتے تھے !!






شيخ فوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:






" ہم مطالبہ كرتے ہيں كہ جو كچھ ان كى طرف منسوب كيا گيا ہے اس كى ان صحابہ كرام اورتابعين تك صحيح سند ثابت كي جائے "






پھر شيخ كہتے ہيں:






" امام مسلم رحمہ اللہ نے صحيح مسلم كے مقدمہ ميں عبد اللہ بن مبارك رحمہ اللہ سے بيان كيا ہے كہ: اسناد بيان كرنا دين ميں شامل ہے، اور اگر سند نہ ہوتى تو جو كوئى شخص جو چاہتا كہتا پھرتا "






اور بعض كا كہنا ہے كہ: گانے بجانے كو حرام كرنے والى جتنى بھى احاديث ہيں، ان سب پر جرح كى گئى ہے، اور ان ميں سے كوئى حديث بھى فقھاء حديث اور علماء كے ہاں طعن سے خالى نہيں!!






ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" گانے بجانے كى حرمت ميں وارد شدہ احاديث ميں كوئى حديث بھى جرح شدہ نہيں، جيسا كہ آپ گمان كرتے ہيں، بلكہ ان ميں سے كچھ احاديث تو صحيح بخارى ميں ہيں، جو كہ كتاب اللہ كے بعد صحيح ترين كتاب ہے، اور كچھ احاديث حسن ہيں، اور كچھ ضعيف، اور يہ احاديث كثرت اور كئى ايك طرق اور كتب ميں ہونے كى بنا پر ظاہر حجت اور قطعى برھان ہيں كہ گانا بجانا حرام ہے "






( اور ابو حامد الغزالى كے علاوہ باقى سب آئمہ كرام گانے بجانے كى حرمت ميں آنے والى احاديث كے صحيح ہونے پر متفق ہيں، اور غزالى كو علم حديث كا پتہ ہى نہيں، اور ابن حزم، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے اس غزالى كى غلطى كو بڑى وضاحت كے ساتھ بيان كيا ہے، اور ابن حزم خود كہتے ہيں: اگر اس ميں سے كچھ صحيح ہوتا تو وہ اس كا كہتے، ليكن اس دور ميں كچھ ايسے بھى ہيں جنہيں اہل علم كى كتب كى كثرت كى ساتھ اس كى صحت كا ثبوت ملا ہے، اور ان سے ان احاديث كى صحت تواتر سے ملى ہے، ليكن اس كے باوجود انہوں نے اس سے اعراض كيا ہے، تو يہ ابن حزم سے بھى سخت ہيں، اور اس جيسے نہيں، تو يہ لوگ نہ تو اہليت كے قابل ہيں، اور نہ ہى ان كى طرف رجوع كيا جا سكتا ہے "






اور بعض كا كہنا ہے كہ: علماء كرام نے گانا بجانا حرام كيا ہے، كيونكہ يہ شراب نوشى اور رات كو حرام كام كے ليے جاگنے كے ساتھ ہوتا ہے !






امام شوكانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" اس كا جواب يہ ديا جائيگا كہ اس كے ساتھ ملا ہوا ہونا اس پر دلالت نہيں كرتا كہ صرف جمع ہونا حرام ہے، وگرنہ يہ لازم آئيگا كہ احاديث ميں جس زنا كے حرام ہونے كى صراحت ہے وہ بھى صرف اس وقت حرام ہو گا جب شراب نوشى كى جائے، اور گانے بجانا استعمال ہو، تو اجماع سے لازم باطل ہے، تو اسى طرح ملزوم بھى باطل ہوگا، اور پھر يہى نہيں بلكہ اللہ تعالى كے درج ذيل فرمان ميں بھى اسى طرح لازم آئيگا:






اللہ تعالى كا فرمان ہے:






﴿ بلا شبہ يہ اللہ عظيم الشان پر ايمان نہ ركھتا تھا، اور مسكين كو كھلانے كى رغبت نہ دلاتا تھا ﴾الحاقۃ ( 33 - 34 ).






تو پھر يہ لازم آئيگا كہ اللہ تعالى پر عدم ايمان حرام تو اس وقت ہو گا جب مسكينوں كو كھلانے كى رغبت نہ دلائى جائے، اور اگر يہ كہا جائے اس طرح كے مذكورہ الزام والے امور كى حرمت دوسرى دليل سے ثابت ہے تو اس كا جواب يہ ہے كہ: گانے بجانے كى حرمت بھى دوسرى دليل سے ثابت ہے، جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے "






ديكھيں: نيل الاوطار ( 8 / 107 ).






اور بعض لوگ يہ كہتے ہيں كہ: لھو الحديث سے مراد گانا بجانا نہيں، تو اس كا رد اوپر بيان ہو چكا ہے، قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ ـ يعنى اس سے مراد گانا بجانا ہے والا قول ـ اس آيت كى تفسير ميں جو كچھ كہا گيا ہے اس ميں سب سے اعلى يہى ہے، اور اس پر ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما نے تين بار حلف اور قسم اٹھائى ہے كہ اس ذات كى قسم جس كے علاوہ كوئى اور معبود برحق نہيں، كہ اس سے مراد گانا بجانا ہے "






پھر قرطبى نے اس ميں آئمہ كرام كے اقوال نقل كيے ہيں، اور اس كے علاوہ دوسرے اقوال بھى ذكر كرنے كے بعد كہا ہے:






اس مسئلہ ميں جتنے بھى اقوال ہيں ان ميں سے سب اولى اور بہتر پہلا قول ہے، اس كى دليل مرفوع حديث اور صحابہ كرام اورتابعين عظام كے اقوال ہيں "






ماخوذ از: تفسير قرطبى.






اس تفسير كو ذكر كرنے كے بعد ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:






" ابو عبد اللہ الحاكم نے اپنى كتاب مستدرك حاكم ميں تفسير كے باب ميں كہا ہے كہ: طالب علم كو يہ معلوم ہونا چاہيے كہ صحابى كى تفسير شيخين كے ہاں مسند حديث ہے، كيونكہ صحابى نے قرآن مجيد كى وحى كا مشاہدہ كيا ہے "






اور ايك دوسرى جگہ پر كہتے ہيں:






" اور ہمارے نزديك يہ مرفوع كے حكم ميں ہے "






اگرچہ اس ميں كچھ اختلاف ہے، ليكن بعد والوں كى تفسير كى بجائے صحابى كى تفسير كو قبول كرنے كے اعتبار سے يہ اولى ہے، كيونكہ صحابہ كرام امت ميں سے سب زيادہ اللہ تعالى كى كتاب كى مراد كو سمجھنے والے تھے، كيونكہ ان كے دور ميں صحابہ كرام پر قرآن مجيد نازل ہوا اور امت ميں سے سب سے پہلے انہيں كو مخاطب كيا گيا، اور انہوں نے اس كى علمى اور عملى تفسير كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مشاہدہ بھى كيا اور حقيقتا وہ فصيح عرب تھے، اس ليے ان كى تفسير ملنے كى صورت ميں اسے چھوڑ كر كسى اور طرف جانا صحيح نہيں "

Easy Quran Wa Hadees Software Free Download

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 6:44 PM

Easy Quran Wa Hadees  
Receive Daily Free Islamic-SMS in your Mobile with Complete Reference Type

Join islami-sms

and send it on 8001 charges only 0.5+tax=60 paisa





Easy QuranWaHadees software is developed by (AQFS) Al Quran Facts and Statistics. Current version is 3.31 and include following Urdu and English Tarajim and Tafaseer and Ahadees Books, ***** Ahadees Books Description: Bukhari, Muslim,Sunan Abi Dawood,Sunan Nisai,Jamia Tirmzi,Sunan ibne Majja,Shamail e Tirmizi,Mou'ta Imam Malik,Mishkat Sharif,Sunan Darmi,Masnad e Ahmad ******** please go to www.speedbit.com and Dowload & Install DAP (Dawonloader Accelator Plus) free Then click the below Link to Download This Software. 

http://www.compsi.com/aqfs 


Note: If your want to get this Software in CD free of cost please send your Postal Address with your Mobile Number at this no. 0300-4720047

Download Free Beyluxe Messenger ڈونلوڈ بی لکس فری

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 2:02 PM
Free Download Beyluxe Messenger from www.skpnews.com.nu or

Download Beyluxe Messenger from skp Server






Beyluxe Official Website http://messenger.beyluxe.com/
or
http://messenger.beyluxe.com/download.php

Foxit Reader Free Download www.skpnews.blogspot.com

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 2:00 PM
You can Download Free Foxit reader 2nd form of adob reader.Adob reader is 10 mb but foxit reader is only 3.7mb . it is easy downloading system in foxit reader and easy instalation.
Link to download
: Foxit Reader Download






C Cleaner Free Download

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:57 PM
C cleaner is softwere whose Remove the History in your brows and some Temprery files.For example internet explorer search and other tempeary history in computer

Free Download WordWeb Dictionary:فری ڈون لوڈ ورڈ ویب ڈکشنری۔

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:53 PM

فری ورڈویب ڈکشنری۔ جس میں آپ الفاظ کو سن بھی سکتے ھیں۔ ایک انمول تحفہ شیخوپورہ سوفٹ کی جانب سے۔


Download Word Web Dictionary


Download Free Dictionary Word Web . You can See the every word and Listen the Pronunciation. Link Below





Download Word Web Dictionary






Thank You for visit this website.

Free Download Total Video Player

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:51 PM
اب آپ ڈونلوڈ کریں ٹوٹل ویڈیو پلیر۔ آپ اب ہر قسم کی ویڈیو آڈیو چلا سکتے ھیں اور ویڈیوز کہ کنورٹ بھی کر سکتے ھیں۔ تو آج ھی ڈونلوڈ کریں

Free Download Total Video Player :on http://www.skpnews.blogspot.com
Link Below ;

Total Video Player
ٹوٹل ویڈیو پلیر

Download Audio Studio.:آڈیو فائلز کا سائز کم کرنے والا سافٹ ویر

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:46 PM

Download Audio Studio, Make the file size small . for example. if the audio MP3 file size is 40 MB you can convert this file into lower bitrate and decrease the size.
اب آپ کے کمپیوٹر میں بہت کم سائز کرے ہر آدیو فائل کا تو ڈونلوڈ کریں آڈیو سٹوڈیو۔۔




Free Download Latest Real-Player

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:44 PM
Download this Realplayer and get more new functions... Download this Realplayer only in 1 Minutes ... you can convert your fine to any mobile formate or othe video player.... First realplayer will be installed when you are connected the internet... but 2nd Life time realplayer versin could be installed without to connect the internet.

1. Download Realplayer sp gold

2. Realplayer Lifetime... 11.7 MB

In-Page 2009

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:39 PM

HP 1350- All in One Series Printer Driver Download

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 1:30 PM
HP-1350 All in one Series Printer Driver Free Download from http://skpnews.blogspot.com/p/software.html



To Download click the Picture

Age Relaxation S&GAD @2012

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 11:59 PM


Recruitment Age Relaxation Orders 2012 by Lahore High Court

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 8:38 AM















TTP, CIA aur RAW ki peda krda New Mukti Bahni hy.

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 10:25 AM
کالعدم تحریک طالبان ایک تنظیم ہے جو پاکستان میں خود کش حملوں اور دیگر جرائم میں ملوث ہے۔ پاکستان میں سرگرم کئی تنظیمیں طالبان کا نام استعمال کرتی ہیں جو خودکش حملوں اور مسلح لڑائیوں میں ملوث بتائی جاتی ہیں۔ ان میں شدید نوعیت کے اختلافات بھی موجود ہیں اور یہ سب کئی گروہوں میں منقسم ہیں۔ ان کی کاروائیوں کا دائرہ کار پاکستان سے لے کر افعانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کو 34 تنظیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سب دہشت گرد نہیں البتہ ان میں کئی جرائم پیشہ گروہ بھی شامل ہوچکے ہیں جو طالبان کا نام استعمال کرتے ہیں۔یہ آپس میں اس رقم کی تقسیم پر لڑتے جھگڑتے بھی رہتے ہیں جو انہیں بیرونی ممالک کی ایجنسیاں فراہم کرتی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ طالبان کی صفوں میں موجود جرائم پیشہ گروہوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں اور یہ امریکی ،اسرائیلی ،برطانوی اور انڈین آلہ کار ہیں۔ جولائی 2009ءمیں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔[1]۔ اگرچہ بظاہر امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طور پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں

حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے تھے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔[2]
تحریک طالبان پاکستان کی تاریخ
دنیا جن کو آج طالبان کے نام سے جانتی ہے وہ تمام صرف مدرسہ کے معصوم طلباءنہیں بلکہ ان میں جرائم پیشہ، قاتل، ڈاکو وغیرہ شامل ہو چکے ہیں۔ طالبان کی تحریک کی پیدائش کے بارے میں مختلف نظریات ہیں لیکن اس میں کسی کو شک نہیں کہ ا طالبان کو امریکی سی آئی اے نے تخلیق کیا۔[3]۔[4] اس وقت امریکی دانشوروں مثلاً سلگ ہیریسن نے امریکی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ہم ایک درندہ پیدا کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان صرف مدرسے کے طلبا نہیں ہیں بلکہ جاسوسی اداروں کے تنخواہ دار ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔[5]۔ آج یہ تصور پیش کیا جارہا ہے کہ پاکستان نے طالبان پیدا کیے اور سی آئی اے نے صرف مدد کی مگر حقیقت یہ ہے کہ نیٹو (NATO) نے پاکستان سے بھی زیادہ براہ راست کردار ادا کیا یہاں تک کہ طالبان کے پہاڑوں میں خفیہ اڈے تک سی آئی اے نے براہ راست خود بنائے۔[6]
تحریک طالبان پاکستان کے مختلف گروہ
طالبان کے بے شمار گروہ ہیں جن میں غیر ملکی امداد کی تقسیم پر لڑائی جھگڑا رہتا ہے مگر بنیادی طور پر بیشتر گروہ محسود گروہ کی چھتری کے نیچے جمع ہو چکے ہیں جن کی ایک 42 رکنی شوریٰ موجود ہے جو فیصلہ کا اختیار رکھتی ہے۔[7] ان گروہوں میں سے کچھ زیادہ مشہور ہیں جیسے بیت اللہ محسود گروپ۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بے شمار گروہ ہیں جن کی اکثریت محسود گروپ کی چھتری کے نیچے جمع ہو چکی ہے . تمام گروپوں کی ایک 42 رکنی شوریٰ موجود ہے جو فیصلہ کا اختیار رکھتی ہے۔
مشہور گروہ



بیت اللہ محسود گروپ * حافظ گل بہادر گروپ * مولوی نذیر گروپ * مولوی فقیر محمد گروپ * عبداللہ محسود گروپ * تحریک طالبان سوات * عصمت اللہ معاویہ گروپ * قاری حسین گروپ * بنگالی گروپ * بدر منصور گروپ * عبدا لجبار گروپ * منگل باغ گروپ * سیف اللہ اختر گروپ * قاری یاسین گروپ * قاری ظفر گروپ * الیاس کشمیری گروپ * رانا افضل عرف نور خان گروپ * کلیم اللہ گروپ * قاری شکیل گروپ * گل حسن احمد خان گروپ * شیخ معراج گروپ * ابو قتادہ گروپ * شیخ فاتح عثمان گروپ * البدر گروپ * ہلال گروپ * کمانڈر طارق گروپ * مولوی رفیق گروپ * تکفیری عرب٭ ازبک گروپ* امجد فاروقی گروپ
تحریک طالبان پاکستان اورتحریک الاسلامی طالبان

تحریک طالبان پاکستان اور تحریک الاسلامی طالبان القاعدہ کے آپس میں بھی تعلقات ہیں. اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں افغانستان کی جہادی تنظیموں کا ایک اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے خلاف ‘معرکہ خیر و شر’ (بقول ان کے) شروع کرنے کا فیصلہ ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ افغانی طالبان کو پاکستانی طالبان کی مدد کے لیے پاکستان بھیجا جائے گا۔ افغانستان کے تمام کمانڈروں نے حکیم اللہ محسود کو پاکستانی طالبان کا امیر تسلیم کر لیا ہے اور اس کی امارت میں جہاد (بقول ان کے) جاری رکھا جائے گا۔[8]
افغان طالبان ملا طور کے مطابق افغانی طالبان کا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ بے گناہ لوگوں کو فدائی حملوں اور دھماکوں میں نشانہ بنانا غلط ہے۔ افغان طالبان صرف نیٹو اور امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں۔[9]
تحریک طالبان پاکستان کے بھارت، سی آئی اے اورموسا د روابط
جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان ، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔[10] اگرچہ بظاہر امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔[11]
پشاور کار بم دھماکے سے دو روز قبل امریکہ اور بھارت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے گریز اور یہاں موجود شہریوں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایات کی تھیں۔ یہ امر بہت حیران کن ہی نہیں بلکہ چونکا دینے والا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سانحہ سے قبل ان دونوں ممالک کی ہدایات غیرمعمولی امر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو پاکستان میں ہونیوالی کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو جاتا ہے۔[12]
2 نومبر 2009ءکو پاک فوج کے ترجمان اطہر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات کے دوران بھارتی روابط کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ دہشت گردوں کے زیرِ استعمال بھارتی لیٹریچر اور اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے۔ یہ شواہد وزارت خارجہ کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ مناسب کاروائی کی جائے۔[13]امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کو مانا ہے کہ دہشت گردوں کی تخلیق میں امریکہ کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔[14]
پاکستان نے امریکی سی آئی اے کی پاکستان میں سرگرمیوں پر مشتمل ثبوت امریکہ کو پیش کیے ہیں۔ اس میں کابل میں سی آئی اے کے ڈائیریکٹر پر واضح کیا کہ کابل میں سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی معاونت کر رہے ہیں۔[15]علاوہ ازیںپاکستان میں افغانستان کے سفیر نے کہا ہے کہ بھارت وزیرستان میں طالبان کو اسلحہ مہیا کر رہا ہے۔[16]
تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی
تحریک طالبان کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا جاچکا ہے۔ وہ اغوا برائے تاوان، لوگوں کو قتل کر کے سر قلم کرنے اور بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ حرکتیں اب بھی جاری ہیں۔ پچھلے کئی سالوں میں انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور کئی علمائے دین اور امن کمیٹی کے ارکان کو بھی ہلاک کیا ہے۔ یہاں تک کہ مسجدیں شہید کرنے میں وہ کوئی عار محسوس نہیں کرتے مثلاً 4 دسمبر 2009ءکو انہوں نے 17 نمازی بچوں سمیت چالیس افراد کے قتل اور راولپنڈی میں مسجد کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری قبول کی۔[71]
تحریک طالبان پاکستان اور جرائم
دہشت گردی کی وارداتوں کے علاوہ تحریک طالبان کے افراد مختلف جرائم میں ملوث رہتے ہیں جن میں اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتی شامل ہیں۔ 22 اکتوبر 2009ء کو کراچی سے دو افغان ڈاکو پکڑے گئے جن سے ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوفیں برآمد ہوئیں۔ یہ دونوں قتل، اغوا اور ڈکیتی کے درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کے ذریعے رقم اکٹھا کر کے طالبان کو بھجواتے تھے۔[18]
تحریک طالبان پاکستان کے اورکزئی ایجنسی کے نئے امیر نے اورکزئی ایجنسی کے تمام اساتذہ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے دو ہزار روپے تنطیم کو دیا کریں۔ یہ سلسلہ پہلے سے جاری تھا لیکن اب اساتذہ کی مرضی کے خلاف رقم دو ہزار کر دی گئی ہے۔[19]طالبان نے پاکستان کے محکمہ کسٹمز کے کئی اہلکار اغوا کیے ہیں جن کے لیے وہ کروڑوں روپے تاوان مانگ رہے ہیں۔[20]
تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج
پاکستان میں طالبان کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں قبائلی علاقے کے افراد، ڈاکٹر، اساتذہ، طالب علم، زمینداروں اور کاشتکاروں سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد شامل ہیں۔ قبائلی علاقے اور سوات میں طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیے جارہے ہیں جو اس علاقے کا پرانا طریقہ ہے۔ سوات کے لشکروں کے مطابق فوج جب اس علاقے سے جائے گی تو وہ اپنی حفاظت کے قابل ہوں گے۔[21]
20 اکتوبر 2009ء کو پنجاب یونیورسٹی کے طلباءاور اساتذہ نے ایک پاکستان زندہ باد’ جلوس نکالا جس میں دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کیا اور پاک فوج کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ اس جلوس میں صدرِ جامعہ اور پروفیسروں نے بھی شرکت کی۔[22] 26 اکتوبر 2009ءکو لاہور میں سرکاری ملازمین نے دہشت گردی کے خلاف اور وزیرستان میں آپریشن کی حمایت میں ایک پر امن جلوس نکالا جس میں طلباءبھی شامل ہوئے۔[23]
آپریشن راہ نجات
جون 2009ئمیں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں طالبان کے خلاف کی جانے والی فوجی کاروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا باقاعدہ آغاز پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز پر تحریک طالبان کے حملے کے بعد ہوا۔ اس کاروائی میں پاک فضائیہ بھی پاک فوج کے ہمراہ حصہ لے رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔
تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی
بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان کی 42 رکنی شورٰی نے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کو بیت اللہ محسود کی جگہ تحریکِ طالبان پاکستان کا نیا امیر مقرر کیا۔ ساتھ ہی شوری نے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اعظم طارق کو تحریک کا مرکزی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ حکیم اللہ محسود کا امیر مقرر ہونا دوسرے گروپوں کے طالبان رہنمائ مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر نے بھی قبول کیا۔ [24] اس کے بعد حال ہی میں پاکستان میں تحریک طالبان کے مختلف گروہوں نے اپنی دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔[25]۔ پاکستانی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک سعودی خیراتی ادارہ الحرمین فاونڈیشن نے تحریک طالبان کو 15 ملین امریکی ڈالر دیے ہیں جسے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جائے گا اور پنجاب کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان کے حکیم اللہ محسود اور اس کے ساتھی جیش محمد اور لشکر جھنگوی کے ساتھ مل کر پنجاب میں اہم علاقوں پر حملہ کریں گے اور دہشت گردی کا ارتکاب کریں گے۔[26]۔[27]: اوائل 2009ء میں طالبان نے پنجاب میں مختلف متشدد مذہبی گروہوں پر مشتمل مسلم یونائیٹڈ آرمی بنائی جس میں پاکستان بھر کی عسکریت پسند تنظیمیں شامل ہیں جیسے لشکر جھنگوی، تحریک نفاذ شریعت محمدی مولوی فضل گروپ ،۔حزب مجاہدین، جیش محمد، خدام اسلام، رحمت ویلفیئر ٹرسٹ مسعود اظہر گروپ، تحریک طالبان پنجاب، حرکت الجہاد اسلامی، الیاس کشمیری گروپ۔ انہوں نے نفاذ شریعت سے متعلق چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا ہے۔ جس کے لئے یہ اپنی کارروائیوں کا آغاز کریں گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کو وزارت داخلہ کی بھجوائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ قاری نعیم آف بہاولپور، قاری عمران ملتان، عصمت اللہ خانیوال اور رانا افضل خانیوال کے علاوہ درہ آدم خیل میں کمانڈ ہیڈ آفس سے ان کے رابطے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ تنظیمیں اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت خانوں، وزیراعظم، وفاقی اداروں، راولپنڈی میں جی ایچ کیو اور حساس اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں لاہور کو دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ یہاں ہونے والے دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کو میڈیا کوریج زیادہ ملتی ہے۔[28]القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الزواہری نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔[29]
طالبان سے منسوب واقعات
26 اگست 2009ئ کو جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے ایک حملے میں کم سے کم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ حملہ کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی۔[30]۔ 27 اگست 2009ئ کو خاصہ دار فورس پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں 26 اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔[31]۔ 30 اگست 2009ئ کو ایک مبینہ خود کش حملہ آور نے مینگورہ شہر کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں خود کو دھماکے سے اڑا کر سکیورٹی کے پندرہ زیر تربیت اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔[32] 18 ستمبر 2009ئ کو کوہاٹ میں ایک کار کے ذریعے خود کش بم دھماکہ ہوا جس میں چھیالیس عام شہری شہید ہوئے۔[33] 5 اکتوبر کو پاکستان میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفتر پر حملہ کیا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے ایک بیان میں اس کی ذمہ داری قبول کی۔[34] 9 اکتوبر 2009ئ کو پشاور میں ایک خود کش حملہ کیا گیا جس میں چالیس سے زیادہ عام شہری شہید ہوئے۔ اس سے پہلے 16 ستمبر کو یہیں ایک خود کش حملہ میں گیارہ عام شہری شہید ہوئے۔ اسی دن بنوں میں ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا گیا جس میں پندرہ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔[35] 10 اکتوبر 2009ئ کو پاکستان میں جی ایچ کیو پر حملہ ہوا جس کی ذمہ داری طالبان کے ایک گروہ نے قبول کی ہے۔ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے تمام دھشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا[36]۔ یاد رہے کہ اس سے صرف دو دن پہلے نیدرلینڈز کے سفارت خانہ کے ملازم اسلام آباد میں ممنوعہ اسلحہ اور ہنیڈ گرنیڈ سمیت پکڑے گئے جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ طالبان نے جی ایچ کیو پر حملوں میں ممنوعہ اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ استعمال کیے تھے۔ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں سے بھارتی ہتھیار برآمد ہوئے۔[37] 15 اکتوبر کو لاہور میں تین مختلف جگہ پر دہشت گردی کی کاروائی ہوئی جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی۔ لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت، بیدیاں ٹریننگ سینٹر اور مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملہ ہوا جو تینوں جگہ ناکام بنا دیا گیا تاہم کچھ سیکیورٹی اہکار شہید ہوئے ایک اندازہ کے مطابق ان کاروائیوں میں اٹھارہ دہشت گرد شامل تھے جن میں تین لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ ان واقعات میں کم از کم آٹھ سیکیورٹی اہلکار اور آٹھ شہری شہید ہوئے جبکہ آٹھ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔[38]۔ 15 اکتوبر 2009ئ کو ہی کوہاٹ میں ایک تھانے پر خود کش حملہ کیا گیا۔ ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی صدر پولیس سٹیشن کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی۔ ان کے بقول حملے میں گیارہ افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوئے ہیں۔ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار اور آٹھ عام شہری شامل ہیں۔[39]۔ لاہور کے کمشنر نے کہا ہے کہ طالبان کو ان حملوں میں بھارتی اداروں کی مدد حاصل ہے۔[40]۔ 15 اکتوبر کے حملے کے عینی شاہدیں نے بتایا کہ طالبان دہشت گردوں نے مسجد پر بھی فائرنگ کی اور مسجد کی حرمت کا خیال نہ کیا۔[41]۔ 16 اکتوبر کو پشاور میں سی آئی ڈی کے ایک مرکز اور تھانے پر حملہ کیا گیا جس میں عام شہریوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ خود کش حملہ نہیں بلکہ ایک کار بم دھماکہ تھا[42]
20 اکتوبر کوجنڈولہ چیک پوسٹ وزیرستان پر طالبان نے حملہ کر کے 7 اہلکاروں کو شہید کر دیا۔[43] 23 اکتوبر 2009ء کو باراتیوں کی ایک بس مہمند ایجنسی میں طالبان کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ بارودی سرنگ سیکیوریٹی فورسز کے لیے بچھائی گئی تھی۔[44] 23 اکتوبر 2009ء کو ہی پشاور میں ایک بم دھماکہ ہوا۔ کامرہ میں فضائیہ کی فیکٹری کے قریب ایک خود کش حملہ ہوا۔ کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔[45]
روزنامہ نوائے وقت کے مطابق پشاور کار بم دھماکے سے دو روز قبل امریکہ اور بھارت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے گریز اور یہاں موجود شہریوں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایات کی تھیں۔ سکیورٹی ماہرین کی جانب سے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سانحہ سے قبل ان دونوں ممالک کی ہدایات غیرمعمولی امر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو پاکستان میں ہونیوالی کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو جاتا ہے۔[46]
2 نومبر 2009ءکو راولپنڈی میں ایک خود کش حملہ میں 4 فوجیوں سمیت 36 افراد شہید ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ خود کش حملہ آور نیشنل بنک آف پاکستان کے باہر تنخواہیں نکالنے والوں کی قطار میں گھس گیا اور خود کو اڑا دیا۔ اسی دن لاہور میں بابو صابو انٹرچینج پر پولیس چوکی پر روکے جانے پر کار سوار نے خود کو اڑا لیا اور 25 لوگ زخمی ہو گئے۔ [47] 8 نومبر کو پشاور کے نواح میں واقع متنی کے علاقہ ادیزئی میں ایک خود کش حملہ میں ناظم علاقہ عبدالمالک سمیت 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہو گئے۔ ناظم عبدالمالک طالبان کے خلاف بنائے جانے والے ایک لشکر کے سربراہ تھے اور ان پر پہلے بھی حملے ہو چکے تھے۔[48]
9 نومبر 2009ءکو ایک پولیس چوکی پر خود کش حملہ ہوا جس میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔[49] 10 نومبر 2009ئ کو چارسدہ کے مرکزی بازار میں ایک کار بم دھماکہ کیا گیا جس میں 24 افراد جاں بحق اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں۔ [50]۔ دھماکے کی جگہ سے خود کش حملہ آور کے اعضاء مل گئے۔ پولیس کے مطابق اس حملہ کی دھمکیاں پہلے سے ہی مل رہی تھیں۔[51]۔ طالبان تحریک کے ترجمان اعظم طارق نے خود کش حملوں کے بارے میں کہا کہ جو بھی ہماری تحریک کو نقصان پہنچائے گا اسے سبق سکھایا جائے گا۔[52]
13 نومبر 2009ء کو ایک خودکش حملہ جو ایک حساس ادارہ کے پاس پشاور میں ہوا، اہل کاروں اور شہریوں سمیت دس افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایک اور واقعے میں بنوں میں بکا خیل تھانے میں خود کش حملہ سے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔[53] 13 نومبر کو ہی پشاور میں پاکستان کی جاسوسی تنظیم آئی ایس آئی کے دفتر پر خود کش حملہ میں سات اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے۔ خود کش حملہ آور نے صبح کے ساڑھے چھ بجے ایک بارود سے بھری گاڑی آئی ایس آئی کے صوبائی دفتر پر ٹکرا دی۔ دھماکے سے قریبی مسجد بھی تباہ ہو گئی۔[54]۔ 14 نومبر کو پشاور میں میں پولیس کے مطابق ایک چیک پوسٹ پر کار خودکش حملہ ہوا جس میں گیارہ افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہوگئے۔[55]۔
کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ترجمان قاری حسین نے پشاور اور بنوں میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھمکی دی کہ حکومت خود کش حملوں کو روک کر دکھائے۔[56] 16 نومبر 2009ء کو پشاور میں پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے ایک مبینہ خودکش کار بم حملے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور چوبیس سے زائد زخمی ہوگئے۔ پشاور کے ایس پی رورل بشیر اللہ خان کے مطابق یہ واقعہ پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں اس وقت پیش آیا جب ماشو خیل کے علاقے سے آنے والے ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی مسجد کی عمارت سے ٹکرا دی۔[57]
19نومبر 2009ءکو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے گیٹ پر ایک خود کش حملے میں انیس افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ خودکش حملہ آور کچہری میں داخل ہونا چاہتا تھا اور اس کو جب تلاشی کے لیے روکا گیا تو اس نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔[58] 20 نومبر 2009ئکو رات گئے ایک پولیس کی ایک گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا جس میں پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔[59]
مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے مغوی رکن کی سربریدہ لاش ملی ہے۔ اس شخص کا بیٹا گزشتہ شام دہشت گردوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگیا تھا۔ حکام کے مطابق دہشت گردوں اور امن کمیٹی کے ممبر کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپ ہوئی تھی۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے بھی مہمند ایجنسی کی تحصیل لکڑو میں مولانا شہزاد گل اور رسول شاہ کی لاشیں کندارو کے قریب سے ملی تھیں اور ان دونوں کو گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک قبائلی جرگے کے ذریعے انہوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے مولانا شہزاد گل اور پچاس سالہ رسول شاہ جو مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے سرگرم رکن تھے، کی سربریدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دونوں کی ہلاکت کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی تھی۔[60]
4 دسمبر 2005ء کو پریڈ گراونڈ راولپنڈی میں طالبان نے ایک مسجد پر حملہ کر کے چالیس افراد کو شہید کیا جن میں 17 نمازی بچے بھی شہید ہوئے اور مسجد کا ایک حصہ شہید ہوا۔ شقی القلب طالبان نے مسجد پر حملہ اور اس قتل و غارت کی ذمہ داری قبول کر لی۔ یہ ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے جرائم پیشہ رہنماء ولی الرحمن نے قبول کی۔[61] 5 دسمبر 2009ئکو پشاور کے کمرشل بازار میں دھماکہ کیا گیا جس سے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔[62]

مندرجہ بالہ تما م مواد ان اخبارات و جرائداور ویب سائٹ سے لیا گیاہے

1. ^ روزنامہ ایکسپریس، 12 جولائی 2009
2. ^ روزنامہ ایکسپریس پاکستان 24 اکتوبر 2009ء
3. ^ افغانستان، سی آئی اے، اسامہ بن لادن اور طالبان
4. ^ سی آئی اے نے پاکستان کی مدد سے طالبان تخلیق کیے
5. ^ لسگ ہیریسن۔ دہشت گردی اور علاقائی تحفظ کی کانفرنس 2000ئ
6. ^ http://emperors-clothes.com/docs/camps.htm نیو یارک ٹائمز 24 اگست 1998
7. ^ طویل جنگ کا جریدہ
8. ^ روزنامہ جنگ 18 اکتوبر 2009ئ
8. ^ جنگ تازہ خبریں 10 نومبر 2009ئ
9. ^ روزنامہ ایکسپریس، 12 جولائی 2009
10. ^ روزنامہ ایکسپریس پاکستان 24 اکتوبر 2009ء
11. ^ نوائے وقت 29 اکتوبر 2009ئ
12. ^ روزنامہ جنگ 3 نومبر 2009ء
13. ^ http://www.jang.com.pk/jang/nov2009-daily/11-11-2009/u11008.htm جنگ 11 نومبر 2009ئ۔ تازہ خبریں
14. ^ روزنامہ جنگ 21 نومبر 2009ء
15. ^ جنگ تازہ ترین 27 نومبر 2009ء
16. ^ روزنامہ جنگ 5 دسمبر 2009ء
17. ^ روزنامہ جنگ تازہ ترین خبریں 22 اکتوبر 2009ء
18. ^ بی بی سی اردو 22 اکتوبر 2009ء
19. ^ روزنامہ جنگ 20 نومبر 2009ء
20. ^ http://www.jang.com.pk/jang/oct2009-daily/26-10-2009/u9483.htm روزنامہ جنگ تازہ ترین 26 اکتوبر 2009ئ
21. ^ دانشگاہِ پنجاب پریس ریلیز 20 اکتوبر 2009ء
23. ^ http://www.jang.com.pk/jang/oct2009-daily/26-10-2009/u9516.htm روزنامہ جنگ تازہ ترین 26 اکتوبر 2009ئ
24. ^ بی بی سی اردو 22 اگست 2009ء
25. ^ ملک میں پھیلتے شدت پسند نیا خطرہ۔ بی بی سی اردو
26. ^ روزنامہ دی نیوز۔ 14 ستمبر 2009
27. ^ وطن دوست بلاگ
28. ^ روزنامہ نوائے وقت 12 مئی 2009ء
29. ^ روزنامہ ایکسپریس 15 دسمبر 2009ء
30. ^ بی بی سی 26 اگست 2009ء
31. ^ بی بی سی 27 اگست 2009ء
32. ^ بی بی سی 27 اگست 2009ء
33. ^ بی بی سی 19 ستمبر 2009ء
34. ^ بی بی سی 6 اکتوبر 2009ء
35. ^ بی بی سی
36. ^ روزنامہ جنگ 10 اکتوبر 2009ئ۔ تازہ ترین خبروں سے لیا گیا
37. ^ بی بی سی اردو 19 اکتوبر 2009ء
38. ^ روزنامہ جنگ۔ تازہ ترین 15 اکتوبر 2009
39. ^ بی بی سی اردو
40. ^ روزنامہ جنگ تازہ خبریں 15 اکتوبر 2009ء
41. ^ بی بی سی 15 اکتوبر 2009ء
42. ^ بی بی سی 16 اکتوبر 2009ء
43. ^ http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091020_waziristan_4th_day.shtml بی بی سی اردو 20 اکتوبر 2009ئ
44. ^ روزنامہ جنگ تازہ ترین خبریں 23 اکتوبر 2009ء
45. ^ بی بی سی اردو 23 اکتوبر 2009ء
46. ^ نوائے وقت 29 اکتوبر 2009ء
47. ^ روزنامہ جنگ 3 نومبر 2009ء
48. ^ روزنامہ جنگ تازہ ترین خبریں 8 نومبر 2009ء
49. ^ روزنامہ جنگ تازہ خبریں۔ 9 نومبر 2009ء
50. ^ جنگ تازہ خبریں 10 نومبر 2009ء
51. ^ روزنامہ ایکسپریس 11 نومبر 2009ء
52. ^ روزنامہ ایکسپریس 11 نومبر 2009ء
53. ^ جنگ تازہ ترین 13 نومبر 2009ء
54. ^ روزنامہ جنگ 14 نومبر 2009ء
55. ^ بی بی سی اردو 14 نومبر 2009ء
56. ^ بی بی سی اردو 14 نومبر 2009ء
57. ^ بی بی سی اردو 16 نومبر 2009ء
58. ^ بی بی سی اردو 19 نومبر 2009ء
59. ^ بی بی سی اردو 20 نومبر 2009ء
60. ^ بی بی سی اردو 27 نومبر 2009ء
61. ^ روزنامہ جنگ 5 دسمبر 2009ء
62. ^ جنگ تازہ ترین 5 دسمبر 2009ء

مینڈک زلزلے سے پیشگی آگاہ ہوجاتے ہیں

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 8:16 AM






قدرتی آفات میں عموماً سب سے مہلک زلزلے ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ابھی تک کوئی ایسا نظام وضع نہیں کیا جاسکا جو اس ناگہانی خطرے کی پیشگی اطلاع دے سکے۔ لیکن اب سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ مینڈک کا حسیاتی نظام اسے زلزے کی آمد سے تین روز پہلے خبردار کردیتاہے۔نئی تحقیق سے مستقبل قریب میں زلزلے کی پیش گوئی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔















جمیل اختر واشنگٹن
..... .ممکن ہے کہ آپ کے لیے یہ خبر دلچسپی کا باعث ہوکہ مینڈکوں کو کئی گھنٹے اور بسااوقات دو تین روز پہلے ہی پتا چل جاتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔
قدرت نے کئی جانوروں اور پرندوں کو ناگہانی خطرات سے پیشگی خبردار کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ مثلاً بارش سے قبل کئی پرندے محفوظ مقامات کی طرف اڑنے لگتے ہیں۔ آندھی سے کافی دیر پہلے جھینگروں کی آوازیں بند ہوجاتی ہیں، خطرے کی بوسونگھ کر گھوڑے اچانک مخصوص انداز میں ہنہنانے لگتے ہیں، اسی طرح جنگل کے جانور خطرے کو قبل از وقت بھانپ کر جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
لیکن اپریل2009ء میں اٹلی کے علاقےلاکویلا میں تقریباً چھ درجے شدت کے زلزلے سے پہلے کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ مینڈکوں کو اس ناگہانی آفت کا تین روز پہلے ہی پتا چل گیا تھا۔
لاکویلا میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور بڑے زلزلے کے بعد ہفتوں تک چھوٹے زلزلوں کے ہزاروں جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
زلزلے کو قدرتی آفات میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کیاجاتا ہے کیونکہ زلزلہ کسی کو سنبھلنے، سوچنے سمجھنے اور جان بچانے کا موقع نہیں دیتا اور لمحوں میں ہنستی بستی آبادیاں ملبوں کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔چند سال قبل پاکستان کے شمالی علاقے میں ایک تباہ کن زلزلے سے صرف چند منٹ میں درجنوں آبادیاں کھنڈر بن گئی تھیں اور 80 ہزار سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے گئےتھے۔


ہماری زمین بڑی بڑی چٹانی پرتوں پر قائم ہے، جن کے کونے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں۔ زمین کے گہرائیوں میں درجہ حرارت کی تبدیلی ، اندورنی دباؤ اور بعض دوسرے عوامل کی وجہ سے یہ چٹانیں آہستہ آہستہ کھسکتی رہتی ہیں۔ جب ایک چٹان دوسری چٹان سے ہٹتی ہے تو زمین کی سطح پر کئی سو میل تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور پھر بعد میں ہلکے جھٹکے (آفٹر شاکس )اس وقت تک آتے رہتے ہیں جب تک کھسکنے والی چٹان نئی جگہ پر مضبوطی سے جم نہیں جاتی۔
آج کے جدید سائنسی دور میں ماہرین یہ جانتے ہیں کہ دنیا کے کون کون سے شہر اور آبادیاں اس مقام پر واقع ہیں جہاں زمین کی تہہ میں چٹانیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ان کے کھسکنے کے امکانات موجود ہیں، لیکن ابھی تک ایسا کوئی نظام تیار نہیں کیا جاسکا جس سے پہ پتا چل سکے کہ چٹانوں کے کھسکنے کا عمل کب شروع ہوگا۔
لیکن دو سال پہلے اٹلی کے ایک تالاب سے زلزلہ آنے سے پہلےزیر تجربہ مینڈکوں کے اچانک فرار نے سائنس دانوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔


ہوا یہ کہ ایک ماہر حیاتیات مس گرانٹ ، اٹلی کے شہر لاکویلا میں مینڈکوں پر تحقیق کررہی تھیں۔ تالاب میں 90 کے لگ بھگ مینڈک رکھے گئے تھے لیکن جب زلزلے سے تین روز پہلے 80 سے زیادہ مینڈک گھبراہٹ کے عالم میں تالاب چھوڑ کر بھاگ گئے تو انہوں نے ناسا کے ماہرین سے رابطہ کیا۔
سائنسی جریدے زولوجی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے سے تین روز قبل تالاب میں زیر تجربہ مینڈکوں کا فرار محض کوئی اتفاق نہیں تھا، کیونکہ انہیں زلزلے کے کئی روز بعدآفٹرشاکس کی شدت کم ہونے پر دوبارہ تالاب میں رہنے پر مجبور کیا جاسکا تھا۔
ناسا کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ زیر زمین چٹانوں کے کھسکنے سے پہلے یقیناً ایسی کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں ، جسے مینڈکوں کا حسیاتی نظام محسوس کرلیتا ہے اور انہیں اپنی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے۔
تجربات سے انہیں معلوم ہوا کہ چٹانیں اچانک اپنی جگہ نہیں چھوڑتیں بلکہ شدید دباؤ کے تحت یہ عمل کئی روز پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ اس دوران چٹانیں برقائے ہوئے ذرات خارج کرنا شروع کردیتی ہیں جو زمین کی سطح پر موجود پانی کو متاثر کرتے ہیں۔ ناسا کے سائنس دان فرائیڈ من کا کہناہے کہ بہت ممکن ہے کہ پانی میں یا اس کےقریب رہنے والے کچھ جانداروں پر،مثلاً مینڈک وغیرہ، زمین کے اندر سے خارج ہونے والی برقی لہروں کا شدید اثرہوتا ہو جس سے بچنے کے لیے وہ وہاں سے چلے جاتے ہوں۔
ناسا ہی کے ایک اور سائنس دان ڈاکٹر فرینڈ کہتے ہیں کہ زلزلے سے قبل چٹانوں سے نکلنے والے والے برقی ذرات زمین کی سطح پر آکر ہوا میں آئن پیدا کردیتے ہیں۔


آئن مثبت چارج رکھنے والے برقی ذرات ہوتے ہیں۔ فضا میں ان کی زیادتی کئی لوگوں میں سردرداور متلی کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خون میں دباؤ بڑھانے والے ہارمونز کی سطح بھی بلند ہوجاتی ہے۔ لیکن چونکہ فضا میں برقی ذرات کی موجودگی کی اور بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں اس لیے سردرد اورمتلی کو زلزلے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جاسکتا۔
جب کہ ماہرین کا کہناہے کہ کسی ایسی جگہ سے جو فالٹ زون یعنی زلزلوں کے امکانی علاقے میں واقع ہو، پانی سے بڑے پیمانے پر مینڈکوں کے فرار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے علاوہ کئی دوسرے عوامل بھی زلزلے کے امکان کی نشان دہی کرتے ہیں۔ مثلاً اکثر پالتو جانورزلزلے سے کئی گھنٹے قبل گھبراہٹ اور پریشانی میں عجیب و غریب حرکات کرنے لگتے ہیں۔ فالٹ زون میں زلزلے سے پہلے فضا میں تابکاری کی سطح بڑھ جاتی ہے اور کرہ ہوائی کے آئن زون میں برقی ذرات کی مقدار تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آسمان پر بادل ہوں تووہ اس سے کہیں مختلف دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ عموماً نظر آتے ہیں۔
مینڈکوں نے سائنس دانوں کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں اوریہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مستقبل قریب میں زلزلے سے کئی گھنٹے قبل اس کی پیش گوئی کی جاسکے گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زلزلہ پیما مراکز میں مینڈک پالے جائیں گے بلکہ ایسا نظام تیار کیا جاسکتاہے جو زیر زمین چٹانوں سے خارج ہونے والے برقی ذرات کی مؤثر پیمائش کرکے خطرے سے پیشگی خبردار کرسکے گا۔

Qanoot e Nazila by Hafiz Saeed

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 11:07 PM

Is Inda our Most Favourit Country for Pakistan Must Watch...

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 8:13 AM




Propeganda Against Pakistani ISI by Western Media

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 10:04 AM

These Videos in English but clearly understandable who know English...





For More info or News visit these websites but we wanna obviouly clear that we aren't resposible of these links. www.facebook.com/hafizskp www.pringit.com/hafizskp www.twitter.com/hafizskp

Notification Finance Department to AG Punjab 22 Oct 2011

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 10:03 PM


















































































Educator Recruitment Policy 2011

Posted by Hafiz Hafeez Sheikhupura on 8:56 PM
To Read or download Educator Recruitment Policy 2011 of Punjab Government click the below link.

Recruitment Policy 2011