پاکستان 223 رن بنا کر آؤٹ Pakistan all Out of 233.

Posted by Anonymous on 11:53 AM
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین نیپیئر میں کھیلے جانے والے تیسرے اور فیصلہ کن کرکٹ ٹیسٹ میچ میں پاکستان اپنی پہلی اننگ میں دو سو تئیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی پہلی اننگ کی خاص بات اوپنر عمران فرحت کی سحنچری تھی۔ وہ ایک سو سترہ کے سکور پر ناٹ آؤٹ رہے۔ عمران فرحت کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو تیسرے اوور میں اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب اوپنر سلمان بٹ کو سودی نے کلین بولڈ کر دیا۔ سلمان نے آٹھ رن بنائے تھے۔ ان کے آوٹ ہونے کے بعد فیصل اقبال بھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور وہ چھ رن پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ کپتان محمد یوسف ایک بار پھر فیل ہوئے اور وہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ فیصل اور یوسف کو اور برائن نے آؤٹ کیا۔

کلِک پاکستان نیوزی لینڈ: تیسرے ٹیسٹ کا سکور کارڈ

عمر اکمل جنہوں نے ابھی تک عمدہ بیٹنگ کی اس بار صفر پر آؤٹ ہو گئے اور مصباح بھی صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد کامران اکمل بائیس رن بنا کر جبکہ عامر تئیس رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ فاسٹ بولر عمر گل نے چوبیس رن بنائے جبکہ محمد آصف کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔

آئی او برائن اور ٹفی نے چار چار وکٹیں حاصل کیں۔ برائن نے پندرہ اوور میں صرف پینتیس رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹفی نے پندرہ عشاریہ تین اوور میں 52 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

مارٹن اور سودی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کی ٹیم میں سلمان بٹ، عمران فرحت، فیصل اقبال، مصباح الحق، محمد یوسف، عمر اکمل، کامران اکمل، عامر، عمر گل، محمد آصف اور دانش کنیریا شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم میں میکنٹاش، والنگ، گپٹل، فلِن، ٹیلر، وٹوری، میک کلم، سودی، ٹفی، آئی او برائن اور سی مارٹن شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 141 رن سے شکست دی تھی۔

تنہائی خواتین میں کینسر کا باعث Cancer will be increase in women because he stayed alone

Posted by Anonymous on 2:27 PM

واشنگٹن: امریکہ میں ایک حالیہ تحقیق کے بعد طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ تنہائی نہ صرف بلڈ پریشر اور ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ بلکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی اور اکیلے پن کی شکار خواتین میں کینسر کی رسولیاں عام خواتین کی نسبت تین گُنا تیزی سے بنتی اور بڑھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اپنوں سے دوری نہ صرف پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ اس سے قوتِ مدافعت بھی متاثر ہوتی ہے۔

چینی کے مشروبات : حاملہ عورتوں کے لیے نقصان دہ

Posted by Anonymous on 2:20 PM
چینی سے بنے مشروبات دنیا بھر میں مقبول ہیں اور امیر اور غریب ملکوں میں اس کا استعمال بڑھ رہاہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ چینی کے مشروبات پینے سے حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ میں لوگوں کو درکار حراروں کا تقریباً 20 فی صد حصہ مشروبات سے پورا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کلوریز سوڈا قسم کے چینی کےمشروبات سے حاصل کی جاتی ہیں۔

لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی کی محقق لی وے چن کا کہنا ہے کہ مسائل کی اصل وجہ چینی ہے کیونکہ وہ موٹاپا پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور دل کے امراض جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ چن کا خیال ہے کہ جو خواتین بڑی مقدار میں چینی کے مشروبات پینے کی عادی ہوتی ہیں، ان میں حمل کے ایام میں ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف ماں بننے والی خواتین کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ وہ بچے کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ اور یہی چیز بچے پیدائش سے قبل اور پیدا ئش کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہونے کا سب سے اہم سبب ہے۔

چن نے اس تحقیق میں 13 ہزار سے زیادہ خواتین سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا۔ اس جائزے میں خواتین سے ان کے کھانے پینے سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔ ان کے حاملہ ہونے بعد محققین نے مزید ایک سال تک ان کی صحت کے ریکارڈ پر نظر رکھی۔

چن کہتی ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ جو خواتین چینی کے زیادہ مشروبات پینے کی عادی تھیں، ان میں ایام ِحمل میں ان خواتین کی نسبت ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ تھا، جو بہت کم مشروبات استعمال کرتی تھیں۔

اس تحقیق میں شامل جن خواتین نے زیادہ مقدار میں مشروبات پیئے، وہ تعداد ایک ہفتے میں پانچ تھی۔ یہ اس مقدار سے کہیں کم ہے جو امریکہ اور کسی دوسرے ملکوں میں عام لوگ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اتنی مقدار میں میٹھے شربت سے، چاہے اس کا استعمال حاملہ ہونے سے پہلے ہی کیا گیا تھا، حمل کے دوران، خواتین اور ان کے پیدا ہونے والے بچے کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا۔

چن کہتی ہیں کہ چینی کے مشروبات پینے والی جو خواتین حاملہ ہونے سے قبل صحت مند تھیں، حمل کے دوران ان میں ذیابیطس کی علامتیں ظاہر ہوئیں۔

چن کہتی ہیں کہ آپ کی صحت کو بہت سے عوامل متاثر کرتے ہیں، جیسا کہ ذیابیطس کی طرف خاندانی رجحان کا ہونا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ذیابیطس ایک ایسی چیزہے جس پر لوگ قابو پاسکتے ہیں۔ غذائی عادات کی تبدیلی خواتین کو حمل کے دوران صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دنیا میں ایڈز کے سوا تین کروڑ سے زیادہ مریض

Posted by Anonymous on 2:19 PM
ایڈز کی مہلک بیماری کے بارے میں آگاہی عام ہوئے تقریبا تین دہائیاں بیت چکی ہیں، اور اب اس مرض کا شمار اب تک مہلک ترین بیماریوں میں کیا جارہاہے۔ دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں کا تخمینہ تین کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ ہے اور سائنس دان اس مرض پر قابو پانے کے طریقے ڈھونڈنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

1980 ء کے عشرے میں ایڈز کا شمار مہلک ترین بیماریوں میں کیا گیا۔ تب سے لے کر اب تک اس مرض سےدنیا بھر میں25 لاکھ سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ایڈز کا شکار زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے افراد بنتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق90 فیصد ایڈز کے مریضوں کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہے۔

مگر اس سلسلے میں کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی گئی ہیں۔ گذشتہ دہائی میں ایڈز کے علاج کے اخراجات میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ڈاکٹر اینتھونی کہتے ہیں کہ اگر آپ ان لوگوں کی شرح کا جائزہ لیں جنہیں تھیرپی دی گئی تو اب ترقی یافتہ ممالک میں تقریبا چالیس لاکھ لوگ اس تھراپی سے استفادہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر اینتھونی الرجی اور سوزش کی بیماریوں سے متعلق امریکہ کے قومی مرکز کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف کامیابی کے باوجود ڈاکٹر اور سائنسدان کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر سے ایڈز ختم کرنے کے لیے کوئی مؤثر دوا بنائی جا سکے۔ جیسا کہ ایڈز ویکسین۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین ایڈز کے خاتمے کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ ڈاکٹر اینتھونی کہتے ہیں کہ اس ویکسین سے ہم ایڈز سے بچاؤکےحوالے سےٹھوس کام کر سکتے ہیں۔

سائنسدان مائیکرو باڈیز پر بھی کام کر رہے ہیں جو کہ ایسی کریم یا جیلز ہوتی ہیں جنہیں لگا کر ایچ آئی وی سے بچاجا سکتا ہے۔ مگر ایڈز سے بچاؤ کے لیے کسی تیاری کے عمل میں عالمی کساد بازاری کے باعث فنڈز ہونے سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ہیچٹ کا کہنا ہے کہ جو ممالک بھی ایڈز سے متاثرہ ہیں انہیں اس حوالے سے اپنے انشورنس کے منصوبے ترتیب دینے چاہیں۔ یہ ایک مہلک مرض ہے جس کی روک تھام پر آئندہ چند دہائیوں میں پیش رفت ممکن ہے۔

Waqar Younis appointed as bowling and fielding coach

Posted by Anonymous on 2:13 PM

Media Release - 9 December 2009

PCB announces the appointment of Mr. Waqar Younis as bowling and fielding coach for the upcoming Pakistan-Australia Test and ODI Series 2009-10.

Media Department

Pakistan Cricket Team in Australia 2009/10

Posted by Anonymous on 2:04 PM

The Selection Committee of PCB met in Lahore today and finalized the Pakistan team for the upcoming Test Match Series in Australia. The following will be the players who will tour Australia for the Test matches:

1. Salman Butt
2. Khurrum Manzoor
3. Imran Farhat
4. Mohammad Yousuf - (Captain)
5. Misbah-ul-Haq
6. Shoaib Malik
7. Fawad Alam
8. Faisal Iqbal
9. Kamran Akmal - (Vice Captain)
10. Danish Kaneria
11. Saeed Ajmal
12. Umar Gul
13. Mohammad Asif
14. Mohammad Aamer
15. Abdur Rauf
16. Umar Akmal


Mohammad Yousuf has been appointed to continue as Captain of the Team for Tests and ODI series in Australia whereas Kamran Akmal would be his deputy for the Test matches. Shahid Afridi will be the Captain for T20 and would also be the Vice Captain for ODI matches on the Australia series.

Media Department
Courteous by Pakistan Cricket Board.

Terrorist Attack on (ISI) office in Multan .ملتان میں آئ ایس آئ پر حملہ

Posted by Anonymous on 7:20 PM










ملتان میں آئ ایس آئ کے دفتر پر حملہ اور اسکی تصاویر۔ ۔۔ بعض لوگ جو آئ ایس آئ پر الزام لگاتے ھیں کہ وہ دہشتگردوں کی مدد




کرتی ھے وہ اب سب جھوٹ ثابت ہو چکا ھے۔












۔

Juroselm Falisten sy Sahafi Shazeb Jelani. by bbc

Posted by Anonymous on 2:20 PM
watch this video plz. and leave you comments on end the post.

http://www.hafeez.tk/ http://www.skpsoft.tk/

معذور افراد کا عالمی دن World Day of Special persons

Posted by Anonymous on 11:52 AM
پاکستان سمیت دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن جمعرات کے روز منایا گیا جس کامقصد ان کے حقوق اور سماجی و اقتصادی شعبوں میں انہیں جائز مقام دلانے سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں تقریباً دس فیصدلوگ مختلف نوعیت کی معذوری کا شکار ہیں۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ انہیں معاشرے یا حکومت سے ہمدردی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کا اعتراف چاہیے جنہیں بروئے کار لا کر یہ ایک کارآبد شہری بن سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے معذور آبادی کے لیے نوکریوں میں اگرچہ دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں معاشرتی ناہمواریوں کا سامنا ہے۔

ملتان میں قوس قزح کے نام سے قائم معذور بچوں کے سینٹر کے ایک گریجوایٹ بریل ٹیچرطاہر شہزاد کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سرکاری ہی نہیں بلکہ نجی شعبے میں بھی روزگار کے حصول میں دشواری ہے۔ طاہر کا کہنا ہے ”اگر ہمارے لیے مقررکردہ دو فیصد نوکریوں کے کوٹے پر ہی مئوثر انداز میں عمل درآمد ہوجائے تو شاید تمام معذور افراد کو روزگار مل جائے گا“۔

اسی سکول کے ایک طالب علم حافظ محمد اویس کے خواب صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ وہ مستقبل میں ایک سیاست دان بننا چاہتے ہیں” میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کوئی ایسا قانون بنائے کہ با صلاحیت معذور افراد اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اپنی آواز اٹھا سکیں“۔

معذور افراد کے لیے چھپنے والے ماہ نامے ” پاکستان سپیشل “کے مدیر فرحت انور نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں معذور لوگوں میں زیادہ تر تعداد جسمانی طور پر معذور افراد کی ہے لیکن ان کے مطابق لمحہ فکریہ یہ ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ شمال مغربی پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے میں دشواری کے باعث اس سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یوں ملک کی مفلوج آبادی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستانی بالر چھا گئےPakistan Win The Day in willingtan

Posted by Anonymous on 11:44 AM
پاکستان نے ولنگٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز میں دو سو چونسٹھ رن بنائے۔ اس کے جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم ننانوے رن بنای کر آؤٹ ہو گئی۔

کلِک تفصیلی سکور کارڈ

نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ سکور ٹیلر کا تھا جنہوں نے تیس رن بنائے۔ پاکستان کی طرف سے محمد آصف نے چار، دانش کنیریا نے تین، عمر گل نے دو اور محمد عامر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے مکنٹاش اور گپتل نے کھیل کا آغاز کیا۔ گپتل بغیر کوئی رن بنائے محمد عامر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ مکنٹاش کو محمد آصف نے چار رن پر آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد عمر گل نے ٹیلر اور فلٹن کو آؤٹ کیا۔

اس کے بعد جب ٹیم کا کل سکور پچاسی تھا فلِن اور مکلم کو محمد آصف نے آؤٹ کر دیا۔ نیوزی لینڈ کی ساتویں وکٹ پچانوے رن پر گری جب ایلیٹ کنیریا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ چھیانوے کے سکور پر پھر دانش کنیریا نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ آخری وکٹ محمد آصف کے حصے میں آئی۔

پاکستان کی طرف سے کامران اکمل نے سب سے زیادہ ستر رن بنائے۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے وٹوری اور ٹفی نے چار چار اور او برائن نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

پاکستان کی ٹیم: عمران فرحت، سلمان بٹ، محمد یوسف، شعیب ملک، عمر اکمل، کامران اکمل، مصباح الحق، محمد عامر، عمر گل، محمد آصف اور داشن کنیریا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم: میکنٹاش، گپتل، فلِن، ٹیلر، فلٹن، ایلیٹ، مکلم، وٹوری، اوبرائن، ٹفی اور سی مارٹن۔

محمد یوسف نئے پاکستانی کپتان

Posted by Anonymous on 8:41 PM

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے آرام کی غرض سے دست بردار ہوگئے ہیں ۔ ان کی جگہ محمد یوسف کو دورہ نیوزی لینڈ کے لیے پاکستانی ٹیم کا نیا کپتان جب کہ کامران اکمل کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
گزشتہ چند ماہ میں یونس خان کی بطور بیٹسمین اور کپتان ناقص کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی نائب کپتان شاہد آفریدی کے ساتھ چپقلش نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یونس خان کے ساتھ ساتھ نائب کپتان شاہد آفریدی کو بھی ان کے عہدے سے فارغ کردیاہے ۔
پاکستانی ٹیم ان دنوں ابوظہبی میں ہے جہاں نیوزی لینڈ کے ساتھ پہلا ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میچ جمعرات کو کھیلے گی ۔بعد ازاں ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قومی ٹیم نیوزی لینڈ روانہ ہوجائے گی۔ اس سے قبل تین ایک روزہ میچوں کی سیریز نیوزی لینڈ دو،ایک سے جیت چکاہے۔

چین:طلباء کے بوسہ دینے پر ’پابندی‘ China

Posted by Anonymous on 8:58 AM

مشرقی چین کی ایک یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بوسہ دینے والے طالبعلموں پر نظر رکھنے کے لیے بنائی جانے والی ٹیموں کے خلاف انٹرنیٹ پر شکایات درج کی ہیں۔

نین جنگ فارسٹری یونیورسٹی میں بنائی جانے والی ان ٹیموں کا کام ایسے طلبا و طالبات پر نظر رکھنا ہے جو یا ایک دوسرے کے گلے لگیں، بوسہ دیں یا پھر نہایت قریب قریب بیٹھے ہوں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یونیورسٹی کے ’ماحول کو صاف ستھرا بنانے میں مددگار ثابت ہوگا‘۔ ان معائنہ ٹیموں کی سربراہی یونیورسٹی کے اساتذہ کر رہے ہیں اور ان میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے والے طلباء بھی شامل ہیں جو دو دو گھٹنے کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کے بلیٹن بورڈ پر ایک طالبہ کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغام کے مطابق وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ہمراہ یونیورسٹی میں موجود تھی کہ ایسی ہی ایک معائنہ ٹیم کی نظر ان پر پڑی اور اس کے بعد ٹیم کا ایک رکن ان دونوں کے عقب میں آ کھڑا ہوا اور اس وقت تک کھانستا رہا جب وہ دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے نہ گئے۔

دیگر شکایات میں یونیورسٹی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ نوجوان جوڑوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنا وقت ادارے کے انتظام میں صرف کرے۔ طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس خبر کے عام ہونے کے بعد شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گوئی یا نامی ایک طالبعلم نے بلیٹن بورڈ پر لکھا ہے کہ ’ یہ خبر انٹرنیٹ پر پھیل رہی ہے اور یہ ایسا ہے کہ آپ کو کسی عوامی مقام پر برہنہ کر دیا جائے‘۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ معائنہ ٹیموں میں شامل رضاکار طلباء اگر صرفِ نظر سے کام لیتے ہیں تو خود انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے تاہم اس اطلاع کی تصدیق کے لیے جب یونیورسٹی حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی تو رابطہ نہیں ہو سکاBBC۔

کائنات کا دور ترین ستارہ دریافت

Posted by Anonymous on 4:54 PM

فلکیات دانوں نے کائنات کے دور ترین اور قدیم ترین مظہر کا سراغ لگایا ہے۔ یہ ایک مرتے ہوئے ہوئے ستارے میں ہونے والا دھماکا ہے جو آج سے 13 ارب سال پہلے کائنات کے وجود میں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد وقوع پذیر ہوا تھا۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس دریافت سے کائنات کے ارتقا کے بارے میں قابلِ قدر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ فلکیات دان کہتے ہیں کہ یہ واقعہ بگ بینگ کے صرف 63 کروڑ سال بعد پیش آیا جس میں دم توڑتے ہوئے ستارے سے توانائی کی گیما شعاعیں خارج ہوئی تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کائنات کی عمر تقریباً 14 ارب سال ہے۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کا ’تاریک دور‘ اس سے پہلے لگائے جانے والے اندازوں کی نسبت جلد ختم ہو گیا تھا۔ تاریک دور کائنات کے وجود میں آنے کے فوراً بعد اور بڑے ستاروں کے بننے اور چمکنے سے پہلے کے زمانے کو کہتے ہیں۔ اس دریافت سے قبل سب سے قدیم ستارے کا ریکارڈ شدہ دھماکا حالیہ دریافت سے 20 کروڑ سال بعد ہوا تھا۔ انگلستان کی یونیورسٹی آف لیسٹر کے سائنس دان نیال تنویر اس تحقیق میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مرتے ہوئے ستارے کا یہ دھماکا (جسے سپرنووا کہا جاتا ہے) سائنس دانوں کو وقت میں ماضی کے سفر میں دور تک لے جاتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جو فلکیات میں نامعلوم خطہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے بڑی حد تک کائنات کا نقشہ تیار کر لیا ہے، اور اب ہم ان منطقوں کے نقشے تیار کر رہے ہیں جن کے بارے میں پہلے کچھ معلوم نہیں تھا۔ تنویر کہتے ہیں کہ اس دریافت سے سائنس دانوں کو آسمان میں ایک مقام مل گیا ہے جہاں خلائی دوربین ہبل کو لگایا جا سکتا ہے اور جہاں سے قدیم کائنات کے بارے میں سراغ مل سکتے ہیں۔ امریکی ماہرِ فلکیات ڈین فریل کہتے ہیں اس ستارے سے روشنی 13 ارب سال کا سفر طے کر کے زمین تک پہنچی ہے۔ اس مشاہدے سے یہ اندازہ ہو گا کہ بگ بینگ کے بعد کس قسم کے کیمیائی مادے خارج ہوئے تھے۔ فریل کا کہنا ہے کہ فلکیات دانوں کے اندازے کے مطابق یہ ابتدائی سپرنووا دھماکے بعد میں ہونے والے سپرنووا سے کہیں زیادہ بڑے اور روشن تر تھے۔ ان کے مشاہدے سے ستاروں کی پہلی نسل اور کہکشاؤں کی تشکیل کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی اور یہ پتا چلے گا کہ موجودہ ستاروں میں دھاتیں کہاں سے آئیں اور کائنات میں روشنی کیسے بکھری۔ اس دریافت کے بارے میں ممتاز سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں دو مضامین شائع ہوئے ہیںVOA۔

دنیا بھر میں ہر پندرہ سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیے سے ہلاک ہو جاتا ہے : عالمی ادارہ صحت

Posted by Anonymous on 4:52 PM
عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق اداے یونیسیف نے کہا ہے کہ بہتر غذا اور حفاظتی ٹیکیوں سے دنیا بھر میں نمونیے سے ہلاک ہونے والے لاکھوں بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ دونوں اداروں نے اس جاں لیوا بیماری سے نمٹنے کے لیے ایک نیا ایکشن پلان شروع کیا ہے۔ یہ نئی حکمت عملی نمونیہ پرقابو پانے کے سلسلے میں پہلے بین الاقوامی دن کے موقع پر جاری کی گئی ہے۔ نمونیہ دنیا بھر میں بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہر سال اس بیماری کے باعث پوری دنیا میں پانچ سال سے کم عمر کے لاکھوں بچے لقمئہ اجل بن جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کو کہنا ہے کہ بچوں کی ہر چار اموات میں سے ایک کی وجہ نمونیہ ہوتی ہے۔ یہ شرح ایچ آئی وی ایڈ، ملیریا اور خسرہ، تینوں بیماریوں سے ہلاکت کی شرح سے زیادہ ہے۔ ہر پندرہ سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔ ان اموات میں سے 98 فیصد سے زیادہ 68 ترقی پذیر ملکوں میں ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ان اموات کو کس طرح روکا جا سکتاہے۔ وسائل موجود ہیں صرف ان کے استعمال کی ضرورت ہے۔ دونوں اداروں نے تین مرحلوں پر مبنی ایک گلوبل ایکشن پلان تجویز کیا ہے۔ اس میں نمونیے کا شکار ہونے والے بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے، اس سے بچانے اور اس کے علاج کے لیے حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ نمونیے سے محفوظ رکھنے کے لیے یونیسیف کی سینیر ہیلتھ ایڈوائزر، این گولاز کا کہنا ہے کہ بچوں کے قدرتی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے سلسلے میں مناسب غذائیت کی فراہمی انتہائی اہم ہے خاص طور پر ماں کا دودھ۔ ان کا کہنا ہے کہ غذائیت کی کمی میں مبتلا بچے اور وہ بچے جنہیں اپنی زندگی کے پہلے چھ ماہ میں ماں کا دودھ بالکل میسر نہیں آتا، ان میں نمونیے اور دوسری بیماریوں کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ ماں کے دودھ سے نو زائیدہ بچے کا دفاعی نظام مضبوط ہوتاہے۔ اس لیے اگر اس بارے میں آگہی بڑھائی جائے کہ مائیں اپنے بچوں کو پہلے چھ ماہ کے دوران اپنا دودھ پلائیں اور انہیں اس کےعلاوہ کوئی دوسری ٹھوس یا سیال غذا نہ دی جائے تو اس طرح نمونیے سے ہونے والی 23 فیصد اموات میں کمی کی جاسکتی ہے۔ شمیم قاضی عالمی ادارہ صحت کے بچوں کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ نمونیے کی وجہ بننے والی بیماریوں مثلاً کالی کھانسی اور خسرہ سے بچاؤ میں حفاظتی ٹیکے اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس کے بعد بھی بچے کو نمونیہ ہو جائے تو ہم جانتے ہیں کہ ہم ان بچوں کا علاج کمیونٹی سطح پر، طبی مراکز میں اور اسپتالوں میں مرض کی شدت کے مطابق انتہائی سستی اینٹی بائیوٹک ادویات اوردوسرے طریقوں سے کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت سے ملکوں میں بچوں کو اس بیماری سے بچانے اور اس کے علاج کے سلسلے میں در حقیقت یہ سب انداز اختیار نہیں کیے جا رہے۔ ڈاکٹر قاضی کا کہناہے کہ گلوبل ایکشن پلان کا مقصد تمام متعلقہ حفاظتی ادویات میں سے نوے فیصد تک فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے صحت کے اداروں کا کہناہے کہ اس سے ان 68 ترقی پذیر ملکوںمیں جہاں اس بیماری کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، ان تجویز کردہ اقدامات پر عمل در آمد پر لگ بھگ 39 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔ اداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ رقم بظاہر بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے لیکن اس بات کے پیش نظرکہ ان 39 ارب ڈالر سے 2015 تک بچوں میں نمونیے سے ہونے والی اموات میں 65 فیصد کی کمی ہو جائے گی، یہ رقم در حقیقت زیادہ نہیں ہے

دیوار برلن گرنے کے 20 سال بعد۔۔۔ VOA

Posted by Anonymous on 4:50 PM

تین عشروں تک دیوار برلن سرد جنگ کی علامت بنی رہی۔ اس دیوار نے ایک شہر کو بلکہ پورے ملک کو تقسیم کر رکھا تھا اور پھر بیس برس پہلے نونومبر 1989ء کو یہ دیوار ٹوٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی کمیونسٹ مشرقی جرمنی اور سرد جنگ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ 20 سال پہلے کے واقعات کی ابتدا کیسے ہوئی اورآج کی دنیا میں ان کا کیا مطلب ہے۔
برلن کے نواح میں Glienicke Bridge واقع ہے۔ یہ پُل Havel نامی دریا پر بنا ہوا ہے، اور برلن کو Potsdam کے شہر سے ملاتا ہے۔ پُل کے خوبصورت منظر سے اس کی تاریخ کے تاریک گوشوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سرد جنگ کے عروج کے دور میں اسے جاسوسوں کا پُل کہا جاتا تھا کیوں کہ کمیونسٹ اور مغربی ملکوں کے عہدے دار اسی پُل پر ایک دوسرے کے پکڑے جانے والے جاسوسوں کا تبادلہ کرتے تھے۔
Potsdam کے ایک شہری، Haio Koelling کو قیدیوں کے تبادلے کی داستانیں یاد ہیں ’’جی ہاں قیدیوں کا تبادلہ ٹھیک اسی جگہ ہوتا تھا۔ خفیہ ایجنٹ سب کی نظروں کے سامنے ایک ملٹری چیک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ تک بھیجے جاتے تھے۔ لیکن سویلین باشندوں کے لیئے، تو یہ پُل جیسے تھا ہی نہیں۔ ہمیں قریب جانے کی اجازت نہیں تھی۔ آپ اسے دور فاصلے سے دیکھ سکتے تھے لیکن بیچ میں دیوارِ برلن حائل ہو جاتی تھی‘‘۔
دیوار کی تعمیر کمیونسٹ مشرقی جرمنی کی حکومت نے اگست 1961ء میں شروع کی۔ اس کا مقصد برلن کو دو حصوں میں بانٹنا تھا۔ لیکن دیوار نے بالآخر پورے مغربی برلن کو گھیرے میں لے لیا اور اسے مشرقی برلن اور بقیہ مشرقی جرمنی سے کاٹ دیا۔ ایک اور زیادہ طویل باؤنڈری سے پورا ملک مشرق اور مغرب میں تقسیم ہو گیا۔ یہ دیوار آہنی پردے کی علامت بن گئی یعنی وہ لائن جو مغربی دنیا کو مشرق سے یا سوویت بلاک سے جدا کرتی تھی۔ اس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ور ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ سرد جنگ کہیں سچ مُچ کی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔ برلن کی Free University کے Jochen Staadt کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو معلوم تھا کہ مشرقی جرمنی یعنی GDR کی حالت خراب ہے۔ معیشت تیزی سے نیچے کی طرف جا رہی تھی۔ اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری سیکریٹ سروس کو اس بارے میں بہت کچھ معلوم تھا۔
تبدیلی کی ایک اور علامت 1980 کی دہائی کے وسط میں ظاہر ہوئی جب مخائل گورباچوف نے ماسکو میں عنان اقتدار سنبھالی۔ مسٹر Staadt کا کہنا ہے کہ مسٹر گورباچوف کے آنے کے بعد، ایک انتہائی اہم علامت یہ ظاہر ہوئی کہ سوویت یونین میں لوگوں نے کھلے عام جرمنی کو متحد کرنے کی باتیں شروع کر دیں۔
ماسکو اور مشرقی برلن کے درمیان اختلافِ رائے موجود تھا اور مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ قیادت کے لیے روس کی حمایت کم ہو رہی تھی۔ اِس اختلافِ رائے سے رونلڈ ریگن جیسے لیڈروں نے فائدہ اٹھایا ’’مسٹر گورباچوف ، اس دیوار کو گرا دیجیئے‘‘۔
1987ء میں جب صدر ریگن نے یہ تاریخی الفاظ کہے تو تبدیلی کا عمل شرو ع ہو چکا تھا۔ سوویت بلاک میں اصلاحات کی تحریک زور پکڑ گئی اور 1989ء کی گرمیاں آتے آتے مشرقی جرمنی کے لوگو ں کو مغرب پہنچنے کے لیے ہنگری کا راستہ مِل گیا اور مشرقی جرمنی میں پُر امن احتجاج شروع ہو گئے۔ اگرچہ مغربی ملکوں کے دباؤ کا بھی کچھ اثر ہوا لیکن اہم ترین کردار مخائل گورباچوف نے ادا کیا۔
لندن اسکول آف اکنامکس کے سیاسی تجزیہ کار Michael Cox کہتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ جیسے ہی سوویت یونین، ماسکو، گورباچوف اور Politburo طاقت استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے ساری عمارت آناً فاناً میں نیچے آ پڑے گی اور ہوا بھی یہی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نونومبر کو سارا کھیل ختم ہو جائے گا۔ دیوارِ برلن گِری اور اپنے ساتھ مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت کو بھی لے گئی۔
اس کے بعد کا مرحلہ بھی آسان نہیں تھا۔ یورپ کے نئے ڈھانچے کے بارے میں اور جرمنی کے نئے مقام کے بارے میں پیچیدہ مذاکرات ہوئے۔ لیکن اس پورے عمل میں اہم ترین کردار مخائل گوربا چوف نے ادا کیا۔
جرمنی 1990ء میں متحد ہو گیا اور 1991ء میں سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور سرد جنگ اختتام کو پہنچی۔ ہم ایک بار پھر Glienicke Bridge پر واپس چلتے ہیں اور Haio Koelling سے پوچھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ کمیونسٹ حکومت میں وہ Potsdam کے شہر میں ماہرِ تعمیرات کے طور پر کام کرتے تھے۔ دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد انھوں نے اپنی تعمیراتی کمپنی کھولی۔ اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب بھی وہیں رہتے ہیں جو کبھی پہلے مشرقی جرمنی تھا۔ لیکن اب وہ جب چاہیں Glienicke Bridge پر آ جا سکتے ہیں ۔سب رکاوٹیں، چیک پوائنٹس اور دیواریں ختم ہو چکی ہیں۔

Lawa Against the MINAR میناروں پر پابندی کا مجوزہ قانون

Posted by Anonymous on 4:46 PM

سوئٹزرلینڈ میں میناروں پر پابندی لگانے کے بارے میں ووٹنگ سے تین ہفتے قبل ملک کے کئی حصوں میں مسلمان عام لوگوں کو مسجدوں میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔
مسلمانوں کے مطابق لوگوں کو مسجدوں میں مدعو کرنے سے ان لوگوں میں مساجد کے بارے پائے جانے والے خدشات اور تعصبات کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔
قدامت پسند پارٹی کو سوئس پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے اس نے میناروں کی تعمیر پر پابندی کے بارے قانون پیش کیا ہے۔ اس پارٹی کا کہنا ہےکہ مینار مسلمانوں کی سیاسی قوت کا نشان ہیں۔
عوامی جائزوں کے مطابق میناروں پر پابندی کا مجوزہ قانون ووٹنگ میں رد ہو جائے گا۔
زیورخ میں مسلمانوں کے ایک راہمنا کا کہنا ہے کہ قدامت پرست سوئس پیپلز پارٹی کی طرف سے مجوزہ قانون تعصب پر مبنی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں چار لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان کی دو سو مساجد ہیں جن میں صرف چار کے مساجد کے مینار ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے ایک اور مسلمان رہنما ہشام مرزا نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ غیر مسلمانوں کو مساجد میں مدعو کرنے سے غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگ مساجد میں جا کر بہت خوش ہوئے۔

Free Download :Naseem Hijazi Novel Muhammad bin qasim

Posted by Anonymous on 3:20 PM

You can download the novel of Naseem Hijazi about of muhammad bin qasim: click the link below: Muhammad bin qasim
If you are unable to see this novel you can download tha fixit reader (adob reader) link below: www.skpsoft.tk

Halery Clinton In Lahore Badshahi masjad.

Posted by Anonymous on 1:26 PM
www.hafeez.tk

Hallery Clinton In badshahi masjad lahore. Watch the video of bbc about of hallery visit lahore.
Hallery visited badshahi mosque withe Imam of masjad and 700 security officalles.

’دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان‘ Every 4 man of the world is muslim

Posted by Anonymous on 7:51 PM

یک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے اور ان میں سے ساٹھ فیصد براعظم ایشیا میں رہتے ہیں۔

پیو فورم آن رلیجن اینڈ پبلک لائف کی اس رپورٹ کی تیاری میں تین برس کا عرصہ لگا اور اس دوران دنیا کے دو سو بتیس ممالک اور علاقوں سے مردم شماری کے اعدادوشمار اکٹھے کیے گئے۔

محققین نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے مردم شماری رپورٹس، ڈیموگرافک سٹڈیز اور آبادی کے عام سروے جیسے پندرہ سو ماخذ سے استفادہ کیا۔

اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی کل تعداد کا بیس فیصد مشرقِ وسطٰی اور شمالی افریقہ میں رہتا ہے جبکہ اعداوشمار کے مطابق اس وقت جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں اور روس میں مسلمانوں کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

یہ رپورٹ تیار کرنے والے سینئر محقق برائن گرم نے سی این این کو بتایا ہے کہ ان کے لیے مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد حیران کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ مسلمانوں کی کل تعداد میرے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے‘۔

زیادہ مسلم آبادی والے ملک

انڈونیشیا

پاکستان

انڈیا

بنگلہ دیش

مصر

بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا اور افغانستان میں مسلمانوں کی تعداد قریباً برابر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق تین سو ملین مسلمان ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں اسلام اکثریتی مذہب نہیں ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر امانی جمال کے مطابق ’یہ خیال کہ مسلمان عرب ہیں یا صرف عرب ہی مسلمان ہیں اس رپورٹ کے بعد مکمل طور پر رد ہوجاتا ہے‘۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے دنیا کے کل مسلمانوں میں سے ستاسی سے نوے فیصد سنی العقیدہ جبکہ دس سے تیرہ فیصد شیعہ العقیدہ مسلمان ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر شیعہ ایران، عراق ، پاکستان اور بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔

براعظم یورپ تین کروڑ اڑتیس لاکھ مسلمانوں کا گھر ہے جو کہ یورپ کی کل آبادی کا پانچ فیصد ہیں۔ براعظم امریکہ میں رہنے والےچھیالیس لاکھ مسلمانوں میں سے نصف سے زائد ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتے ہیں تاہم وہ امریکہ کی کل آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔

Black Water Activities in pakistan Are so danger of pakistan

Posted by Anonymous on 10:50 PM
Black water is a organization of usa . whos work in major cities in pakistan .These activities are very dangreous of pakistan. These activities are continued in karachi and islamabad and peshawer .so more information you can watch this video.