Pakistan Cricket Team in Australia 2009/10

1. Salman Butt
2. Khurrum Manzoor
3. Imran Farhat
4. Mohammad Yousuf - (Captain)
5. Misbah-ul-Haq
6. Shoaib Malik
7. Fawad Alam
8. Faisal Iqbal
9. Kamran Akmal - (Vice Captain)
10. Danish Kaneria
11. Saeed Ajmal
12. Umar Gul
13. Mohammad Asif
14. Mohammad Aamer
15. Abdur Rauf
16. Umar Akmal
Mohammad Yousuf has been appointed to continue as Captain of the Team for Tests and ODI series in Australia whereas Kamran Akmal would be his deputy for the Test matches. Shahid Afridi will be the Captain for T20 and would also be the Vice Captain for ODI matches on the Australia series.
Media Department
Terrorist Attack on (ISI) office in Multan .ملتان میں آئ ایس آئ پر حملہ
Juroselm Falisten sy Sahafi Shazeb Jelani. by bbc
http://www.hafeez.tk/ http://www.skpsoft.tk/
معذور افراد کا عالمی دن World Day of Special persons
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں تقریباً دس فیصدلوگ مختلف نوعیت کی معذوری کا شکار ہیں۔
ان افراد کا کہنا ہے کہ انہیں معاشرے یا حکومت سے ہمدردی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کا اعتراف چاہیے جنہیں بروئے کار لا کر یہ ایک کارآبد شہری بن سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے معذور آبادی کے لیے نوکریوں میں اگرچہ دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں معاشرتی ناہمواریوں کا سامنا ہے۔
ملتان میں قوس قزح کے نام سے قائم معذور بچوں کے سینٹر کے ایک گریجوایٹ بریل ٹیچرطاہر شہزاد کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سرکاری ہی نہیں بلکہ نجی شعبے میں بھی روزگار کے حصول میں دشواری ہے۔ طاہر کا کہنا ہے ”اگر ہمارے لیے مقررکردہ دو فیصد نوکریوں کے کوٹے پر ہی مئوثر انداز میں عمل درآمد ہوجائے تو شاید تمام معذور افراد کو روزگار مل جائے گا“۔
اسی سکول کے ایک طالب علم حافظ محمد اویس کے خواب صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ وہ مستقبل میں ایک سیاست دان بننا چاہتے ہیں” میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کوئی ایسا قانون بنائے کہ با صلاحیت معذور افراد اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اپنی آواز اٹھا سکیں“۔
معذور افراد کے لیے چھپنے والے ماہ نامے ” پاکستان سپیشل “کے مدیر فرحت انور نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں معذور لوگوں میں زیادہ تر تعداد جسمانی طور پر معذور افراد کی ہے لیکن ان کے مطابق لمحہ فکریہ یہ ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ شمال مغربی پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے میں دشواری کے باعث اس سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یوں ملک کی مفلوج آبادی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستانی بالر چھا گئےPakistan Win The Day in willingtan
کلِک تفصیلی سکور کارڈ
نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ سکور ٹیلر کا تھا جنہوں نے تیس رن بنائے۔ پاکستان کی طرف سے محمد آصف نے چار، دانش کنیریا نے تین، عمر گل نے دو اور محمد عامر نے ایک وکٹ حاصل کی۔
نیوزی لینڈ کی طرف سے مکنٹاش اور گپتل نے کھیل کا آغاز کیا۔ گپتل بغیر کوئی رن بنائے محمد عامر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ مکنٹاش کو محمد آصف نے چار رن پر آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد عمر گل نے ٹیلر اور فلٹن کو آؤٹ کیا۔
اس کے بعد جب ٹیم کا کل سکور پچاسی تھا فلِن اور مکلم کو محمد آصف نے آؤٹ کر دیا۔ نیوزی لینڈ کی ساتویں وکٹ پچانوے رن پر گری جب ایلیٹ کنیریا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ چھیانوے کے سکور پر پھر دانش کنیریا نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ آخری وکٹ محمد آصف کے حصے میں آئی۔
پاکستان کی طرف سے کامران اکمل نے سب سے زیادہ ستر رن بنائے۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے وٹوری اور ٹفی نے چار چار اور او برائن نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔
پاکستان کی ٹیم: عمران فرحت، سلمان بٹ، محمد یوسف، شعیب ملک، عمر اکمل، کامران اکمل، مصباح الحق، محمد عامر، عمر گل، محمد آصف اور داشن کنیریا۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم: میکنٹاش، گپتل، فلِن، ٹیلر، فلٹن، ایلیٹ، مکلم، وٹوری، اوبرائن، ٹفی اور سی مارٹن۔
محمد یوسف نئے پاکستانی کپتان

گزشتہ چند ماہ میں یونس خان کی بطور بیٹسمین اور کپتان ناقص کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی نائب کپتان شاہد آفریدی کے ساتھ چپقلش نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یونس خان کے ساتھ ساتھ نائب کپتان شاہد آفریدی کو بھی ان کے عہدے سے فارغ کردیاہے ۔
پاکستانی ٹیم ان دنوں ابوظہبی میں ہے جہاں نیوزی لینڈ کے ساتھ پہلا ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میچ جمعرات کو کھیلے گی ۔بعد ازاں ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قومی ٹیم نیوزی لینڈ روانہ ہوجائے گی۔ اس سے قبل تین ایک روزہ میچوں کی سیریز نیوزی لینڈ دو،ایک سے جیت چکاہے۔
چین:طلباء کے بوسہ دینے پر ’پابندی‘ China

نین جنگ فارسٹری یونیورسٹی میں بنائی جانے والی ان ٹیموں کا کام ایسے طلبا و طالبات پر نظر رکھنا ہے جو یا ایک دوسرے کے گلے لگیں، بوسہ دیں یا پھر نہایت قریب قریب بیٹھے ہوں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یونیورسٹی کے ’ماحول کو صاف ستھرا بنانے میں مددگار ثابت ہوگا‘۔ ان معائنہ ٹیموں کی سربراہی یونیورسٹی کے اساتذہ کر رہے ہیں اور ان میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے والے طلباء بھی شامل ہیں جو دو دو گھٹنے کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔
یونیورسٹی کے بلیٹن بورڈ پر ایک طالبہ کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغام کے مطابق وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ہمراہ یونیورسٹی میں موجود تھی کہ ایسی ہی ایک معائنہ ٹیم کی نظر ان پر پڑی اور اس کے بعد ٹیم کا ایک رکن ان دونوں کے عقب میں آ کھڑا ہوا اور اس وقت تک کھانستا رہا جب وہ دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے نہ گئے۔
دیگر شکایات میں یونیورسٹی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ نوجوان جوڑوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنا وقت ادارے کے انتظام میں صرف کرے۔ طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس خبر کے عام ہونے کے بعد شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گوئی یا نامی ایک طالبعلم نے بلیٹن بورڈ پر لکھا ہے کہ ’ یہ خبر انٹرنیٹ پر پھیل رہی ہے اور یہ ایسا ہے کہ آپ کو کسی عوامی مقام پر برہنہ کر دیا جائے‘۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ معائنہ ٹیموں میں شامل رضاکار طلباء اگر صرفِ نظر سے کام لیتے ہیں تو خود انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے تاہم اس اطلاع کی تصدیق کے لیے جب یونیورسٹی حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی تو رابطہ نہیں ہو سکاBBC۔
کائنات کا دور ترین ستارہ دریافت

دنیا بھر میں ہر پندرہ سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیے سے ہلاک ہو جاتا ہے : عالمی ادارہ صحت
دیوار برلن گرنے کے 20 سال بعد۔۔۔ VOA
برلن کے نواح میں Glienicke Bridge واقع ہے۔ یہ پُل Havel نامی دریا پر بنا ہوا ہے، اور برلن کو Potsdam کے شہر سے ملاتا ہے۔ پُل کے خوبصورت منظر سے اس کی تاریخ کے تاریک گوشوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سرد جنگ کے عروج کے دور میں اسے جاسوسوں کا پُل کہا جاتا تھا کیوں کہ کمیونسٹ اور مغربی ملکوں کے عہدے دار اسی پُل پر ایک دوسرے کے پکڑے جانے والے جاسوسوں کا تبادلہ کرتے تھے۔
Potsdam کے ایک شہری، Haio Koelling کو قیدیوں کے تبادلے کی داستانیں یاد ہیں ’’جی ہاں قیدیوں کا تبادلہ ٹھیک اسی جگہ ہوتا تھا۔ خفیہ ایجنٹ سب کی نظروں کے سامنے ایک ملٹری چیک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ تک بھیجے جاتے تھے۔ لیکن سویلین باشندوں کے لیئے، تو یہ پُل جیسے تھا ہی نہیں۔ ہمیں قریب جانے کی اجازت نہیں تھی۔ آپ اسے دور فاصلے سے دیکھ سکتے تھے لیکن بیچ میں دیوارِ برلن حائل ہو جاتی تھی‘‘۔
دیوار کی تعمیر کمیونسٹ مشرقی جرمنی کی حکومت نے اگست 1961ء میں شروع کی۔ اس کا مقصد برلن کو دو حصوں میں بانٹنا تھا۔ لیکن دیوار نے بالآخر پورے مغربی برلن کو گھیرے میں لے لیا اور اسے مشرقی برلن اور بقیہ مشرقی جرمنی سے کاٹ دیا۔ ایک اور زیادہ طویل باؤنڈری سے پورا ملک مشرق اور مغرب میں تقسیم ہو گیا۔ یہ دیوار آہنی پردے کی علامت بن گئی یعنی وہ لائن جو مغربی دنیا کو مشرق سے یا سوویت بلاک سے جدا کرتی تھی۔ اس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ور ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ سرد جنگ کہیں سچ مُچ کی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔ برلن کی Free University کے Jochen Staadt کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو معلوم تھا کہ مشرقی جرمنی یعنی GDR کی حالت خراب ہے۔ معیشت تیزی سے نیچے کی طرف جا رہی تھی۔ اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری سیکریٹ سروس کو اس بارے میں بہت کچھ معلوم تھا۔
تبدیلی کی ایک اور علامت 1980 کی دہائی کے وسط میں ظاہر ہوئی جب مخائل گورباچوف نے ماسکو میں عنان اقتدار سنبھالی۔ مسٹر Staadt کا کہنا ہے کہ مسٹر گورباچوف کے آنے کے بعد، ایک انتہائی اہم علامت یہ ظاہر ہوئی کہ سوویت یونین میں لوگوں نے کھلے عام جرمنی کو متحد کرنے کی باتیں شروع کر دیں۔
ماسکو اور مشرقی برلن کے درمیان اختلافِ رائے موجود تھا اور مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ قیادت کے لیے روس کی حمایت کم ہو رہی تھی۔ اِس اختلافِ رائے سے رونلڈ ریگن جیسے لیڈروں نے فائدہ اٹھایا ’’مسٹر گورباچوف ، اس دیوار کو گرا دیجیئے‘‘۔
1987ء میں جب صدر ریگن نے یہ تاریخی الفاظ کہے تو تبدیلی کا عمل شرو ع ہو چکا تھا۔ سوویت بلاک میں اصلاحات کی تحریک زور پکڑ گئی اور 1989ء کی گرمیاں آتے آتے مشرقی جرمنی کے لوگو ں کو مغرب پہنچنے کے لیے ہنگری کا راستہ مِل گیا اور مشرقی جرمنی میں پُر امن احتجاج شروع ہو گئے۔ اگرچہ مغربی ملکوں کے دباؤ کا بھی کچھ اثر ہوا لیکن اہم ترین کردار مخائل گورباچوف نے ادا کیا۔
لندن اسکول آف اکنامکس کے سیاسی تجزیہ کار Michael Cox کہتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ جیسے ہی سوویت یونین، ماسکو، گورباچوف اور Politburo طاقت استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے ساری عمارت آناً فاناً میں نیچے آ پڑے گی اور ہوا بھی یہی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نونومبر کو سارا کھیل ختم ہو جائے گا۔ دیوارِ برلن گِری اور اپنے ساتھ مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت کو بھی لے گئی۔
اس کے بعد کا مرحلہ بھی آسان نہیں تھا۔ یورپ کے نئے ڈھانچے کے بارے میں اور جرمنی کے نئے مقام کے بارے میں پیچیدہ مذاکرات ہوئے۔ لیکن اس پورے عمل میں اہم ترین کردار مخائل گوربا چوف نے ادا کیا۔
جرمنی 1990ء میں متحد ہو گیا اور 1991ء میں سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور سرد جنگ اختتام کو پہنچی۔ ہم ایک بار پھر Glienicke Bridge پر واپس چلتے ہیں اور Haio Koelling سے پوچھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ کمیونسٹ حکومت میں وہ Potsdam کے شہر میں ماہرِ تعمیرات کے طور پر کام کرتے تھے۔ دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد انھوں نے اپنی تعمیراتی کمپنی کھولی۔ اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب بھی وہیں رہتے ہیں جو کبھی پہلے مشرقی جرمنی تھا۔ لیکن اب وہ جب چاہیں Glienicke Bridge پر آ جا سکتے ہیں ۔سب رکاوٹیں، چیک پوائنٹس اور دیواریں ختم ہو چکی ہیں۔
Lawa Against the MINAR میناروں پر پابندی کا مجوزہ قانون

مسلمانوں کے مطابق لوگوں کو مسجدوں میں مدعو کرنے سے ان لوگوں میں مساجد کے بارے پائے جانے والے خدشات اور تعصبات کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔
قدامت پسند پارٹی کو سوئس پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے اس نے میناروں کی تعمیر پر پابندی کے بارے قانون پیش کیا ہے۔ اس پارٹی کا کہنا ہےکہ مینار مسلمانوں کی سیاسی قوت کا نشان ہیں۔
عوامی جائزوں کے مطابق میناروں پر پابندی کا مجوزہ قانون ووٹنگ میں رد ہو جائے گا۔
زیورخ میں مسلمانوں کے ایک راہمنا کا کہنا ہے کہ قدامت پرست سوئس پیپلز پارٹی کی طرف سے مجوزہ قانون تعصب پر مبنی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں چار لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان کی دو سو مساجد ہیں جن میں صرف چار کے مساجد کے مینار ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے ایک اور مسلمان رہنما ہشام مرزا نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ غیر مسلمانوں کو مساجد میں مدعو کرنے سے غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگ مساجد میں جا کر بہت خوش ہوئے۔
Free Download :Naseem Hijazi Novel Muhammad bin qasim


You can download the novel of Naseem Hijazi about of muhammad bin qasim: click the link below: Muhammad bin qasim
Halery Clinton In Lahore Badshahi masjad.
’دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان‘ Every 4 man of the world is muslim

یک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے اور ان میں سے ساٹھ فیصد براعظم ایشیا میں رہتے ہیں۔
پیو فورم آن رلیجن اینڈ پبلک لائف کی اس رپورٹ کی تیاری میں تین برس کا عرصہ لگا اور اس دوران دنیا کے دو سو بتیس ممالک اور علاقوں سے مردم شماری کے اعدادوشمار اکٹھے کیے گئے۔
محققین نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے مردم شماری رپورٹس، ڈیموگرافک سٹڈیز اور آبادی کے عام سروے جیسے پندرہ سو ماخذ سے استفادہ کیا۔
اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی کل تعداد کا بیس فیصد مشرقِ وسطٰی اور شمالی افریقہ میں رہتا ہے جبکہ اعداوشمار کے مطابق اس وقت جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں اور روس میں مسلمانوں کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔
یہ رپورٹ تیار کرنے والے سینئر محقق برائن گرم نے سی این این کو بتایا ہے کہ ان کے لیے مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد حیران کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ مسلمانوں کی کل تعداد میرے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے‘۔
زیادہ مسلم آبادی والے ملک
انڈونیشیا
پاکستان
انڈیا
بنگلہ دیش
مصر
بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا اور افغانستان میں مسلمانوں کی تعداد قریباً برابر ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق تین سو ملین مسلمان ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں اسلام اکثریتی مذہب نہیں ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر امانی جمال کے مطابق ’یہ خیال کہ مسلمان عرب ہیں یا صرف عرب ہی مسلمان ہیں اس رپورٹ کے بعد مکمل طور پر رد ہوجاتا ہے‘۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے دنیا کے کل مسلمانوں میں سے ستاسی سے نوے فیصد سنی العقیدہ جبکہ دس سے تیرہ فیصد شیعہ العقیدہ مسلمان ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر شیعہ ایران، عراق ، پاکستان اور بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔
براعظم یورپ تین کروڑ اڑتیس لاکھ مسلمانوں کا گھر ہے جو کہ یورپ کی کل آبادی کا پانچ فیصد ہیں۔ براعظم امریکہ میں رہنے والےچھیالیس لاکھ مسلمانوں میں سے نصف سے زائد ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتے ہیں تاہم وہ امریکہ کی کل آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
Black Water Activities in pakistan Are so danger of pakistan
Fight between Kashmala Tariq and Dr Firdous Ashiq Awan
This video you can wtch with real player .May be you need to install the Real player.you can install the real player this website link below:
http://www.skpsoft.tk/
فیس بک کی وجہ سے’بیمار‘ کی نوکری گئی

سوئٹرزلینڈ میں ایک آجر نے بیماری کی رخصت پر گئی ہوئی خاتون ملازم کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر موجود پا کر نوکری سے نکال دیا ہے۔
یہ خاتون جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اپنے دفتر سے بیماری کی وجہ سے رخصت پر تھیں اور اپنی درخواست میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اتنی بیمار ہیں کہ کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتیں۔
ئہ خاتون نیشنل سوئس نامی کمپنی کی ملازم تھیں اور انہوں نے سردرد کی وجہ سے یہ کہہ کر چھٹی لی تھی کہ انہیں ایک تاریک کمرے میں لیٹنے کو کہا گیا ہے۔ نیشنل سوئس کمپنی کے مطابق ان کی ملازمہ نے کمپنی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور یہی ان کی برخاستگی کی وجہ بنی۔
کمپنی کے مطابق جو شخص میگرین کا مریض ہوتے ہوئے فیس بک استعمال کر سکتا ہے وہ نوکری بھی کر سکتا ہے۔
تاہم اس خاتون نے ایک سوئس اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بےقصور ہے۔ باسل سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے کہا کہ وہ اپنے بستر پر لیٹ کر اپنے آئی فون کی مدد سے انٹرنیٹ چلا رہی تھی۔ خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے ان کی جاسوسی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ایک جعلی فیس بک آئی ڈی بنا کر انٹرنیٹ پر اس کی مصروفیات کی جاسوسی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ شک اس وقت ہوا جب انہیں نوکری سے نکالے جانے کے بعد ان کا ایک دوست اچانک فیس بک سے غائب ہوگیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ دفتری معاملات میں فیس بک کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہوا ہو۔ جہاں کچھ کمپنیوں نے دفتر میں فیس بک پر پابندی لگائی ہے وہیں کچھ کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو اس بنیاد پر نوکری سے برخاست کیا ہے کہ انہوں نے کمپنی نے بارے میں فیس بک پر اپنے خیالات ظاہر کیے تھے۔
پانچ سوگیگا بائٹ کی ڈسک تیار

امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک نے ایک ایسی ڈسک تیار کرنے کا دعوٰی کیا ہے جس پر پانچ سو گیگا بائٹ یا سو ڈی وی ڈیز کے برابر ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
اس مائیکرو ہولوگرافک ڈسک کا حجم ایک عام ڈی وی ڈی کے برابر ہے اور اسے بنیادی طور پر ’آرکائیو‘ مقاصد کے تیار کیا گیا ہے۔
تاہم امریکی کمپنی کا ماننا ہے کہ عام کمپیوٹر صارفین بھی یہ ڈسک استعمال کریں گے۔ اس وقت ہائی ڈیفینیشن فلموں اور گیمز کے لیے مارکیٹ میں موجود بلیو رے ڈسکس پر پچیس سے پچاس گیگا بائٹ ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
مائیکرو ہولوگرافک ڈسکس ایک عام ڈی وی ڈی یا بلیو رے ڈسک کے مقابلے میں زیادہ ڈیٹا اس لیے محفوظ کر پاتی ہیں کیونکہ ان پر معلومات سہ رخی انداز میں محفوظ ہوتی ہیں۔
مائیکرو ہولوگرافک ڈسکس ایک عام ڈی وی ڈی یا بلیو رے ڈسک کے مقابلے میں زیادہ ڈیٹا اس لیے محفوظ کر پاتی ہیں کیونکہ ان پر معلومات سہ رخی انداز میں محفوظ ہوتی ہیں۔جنرل الیکٹرک کے برائن لارنس کے مطابق ’حال ہی میں جنرل الیکٹرک ٹیم نے ایسے عناصر کی تیاری کے حوالے سے ڈرامائی کامیابی حاصل کی ہے جن کی مدد سے ہولوگرامز سے منعکس ہونے والی روشنی کی مقدار میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے‘۔ خیال رہے کہ ڈسک پر ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت کا دارومدار ہولوگرام سے روشنی کے انعکاس پر ہوتا ہے۔
اب جنرل الیکٹرک کو ڈسک پلیئرز بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کرنا ہو گا تاکہ یہ ڈسک چلانے کے لیے مشین تیار کی جا سکے۔ کمپنی کے مطابق اس ڈسک کو چلانے کے لیے جن ہولوگرافک پلیئرز کی ضرورت ہوگی ان پر باآسانی سی ڈی، ڈی وی ڈی اور بلیو رے ڈسک بھی چلائی جا سکے گی اور یہی اس نئی ڈسک کی مقبولیت کی اہم وجہ بن سکتی ہے
bbc۔
اوبامہ کی باحجاب مشیر

امریکی تاریخ میں پہلی بار وائٹ ہاؤس میں ایک مسلمان خاتون کو مذاہب پر مشاورت کی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ہے جسے امریکی میڈیا کا ایک حصہ امریکی صدر کے مشیروں میں پہلی ححاب اوڑھنے والی خاتون کی شمولیت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
امریکی صدر براک اوبامہ کی بیورو آف ریلیجن اینڈ نیبرہوڈ پارٹنرشپس کی پچیس رکنی کونسل میں شامل کی گئي مصری نژاد امریکی خاتون کا نام دالیہ مجاہد ہے جن کا خاندان تیس برس قبل مصر سے آ کر امریکہ میں آباد ہوا تھا۔
دالیہ مجاہد معرف سرویئرز اور تحقیقی ادارے گیلپ کے اسلامک سٹڈیز سینٹر کی سربراہ ہیں اور امریکی میڈیا خاص طور الیکٹرانک میڈیا اور تھنک ٹینکس میں اسلام اور مسلمانوں کے حق میں معتدل لیکن مدلل بات چیت کے بار ے میں جانی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ان کی پینتیس مسلم ممالک میں تحقیق و جائزے پر مبنی کتاب ’ہو سپیکس فار مسلمز؟‘ یا ’مسلمانوں کیلیے کون بولے گا‘ کے عنوان سے شائع ہوئي ہے۔
مصری اخبار 'الااہرام‘ کے نیویارک میں نمائندے اور مصری و عرب سماجیات کے تجزیہ نگار طارق فتی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دالیہ مجاہد کی وائٹ ہاؤس میں تقرری نہ صرف ایک اہم واقعہ ہے بلکہ ان کی تقرری اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل میں موجودہ امریکی انتظامیہ کتنی دلچسپی لے رہی ہے۔ طارق قتی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ دالیہ مجاہد کا اصل کام امریکہ کو عالمی اور مقامی سطح پر دنیا اور امریکہ کے عام مسلمانوں کے مسائل اور حالات پر واقف حال کرنا ہے جیسے بقول دالیہ مجاہد 'گيارہ ستمبر کے بعد مسمانوں کو مصبیت بنا کر پیش کیا گيا ہے‘۔
خیال رہے کہ صدر اوبامہ کی انتظامیہ اور مشیروں میں دالیہ پہلی مسمان نہیں ہیں بلکہ مسلم امور پر مشاورت کیلیے صدر اوبامہ کی انتظامیہ میں اور بھی مسلمان مشیر شامل ہیں جن میں امریکی صدر کے افغانستان اور پاکستان پر مشیر رچرڈ ہالبروک کی ٹیم میں شامل مشہور محقق و عالم ڈاکٹر ولی نصر بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر ولی نصر کا تعلق ایران سے ہے او وہ ہمعصر اسلامی تاریخ اور سماجیات و سیاسات پر اتھارٹی مانے جاتے ہیں
bbc۔






