کراچی میں صرف پانچ فیصد خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی

Posted by Anonymous on 8:39 PM

ایک صحت مند معاشرہ اس وقت تشکیل پاتا ہے جب اس میں رہنے والا ہر فرد متحرک ہو ۔ معاشرے کی فلا ح و بہبود کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی یہ تحریک علم و آگہی ، یکساں مواقع او ر وسائل کے صحیح تعین سے ملتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال مختلف ہے ۔ یہاں تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں ۔ معاشی و معاشرتی حدبندیوں کے سبب مواقع محدود ۔ وسائل بے شمار لیکن اخلاص کی قلت اور وژن۔۔۔ ناقص۔ پاکستان کی 51فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن بیشتر تعلیم سے محروم ہونے کے سبب اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ دیہی علاقے تو ایک طرف شہری علاقوں میں بھی خواندگی کی صورتحال حوصلہ افزانہیں۔ اس کا بخوبی اندازہ کراچی میں قائم ایک نجی یونی ورسٹی ”اقراء“ کے شعبہ پی ایچ ڈی کی سربراہ ڈاکٹر زائرہ وہاب کی اس تحقیق سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صرف 5 فیصد خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی ہے اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی ان میں سے صرف دو فیصد کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔

اگرچہ ڈاکٹرزائرہ وہاب نے یہ تحقیق 2006 ء میں مرتب کی تھی لیکن وہ ہر سال اسے اپ ڈیٹ کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دوران کالجوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن کہیں آرٹس ہے تو کہیں کامرس نہیں اور کامرس ہے تو کہیں سائنس نہیں۔ اسٹاف اور ڈپارٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی تعلیمی اداروں میں خواتین کی نمائندگی کم و بیش وہی ہے۔


ڈاکٹرزائرہ وہاب

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زائرہ نے اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ غربت ، معاشرتی روایات ، بنیاد پرستی ، سماجی رکاوٹیں ، قول و فعل میں تضاف جیسے عناصر سمیت حکومت کی عدم توجہی بھی ایک وجہ ہے۔ بلند و بانگ دعووٴں کے با وجود ہم بحیثیت قوم آج تک یہ تعین ہی نہیں کر سکے کہ ہم اپنی خواتین کو کیسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی اقتصادی آزادی حاصل کر سکتی ہیں لیکن اپنی تحقیق کے دوران میں نے یہ دیکھا کہ اعلیٰ تعلیم ایک خاص طبقے تک ہی محدود ہے اس لیے غریب گھرانے کی لڑکیاں نہ تو اقتصادی طور پر خود مختار ہوتی ہیں اور نہ ان میں انفرادیت ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ پھر نسل در نسل چلتا ہے ۔ جب کہ خوشحال گھرانوں کی خواتین تعلیم کے بعد ملک چھوڑ کے چلی جاتی ہیں یا پھر ان کو کام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور تبدیلی ان کے لیے اتنی معنی بھی نہیں رکھتی ۔ مسئلہ درمیانے اور غریب طبقے کی خواتین کا ہے جنہیں خود انحصار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غربت سے لڑ سکیں۔

جامعات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مختلف شعبوں میں تیزی سے قدم رکھتی خواتین کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے پبلک سیکٹر میں واحد ادارہ جامعہ کراچی ہے۔ وہاں خواتین کی نمائندگی مردوں سے زیادہ ہے مگر غریب طبقے کی خواتین وہاں بھی نہیں۔ دوسرا وہاں بیشتر خواتین سوشل سائنسز سے منسلک ہیں اور مارکیٹ میں ان کے لیے کوئی جاب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین مسابقتی میدانوں میں نہیں آتیں جیسا کہ منجمنٹ سائنسز ، قانون ، انجینئرنگ ۔ ان شعبوں میں آکر درمیانے اور غریب طبقے کی خواتین براہ راست ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ مگر ان کے لیے مواقع نہیں۔ نجی جامعات میں فیس اتنی زیادہ ہے کہ ادائیگی ان کے بس سے باہر ہے۔



وہ کہتی ہیں کہ بحیثیت قوم ہماری منزل اور مقاصد واضح نہیں ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس مین پاور پلاننگ ہونی چاہیے کہ کس شعبے میں کتنے لوگو ں کی ضرورت ہے اور کون سے لوگ کہاں ہوں۔ وہ جگہیں جہاں خواتین زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں ان کے لیے مخصوص کوٹے مقرر کیے جائیں۔ اگر وسائل نہیں اور لوگ اپنی بیٹیوں کو نہیں بھیجتے تو حکمت عملی مرتب کی جائے ۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے علاوہ خواتین کو پرائمری کی سطح پر بھی تعلیم کے حصول کے لئے صورتحال حوصلہ افزاء نہیں۔حکومت سندھ کے ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان ایسے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔صرف سندھ میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 50 فیصد ہے جبکہ کچھ علاقوں میں یہ شرح 72 فیصد ہے۔

پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ڈاکٹر زائرہ کے مطابق میڈیا کا کردار ، مواقع اور لٹریسی ریسورس سینٹر کا قیام بہت اہم ہے۔ بھارت کی صرف ایک ریاست چنائے میں چھبیس ریسورس سینٹر ہیں جہاں نہ صرف بچوں کی کاوٴنسلنگ ہوتی ہے بلکہ ان کے والدین کی بھی جبکہ کراچی میں ہم نے ایک کے بارے میں بھی نہیں سنا ۔ ساتھ ہی یہاں کالجوں میں تعلیم کو ہنر کے ساتھ مشروط کرنا چاہئے تاکہ لوگ تعلیم کی جانب راغب ہوں اورپچاس فیصد ضائع ہونے والے انسانی وسائل سے ملک استفادہ کر سکے ۔

sheikhupura news: دبئی میں شاہد آفریدی کے فین

Posted by Anonymous on 4:12 PM

دبئی میں شاہد آفریدی کے فین

Posted by Anonymous on 1:17 PM
دبئی کے سپورٹس سٹی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک روزہ میچ دیکھنے کے لئے آنے والے ہزاروں تماشائیوں میں ایک بڑی تعداد پشتو بولنے والے کرکٹ شائقین کی ہے جن میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ وہ صرف شاہد آفریدی کی باؤلنگ اور بیٹنگ دیکھنے آئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کرکٹ سیریز کے افتتاحی میچ کے 'میں آف دی میچ' شاہد آفریدی کراچی کے پشتون خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

دبئی اور اسکے گرد عرب ریاستوں میں بڑی تعداد میں پشتو بولنے والے روزگار کی غرض سے رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر محنت مزدوری یا ٹیکسی چلانے کا کام کرتے ہیں۔

میچ شروع ہونے سے قبل سٹیڈیم کے اندر آنے کے لئے طویل قطار میں کھڑے ہنگو کے ناصراللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شاہد آفریدی کو بہت پسند کرتے ہیں اور انہی کی کارکردگی دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔ پشاور کے محب نے کہا کہ 'کھیلتے تو سب ہی اچھا ہیں لیکن آفریدی کے ایکشن کا جواب نہیں'۔

کوہاٹ کے نور نواز نے کہا کہ وہ شاہد آفریدی کے باؤلنگ ایکشن سے بہت متاثر ہیں۔'میں بہت دن سے شاہد آفریدی کو ٹی وی پر دیکھتا رہا ہوں۔ آج اسے لائیو دیکھنے کا پہلی بار موقع ملے گا'۔

پشاور کے گل محمد نے کہا کہ انہوں نے دبئی میں گزشتہ میچ بھی دیکھا تو اور آج انکا میچ دیکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ 'لیکن آفریدی نے ایسا جادو چلایا کہ یں آج بھی چھٹی لیکر یہ میچ دیکھنے آگیا'۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز دبئی میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عام پبلک کے لئے مخصوص نشستوں کے تمام ٹکٹ میچ سے پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے جبکہ پچیس ہزار گنجائش کے اس گراؤنڈ میں وی آئی پی باکس کے چند ٹکٹ رہ گئے ہیں۔

فحاشی کے الزام کی تردید

Posted by Anonymous on 1:11 PM


لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو ایڈوکیٹ آصف محمود کی ایک درخواست پر دو گلو کاراؤں نصیبو لال اور نوراں لال کے مبینہ طور پر فحش گانوں پر پابندی عائد کر دی تھی اور دونوں کو پچیس مئی کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

نصیبو لال کے گانوں پر پابندی


درخواست گزار نے عدالت کو کہا تھا کہ یہ دونوں بہنیں نصیبو لال اور نوراں لال فحش گانے گاتی ہیں اور ان کے ان گانوں پر پابندی عائد کی جائے۔

اس عدالتی حکم پر ان دونوں کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم بارہا کوشش کے باوجود نصیبو لال سے رابطہ نہ ہو سکا، البتہ نوراں لال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو خود ہمیشہ فحش گانوں کی مخالفت کی ہے اور وہ ایسے گانے نہیں گاتیں جو مخرب اخلاق ہوں۔


نوراں لال کا کہنا ہے کہ ان کا تو نصیبو لال سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔


نوراں لال نے کہا کہ ان کے گانے ایسے ہوتے ہیں جو خاندان کے مرد اور عورتیں اکٹھے بیٹھ کر سنتے ہیں اسی لیے انہیں شادی بیاہ اور دیگر نجی تقریبات پر گانا گانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔


نوراں لال نے کہا کہ ان کا نام ویسے ہی ساتھ شامل کر لیا گیا ہے اور کسی اور کے قصور کے سبب وہ بھی ملزم بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے تو یہ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔


نوراں لال نے کہا کہ وہ بہت کم فلمی گانے گاتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ صرف اسی گانے کو گانے کی پیشکش قبول کرتی ہیں جو اچھا ہو اور فحش گانے کی پیشکش ٹھکرا دیتی ہیں۔


نوراں لال نے کہا کہ کافی گانے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے بول اتنے خراب نہیں ہوتے لیکن ان گانوں پر رقص کرنے والی خواتین کی حرکات و سکنات انہیں فحش بنا دیتی ہیں۔


نوراں لال کے شوہر شفیق بٹ نے بھی کہا کہ یہ نوراں لال پر سراسر الزام ہے کہ وہ اخلاق سے گرے ہوئے گانے گاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان اکتالیس گانوں کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں فحش قرار دے کر پابندی لگائی گئی ہے، اس کے بعد وہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیاری کریں گے۔

بشکریہ بی بی سی

دنیا کے بڑے دریا ’سوکھ رہے ہیں

Posted by Anonymous on 12:15 PM

امریکی محققین کے مطابق گزشتہ پچاس برس میں دنیا کے اہم ترین دریاؤں میں پانی کی سطح میں قابلِ ذکر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

محققین اس کمی کا تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی دنیا کی تیزی سے بڑھتی آبادی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

یہ تحقیق امریکی میٹیورولاجیکل سوسائٹی کے جریدے میں شائع کی گئی ہے۔.

اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے نو سو سے زائد دریاؤں کا جائزہ لیا اور ان کے مطابق چین کے زرد دیا سے لے کر بھارتی گنگا اور وہاں سے امریکہ کے دریائے کولاراڈو تک دنیا کے لیے میٹھے پانی کے ذخائر میں واضح کمی دیکھی جار ہی ہے۔

دنیا میں جس خطے میں پانی کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا ہے وہ انٹارکٹک ہے جہاں گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے پانی کی سطح بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیا میں دریائے برہم پتر اور چین میں ینگزے دریا میں پانی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کی وجہ بھی سائنسدانوں نے ہمالیہ کے گلیشیئرز کا پگھلنا قرار دیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق دریاؤں سے سمندر میں جانے والے پانی کی مقدار میں بھی کمی آ رہی ہے اور اس کمی کی وجہ ڈیموں کی تعمیر اور زرعی مقاصد کے لیے پانی کا رخ موڑنا شامل ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ سب ثانوی وجوہات ہیں اور سب سے اہم وجہ درجۂ حرارت میں اضافے جیسی ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف بارشوں کے نمونے بدل گئے ہیں بلکہ عملِ تبخیر بھی تیز ہوگیا ہے۔

مائیکرو سافٹ کی سیلز میں کمی

Posted by Anonymous on 12:13 PM


مائیکرو سافٹ نے کہا ہے کہ اس کی تیئس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ سن دو ہزار نو کے پہلے تین مہینوں میں اس کی سیلز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی نے کہا کہ اس کے منافع میں بتیس فصید کمی ہوئی ہے۔

مائیکرو سافٹ کو زیادہ تر منافع اس کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کی فروخت سے ہوتا ہے۔

تاہم ونڈوز کی مانگ میں کمی کمپیوٹروں کی فروخت کم ہونے سے ہوئی ہے۔

کمپنی کے چیف فائننشل آفیسر کرس لڈل نے کہا کہ انہیں اگلی سہ ماہی میں بھی سیلز میں بہتری کی توقع نہیں ہے۔

مائیکرو سافٹ جو انیس سو چھیاسی میں پبلک کمپنی بنی تھی اب خرچے کم کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے منافع میں کمی ماہرین کی توقع سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

شمالی کوریہ : امریکی صحافیوں پر مقدمہ

Posted by Anonymous on 12:11 PM

شمالی کوریہ کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ خبر شائع کی ہے کہ جن دو امریکی صحافیوں کو شمال کوریا اور چین کی سرحد کے نزدیک گرفتار کیا گیا تھا ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

کوریائی امریکی یونا لی اور چینی امریکی لورا لنگ کرنٹ ٹی وی کی ملازم ہیں اور انہیں سترہ مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

شمال کوریا کا کہنا ہے کہ ان صحافیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ تفتیشی رپورٹ آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ حالانکہ اب تک یہ واضح نہيں ہے کہ ان لوگوں کے خلاف کن الزامات کے تحت مقدہ چلایا گیا ہے۔

شمالی کوریہ کا کے مطابق دونوں خواتین غیر قانونی طریقے سے چین کے راستے سرحد پار کر کے ملک میں داخل ہوئی تھیں۔

کے سی این اے کے مطابق " ہماری جانب سے ان کے جرم کی تفتیش کے بعد دو امریکی صحافیوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔"

اس سے قبل سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ صحافیوں پر ملک دشمنی اور ملک میں غیر قانونی داخلے کے تحت مقدمہ چلائے گی۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اگر یہ خواتین قصوروار ثابت ہو جاتی ہیں تو ان ہیں کم از کم پانچ برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایسا مانا جا رہا ہے کہ یہ صحافی چین کی سرحد کی طرف تھیں جب شمالی کوریا کے گارڈز نے انہيں گرفتار کر لیا اور انہیں شمالی کوریا لے گئے، حالانکہ شمال کوریا اس کی تردید کرتا ہے۔

اس وقت یہ صحافی کمیونسٹ شمالی کوریا سے بھاگنے والے پناہ گزینوں سے متعلق ایک سٹوری پر کام کر رہیں تھی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پہ ہوا ہے جب شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ یہ کشیدگی شمالی کوریا کے اس اعلان سے متعلق ہے کہ وہ آٹھ اپریل کو خلا میں ایک سیٹلائٹ چھوڑے گا۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ ایک مواصلاتی سیٹلائٹ ہے لیکن کچھ دفاعی مبصرین نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ در اصل کمیونسٹ حکومت والا ملک دور مار میزائل کا تجربہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ اور خطے کے کئی ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شمالی کوریا نے حال میں اپنی فوج کو مکمل جنگی تیاری کا حکم دیا تھا اور جنوبی کوریا کے ساتھ سرحد کو بھی بند کر دیا تھا۔
bbe

دنیا میں ہر سال پچاس لاکھ افراد کو سانپ ڈس لیتے ہیں

Posted by Anonymous on 9:22 PM
دنیا بھرمیں ہر سال پچاس لاکھ افراد ، جن میں سے بیشترایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں، سانپ کے کاٹے کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ہزاروں ہلاک ہو جاتے ہیں یا مستقل طور پرمعذور ہو جاتے ہیں ۔ غریب ملکوں میں زہر کے علاج کی ادویات کی قلت کے باعث بے شمار کاشتکار، نوجوان اور بچوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے

فلپائن میں لیری بولیندی ، زہریلے سانپوں کو بڑی مہارت کےساتھ پکڑنے کی وجہ سے کوبرا کنگ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان سےاکثر علاقےکےکاشتکار، اپنے کھیتوں سے،کوبرا سانپوں کو پکڑنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔

آج بلیدی کو اس کاشتکار نے بلایا ہے جس نے اپنے کھیت میں دو سانپ دیکھے تھے۔ اگر اسے کوبرا کاٹ لیتا تو وہ فوراً ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ فلپائن کے اکثر دیہی علاقوں سے اسپتال بہت دور ہیں اور اکثراوقات تو وہاں پر زہرکے کاٹے کی دوائی موجود ہی نہیں ہوتی ۔ بلیدی کہتے ہیں کہ کاشت کار ہمیں اپنے کھیتوں سےسانپ ختم کرنے کے لیے کہتے ہیں کیوں کہ یہ ان کی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال لگ بھگ پچاس لاکھ افرادسانپ کے کاٹے کا نشانہ بنتے ہیں۔ان میں سے تقریباً دو لاکھ افراد ہلاک اور لگ بھگ چار لاکھ اپنے ہاتھ پاؤں سے محروم ہو جاتے ہیں ۔بیشتر متاثرہ افراد کاتعلق افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر ملکوں سے ہوتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کے سانپ کے کاٹے سے زیادہ تر افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں ،اس لیے ہلاک ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ، طبی مراکز سے بہت دور ہوتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں زہر کے کاٹے کی دوائیوں قلت ہے۔

ڈاکٹر وسیتھ سیت پریجا بنکاک میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کام کرنے والے زہریلے سانپ کے علاج اور ریسرچ کےایک مرکزکے انچارج ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زہر کے کاٹے کی مہنگی دوا تیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غریب ممالک مثلاً کمبوڈیا اوربرما، ان ادویات کی مناسب مقدار حاصل کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا عزم ہے اور جہاں تک صحت کے عالمی ادارے کا تعلق ہے تو ہمیں زہر کے کاٹے کی دوا فراہم کرنا ہے ۔ وہ ہم سے گاہے گاہے اس کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہم ابھی تک ان کے پورے ملک کو یہ دوا فراہم نہیں کر پا رہے۔

ڈاکٹر وسیتھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ زہر کے کاٹے کی بڑے پیمانے پر تیار کی جاسکنے والی دوسری طرح ادویات ، اکثر اوقات کچھ مخصوص علاقوں کے سانپوں کے زہر ہی سے تیار کی جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ان سانپوں میں کچھ مشترکہ زہریلے اجزا ہو سکتے ہیں لیکن ان کے حیاتیاتی اثرات مختلف ہوتے ہیں ۔اس کا انحصار ماحول، جنیٹکس اور ان کی خوراک پر ہوتاہے۔

اس کامطلب یہ ہے کہ فلپائن میں کوبرا سانپ کے کاٹے کے لیےجودوا کارگر ہوتی ہے ممکن ہے وہ مغربی افریقہ میں اسی طرح کےکسی سانپ کے کاٹے کے لیے کام نہ دے۔

بنکاک میں کھیتوں میں جانے والے بچوں کو مختلف قسم کے سانپوں کا سامنا ہوتا ہے۔ چنانچہ انہیں سانپوں کے بارے میں تریبت دی جاتی ہے۔ انہیں یہ علم ہوجاتا ہےکہ زیادہ تر سانپ حادثاتی طورپر کاٹتے ہیں ، اور انہیں یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ سانپوں کے کاٹے سے کس طرح بچا جا سکتاہے مثلاً یہ کہ ربڑکے جوتے پہن کر۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سانپوں کے کاٹے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں کمی لانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے بچاؤ کے طریقوں پر عمل کیا جائے اور اس بارے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں۔
بشکریہ وی ای اے

عالمی حدت کے اثرات: قطبین پر سزہ اگنے لگا

Posted by Anonymous on 11:44 PM

قطب جنوبی یا اینٹارکٹک کے جزیرہ نما پر اگر آپ قدم رکھیں تو آپ کو اپنی توقعات کے مطابق برف دکھائی نہیں دے گی۔ درحقیقت یہاں کی پتھریلی زمین کا بیشتر حصہ برف سے پاک ہے۔ روس کے بیلنگ ہاوسن سٹیشن کے ڈاکٹرمیخائل اندریو کے مطابق سیاہ، بھورے اور سفید رنگوں بھرے اس منظر میں کہیں کہیں سے سبزہ بھی جھانکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں پودے بہت کم دیکھنے میں آتے تھے۔ لیکن اب ہمیں یہ ہر جگہ نظر آنے لگے ہیں اور ایک جگہ تو گھاس ہی گھا س ہے۔

چیمپ سیا انٹارکٹکا نامی کائی جیسے پودے یہاں پہلے نہیں پائے جاتے تھے۔ لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی حالات کی وجہ سے نہ صرف یہ پودے یہاں زیادہ مقدار میں پھلنے پھولنے لگے ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے یہاں کے مقامی پودوں کو بھی خطرہ ہے۔ سائنس دان پودوں کی ان نئی اقسام کو قطب جنوبی کودرپیش ماحولیاتی مسائل کی نشانی قرار دے رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہاں کا موسم بے انتہا خشک تھا، لیکن سالہا سال یہاں کی ہوا میں نمی کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب یہاں بارش نہیں ہوا کرتی تھی، صرف برف باری کے ذریعے بادل اپنی نمی کا بوجھ ہلکا کرتے تھے۔ لیکن ہوزے مڈیئروس کہتے ہیں کہ اب یہاں تقریبا روزانہ بارش ہوتی ہےجو بیس برس پہلےنہیں ہوا کرتی تھی۔

قطب جنوبی میں موجود 60 سائنسی تجرباتی اداروں کی تحقیقات میں موسمی تبدیلیاں سر فہرست ہیں۔ تھائیس سینٹوز جیسے سائنسدان روزانہ گلوبل وارمنگ کے نتائج پر معلومات اکھٹی کرنے کے لیے تجربات کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہم الٹرا وائلٹ ریڈیشن پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس کے اثرات کے بارے میں زیادہ بہتر طورپر جان سکیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قطب جنوبی پر اوزون کی تہہ کمزور ہے جس کی وجہ سے یہاں موسمی تبدیلیاں زیادہ شدت اختیار کر تی ہیں۔ فرنچ پولر انسٹٹیوٹ کے یوز فرنو کہتے ہیں کہ اسی لیے سائنسدانوں کو زیادہ ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ 50 برسوں میں اینٹارکٹک کے جزیرہ نما کے درجہ حرارت میں 2 یا 3 ڈگری کا اضافہ ہوا ہے۔ موسمی لحاظ سے اسے ایک بہت بڑی تبدیلی تصور کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی اور خطے میں اس قسم کا اضافہ ہزاروں سال کےوقفے میں پیش آتا ہے۔ چلی کی اینٹارکٹک انسٹٹیوٹ کے ہوزے ریٹامالیز کہتے ہیں کہ اینٹارکٹک کے جزیرہ نما پر موسمی تبدیلیوں کے ثبوت نمایاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چند ہی ہفتوں میں برف کا ایک بڑا تودا پانی میں پگھل کر غائب ہو جائے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ درجہ حرارت میں چھوٹی سی تبدیلی کے نتائج بھی بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔


فرنو کا کہنا ہے کہ یہاں موسمی حالات میں پیش آنے والی تبدیلیاں دنیا بھر کے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قطب جنوبی اور قطب شمالی کے خطے عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں کے مستقبل کی عکاسی کرتی ہیں۔ جو تبدیلیاں یہاں پیش آرہی ہیں، ان کی وجہ سے عالمی سطح پر موسم متاثر ہو سکتا ہے۔

سائنسدان اس علاقے میں موسم پر کڑی نظر اس لیے بھی رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں پیش آنے والی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ دنیا کے دیگر خطوں کے بارے میں پیش گوئی کر سکیں گے۔ اور ان تبدیلیوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی تشکیل دے سکیں گے۔


بشکریہ وی ای اے

انٹارکٹکا پر 46 ملکوں کے سائنس دان مل کر تحقیق کررہے ہیں

Posted by Anonymous on 11:41 PM

براعظم قطب جنوبی جو عام طورپر انٹارکٹکا کے نام سے جانا جاتا ہے، سائنس دانوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں پر مختلف حوالوں سے سائنسی تحقیقات جاری رہتی ہیں۔ 50 برس قبل ہونے والے ایک معاہدے کے تحت وہاں ریسرچ کرنے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحقیق سے ایک دوسرے کو آگاہ رکھیں۔ان دنوں امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں اس معاہدے میں شریک ممالک اور ان کے ماہرین کی کانفرنس ہورہی ہے جس کا ایک اہم مقصد سائنسی تحقیق میں تعاون کو مزید مربوط کرنا بھی ہے۔

انٹارکٹکا میں کنگ جارج آئی لینڈ پر فیراز ریسرچ اسٹیشن سرکاری طور پر برازیل کا علاقہ ہے لیکن یہاں مختلف ملکوں کے سائنسدان مشترکہ طور پر تحقیق و تجربات کرتے ہیں ۔ روس کے بیلنگس ہاسن اسٹیشن پربھی اسی طرح ہی کام ہوتاہے۔ اسٹیشن کے سر براہ الیکزینڈر اروپ کہتے ہیں کہ یہ اشتراک بہت ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم اس بر اعظم پر صرف اکٹھے کام کر کے ہی سائنسی مواد کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور اسے اکٹھاکر سکتے ہیں۔

انٹارکٹکا پر سائنسدان اپنے پراجیکٹس پر سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے کام کررہے ہیں اور یہ تعاون بر اعظم کے انتظام سے متعلق معاہدے میں تحریر ہے اور اس انتہائی سرد اور الگ تھلک ماحول میں مختلف پراجیکٹس پر مل کر کام کرنے سے وقت اور پیسے کی بچت ہو سکتی ہے ۔

نیشنل انٹارکٹک پروگراموں کی کونسل آف مینیجرز کے اینٹوئن گوچرڈ کہتے ہیں کہ موجودہ مالیاتی بحران میں ایسا کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اتنا مہنگا کام ہے کہ اگر آپ ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تو آپ اسے انجام نہیں دے سکتے ۔ اور اب جب کہ انٹارکٹک سائنس گلوبل سائنس بن چکی ہے اور یہ آگہی بڑھ چکی ہے کہ پوری دینا کس طرح کام کر سکتی ہے تو اس لیے اب یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ سب مل کر کام کریں۔

انٹارکٹکا میں کوئی اسٹیشن قائم کرنے پر بہت لاگت آسکتی ہے اوراس کے لیے بجٹ بھی زیادہ نہیں ہوتا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کسی بھی تحقیقی مرکز کےلیے مجموعی آپریشنز پر آنے والی لاگت میں ایندھن کا خرچ سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔

2008 میں ایندھن کی قیمت میں ساٹھ سے ستر فیصد ااضافہ ہو گیا تھا۔

چلی کے انٹارکٹک پروگرام کے سر براہ ہوزے ریٹامیلس کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے اب مل کرکام کرنا سائنس دانوں کی مجبوری بن گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کا پروگرام تین سال کا ہوتو اس کے لیے آپ کیا کریں گے ۔بجٹ کی کمی کی صورت میں یقنناً آپ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے ۔

اس طرح کا تعاون ان علاقوں میں عیاں ہے جہاں بہت سے مرکز قائم ہیں ۔ جیساکہ جزیرہ نما کنگ جارج جزیرہ ہے۔ یہاں چلی میں ایک ائیر اسٹرپ ہے جو ہمسایہ روسی ریسرچ سنٹر کو انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں ایک اسٹور ، ہسپتال ہے اور ایک پوسٹ آفس بھی ہے۔ سائنس دانوں کےلیے یہ معمول کی بات ہے کہ اپنا سامان لانے کے اخراجات بچانے کے لیے ہمسایہ اسٹیشنوں سے ساز و سامان ادھار مانگ لیتے ہیں ۔

انٹارکٹک پر اٹلی اور فرانس میں تعاون اس حدتک بڑھ گیا ہے کہ اپنا نیا مشترکہ اسٹیشن قائم کر رہے ہیں ۔ پھر بھی ریٹامیلس کہتے ہیں کہ الگ تھلگ علاقے میں کام کرنا بعض اوقات انسانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ ان کے اپنے ملک کے شہریوں کے درمیان مشکل ہو جاتا ہے کیوں کہ آپ صرف اپنے شعبے پر توجہ دیتے ہیں اور یہ جاننا ضروری نہیں سمجھتے کہ دوسروں کے لیے آپ اور کیا کر سکتے ہیں۔

انٹارکٹک معاہدے پر دستخط ہوئے پچاس برس ہو گئے ہیں ۔ اس معاہدے میں مزید ملکوں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ 46 رکن ملک باقاعدگی سے اجلاس کرتے ہیں تاکہ اپنے تحقیقی مراکز کے درمیان مشترکہ کوششیں بر قرار رکھیں اور انکشافات سے ایک دوسرے کو باخبر رکھیں ۔

ابتدا ہی سےبا ضابطہ اور بے ضابطہ دونوں طرح کے نیٹ ورک موجود ہیں تاکہ اطلاعات کا تبادلہ کیا جاتا رہے ۔
انٹارکٹک کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دو دراز علاقہ سائنس دانوں کو عالمی سیاست سے الگ رہنے میں مدد دیتا ہے ۔ ہو سکتاہے کہ ان کے ملک آپس میں دوست نہ ہوں مگر وہ یہاں سائنس کی خاطر ایک دوسرے سے مل کرکام کرتے ہیں ۔

بشکریہ وی ای اے

سخت اذیتوں کی اجازت دینے والےبش انتظامیہ کے افراد پر مقدمات کا امکان موجود ہے؛ اوباما

Posted by Anonymous on 11:38 PM
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی اٹارنی جنرل کے ہاتھ میں ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں کی تفتیش کے لئے سخت اذیتوں کی اجازت دینے والوں کے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں یا نہیں۔

وہائیٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ جو لوگ گذشتہ انتظامیہ کے حکم کے تحت ایسے کاموں کے مرتکب ہوئے تھے، میں انہیں سزا دینے کے حق میں نہیں ہوں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ، یہ فیصلہ کرنا مسٹر ایرک ہولڈر کا کام ہے کہ ان قانونی فیصلوں کے ذمہ افراد پر فرد ِ جرم عاید کی جائے یا نہ کی جائے۔

مسٹر اوباما نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے سی آئی اے کی دستاویزات کو بر سر عام لانا انتہائی مشکل فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان حکم ناموں میں سخت اذیتوں کی تفصیلات درج تھیں جن میں نیند سے محرومی اور مصنوعی ڈبکیاں لگوانا شامل تھا اور ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے اخلاقی ضابطوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

ادھر پیر کی رات سابق نائب صدر ڈک چینی نے ان حربوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان سے بڑی فائدہ مند معلومات حاصل ہوئیں۔

مسٹر اوباما کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ہمارے ضابطہٴ اخلاق پر زد پڑتی ہے اور ہماری سلامتی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

بشکریہ وی ای اے

نظامِ شمسی سے باہر نیا سیارہ دریافت کر لیا گیا

Posted by Anonymous on 11:35 PM


ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر اب تک دریافت ہونے والا سب سے چھوٹا سیارہ دریافت کر لیا ہے۔ یہ سیارہ زمین سے صرف دوگنا بڑا ہے۔ یہ انکشاف منگل کے روز انگلستان میں ہونے والی ایک خلائی کانفرنس میں کیا گیا۔

یہ سیارہ Gliese ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس کا فاصلہ زمین سے ساڑھے20 نوری سال ہے۔ واضح رہے کہ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، جب کہ روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔

اس سے پہلے سائنس دانوں نے اسی سیارے کے گرد گھومنے والے چار سیارے دریافت کیے تھے۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ غالباً یہ سیارہ انسانی زندگی کے لیے بہت زیادہ گرم ہے کیوں کہ یہ اپنے ستارے سے بہت قریب ہے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اسی نظام میں کوئی اور سیارہ قابلِ رہائش ہو سکتا ہے۔

یہ دریافت چلی میں واقع دوربین کے ذریعے کی گئی۔

عراق میں جنگ اور تشدد سے دس لاکھ سے زیادہ خواتین بیوہ ہوئیں

Posted by Anonymous on 11:13 PM

عراق میں انسانی حقوق کی وزیر کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت خواتین کے حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں ایک گفتگو کے دوران عراقی وزیر وجدان میخائل سلیم نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین کو روزگار کی فراہمی مزید مدد کی ضرورت ہے۔ عراق میں جنگ اور تشدد کی وجہ سے لاکھوں عراقی جاں بحق اور سینکڑوں خواتین بیوہ، اور بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق عراق میں جنگ کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 10 سے 30 لاکھ ہے۔ بہت سی خواتین کو حکومت کی طرف سے مالی امداد ملتی ہے، لیکن اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امداد نا کافی ہے اور بہت سی خواتین کو گزر اوقات کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ ثنا حسن کو بھی حکومت کی جانب سے مالی امداد ملتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر 2006 کے ہنگاموں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ میرے چار بچے ہیں اور میرے شوہر کی ایک دوسری بیوی سے بھی اولاد ہے۔ ہم سب مالی حالات کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ ایک دن میرا بیٹا اپنے باپ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لیے جانا چاہتا تھا، لیکن ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔ حالات میں ابھی بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے شاید اسی وجہ سےپچھلے سال دسمبر میں ایک عراقی صحافی نے عراق کے یتموں اور بیواوں کا بدلہ لینے کی خاطر امریکی صدر کو جوتے مارنے کی کوشش کی۔ عراق کی وزیر برائے انسانی حقوق کہتی ہیں کہ یہ مسائل صرف حکومت کی امداد سے ہی حل نہیں کیے جا سکتے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ان کے لیے روزگارکے ذرائع پیدا کرنے چاہیں۔ ہر مہینے کچھ رقم دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے منسٹر وجدان سلیم نے کہا کہ عراقی روایات خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں تعلیم پر جتنا زور دیا جائے، کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دو کام کرنے ہیں۔ سب سے پہلے تو خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کرنی ہے۔ اور مردوں کو بھی خواتین کے حقوق کے بارے میں بتانا ہے۔ تاکہ خواتین ہمارے معاشرے میں اپنی جگہ لے سکیں۔ سال کے شروع میں خواتین کے امور کی وفاقی وزیر نے صرف چھ ماہ کے بعد استعفا دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بیواوں کی مدد کرنے کے لیے عراقی حکومت کو مزید ذرائع مہیا کرنے ہوں گے۔ سابق وزیر نوال الثمری کا کہنا تھا کہ 30 لاکھ خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ اور ان میں سے زیادہ تر ان پڑھ ہیں۔ ان کے مالی حالات بہت خراب ہیں۔ بیشر خواتین اور ان کے بچوں کے سر پر چھت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں جنگ کی وجہ سے بیوہ ہونے والی خواتین کی مددکے لیے حکومت کو وزیر نامزد کرنے کے بجائے با ضابطہ وزارت قائم کرنی چاہیے۔ عراق میں انسانی حقوق کی وزیر کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت خواتین کے حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں ایک گفتگو کے دوران عراقی وزیر وجدان میخائل سلیم نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین کو روزگار کی فراہمی مزید مدد کی ضرورت ہے۔ عراق میں جنگ اور تشدد کی وجہ سے لاکھوں عراقی جاں بحق اور سینکڑوں خواتین بیوہ، اور بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق عراق میں جنگ کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 10 سے 30 لاکھ ہے۔ بہت سی خواتین کو حکومت کی طرف سے مالی امداد ملتی ہے، لیکن اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امداد نا کافی ہے اور بہت سی خواتین کو گزر اوقات کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ ثنا حسن کو بھی حکومت کی جانب سے مالی امداد ملتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر 2006 کے ہنگاموں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ میرے چار بچے ہیں اور میرے شوہر کی ایک دوسری بیوی سے بھی اولاد ہے۔ ہم سب مالی حالات کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ ایک دن میرا بیٹا اپنے باپ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لیے جانا چاہتا تھا، لیکن ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔ حالات میں ابھی بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے شاید اسی وجہ سےپچھلے سال دسمبر میں ایک عراقی صحافی نے عراق کے یتموں اور بیواوں کا بدلہ لینے کی خاطر امریکی صدر کو جوتے مارنے کی کوشش کی۔ عراق کی وزیر برائے انسانی حقوق کہتی ہیں کہ یہ مسائل صرف حکومت کی امداد سے ہی حل نہیں کیے جا سکتے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ان کے لیے روزگارکے ذرائع پیدا کرنے چاہیں۔ ہر مہینے کچھ رقم دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے منسٹر وجدان سلیم نے کہا کہ عراقی روایات خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں تعلیم پر جتنا زور دیا جائے، کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دو کام کرنے ہیں۔ سب سے پہلے تو خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کرنی ہے۔ اور مردوں کو بھی خواتین کے حقوق کے بارے میں بتانا ہے۔ تاکہ خواتین ہمارے معاشرے میں اپنی جگہ لے سکیں۔ سال کے شروع میں خواتین کے امور کی وفاقی وزیر نے صرف چھ ماہ کے بعد استعفا دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بیواوں کی مدد کرنے کے لیے عراقی حکومت کو مزید ذرائع مہیا کرنے ہوں گے۔ سابق وزیر نوال الثمری کا کہنا تھا کہ 30 لاکھ خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ اور ان میں سے زیادہ تر ان پڑھ ہیں۔ ان کے مالی حالات بہت خراب ہیں۔ بیشر خواتین اور ان کے بچوں کے سر پر چھت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں جنگ کی وجہ سے بیوہ ہونے والی خواتین کی مددکے لیے حکومت کو وزیر نامزد کرنے کے بجائے با ضابطہ وزارت قائم کرنی چاہیے۔ بشکریہ وی ای اے

سی آئی اے کے تفتیشی طریقہ کارکے بارے میں مزید انکشاف

Posted by Anonymous on 11:08 PM

امریکی سنیٹ کیArmed Services Committee کی ایک رپورٹ سے دہشت گردی کے شبہے میں پکڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ امریکی فوج اور سی آئی اے کے سلوک کی مزید تفصیلات کا انکشاف ہوا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران ان قیدیوں پر بعض ایسے طریقے بھی استعمال کیے گئے جو در اصل ایک ایسے پروگرام سے لیے گئے تھے جس کا مقصد امریکی فوجیوں کو جنگی قیدی بن جانے کی صورت میں سختیاں برداشت کرنے کے لیے تیار کرنا تھا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ابتدائی دنوں میں فوجی عہدے داروں نے Stuart Herrington کو کیوبا میں گوانتانامو بے کے نئے قید خانے میں مشتبہ دہشت گردوں کے حالات اور پوچھ گچھ کے طریقوں کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا۔ وہ ملٹری انٹیلی جینس کے ریٹائرڈ افسر تھے اور انہیں قیدیوں سے پوچھ گچھ کے کام کا تجربہ بھی تھا۔

وائس آف امریکہ کو ٹیلیفون پر انٹرویو میں کرنل Herrington نے گوانتاناموبے کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کچھ یُوں کیا ’’میں جب وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے طریقے میں بنیادی خامی یہ تھی کہ وہ سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانک رہے تھے یعنی یہ سب دنیا کے بد ترین لوگ ہیں اگریہ تربیت یافتہ قاتل نہ ہوتے تو یہاں آتے ہی کیوں۔ ہمارا اصل کام یہبشکریہ وی ای اے ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ یہاں کس کا حکم چلتا ہے۔ ایک انٹیلی جینس افسر اور پوچھ گچھ کے ماہر کی حیثیت سے میرا تاثر یہ تھا کہ وہاں سب کچھ غلط ہو رہا تھا‘‘۔


(فائل فوٹو)
تقریباً دو برس بعدHerrington کوحقائق معلوم کرنے اور پوچھ گچھ کے طریقوں کا جائزہ لینے کے مشن پر ابو غریب بھیجا گیا ۔انھوں نے بتایا کہ ان کی یہ سفارش کہ اگر نرمی سے کام لیا جائے تو زیادہ مفید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں نظر انداز کر دی گئی تھی’’میں نے عراق میں جو کچھ دیکھا وہ یہ تھا کہ گوانتا نامو کے بارے میں، میں نے جو مشورے دیے تھے وہ عراق تک نہیں پہنچے تھے۔ ابو غریب اور عراق اسٹڈی گروپ کے قید خانے میں جو کچھ ہورہا تھا وہ غلط تھا‘‘۔

کرنل Herrington نے پوچھ گچھ کے غلط طریقوں کی طرف توجہ دلانے کی جو کوشش کی تھی وہ سنیٹ کیArmed Services Committee کی232 صفحات کی رپورٹ میں شامل ہے۔ اِس رپورٹ کے مطابق فوج اور سی آئی اے نے قانونی جواز ملنے سے کم از کم آٹھ مہینے پہلے ہی پوچھ گچھ میں زبردستی کرنے کے طریقے استعمال کرنا شروع کر دیے تھے۔

کرنل Herrington نے بتایا کہ اگرچہ انھوں نے خود تو بعض انتہائی قابلِ اعتراض طریقوں کو استعمال ہوتے نہیں دیکھا لیکن انہیں یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اعلیٰ عہدے داروں کی طرف سے پوچھ گچھ کے بہت زیادہ جارحانہ طریقوں کے استعمال پر زور دیا جارہا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے خود ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم جیسے تجربے کار ماہرین کی رائے نظر انداز کی جائےاور قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جائے۔

سی آی اے کی سابق سربراہ Michael Hayden اور نائب صدر ڈک چینی سمیت بعض سابق عہدے داروں نے پوچھ گچھ کے ان سخت طریقوں کے دفاع میں کہا ہے کہ یہ طریقے کارگر ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران جو معلومات ملیں ان سے دہشت گردوں کی سازشیں نا کام ہو گئیں۔

کرنل Herrington کہتے ہیں کہ یہ محض خیالی بات ہے۔ پوچھ گچھ میں زبردستی کرنے کے طریقوں سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی فوج کے ایک سابق افسر Mike Ritzجو پوچھ گچھ کے طریقوں کے ماہر ہیں اس خیال سے متفق ہیں’’جو کچھ ہوا کیا اسے ناپنے کا کوئی آلہ ہے؟ کیا یہ طریقے کامیاب ہوئے؟ میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اگر ایک بار سی آئی اے نے کہہ دیا ہے کہ قیدیوں کو پانی میں ڈوبنے کا تاثر دینے یعنی واٹر بورڈنگ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب ہم نے یہ طریقہ استعمال کیا تو اس شخص نے سب کچھ اگل دیا۔ تو لوگوں نے کہا کہ اگر یہ طریقہ موئثر ہے تو پھر اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی ایسی سوچ کہ بس اپنے مطلب سے غرض رکھو یہ نہ سوچو کہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیئے کس قسم کے ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ میں اِس اندازفکر سے متفق نہیں ہوں‘‘۔


صدر اوباما
صدر اوباما نے کہا ہے کہ سی آئی اے کے جن افسروں نے پوچھ گچھ کے غلط طریقے استعمال کیے ان پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ لیکن جن لوگوں نے اس کام کا حکم دیا یا اس کا جواز پیش کیا انھوں نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔ ان افراد کے خلاف فوجداری مقدمے کی کارروائی کے امکان پر ان سخت طریقوں کا دفاع کرنے والوں کی طرف سے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں سے ملنے والی معلومات کی بدولت دہشت گردوں کے حملوں سے بچاؤ ممکن ہوا

۔

سب سے لمبا انسان ہونے کا نیا دعویدار

Posted by Anonymous on 5:17 PM


چین میں دنیا کے سب سے طویل القامت شخص ہونے کا ایک نیا دعویدار سامنے آیا ہے۔
چینی صوبہ حنان کے علاقے تیانجن سے تعلق رکھنے والے سابق باسکٹ بال کھلاڑی ژہاؤ لیانگ کے طویل القامت ہونے کا پتہ اس وقت چلا جب وہ اپنے پاؤں کا علاج کروانے کے لیے ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے جب ان کا قد ناپا تو وہ دو اعشاریہ چار چھ میٹر یا آٹھ فٹ ایک انچ سے کچھ کم نکلا۔
اگر اس پیمائش کو تسلیم کر لیا جائے تو وہ اس وقت دنیا کے سب سے لمبے شخص سے دس سنٹی میٹر یا تین اعشاریہ نو انچ لمبے ہیں۔ اس وقت دنیا کے سب سے طویل القامت شخص کا اعزاز چین ہی کے ستاون باؤ زیشن کے پاس ہے۔ باؤ زیشن سات فٹ آٹھ اعشاریہ نو پاچن انچ طویل ہیں اور ان کا نام سنہ 2005 میں گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج کیا گیا تھا۔
تاہم اب ستائیس سالہ ژہاؤ اپنے سب سے زیادہ طویل القامت ہونے کا دعوٰی پیش کر رہے ہیں۔ جب تک گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے ماہرین ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر دیتے انہیں باقاعدہ طور پر دنیا کا سب سے لمبا آدمی نہیں مانا جائے گا۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژن ہوا کے مطابق ژہاؤ سنہ 2006 تک بیروزگار تھے اور اس کے بعد ہی انہوں نےگلیوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا شروع کیا تھا۔
بشکریہ بی بی سی

نیویارک میں غیرت کے نام پر بہیمانہ قتل: اسلامی برادری کی مذمت

Posted by Anonymous on 11:22 AM
امریکی ریاست نیو یارک کے شہر بفلو میں ایک مسلم ٹی وی چینل چلانے والے شخص مزمل حسن نے جب مبینہ طور پر اپنی بیوی آسیہ حسن کو بہیمانہ طور پر گلا کاٹ کر مار ڈالا تو پورے امریکی میڈیا میں یہ سوال اٹھا کہ کیا اس کا کوئی تعلق اسلام یا غیرت کے نام پر قتل سے تھا۔ اس کے جواب میں امریکہ بھر کی مسلمان تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے گھریلو تشدد کی بد ترین شکل قرار دیا اور اعتراف کیا کہ یہ مسئلہ امریکہ کی تمام برادریوں کی طرح مسلمانوں میں بھی موجود ہے۔ پیر کو نیو یارک کے علاقے کوئینز میں ایک پریس کانفرنس میں اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ یا اکنا کے صدر ڈاکٹر زاہد حسن بخاری نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم اپنی فلاحی شاخ ’اکنا ریلیف یو ایس اے‘ کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے بارے میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وہ مختلف مقامی تنظیموں اور مساجد کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کے علاوہ مسلم لیڈروں کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کا آغاز بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہم اپنی برادریوں میں لیڈرز اور اماموں کے لیے تربیت کا بھی انتظام کریں گے تاکہ اگلی دفعہ جب کوئی عورت مدد کے لیے آئے، تو نہ اسے نظر انداز کیا جائے اور نہ اس کی حوصلہ شکنی کی جائے۔، انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ مسلم برادریوں میں گھریلو تشدد جیسی لعنت کی طرف توجہ اس وقت مبذول ہوئی جب اس قسم کا بہیمانہ واقعہ سامنے آیا۔ گھریلو تشدد کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کے مطابق خاندانی اقدار سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے اکنا اس سال موسم خزاں میں ایک اور مہم کا آغاز کرے گی جس کا اعلان اکنا کے قومی کنونشن کے موقعے پر کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں شریک گھریلو تشدد کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم ٹرننگ پوائنٹ کی ڈائریکٹر روبینہ نیاز نے کہا کہ گھریلو تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو بچے اپنے گھروں میں تشدد دیکھتے ہیں ان میں سے عمومًا لڑکے بڑے ہو کر اپنی ساتھی خواتین پر تشدد کرتے ہیں، جب کہ لڑکیاں ایسے تشدد کو برداشت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیائی برادریوں میں گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ سوشل ورکرز کی شدید کمی ہے۔ اکنا کا شمار امریکہ میں مسلمانوں کی بڑی تنظیموں میں ہوتا ہے اور اس نے اپنے فلاحی اور تعلیمی کاموں کے ذریعے مقامی آبادیوں کے درمیان اپنا مقام پیدا کرنا شروع کر دیا ہے۔

لاپتہ افراد کے مقدمات کی دوبارہ سماعت ہوگی

Posted by Anonymous on 11:17 AM
قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے مقدمے کی سماعت ضرور کرے گی اور اس سلسلے میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے۔جمعرات کے روز قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کمیٹی لاپتہ افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے حوالے سے کام کررہی ہے۔قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے مقدمے کی سماعت ضرور کرے گی اور اس سلسلے میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے۔جمعرات کے روز قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کمیٹی لاپتہ افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے حوالے سے کام کررہی ہے۔
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ماضی میں انھوں نے لاپتہ افرادکے مقدمات کی سماعت کے لیے تین مرتبہ بنچ کی سربراہی کی اور اس دوران 101لاپتہ لوگوں کو بازیاب کرایا گیا۔ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو جلد نمٹانے کے معاملے پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اس سلسلے میں ہفتے کے روز ایک اجلاس ہورہا ہے جس میں ملک بھر سے چیف جسٹس صاحبان شرکت کررہے ہیں جو اس بات پر غور کریں گے کہ کس طرح مقدمات کے انبار کو کم کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مقدمات کے جلد نمٹائے جانے کے سلسلے میں دن رات کام کررہے ہیں اور اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے ہی انہوں نے یہ اجلاس طلب کیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان بنایا جائے اور مزید ججوں کی میرٹ پر تقرریاں کی جائیں جو پوری قابلیت سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔
لاپتہ افراد کے لواحقینقائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے صرف عدلیہ ہی کو نہیں بلکہ قوم کے ہر فرد کو دیانتداری سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ان کے بقول اس کے لیے ضروری ہے کہ ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر فوقیت دی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اگر عدلیہ میں کرپشن موجود ہے تو اس کی ذمے داری صرف عدالتی اہلکاروں پر نہیں بلکہ بحیثیت قوم ان سب پر ہے جو قانونی منہ شگافیوں کے مرتکب ہوئے۔
اس سے قبل جسٹس جاوید اقبال سے جسٹس محمد رضا خان نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔
واضح رہے کہ لاپتہ افراد کے رشتے دار ان کی بازیابی کے حوالے سے سپریم کورٹ سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ لاپتہ افراد کے رشتے داروں کے مطابق ان کے پیاروں کو ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف الزامات پر غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو ان افراد کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ماضی میں انھوں نے لاپتہ افرادکے مقدمات کی سماعت کے لیے تین مرتبہ بنچ کی سربراہی کی اور اس دوران 101لاپتہ لوگوں کو بازیاب کرایا گیا۔ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو جلد نمٹانے کے معاملے پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اس سلسلے میں ہفتے کے روز ایک اجلاس ہورہا ہے جس میں ملک بھر سے چیف جسٹس صاحبان شرکت کررہے ہیں جو اس بات پر غور کریں گے کہ کس طرح مقدمات کے انبار کو کم کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مقدمات کے جلد نمٹائے جانے کے سلسلے میں دن رات کام کررہے ہیں اور اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے ہی انہوں نے یہ اجلاس طلب کیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان بنایا جائے اور مزید ججوں کی میرٹ پر تقرریاں کی جائیں جو پوری قابلیت سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔
لاپتہ افراد کے لواحقینقائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے صرف عدلیہ ہی کو نہیں بلکہ قوم کے ہر فرد کو دیانتداری سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ان کے بقول اس کے لیے ضروری ہے کہ ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر فوقیت دی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اگر عدلیہ میں کرپشن موجود ہے تو اس کی ذمے داری صرف عدالتی اہلکاروں پر نہیں بلکہ بحیثیت قوم ان سب پر ہے جو قانونی منہ شگافیوں کے مرتکب ہوئے۔
اس سے قبل جسٹس جاوید اقبال سے جسٹس محمد رضا خان نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔
واضح رہے کہ لاپتہ افراد کے رشتے دار ان کی بازیابی کے حوالے سے سپریم کورٹ سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ لاپتہ افراد کے رشتے داروں کے مطابق ان کے پیاروں کو ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف الزامات پر غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو ان افراد کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔
بشکریہ وی او اے

افغان دینی عالم کی طرف سے شادی کے قانون کا دفاع، مغرب پر نکتہ چینی

Posted by Anonymous on 11:17 AM
افغانستان کے ایک سرکردہ مذہبی رہنما نے شادی کے قانون کا دفاع کرتے ہوئے مغربی طاقتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ جب اُنھیں نتائج پسند نہیں آتے، وہ جمہوریت کا مذاق اُڑانے لگتے ہیں۔محمد آصف محسنی نے ہفتے کے دِن کہا کہ یہ قانون جمہوری عمل کا نتیجہ ہے، اور اعتراضات کاباعث اِس کا ناقص ترجمہ ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون شادی کی آڑ میں زنا کے مترادف ہے جِس میں کہا گیا ہے کہ ماسوابیماری کے بیویاں شوہروں کو جنسی تعلق سے انکار نہیں کر سکتیں۔افغان صدر حامد کرزئی نے قانون پر عمل درآمد کو روک دیا ہے اور قانون پر نظر ثانی کے احکامات صادر کر دیے ہیں۔محسنی کا کہنا ہے کہ جب ایک عورت بیمار ہو، بچے کو جنم دیا ہو یا روزے سے ہو، اُسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جنسی تعلق سے انکار کرے۔ محسنی مزید کہتے ہیں کہ یہ قانون شریعت کے عین مطابق ہے اوراِس میں کسی طرح کی تبدیلی لائی گئی تو شیعہ برادری کے آئینی حقوق کی انحرافی ہوگی۔حالانکہ افغانستان کے دستور میں مرد اور عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، اِس میں شیعہ برادری، جوملک کی آبادی کا 20فی صد ہے، کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مذہبی روایات کی رو سے مختلف عائلی قانون اپنا سکتے ہیں۔امریکہ ، اقوامِ متحدہ اور نیٹو نے اِس قانون پربشکریہ وی او اے نکتہ چینی کی ہے۔

بھارت ممکنہ دہشت گردی کی تفاصیل پاکستان کے حوالے کرے: رحمٰن ملک کا بیان

Posted by Anonymous on 11:14 AM

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے سربراہ، رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اپنی وزارتِ خارجہ کے توسط سے بھارت سے کہا ہے کہ وہ اُن اطلاعات کے بارے میں پاکستان کو تفصیلات فراہم کرے جِن کے مطابق پاکستان میں موجود طالبان الیکشن کے دوران بھارت میں حملہ کر سکتے ہیں۔ہفتے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نے تین دِن پہلے ایسا بیان دیا ہے، جِس پر پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت سے وہ حقائق معلوم کیے جائیں جِس کی بنیاد پر ممکنہ دہشت گردوں کو ‘ مل کر پکڑا جائے۔’ اُن کے بقول، اگرایسے ‘ غیر ریاستی عناصر یا طالبان’ پاکستان میں ہیں تو اُن کے خلاف بروقت کارروائی کی جانی چاہیئے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردوں کے خلاف مل کر کام کریں، کیونکہ، ایسے عناصر پاکستان و بھارت دونوں کے یکساں طور پر دشمن ہیں۔اِس سوال پر کہ پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے مطابق لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ملوث ہے،رحمٰن ملک نے کہا کہ ‘میرے خیال میں اُن کو صحیح معلومات نہیں ہے۔’اُنھوں نے کہا کہ لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے اور مناواں پولیس تربیتی ادارے پر دہشت گردی کے معاملات زیرِ تفتیش ہیں، اور جونہی حتمی معلومات سامنے آتی ہےدنیا کو اُس کی تفاصیل بتادی جائیں گی۔یہ معلوم کرنے پر کہ ابھی تک صدرِ پاکستان نےسوات معاہدے کی توثیق کیوں نہیں کی، وزارتِ داخلہ کے سربراہ نے کہا کہ معاہدہ صوبائی حکومت کی طرف سے یہ ایک اچھی پیش رفت اور اچھا فیصلہ تھا۔اُنھوں نے بتایا کہ، کہا یہ گیا تھا کہ تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ صوفی محمد طالبان میں موجود روشن خیال طبقے کے رہنما ہیں اور وہ علاقے میں امن لائیں گے۔ اُس کے بعد قاضی نظام کے تحت مجسٹریٹ قاضی بن جائے گا، جب کہ صوبے کا عدالتی سربراہ جوں کا توں رہے گا۔ پھر یہ کہ جب سوات میں مکمل امن و امان قائم ہوجائے گا، وفاقی حکومت اُس معاہدے پر دستخط کرے گی۔رحمٰن ملک نے کہا کہ امن معاہدے کے برعکس پہلے یا دوسرے ہی دِن ایف سی کے ایک عہدے دار کو بٹھالیا گیا، فوجی قافلے پر فائرنگ کی گئی اور کچھ اسکول جلائے گئے۔ اُن کے بقول، جب تک مکمل امن بحال نہیں ہوتا، معاہدے کی توثیق نہیں ہوگی۔وزارتِ داخلہ کے سربراہ نے بتایا کہ صدرِ پاکستان نے احکامات دیے ہیں کہ سوات امن معاہدے پر آزاد و خودمختار وفاقی پارلیمان میں فیصلہ ہوگا،جو سب کو قابلِ قبول ہوگا۔

بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں اضافہ

Posted by Anonymous on 11:04 AM

جوں جوں توانائی کے روایتی ذرائع ختم ہو رہے ہیں ۔امریکہ اور دنیا بھر میں متبادل طریقوں سے توانائی کے حصول کے بندوبست پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکی ریاست اوکلا ہوما میں جہاں سال میں کئی بار طوفانی ہواوں کے جھکڑ زندگی در ہم برہم کر تے ہیں ،سائنسدان ،کاروبار ی اور تعلیم و تحقیق کے ادارے انہی ہواوں کو توانائی کے ایک مثبت اضافی ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔

اوکلا ہوما تقریبا ہر روز تیز ہواوں کی زد میں رہتا ہے ۔یہ طوفانی ہوا جہاں کبھی لوگوں کی زندگی درہم برہٕم کرتی ہے وہاں اب اس کی مدد سے بلند و بالا ہوائی چکیاں چلائی جارہی ہیں ۔ایسی ہوائی چکیاں اوکلا ہوما کی بڑی شاہراہوں سے دیہی علاقوں تک جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں اور ریاست کے بجلی گھروں کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ایک ہوائی چکی یا ٹربائین کی تیاری اور تنصیب پر دو ملین ڈالر خرچ آتا ہے ۔ٹربائن نصب کرنے والی کمپنیا ں جس زمین پر ٹربائین نصب کرتی ہیں اس کے مالک کو چار سے چھ ہزار ڈالر کی رقم ہر سال کرائے کی مد میں ادا کی جاتی ہے ۔جس کے بدلے میں زمین مالکان کو ٹربائین کی بجلی پیدا کرنے کی درست صلاحیت کا حساب جمع کرنے کو کہا جا رہا ہے ۔

سائنس دان اینجی ایلبرز کا کہنا ہے کہ زمین مالک ہوا کی رفتار کا اندازہ لگاتے ہیں اور اسےاپنے پاس حساب والے رجسٹرز میں درج کرتے ہیں ۔پھر اس کوایک کمپیوٹر چپ میں ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔زمین مالک ہمیں یہ کمپیوٹر چپ بھیجتے ہیں اور پھر ہم اس ڈیٹا کو پروسیس کرتے ہیں ۔


اینجی ایلبرز ایک نیم سرکاری کمپنی ونڈ پاور انی شی ایٹو کی پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ہیں ۔اور ہوا کی توانائی کو ان امریکی دیہات میں جہاں یہ ٹربائین نصب کئے گئے ہیں ،معیشت میں بہتری لانےکے نئے ذریعے کے طور پر دیکھتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ میں اسے ایک نیا معاشی انقلاب قرار دوں گی جو آئندہ کئی سالوں تک جاری رہے گا ۔میرے خیال میں اس سے معاشی مشکلات کا شکار علاقوں میں سکول یا ہسپتال یا دیگر خدمات کے ادارے چلانے میں مدد ملے گی ۔اور جو لوگ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں وہ اپنے شہروں کی طرف دوبارہ نقل مکانی کریں گے ۔
اوکلا ہوما کی برجی ونڈ پاور کمپنی رہائشی ضروریات کے لئے 1970 میں صدر جمی کارٹر کے زمانے سے ٹربائین بنا رہی ہے ۔اب صدر اوباما نے سستی پن بجلی بنانے کے لئے اس صنعت کو نئی مراعات او ر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے اور یہ صنعت دوبارہ زور پکڑ رہی ہے ۔کم از کم اس سے وابستہ افراد کا خیال تو یہی ہے ۔


سکاٹ میرک جو سیلز کے شعبے سے وابستہ ہیں ،کہتے ہیں کہ مجھے ہوائی بجلی کے چھوٹے چھوٹے ٹربائین اچھے لگتے ہیں ۔بالکل کاؤ بوائے جیسا محسوس ہوتا ہے ۔باہر کھلی فضا میں جانا اور سو سو فٹ اونچے ٹربائین پر چڑھنا ۔ایک دم آزاد ی کا احساس ہوتا ہے ۔اور اس میں کسی کا نقصان بھی نہیں ہے۔

اوکلاہوما یونیورسٹی اپنے کیمپس کو بجلی فراہم کرنے والے پلانٹ کا انحصار 2013 تک سو فیصد ہوائی بجلی پر منتقل کرنے کے لئے ایک بجلی کمپنی کو معاوضہ ادا کر رہی ہے ۔پلانٹ ڈائریکٹر بل ہین ووڈ کہتے ہیں کہ ہوا کی تباہ کاری کے بجائے اس کی مثبت طاقت کا اثر دیکھنا ایک اچھی تبدیلی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو اوکلا ہوما ،ٹیکساس ،کینساس اور میزوری میں رہتا ہے ،اسے ہوا کے بگولوں کی ہلاکت خیزی کا اندازہ ہے ۔چھ سال پہلے مجھے اس کا ذاتی تجربہ ہوا ،جب ٹارنیڈو نے میرا مکان تباہ کر دیا تھا ۔شکر ہے کہ میری بیوی اور بچہ اس طوفان میں محفوظ رہے ۔تو ہم نے تو ایسی طوفانی ہواوں کے نقصانات خود دیکھے ہیں ۔مگر اب ہم ہوا کا مثبت استعمال بھی دیکھ رہے ہیں ۔

یونیورسٹی کی انتطامیہ کو امید ہے کہ یونیورسٹی امریکہ کے ماحول دوست مستقبل کے لئے ایک ماڈل ثابت ہو سکتی ہے ۔

یونیورسٹی کے وائس پریڈنٹ بائرن بر مل سیپ کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں ہم سب اس پر متفق ہیں کہ توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے ضروری ہیں اور غیر ملکی تیل اور توانائی پر انحصار کم سے کم کرنا چاہئے۔ہم جس ماحول میں سانس لے رہے ہیں اس کا صاف ہونا اور اپنے قدرتی وسائل کواپنی اور اپنی آئندہ نسل کے لئے سنبھال کر رکھنا اور احتیاط سے استعمال کرنا بھی اہم ہے ۔

باوجود اس تنقید کے کہ یہ پن چکیاں مہنگی اور بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔اوکلا ہوما کے رہنے والوں کو اپنی سڑکوں اور کھلے میدانوں میں مزید ہوائی چکیوں کی تنصیب پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ امریکہ کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں ہوا کی توانائی کا استعمال مزید بڑھایا جائے
۔ بشکریہ وی او اے