بھارت ممکنہ دہشت گردی کی تفاصیل پاکستان کے حوالے کرے: رحمٰن ملک کا بیان

Posted by Anonymous on 11:14 AM

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے سربراہ، رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اپنی وزارتِ خارجہ کے توسط سے بھارت سے کہا ہے کہ وہ اُن اطلاعات کے بارے میں پاکستان کو تفصیلات فراہم کرے جِن کے مطابق پاکستان میں موجود طالبان الیکشن کے دوران بھارت میں حملہ کر سکتے ہیں۔ہفتے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نے تین دِن پہلے ایسا بیان دیا ہے، جِس پر پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت سے وہ حقائق معلوم کیے جائیں جِس کی بنیاد پر ممکنہ دہشت گردوں کو ‘ مل کر پکڑا جائے۔’ اُن کے بقول، اگرایسے ‘ غیر ریاستی عناصر یا طالبان’ پاکستان میں ہیں تو اُن کے خلاف بروقت کارروائی کی جانی چاہیئے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردوں کے خلاف مل کر کام کریں، کیونکہ، ایسے عناصر پاکستان و بھارت دونوں کے یکساں طور پر دشمن ہیں۔اِس سوال پر کہ پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے مطابق لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ملوث ہے،رحمٰن ملک نے کہا کہ ‘میرے خیال میں اُن کو صحیح معلومات نہیں ہے۔’اُنھوں نے کہا کہ لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے اور مناواں پولیس تربیتی ادارے پر دہشت گردی کے معاملات زیرِ تفتیش ہیں، اور جونہی حتمی معلومات سامنے آتی ہےدنیا کو اُس کی تفاصیل بتادی جائیں گی۔یہ معلوم کرنے پر کہ ابھی تک صدرِ پاکستان نےسوات معاہدے کی توثیق کیوں نہیں کی، وزارتِ داخلہ کے سربراہ نے کہا کہ معاہدہ صوبائی حکومت کی طرف سے یہ ایک اچھی پیش رفت اور اچھا فیصلہ تھا۔اُنھوں نے بتایا کہ، کہا یہ گیا تھا کہ تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ صوفی محمد طالبان میں موجود روشن خیال طبقے کے رہنما ہیں اور وہ علاقے میں امن لائیں گے۔ اُس کے بعد قاضی نظام کے تحت مجسٹریٹ قاضی بن جائے گا، جب کہ صوبے کا عدالتی سربراہ جوں کا توں رہے گا۔ پھر یہ کہ جب سوات میں مکمل امن و امان قائم ہوجائے گا، وفاقی حکومت اُس معاہدے پر دستخط کرے گی۔رحمٰن ملک نے کہا کہ امن معاہدے کے برعکس پہلے یا دوسرے ہی دِن ایف سی کے ایک عہدے دار کو بٹھالیا گیا، فوجی قافلے پر فائرنگ کی گئی اور کچھ اسکول جلائے گئے۔ اُن کے بقول، جب تک مکمل امن بحال نہیں ہوتا، معاہدے کی توثیق نہیں ہوگی۔وزارتِ داخلہ کے سربراہ نے بتایا کہ صدرِ پاکستان نے احکامات دیے ہیں کہ سوات امن معاہدے پر آزاد و خودمختار وفاقی پارلیمان میں فیصلہ ہوگا،جو سب کو قابلِ قبول ہوگا۔

بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں اضافہ

Posted by Anonymous on 11:04 AM

جوں جوں توانائی کے روایتی ذرائع ختم ہو رہے ہیں ۔امریکہ اور دنیا بھر میں متبادل طریقوں سے توانائی کے حصول کے بندوبست پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکی ریاست اوکلا ہوما میں جہاں سال میں کئی بار طوفانی ہواوں کے جھکڑ زندگی در ہم برہم کر تے ہیں ،سائنسدان ،کاروبار ی اور تعلیم و تحقیق کے ادارے انہی ہواوں کو توانائی کے ایک مثبت اضافی ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔

اوکلا ہوما تقریبا ہر روز تیز ہواوں کی زد میں رہتا ہے ۔یہ طوفانی ہوا جہاں کبھی لوگوں کی زندگی درہم برہٕم کرتی ہے وہاں اب اس کی مدد سے بلند و بالا ہوائی چکیاں چلائی جارہی ہیں ۔ایسی ہوائی چکیاں اوکلا ہوما کی بڑی شاہراہوں سے دیہی علاقوں تک جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں اور ریاست کے بجلی گھروں کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ایک ہوائی چکی یا ٹربائین کی تیاری اور تنصیب پر دو ملین ڈالر خرچ آتا ہے ۔ٹربائن نصب کرنے والی کمپنیا ں جس زمین پر ٹربائین نصب کرتی ہیں اس کے مالک کو چار سے چھ ہزار ڈالر کی رقم ہر سال کرائے کی مد میں ادا کی جاتی ہے ۔جس کے بدلے میں زمین مالکان کو ٹربائین کی بجلی پیدا کرنے کی درست صلاحیت کا حساب جمع کرنے کو کہا جا رہا ہے ۔

سائنس دان اینجی ایلبرز کا کہنا ہے کہ زمین مالک ہوا کی رفتار کا اندازہ لگاتے ہیں اور اسےاپنے پاس حساب والے رجسٹرز میں درج کرتے ہیں ۔پھر اس کوایک کمپیوٹر چپ میں ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔زمین مالک ہمیں یہ کمپیوٹر چپ بھیجتے ہیں اور پھر ہم اس ڈیٹا کو پروسیس کرتے ہیں ۔


اینجی ایلبرز ایک نیم سرکاری کمپنی ونڈ پاور انی شی ایٹو کی پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ہیں ۔اور ہوا کی توانائی کو ان امریکی دیہات میں جہاں یہ ٹربائین نصب کئے گئے ہیں ،معیشت میں بہتری لانےکے نئے ذریعے کے طور پر دیکھتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ میں اسے ایک نیا معاشی انقلاب قرار دوں گی جو آئندہ کئی سالوں تک جاری رہے گا ۔میرے خیال میں اس سے معاشی مشکلات کا شکار علاقوں میں سکول یا ہسپتال یا دیگر خدمات کے ادارے چلانے میں مدد ملے گی ۔اور جو لوگ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں وہ اپنے شہروں کی طرف دوبارہ نقل مکانی کریں گے ۔
اوکلا ہوما کی برجی ونڈ پاور کمپنی رہائشی ضروریات کے لئے 1970 میں صدر جمی کارٹر کے زمانے سے ٹربائین بنا رہی ہے ۔اب صدر اوباما نے سستی پن بجلی بنانے کے لئے اس صنعت کو نئی مراعات او ر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے اور یہ صنعت دوبارہ زور پکڑ رہی ہے ۔کم از کم اس سے وابستہ افراد کا خیال تو یہی ہے ۔


سکاٹ میرک جو سیلز کے شعبے سے وابستہ ہیں ،کہتے ہیں کہ مجھے ہوائی بجلی کے چھوٹے چھوٹے ٹربائین اچھے لگتے ہیں ۔بالکل کاؤ بوائے جیسا محسوس ہوتا ہے ۔باہر کھلی فضا میں جانا اور سو سو فٹ اونچے ٹربائین پر چڑھنا ۔ایک دم آزاد ی کا احساس ہوتا ہے ۔اور اس میں کسی کا نقصان بھی نہیں ہے۔

اوکلاہوما یونیورسٹی اپنے کیمپس کو بجلی فراہم کرنے والے پلانٹ کا انحصار 2013 تک سو فیصد ہوائی بجلی پر منتقل کرنے کے لئے ایک بجلی کمپنی کو معاوضہ ادا کر رہی ہے ۔پلانٹ ڈائریکٹر بل ہین ووڈ کہتے ہیں کہ ہوا کی تباہ کاری کے بجائے اس کی مثبت طاقت کا اثر دیکھنا ایک اچھی تبدیلی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو اوکلا ہوما ،ٹیکساس ،کینساس اور میزوری میں رہتا ہے ،اسے ہوا کے بگولوں کی ہلاکت خیزی کا اندازہ ہے ۔چھ سال پہلے مجھے اس کا ذاتی تجربہ ہوا ،جب ٹارنیڈو نے میرا مکان تباہ کر دیا تھا ۔شکر ہے کہ میری بیوی اور بچہ اس طوفان میں محفوظ رہے ۔تو ہم نے تو ایسی طوفانی ہواوں کے نقصانات خود دیکھے ہیں ۔مگر اب ہم ہوا کا مثبت استعمال بھی دیکھ رہے ہیں ۔

یونیورسٹی کی انتطامیہ کو امید ہے کہ یونیورسٹی امریکہ کے ماحول دوست مستقبل کے لئے ایک ماڈل ثابت ہو سکتی ہے ۔

یونیورسٹی کے وائس پریڈنٹ بائرن بر مل سیپ کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں ہم سب اس پر متفق ہیں کہ توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے ضروری ہیں اور غیر ملکی تیل اور توانائی پر انحصار کم سے کم کرنا چاہئے۔ہم جس ماحول میں سانس لے رہے ہیں اس کا صاف ہونا اور اپنے قدرتی وسائل کواپنی اور اپنی آئندہ نسل کے لئے سنبھال کر رکھنا اور احتیاط سے استعمال کرنا بھی اہم ہے ۔

باوجود اس تنقید کے کہ یہ پن چکیاں مہنگی اور بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔اوکلا ہوما کے رہنے والوں کو اپنی سڑکوں اور کھلے میدانوں میں مزید ہوائی چکیوں کی تنصیب پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ امریکہ کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں ہوا کی توانائی کا استعمال مزید بڑھایا جائے
۔ بشکریہ وی او اے

بچے کی حراست، چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا

Posted by Anonymous on 5:12 PM
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز نےایک شیر خواربچے کو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں رکھنے کے واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز نے ازخود نوٹس اس وقت لیا جب بچے کی ماں روفیدہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے موقع پر ان کے وکیل نےمؤقف اختیار کیا کہ چونکہ بچہ تین دن قبل ماں کے حوالے کردیا گیا ہے لہذا ان کی رٹ غیر مؤثر ہوگئی ہے۔
جمعہ کو جسٹس معروف خان اور جسٹس سید مصدق حسین گیلانی پر مشتمل بنچ نےجب کیس کی سماعت شروع کی تو بچے کی ماں روفیدہ کے وکیل حسین علی نے عدالت کو بتایا کہ پشاور کی نواح میں واقع چمکنی پولیس نے شریکرہ کے علاقے علی خیل میں اختر محمد نامی ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن ملزم کی عدم موجودگی پر پولیس نو ماہ کے شیرخوار بچے جان محمد کو اٹھاکر لے گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ایک ماہ تک بچے کو اپنی حراست میں رکھا لیکن اس سے تین دن قبل واپس اپنی ماں کے حوالے کردیا۔ ان کے اس بیان کے بعد ان کی رٹ غیر مؤثر ہوگئی۔
تاہم اس کے بعد جب بچے کو کمرہ عدالت سے باہر لایا گیا تو وہاں پر موجود صحافی بچے کو لے کر چیف جسٹس طارق پرویز کے پاس پہنچ گئے جنہوں نے واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا۔
اس موقع پر بچے کی ماں نے چیف جسٹس کو بتایا کہ گرفتاری سے قبل بچہ دودھ پی رہا تھا مگر اب اس کے دودھ پینے کی عادت چھوٹ گئی ہے اور بہت کمزور بھی ہوگیا ہے۔
سنیچر کو ایس ایچ او متنی، ایس ایچ چمکنی، ناظم یونین کونسل زڑھ مینہ اور بچے کی ماں، دادا اور دادای چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے۔
پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے بچے کو غیر قانونی حراست میں نہیں رکھا ہے ۔ ان کے بقول یہ واقعہ نیم قبائلی علاقے میں پیش آیا ہے جہاں پر پولیس کی بجائے خاصہ دار تعینات ہوتے ہیں۔
اس موقع پر بچے کی دادی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس ان کی ہی گود سے بچہ لے کر گئی ہے اور جس پولیس نے بچے کو مبینہ طور پر اٹھایا ہے وہ سامنے آنے پر انہیں پہچان سکتی ہے۔
اس کے بعد چیف جسٹس نے مجسٹریٹ کو ہدایت کی کہ وہ بچے کی دادی کو چمکنی پولیس اسٹیشن لے جائیں اور وہاں پر پولیس اہلکاروں کی شناختی پریڈ کی جائے۔ کیس کی سماعت جمعہ تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے

thanker bbc۔

برطانوی خفیہ ایجنسی کا پاکستان میں آپریشن

Posted by Anonymous on 5:04 PM

برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکسٹین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار افراد کے بارے میں معلومات پاکستان میں کئے گئے آپریشنز کے ذریعے ملیں۔برطانوی اخبار گاڈین کے مطابق دو سے تین ہفتے قبل ایم آئی سکسٹین نے پاکستان میں کئی آپریشنز کئے تھے جن کے ذریعے برطانیہ میں موجود مبینہ طور پر القاعدہ کے تربیت یافتہ مشتبہ عسکریت پسندوں کے نام اور ای میلز اور ٹیلی فون کالز کا ریکارڈ حاصل کیا گیاجس سے یہ بات پتہ چلی کہ برطانیہ میں موجود القاعدہ کے مبینہ کمانڈروں اور پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کے درمیان رابطہ ہے۔ اخبار کے مطابق گرفتار شدگان میں سے بعض کو عوامی مقامات کی تصاویر حاصل کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔
thanker urdu time

بورڈ دوسروں کی لڑائی نہ لڑے:انضمام

Posted by Anonymous on 5:01 PM

پاکستان کے سابق کپتان اور متنازعہ انڈین کرکٹ لیگ کی لاہور بادشاہ ٹیم کے رکن انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ وہ دوسروں کی لڑائی لڑنے کے بجائے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرے۔
انہوں نے یہ بات آئی سی ایل میں شامل تین پاکستانی کرکٹرز کی سکواڈ میں شمولیت اور پھر اخراج کے بعد بی بی سی سے ایک بات چیت کے دوران کہی۔
خیال رہے کہ پی سی بی نے عمران نذیر، عبدالرزاق اور رانا نوید الحسن کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ابتدائی تیس کھلاڑیوں میں شامل کیا تھا لیکن اگلے ہی دن ان کے نام اس فہرست سے خارج کردیے گئے تھے۔
انضمام الحق نے کہا کہ ’ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو پہلے نہیں پتہ تھا کہ ان تین کرکٹرز کو ممکنہ سکواڈ میں شامل کرنے پر آئی سی سی کا کیا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ وہ تو ان کرکٹرز کو واپس لانے کے لیے تیار ہے لیکن اس پر بہت پریشر ہے‘۔
ئی سی سی کو یہ خطرہ ہے کہ اس کے سپانسرز اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے کیونکہ جس تیزی سے آئی سی ایل مقبول ہوئی ہے اور اس نے جس تیزی سے سپانسرز بنائے ہیں اس بارے میں کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ یہ سارا کھیل پیسے کا ہے ۔آئی سی سی نہیں چاہتی کہ پیسہ کہیں اور تقسیم ہو
انضمام الحق
انضمام الحق نے آئی سی ایل کے منتظمین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ خود کو تسلیم کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ آئی سی سی غیر منظور شدہ کرکٹ کے بارے میں ایک قرارداد سامنے لانے والی ہے آئی سی ایل کو انصاف کے لیے عدالت میں جانا چاہیے اور جس طرح پاکستانی کرکٹرز نے عدالت سے رجوع کر کے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت حاصل کی ہے اسی طرح آئی سی ایل کو بھی یہ قدم اٹھانا چاہیے۔
انضمام الحق نے کہا کہ ’آئی سی ایل کرکٹ کوئی جرم نہیں۔ ماضی میں پہلے بھی ایسے کئی ایونٹس ہوئے ہیں جنہیں آئی سی سی نے منظور نہیں کیا لیکن آئی سی ایل سے آئی سی سی کو یہ خطرہ ہے کہ اس کے سپانسرز اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے کیونکہ جس تیزی سے آئی سی ایل مقبول ہوئی ہے اور اس نے جس تیزی سے سپانسرز بنائے ہیں اس بارے میں کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ یہ سارا کھیل پیسے کا ہے ۔آئی سی سی نہیں چاہتی کہ پیسہ کہیں اور تقسیم ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی کرکٹرز کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچ رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کبھی بی سی سی آئی کو کہتی ہے کہ وہ آئی سی ایل سے مذاکرات کرے اصل میں وہ خود اس معاملے میں واضح نہیں ہے۔ انضمام الحق کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی بہت بڑی سپانسرشپ بھارت کی ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ آئی سی سی پر بی سی سی آئی کا زبردست دباؤ ہے کیونکہ آئی سی ایل بھی بھارتی کرکٹ ہے لہذا سپانسرشپ تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔

آئی ایس آئی چیف کاامریکی نمائندوں سے ملنے سےانکار

Posted by Anonymous on 2:21 PM


اسلام آباد: آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک اور امریکی جوائنٹ چیف آف ا سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے بھی ملاقات طے تھی۔ امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ہالبروک اور مائیک مولن کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے الگ الگ ملاقات طے تھی۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی طرف سے ملاقات کو کنفرم نہیں کیا گیا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی طرف سے ملاقات کے لئے وقت نہیں دیا گیا اور ملنے سے انکار کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ ایڈمرل مائیک مولن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ایس آئی کے کردار کے بارے میں منفی بیانات دئیے تھے۔

پی چدمبرم پر جوتا پھینکا گیا

Posted by Anonymous on 8:55 PM

ہندوستان کے وزير داخلہ پی چدمبرم پر ایک صحافی نے جوتا پھینکا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیر داخلہ پی چدمبرم دارالحکومت دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
منگل کو وزير داخلہ کانگریس کے صدر دفتر میں نیوز کانفرنس ميں سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔جب ان سے ایک صحافی نے حال ہی میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کی جانب سے سکھ فسادات کے ایک اہم ملزم جگدیش ٹائٹلر کو کلین چٹ دیے جانے سے متعلق سوال پوچھا تو پی چدمبرم نے صحافی سے تحمل رکھنے اور عدلیہ پر بھروسہ کرنے کو کہا۔
اس کے جواب میں صحافی وزیر داخلہ سے بحث کرنے لگا اور پھر پہلی قطار ميں بیھٹے ہوئے اس صحافی نے احتجاج میں پی چدمبرم کی طرف اپنا جوتا پھینک دیا۔ حالانکہ وہ جوتا وزیر داخلہ کو لگا نہیں اور ان کے سر کے پاس سے نکل گیا۔
یہ صحیح ہے کہ وزیر داخلہ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہيں ہونا چاہیے لیکن ميں اس کے لیے معافی نہيں مانگوں گا۔ کیونکہ گزشتہ پچیس برس سے سکھ برادری انصاف کے انتظار میں ہے۔
پاس میں بیٹھے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں نے فورا ہی اس صحافی کو پکڑ لیا اور اسے اپنی حراست میں لے لیا۔اس صحافی کی شناخت جنریل سنگھ کے طور پر کی گئی ہے جو جاگرن نامی میڈیا کپمنی میں سینیئر صحافی ہیں۔
اس واقعہ کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے جنریل سنگھ نے کہا کہ ان کا طریقہ غلط ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ جذبات ميں آ کر کیا۔ انہوں نے کہا ’یہ صحیح ہے کہ وزیر داخلہ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہيں ہونا چاہیے لیکن ميں اس کے لیے معافی نہيں مانگوں گا۔ کیونکہ گزشتہ پچیس برس سے سکھ برادری انصاف کے انتظار میں ہے۔‘
اس سے قبل امریکہ کے صدر جارج بش پر عراق میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے جوتا پھینکا تھا۔ صحافی منتظر الزیدی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اسے تین برس کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

Thanker from bbc

شعیب کی ٹیم میں واپسی

Posted by Anonymous on 1:31 PM

پاکستانی فاسٹ بالر شعیب اختر کو فٹنس ثابت کرنے کے بعد آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین پانچ ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کی یہ سیریز بائیس اپریل سے سات مئی تک دبئی اور ابوظہبی میں کھیلی جائے گی۔
فٹنس ٹیسٹ کے علاوہ حالیہ قومی ایک روزہ ٹورنامنٹ میں شعیب اختر کی بولنگ پر بھی سلیکٹرز نے اطمینان ظاہر کیا ہے۔ شعیب اختر جنوری میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے دو میچوں میں غیرمتاثر کن کارکردگی کے بعد ان فٹ ہوکر ٹیسٹ سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔
ان کے گھٹنے کی تکلیف کے بارے میں گزشتہ دنوں متضاد خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ آپریشن کے بغیر فٹ ہوسکیں گے یا انہیں آپریشن کرانا پڑے گا۔
پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں چار سال کے طویل وقفے کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں مدمقابل آ رہی ہیں۔ آخری بار دونوں کا سامنا فروری2005 ء میں سڈنی میں وی بی سیریز کے فائنل میں ہوا تھا۔
شعیب اختر140 ون ڈے انٹرنیشنل میں 220 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں تاہم تین سال کے عرصے میں وہ صرف تین ٹیسٹ اور گیارہ ون ڈے انٹرنیشنل ہی کھیل پائے ہیں۔
چیف سلیکٹر عبدالقادر نے پیر کو جس پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے اس میں شعیب اختر کے علاوہ آف اسپنر سعید اجمل کی بھی واپسی ہوئی ہے۔ یہ دونوں گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کے دورے کے لئے اعلان کردہ سولہ رکنی ٹیم میں شامل نہیں تھے۔
اس ٹیم کے تین کھلاڑی وکٹ کیپر سرفراز احمد، فاسٹ بولر محمد عامر اور لیگ اسپنر یاسر شاہ ڈراپ کردیئے گئے ہیں۔
پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: یونس خان ( کپتان )، سلمان بٹ، مصباح الحق، شعیب ملک، کامران اکمل، شاہد آفریدی، یاسر عرفات، عمرگل، شعیب اختر، راؤ افتخار، فواد عالم، سعید اجمل، ناصر جمشید، سہیل تنویر اور احمد شہزاد۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں چار سال کے طویل وقفے کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں مدمقابل ہورہی ہیں۔ آخری بار دونوں کا سامنا فروری2005 ء میں سڈنی میں وی بی سیریز کے فائنل میں ہوا تھا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے آخری دس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں آسٹریلیا نے نو جیتے ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم صرف ایک میچ جیت سکی ہے۔
Thanker from bbc

کامیابی میں پوری ٹیم کی کوشش شامل ہے ، شعیب ملک

Posted by Anonymous on 2:18 PM

اختتامی تقریب کے بعد پی آئی اے کے کپتان شعیب ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے سب سے بڑے ون ڈے ٹورنامنٹ کی فتح میں پوری ٹیم کی محنت شامل ہے اور تمام کھلاڑیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20اوور کرکٹ کے آنے کے بعد315رنز کا ٹارگٹ کوئی بڑا ٹارگٹ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیشنل بنک کی ٹیم مضبوط ٹیم ہے اور اوپنر سلمان بٹ کا شروع میں آؤٹ ہونا ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوا لیکن پھر بھی ان کی ایورج اچھی رہی۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں کھیلی جانے والی سیریز کے حوالے سے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کون فیورٹ ہے۔ ہمیں صرف نقصان یہ ہے کہ ہم انٹرنیشنل کرکٹ زیادہ نہیں کھیل سکے اور بہت زیادہ عرصہ کے بعد آسٹریلیا کے خلاف کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے میچوں کے دوران تماشائیوں کے سٹیڈیم میں نہ آنے کے حوالے سے کہا کہ اس کے لئے میڈیا اور کھلاڑیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت نہیں دی،وزیراعظم گیلانی

Posted by Anonymous on 2:03 PM

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سترویں ترمیم کے خاتمے کیلئے ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ یہ کام کب تک مکمل ہوگا مسلم لیگ ن کو وفاق میں جمہوریت کی دعوت نہیں دی گڑی خدابخش میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ ہمیشہ باقی نہیں رہتا جبکہ آئین اور ملک ہمیشہ باقی رہیں گے ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین کا تحفظ ہمارے لئے فرض عین ہے بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات اور ویژن اب بھی ہمیں مکمل رہنمائی کرتے ہیں جن سے پوری قوم استفادہ حاصل کررہی ہے او رہم ان نظریات ‘ ویژن اور منشور کے مطابق آگے چل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آئین 1973 ء کے بعد میثاق جمہوریت بھی وہ دستاویز ہے جس پر ہماری شہید قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کے دستخط ہیں پیپلزپارٹی میثاق جمہوریت پر عمل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ سترویں ترمیم کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس کے لئے جلد کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی اور وہ کمیٹی ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی کہ وزیراعظم نے کہا کہ ہم مفاہمت کی سیاست کا فروغ چاہتے ہیں مسلم لیگ ن کو ابھی وفاق میں شمولیت کی دعوت نہیں دی پنجاب حکومت میں شامل ہونے کے لئے پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی وزیراعظم ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت قبائلی علاقوں اور سوات میں قیام امن کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان علاقوں میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کے علاوہ نوجوانوں کو روزگار کے موقع فراہم کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ مقامی عوام کے دل و دماغ جیتے جائیں انہوں نے کہا کہ حکومت کسی شدت پسند سے مذاکرات نہیں کررہی بلکہ ہتھیار ڈالنے والوں سے مذاکرات ہوں گے ہماری اولین ترجیح ہے کہ مذاکرات اور تعمیر و ترقی کے ذریعے علاقے میں امن قائم ہو تاہم اگر حکومت رٹ کو چیلنج کیا گیا تو طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوات میں امن کے بعد نظام عدل کو سفارشات کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد منظوری کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا جائے گا انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ سوات میں امن قائم ہوجائے گا لیکن اگر حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تو اس کے لیے فوج کو بھی استعمال کیا جائے گا۔صوبہ پنجاب میں حکومت کی بحالی پر انہوں نے کہا کہ یہاں مسلم لیگ(ن) کی نہیں ہماری اتحادی حکومت بحال ہوئی ہے تاہم حزب اختلاف یا حزب اقتدار کا کردار منتخب کرنے کے حوالے سے پارٹی قیادت فیصلہ کریگی جس کے بارے میں پارٹی مشاورت سے قبل کچھ نہیں کہ سکتا ہوں تاہم انہوں نے کہا کہ اقتدار میں شامل ہوں یا حزب اختلاف میں بیٹھیں ہر کردار میں بے نظیر بھٹو شہید کے ویژن کے مطابق مفاہمتی سیاست کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے کسی نئے سیاسی اتحاد کو17 ویں ترمیم کے خاتمے سے مشروط نہیں کیا ہے اور نہ ہم نے مسلم لیگ(ن) کو وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔17 ویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے اختیارات اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو دئے گئے ہیں اب ان کی بنائی جانیوالی پارلیمانی کمیٹیوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کتنا وقت لیتی ہیں۔
Thanker from jinnah news

سیکورٹی تحفظات کا اظہار آسٹریلیا کا حق ہے، یونس

Posted by Anonymous on 1:54 PM


: قومی ٹیم کے کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ ایشیا میں کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لئے پاکستان، بھارت ،سری لنکا اور بنگلہ دیش کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سیکورٹی پر تحفظات کا اظہار کرنا آسٹریلیا کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز میں نئے کھلاڑیوں سے زیادہ امیدیں نہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شعیب اختر سمیت انڈین کرکٹ لیگ کے کھلاڑی اگر فٹ ہیں اور اچھی پرفارمنس دے رہے ہیں تو انہیں ٹیم میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔ یونس خان نے کہا کہ آئی پی ایل سے بقایاجات کے حصول کے لیے کھلاڑیوں کو کوشش کرنی چایئے یہ ان کا حق ہے۔ اس سے پہلے پاکستان ڈس ایبل کرکٹ ایسویسی ایشن کی جانب سے یونس خان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب میں انہیں گولڈ میڈل پیش کیا گیا۔

امریکی سینٹرپرحملہ: بیت اللہ محسود نے ذمہ داری قبول کر لی

Posted by Anonymous on 1:52 PM
پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے گزشتہ روز امریکا کے شہر نیویار ک میں امیگریشن سینٹرپر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبو ل کر لی ہے ۔ حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے دھمکی دی تھی کہ وہ امریکا کو امریکا میں ہی نشانہ بنائیں گے اور اس سلسلے میں گزشتہ روز انہوں نے امریکا کے شہر نیویار ک میں ایک امیگریشن سینٹر کو نشانہ بنایا ۔ گزشتہ روز ایک شخص نے نیویارک کے علاقے پنگھامٹن میں امریکن سوک ایسوسی ایشن کی عمارت میں موجود امیگریشن سینٹر کے دفتر میں داخل ہو کر فائرنگ کر دی تھی جس میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت نے بیت اللہ محسود پر پچاس لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی مقرر کر رکھی ہے
thamker voa

مسلح شخص کی فائرنگ، تیرہ ہلاک

Posted by Anonymous on 1:38 PM

امریکی ریاست نیویارک میں ایک مسلح شخص نے امیگریشن مرکز میں موجود درجنوں افراد کو یرغمال بنانے اور ان میں سے تیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔
ریاست نیویارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نیویارک کے شمال مغرب میں واقع علاقے بنگ ہیمٹن میں پیش آیا جہاں ایک ویتنامی نژاد امریکی شخص نے امیگریشن مرکز میں داخل ہو کر امریکی شہریت کا امتحان دینے والے افراد پر فائرنگ کر دی۔
بنگ ہیمٹن پولیس کے سربراہ جوزف زکسکی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ امریکن سوک ایسوسی ایشن کی عمارت سے چودہ لاشیں ملی ہیں جن میں حملہ آور کی لاش بھی شامل ہے جس نے خودکشی کی۔ ان کے مطابق حملہ اور کے پاس سے دو دستی بندوقیں، گولیاں اور ایک شکاری چاقو بھی برآمد ہوا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق وضع قطع سے ایشیائی دکھائی دینے والا ایک شخص جس کی عمر بیس کے لگ بھگ تھی امریکی سوک ایسوسی ایشن کے امیگریشن مشورہ مرکز میں جمعہ کی صبح داخل ہوا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس شخص کا قد قریباً چھ فٹ تھا اور اس نے شوخ سبز رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ حکام کے مطابق حملہ آور نے پہلے عمارت کے عقبی دروازے کو اپنی گاڑی کھڑی کر کے بند کیا اور پھر صدر دروازے سے اندر آ کر فائرنگ کر دی۔
ریاست نیویارک میں معصوم شہریوں پر اس قسم کی فائرنگ کی نہ تو کوئی وجہ ہو سکتی ہے اور نہ بہانہ‘۔یہ نیویارک کے لیے ایک المناک دن ہے۔
ڈیوڈ پیٹرسن، گورنر ریاست نیویارک
حملہ آور نے پہلے استقبالیہ مرکز پر موجود دو خواتین کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد ان کمروں میں داخل ہو کر فائرنگ کی جہاں لوگ امریکی شہریت کا تحریری امتحان دینے میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق عمارت میں موجود چھبیس افراد گولیوں کی آواز سن کر تہہ خانے میں چھپ گئے جبکہ دیگر چالیس لوگ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ان میں سے چار شدید زخمی تھے۔ایک عینی شاہد کے مطابق اس نے پندرہ افراد کو عمارت سے اپنے ہاتھ سروں پر رکھے باہر نکلتے دیکھا۔' پولیس اہلکاروں نے انہیں ایمبولنسوں تک پہنچایا جو انہیں جائے وقوعہ سے لے گئیں‘۔
ایک مقامی ہسپتال کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں تیس کے قریب افراد کو لایا گیا ہے جن میں سے کچھ کوگہرے زخم آئے تھے۔ریاست نیویارک کے گورنر پیٹرسن نے اس واقعے کو ’انتہائی خوفناک واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست نیویارک میں معصوم شہریوں پر اس قسم کی فائرنگ کی نہ تو کوئی وجہ ہو سکتی ہے اور نہ بہانہ‘۔یہ نیویارک کے لیے ایک المناک دن ہے‘۔
امریکہ میں حالیہ ماہ میں مسلح افراد کی جانب سے عام شہریوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ہی امریکی ریاست الباما میں ایک مسلح شخص نے گیارہ افراد کو گولی مار دی تھی جبکہ گزشتہ برس کے آخری دنوں میں ریاست کیلیفورنیا میں کرسمس سے ایک دن قبل سانتا کلاز کے لباس پہنے ایک شخص نے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
Thanker from bbc

لیزر سے دماغ کے کینسر کا علاج

Posted by Anonymous on 9:26 PM
کینسر دنیا بھر کی مہلک ترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 2004ءمیں 70 لاکھ سے زیادہ افراد کینسر کی کچھ مخصوص اقسام کے باعث ہلاک ہوئے۔دماغ میں کینسر زدہ رسولیوں کی سرجری اکثر اوقات سب سے مشکل ہوتی ہے تاہم اس سلسلے میں ایک نیا طریقہ علاج دریافت کرلیا گیا ہے جس میں لیزر ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔

اوہائیو میں کلیولینڈ کلینک کے سرجن لیزر کے ایک مخصوص طریقے سے اپنی ایک مریضہ کے دماغ کی رسولی کا علاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر جین بارنٹ کلیولینڈ کلینک سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہٴ علاج میں ہم عام دماغ کو محفوظ رکھنے اور رسولی سے متاثرہ حصے کے علاج کے لیے لیزر شعاعوں کا استعمال کرتے ہیں۔

سرجری کے اس طریقے میں سرجن ایم آر آئی سکینر کی مدد سے دماغ کے متاثرہ حصے کا علاج لیزر سے کرتے ہیں۔ایم آرآئی تصویروں کی مدد سے ڈاکٹر لیزر کی شعاعوں سے رسولی کو ہدف بناتے ہیں اور اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سٹیون جونز بھی کلیولینڈ کلینک سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ہم مریض کے دماغ کی سیکنگ کرتےہوئے رسولی میں درجہٴ حرارت میں اضافے کی سیکنڈوں کے حساب سے نگرانی کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم رسولی کو ختم کررہے ہیں۔

ڈاکٹر بارنٹ کا کہنا ہے کہ سرجری کے دوران جب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ لیزر کی حرارت سے دماغ کے صحت مند خلیے متاثر ہونا شروع ہورہے ہیں تو ہم لیزر بند کردیتے ہیں۔

یہ طریقہٴ علاج ابھی تجرباتی مراحل میں ہے تاہم مریضوں کےایک چھوٹے گروپ پر یہ کارگر ثابت ہوا ہے۔ اگر اس طریقہٴ علاج کی حکومت کی طرف سے منظوری مل گئی تو ڈاکٹروں کو توقع ہے کہ دماغ کی کینسرزدہ رسولیوں کا علاج کرسکیں گے جن کو اس وقت سرجری کے ذریعے نکالنا بہت مشکل ہے۔

عورتیں مردوں سے تین گنا زیادہ بولتی ہیں: نئی تحقیق

Posted by Anonymous on 9:19 PM
آپ نے شاید یہ لطیفہ سن رکھا ہوکہ جھوٹ بولنے کا مقابلہ ایک ایسے شخص نے جیتا جس نے کہا تھا کہ میں نے ایک جگہ دوعورتوں کو چپ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس لطیفے سے ظاہر ہے کہ خواتین کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ باتونی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایسے مردوں کی بھی کمی نہیں ہے جو دوسروں کو بولنے کاموقع ہی نہیں دیتے اور ایسی خواتین بھی اکثر مل جاتی ہیں جو بہت ہی کم بولتی ہیں۔ تاہم اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بولنے میں خواتین کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اوسطاً مردوں کی نسبت تین گنا زیادہ زیادہ بولتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب ایک خاتون نے لکھی ہے جو ماہرنفسیات بھی ہیں۔ڈاکٹر لویان بریزن ڈین نے اپنی کتاب ’فی میل برین
Dr. Louann Brizendine‘ میں لکھا ہے کہ ایک عام عورت پورے دن اوسطاً 20 ہزار الفاظ بولتی ہے جوکہ ایک عام مرد سے اوسطاً 13 ہزار الفاظ یعنی تین گنا زیادہ ہیں۔ڈاکٹر بریزن ڈین کہتی ہیں کہ عورتوں کے زیادہ باتونی ہونے کی کئی وجوہات ہیں،اول یہ کہ وہ مردوں کی نسبت زیادہ تیز بولتی ہیں۔دوسرا یہ کہ گفتگو میں ان کا دماغ زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے اور بولتےوقت مردوں کےمقابلے میں ان کے دماغ کے زیادہ خلیے کام کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین بولتے ہوئے خود کو اچھا محسوس کرتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ خواتین کے زیادہ بولنے کی ایک اہم وجہ ان کے دماغ کی ساخت ہے۔ قدرتی طورپر عورت اور مرد کے دماغ میں فرق ہوتا ہے اور عورت کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بولنے سے ہے، زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ باتیں کرتی ہیں۔ڈاکٹر بریزن ڈین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ خواتین کے زیادہ بولنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بولنے کے دوران ان کے دماغ کے مخصوص حصوں میں بڑی تیزی سے کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ تبدیلیاں ان تبدیلیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جو ہیروئن کے عادی ایک شخص کے دماغ میں اس وقت آتی ہیں جب اس پر گہرا نشہ طاری ہوتا ہے۔ڈاکٹر بریزن ڈین کا کہنا ہے کہ زیادہ بولنے کا تعلق ان ہارمونز سے ہے جو جنس کا تعین کرتے ہیں اور جذبات اور یاداشت سے بھی متعلق ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون پیدائش سے پہلے ہی جسم میں بن جاتے ہیں۔ چنانچہ لڑکے اور مرد، لڑکیوں اور عورتوں کی نسبت کم بولتے ہیں اور وہ اس طرح اپنے جذبات اظہار بھی نہیں کرپاتے جس طرح عورتیں کرسکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبات کے اظہار میں عورت کا دماغ آٹھ رویہ شاہراہ کی مانند ہوتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں مرد کا دماغ دیہی علاقوں کی چھوٹی سی سڑک کی طرح ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں لڑکے اورمرد صنف مخالف کی نسبت کم گفتگو کرتے ہیں۔
The Female Brainکتاب کی منصفہ ڈاکٹر بریزن ڈین کہتی ہیں کہ اس مخصوص ہارمون کی وجہ سے دماغ کا وہ حصہ بھی متاثر ہوتا ہے جس کا تعلق سننے سے ہے۔اس بنا پر مردوں کی قوت سماعت میں ایک خاص نوعیت کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اکثر بیویاں عام طورپر یہ شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ان کا خاوند یا تو ان کی بات پر دھیان نہیں دیتا یا اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیتا ہے جیسے کہ وہ بہراہو۔ مصنفہ کہتی ہیں کہ مرد اکثر اوقات جان بوجھ کر ایسا نہیں کررہے ہوتے۔ اس کی وجہ ان کی دماغ کی وہ قدرتی ساخت ہے جس کا تعلق سننے کی صلاحیت سے ہے۔ ڈاکٹر بریزن ڈین کی یہ کتاب ایک ہزار سےزیادہ ان مریضوں کے مطالعے اور تحقیق پر مبنی ہے جو ان کے کلینک میں آئے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ میری نظر سے ابھی تک کوئی ایسا شخص نہیں گذرا جس کے دماغ میں عورتوں اور مردوں دونوں کی خصوصیات موجود ہوں۔وہ کہتی ہیں کہ دماغ یا تو صرف مرد ہوتا ہے یا پھر صرف عورت۔مرد اور عورت دونوں دنیا کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔باتونی ہونے کے ساتھ ساتھ عورت میں قدرتی طورپر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنے گردو پیش کی تبدیلیوں کا ادراک کرکے اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلے کرسکے۔تاہم کئی دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ وہ مخصوص ہارمون جس کا ذکر ڈاکٹر بریزن ڈین نے اپنی تحقیق میں کیا ہے مرد اور عورت کی شخصیت میں فرق قائم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے لیکن اس سلسلے میں معاشرتی عوامل اور ماحول بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔آکسفرڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیبرا کیمرن کہتی ہیں کہ ہماری گفتگو میں روانی اور تیزی کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم کس سے بات کررہے ہیں اور ہم کیا کہنے جارہے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ اس بارے میں بہت سے تحقیقی مطالعوں کو سامنے رکھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ بولنے کے حوالے سے عورتوں اور مردوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔
Thanker for voa

سائبر کرائمز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

Posted by Anonymous on 4:20 PM

مشہور سائنسی رسالے سائنٹفک امریکن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انٹرنیٹ کرائمز کمپلینٹ سینٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2008ء میں سائبر کرائمز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔انٹرنیٹ کرائمز کمپلینٹ سینٹر ، ایف بی آئی اور نیشنل وائٹ کالر کرائمز سینٹر کے تعاون سے کام کرنے والا ایک ادارہ ہے جس کی مالی معاونت کانگریس کرتی ہے ۔ یہ غیر فلاحی ادارہ قانون نافذ کرنے والوں کو مالیاتی اور سائبرکرائمز کی تفتیش کے طریقوں کے بارے میں تربیت فراہم کرتا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ 2008ءمیں اسے سائبر فراڈ، کمپیوٹر ہیکس، چائلڈ فونو گرافی اور دوسرے آن لائن جرائم کے بارے میں 275284 شکایات موصول ہوئیں جو 2007ءکی نسبت 33 فی صد زیادہ تھیں، جب ادارے نے 206884 شکایات ریکارڈ کی تھیں۔ ادارے کا کہناہےکہ ان جرائم سے لوگوں کو لگ بھگ 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جو 2007ءکے مقابلے میں دس فی صد زیادہ تھا۔گذشتہ سال ادارے کو جوکل شکایات موصول ہوئیں ان میں سے 33 فی صد کا تعلق آن لائن خرید و فروخت سے تھا۔ جن میں یا تو چیزیں خریداروں تک نہ پہنچ سکیں یا ان کی قیمت کی ادائیگیاں نہ ہوسکیں۔ یہ شرح 2007ءکے مقابلے میں 32 فی صد زیادہ تھی۔ آن لائن نیلامی کے فراڈ کے واقعات 25 فی صدرہے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں معمولی کم تھے۔ کمپیوٹر فراڈ، اور چیک فراڈ کی شکایات کل تعداد کا ساڑھے 19 فی صد تھیں۔مجموعی طورپر ان جرائم کا ہدف بننے والے افراد کو اوسط 931 ڈالر فی کس کا نقصان اٹھانا پڑا۔ادارےکے مطابق حکام سے رابطہ کرنے والوں میں سے لگ بھگ 74 فی صد نے کہا کہ انہوں نے اس فراڈ کے بارے میں شکایات ای میل کے ذریعے درج کرائیں۔جب کہ دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ گذشتہ سال جعلی ای میلز کے سب سے بڑے فراڈ میں ایف بی آئی کے نام سے بھیجی جانے والی جعلی ای میلز کی ایک خاصی بڑی تعداد بھی شامل تھی جن میں لوگوں سےان کی ذاتی معلومات، مثلاً بینک اکاؤنٹ نمبر اس جھوٹے دعوے کے ساتھ مانگے جاتےتھے کہ ادارے کو ایک بڑے مالیاتی فراڈ کی تحقیق کے لیے ان نمبروں کی ضرورت ہے۔کچھ جعلی ای میلز میں تو یہ دعویٰ تک کیا گیا کہ وہ ایف بی اے کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر، ڈپٹی ڈائریکٹر جان ایس اسٹول یا بیور کے کسی اعلیٰ عہدے دار یا تفتیشی یونٹ سے براہ راست بھیجی جارہی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آئی کی طرف سے نجی مالیاتی امورکے بارے میں امریکی شہریوں سے امی میل کے ذریعے رابطہ نہیں کیا جاتا۔2008ءمیں ایک اور سب سے عام سائبر کرائم میں وہ ہیکرز شامل تھے جنہوں نے لوگوں کے ذاتی ای میل اکاونٹس میں نقب لگائی ۔یہ جرم اس طریقے سے کیا گیا کہ کسی شخص کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کرکے اس میں موجود دوسرے لوگوں کے ای میل پتوں پر ، متعلقہ شخص کی جانب سے کسی خاص اکاؤنٹ نمبر میں رقم منتقل کرنے کے لیے کہا گیا۔مثلاً یہ کہہ کر میں اس وقت کسی دوسرے ملک میں پھنس گیا ہوں جہاں مبینہ طورپر مجھے لوٹ لیا گیا ہے اور مجھے ہوٹل کے بلوں اور سفر کے اخراجات کے لیے اس وقت ایک ہزار ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔
I thanker from voa

مشیر داخلہ کا بیان انتہائ مایوس کن

Posted by Anonymous on 10:51 AM


لاہور مناوا بھاگہ کے مقام پر صبح 7:30 کے لگ بھگ انڈین دہشتگردوں کا حملہ جس میں ابتدای (شیخوپورہ نیوز) اطلاعات کے مطابق 30 کے لگ بھگ ہلاکتیں ہویئں اور 50سے زائد افراد کے زخمی ہو گیے ہیں ۔۔ تازہ اطلاع کے مطابق ایک فائر سے ایک دیہاتی کے پیٹ میں لگا۔۔ مشیر داخلہ کا نجی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو بہت ہی مایوس تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں پاکستان کی جہادی آرگنایزئشن ملوث ہو سکتی ھیں۔۔ جبکہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ھے جب انڈیا میں انتخابات قریب ھیں۔۔ ایک ماہ قبل بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے بمبی حملوں کے خلاف کاروائ نہ کی تو ایسے حملے مزید ہوں گے، جس سے ظاہر ہوتا ھے کہ ان حملوں میں براہ راست انڈین خفیہ ایجنسی راء ملوث ھے۔۔ اگر ان حملوں کو ماضی کی طرح بھلا دیا گیا تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہوا گا۔۔ اور ان حملوں میں عوام پاکستانی حکومت کو ہی ملوث سمجھے گی۔۔

مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں جیش محمد ،لشکر جنگھوی ،تحریک طالبان پاکستان ،اور لشکر طیبہ ملوث ہو سکتی ھے۔۔
جبکہ لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی کا دعوا ھے کہ انھوں نے آج تک پاکستان میں کاروائ نہیں کی اگر اسکا پاکستان کی حکومت کے پاس ثبوت ھے تو ہمیں فراہم کرے ۔۔ آج تک پاکستان کی خکومت اس بات کا ثبوت نہیں دی سکی۔۔ ان کا مزید کہنا تھا کی انکی تحریک کشمیر کی آزادی کے لیے ھے جو کشمیر کی آزادی تک جاری رھے گی۔۔

دوسری جانب جماعتہ الدعوہ کے شیخو پورہ کے امیر نے اسکی مزمت کرتے ہوے اسے دشمن کی پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش قرار دیا ۔۔

’پاکستانی کرکٹر آئی سی ایل سے آزاد‘

Posted by Anonymous on 10:34 AM




راؤنڈر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ بھارت کی متنازعہ انڈین کرکٹ لِیگ نے پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدے ختم کر کے انہیں کسی بھی اور جگہ معاہدہ کرنے کے لیے این او سی بھی جاری کر دیے ہیں۔

عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تمام پاکستانی کھلاڑی جو آئی سی ایل کے لیے کھیل رہے تھے پاکستان کے لیے کھیلنے کے لیے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں وہ اپنی دستیابی سے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر دیں گے۔

یہ خبریں بھی آئیں ہیں کہ محمد یوسف نے آئی سی ایل سے اپنا معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع پاکستان کرکٹ بورڈ کو دے دی ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کے مطابق ابھی کسی کھلاڑی نے باضابطہ طور پر کرکٹ بورڈ کو اس کی اطلاع نہیں دی اور اگر ان کھلاڑیوں نے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا تو وہ اس کی تصدیق آئی سی ایل کی انتظامیہ سے کریں گے اور پھر ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس لِیگ میں پاکستان کے اکیس کھلاڑی شامل ہوئے تھے جن میں محمد یوسف، عبدالرزاق، عمران فرحت، عمران نذیر، شبیر احمد اور رانا نوید الحسن ایسے تھے کہ جن کا پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں بھی مستقبل تھا لیکن آئی سی ایل میں شرکت کے سبب وہ پاکستان کے لیے نہیں کھیل سکتے تھے۔

آئی سی ایل کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مؤقف واضح تھا کہ کوئی کرکٹ بورڈ بھی انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو اپنی قومی ٹیم میں شامل نہیں کر سکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تو آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی لیکن اس سال فروری میں سندھ ہائی کورٹ نے ان کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی
بشکریہ بی بی سی۔

لاہور، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ

Posted by Anonymous on 10:11 AM

لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس کے ٹریننگ سنیٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کے بعد قبضہ کرلیا ہے۔

ٹریننگ سنیٹر سے فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنائی دی گئی ہے اور کم از کم تیس پولیس اہلکارزخمی ہونے اور متعدد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے ٹریننگ سینٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ ٹریننگ سنیٹر جی ٹی روڈ پر لاہور سے کوئی بیس کلومیٹر واہگہ کی جانب واقع ہے اورصبح تقریباً پونے سات بجے چند مسلح افراد نے اس وقت حملہ کیا جب وہاں پولیس اہلکار تربیت لے رہے تھے۔عینی شاہدوں کےمطابق پہلے دھماکے اور پھر فائرنگ کی آواز سنائی دی گئی۔متعدد افراد زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں تاہم ابھی تک ان کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی چینل ایکسپریس نے چند ایسے مناظر دکھائے ہیں جن میں آٹھ کے قریب پولیس اہلکاروں کو کھلے میدان میں بے حس و حرکت پڑے دکھایا گیا ہے جبکہ تین دیگر اہلکار زمین پر رینگ کر ان کی جانب جانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سروسز ہسپتال میں چھ پولیس اہلکاروں کو داخل کرایا گیا ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ چھ سے سات ایسے شدت پسندوں نے کیا جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ٹریننگ سینٹر کے گارڈز کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔شدت پسندوں نے زیر تربیت غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کم از کم چھ ہلکے دھماکوں کی آواز بھی سنی گئی جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ دستی بم چلائے جانے کی آواز بھی ہوسکتی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی بھی شدت پسند ٹریننگ سنیٹر کے اندر موجود ہیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز آرہی ہے۔رینجرز کے علاوہ پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی اور ایلیٹ فورس کے جوان موقع پر پہنچ چکے ہیں۔اس سینٹر کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔خدشہ ہے کہ شدت پسندوں نے ابھی بھی زیرتربیت پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موقع پر موجود ہے اور وہ پولیس اہلکاروں کے کہنے کے باوجود جگہ خالی نہیں کر رہے۔

لاہور میں اسی مہینے کے شروع میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر پندرہ کے قریب شدت پسندوں نے راکٹ لانچر اور فائرنگ کے ذریعے دن دہاڑے حملہ کیا تھا۔اس حملہ میں کرکٹ ٹیم کے کارکن تو زخمی ہوئے تھے جبکہ متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد شدت پسند اطمینان سے فرار ہوگئے تھے اور پولیس ابھی تک ان میں سے کسی کو گرفتار نہیں کرسکی۔

سیکیورٹی ماہرین یہ خدشہ ظاہرکررہے تھےکہ وہ خطرناک شدت پسند کبھی بھی دوبارہ حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حالیہ حملہ میں وہ ہی شدت پسند ملوث ہیں یا کوئی نیا گروہ ہے۔


سیکیورٹی فورسز چاہتی ہیں کہ حملہ آوروں میں سے چند ایک کو زندہ گرفتار کیا جاسکے تاکہ پورے نیٹ ورک کو پکڑا جاسکے

بشکریہ بی بی سی۔


فا سٹ فوڈ بچوں کو موٹا پے کا شکار کر د یتی ہے ۔ سروے

Posted by Anonymous on 2:09 PM




مغربی ممالک میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق جن بچوں کے سکولوں کے نزدیک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس زیادہ ہوتے ہیں ان کی اکثریت موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔ سکول اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے درمیان جتنا فاصلہ کم دیکھا گیا موٹاپے کی شرح میں بھی اسی حساب سے اضافہ نوٹ کیا گیا۔ فاسٹ فوڈ غزاﺅں اور موٹاپے کے درمیان تعلق پر ہونے والی اس تحقیق میں سکولوں میں زیر تعلیم طالب علموں سے جب پوچھا گیا کہ آپ ہفتے میں کتنی مرتبہ فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ دو سے تین مرتبہ ہم وقفہ کے دوران فاسٹ فوڈ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سروے پر طبی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نئی نسل کو موٹاپے سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور دوسری جانب اس طرح کی قانون سازی کی جانی چاہیے جس کے تحت سکولوں کے نزدیک فاسٹ فوڈ کا کاروبار منع ہونا چاہیے
بشکریہ اردو ٹایم۔