وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت نہیں دی،وزیراعظم گیلانی

Posted by Anonymous on 2:03 PM

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سترویں ترمیم کے خاتمے کیلئے ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ یہ کام کب تک مکمل ہوگا مسلم لیگ ن کو وفاق میں جمہوریت کی دعوت نہیں دی گڑی خدابخش میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ ہمیشہ باقی نہیں رہتا جبکہ آئین اور ملک ہمیشہ باقی رہیں گے ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین کا تحفظ ہمارے لئے فرض عین ہے بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات اور ویژن اب بھی ہمیں مکمل رہنمائی کرتے ہیں جن سے پوری قوم استفادہ حاصل کررہی ہے او رہم ان نظریات ‘ ویژن اور منشور کے مطابق آگے چل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آئین 1973 ء کے بعد میثاق جمہوریت بھی وہ دستاویز ہے جس پر ہماری شہید قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کے دستخط ہیں پیپلزپارٹی میثاق جمہوریت پر عمل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ سترویں ترمیم کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس کے لئے جلد کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی اور وہ کمیٹی ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی کہ وزیراعظم نے کہا کہ ہم مفاہمت کی سیاست کا فروغ چاہتے ہیں مسلم لیگ ن کو ابھی وفاق میں شمولیت کی دعوت نہیں دی پنجاب حکومت میں شامل ہونے کے لئے پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی وزیراعظم ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت قبائلی علاقوں اور سوات میں قیام امن کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان علاقوں میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کے علاوہ نوجوانوں کو روزگار کے موقع فراہم کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ مقامی عوام کے دل و دماغ جیتے جائیں انہوں نے کہا کہ حکومت کسی شدت پسند سے مذاکرات نہیں کررہی بلکہ ہتھیار ڈالنے والوں سے مذاکرات ہوں گے ہماری اولین ترجیح ہے کہ مذاکرات اور تعمیر و ترقی کے ذریعے علاقے میں امن قائم ہو تاہم اگر حکومت رٹ کو چیلنج کیا گیا تو طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوات میں امن کے بعد نظام عدل کو سفارشات کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد منظوری کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا جائے گا انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ سوات میں امن قائم ہوجائے گا لیکن اگر حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تو اس کے لیے فوج کو بھی استعمال کیا جائے گا۔صوبہ پنجاب میں حکومت کی بحالی پر انہوں نے کہا کہ یہاں مسلم لیگ(ن) کی نہیں ہماری اتحادی حکومت بحال ہوئی ہے تاہم حزب اختلاف یا حزب اقتدار کا کردار منتخب کرنے کے حوالے سے پارٹی قیادت فیصلہ کریگی جس کے بارے میں پارٹی مشاورت سے قبل کچھ نہیں کہ سکتا ہوں تاہم انہوں نے کہا کہ اقتدار میں شامل ہوں یا حزب اختلاف میں بیٹھیں ہر کردار میں بے نظیر بھٹو شہید کے ویژن کے مطابق مفاہمتی سیاست کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے کسی نئے سیاسی اتحاد کو17 ویں ترمیم کے خاتمے سے مشروط نہیں کیا ہے اور نہ ہم نے مسلم لیگ(ن) کو وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔17 ویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے اختیارات اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو دئے گئے ہیں اب ان کی بنائی جانیوالی پارلیمانی کمیٹیوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کتنا وقت لیتی ہیں۔
Thanker from jinnah news

سیکورٹی تحفظات کا اظہار آسٹریلیا کا حق ہے، یونس

Posted by Anonymous on 1:54 PM


: قومی ٹیم کے کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ ایشیا میں کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لئے پاکستان، بھارت ،سری لنکا اور بنگلہ دیش کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سیکورٹی پر تحفظات کا اظہار کرنا آسٹریلیا کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز میں نئے کھلاڑیوں سے زیادہ امیدیں نہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شعیب اختر سمیت انڈین کرکٹ لیگ کے کھلاڑی اگر فٹ ہیں اور اچھی پرفارمنس دے رہے ہیں تو انہیں ٹیم میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔ یونس خان نے کہا کہ آئی پی ایل سے بقایاجات کے حصول کے لیے کھلاڑیوں کو کوشش کرنی چایئے یہ ان کا حق ہے۔ اس سے پہلے پاکستان ڈس ایبل کرکٹ ایسویسی ایشن کی جانب سے یونس خان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب میں انہیں گولڈ میڈل پیش کیا گیا۔

امریکی سینٹرپرحملہ: بیت اللہ محسود نے ذمہ داری قبول کر لی

Posted by Anonymous on 1:52 PM
پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے گزشتہ روز امریکا کے شہر نیویار ک میں امیگریشن سینٹرپر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبو ل کر لی ہے ۔ حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے دھمکی دی تھی کہ وہ امریکا کو امریکا میں ہی نشانہ بنائیں گے اور اس سلسلے میں گزشتہ روز انہوں نے امریکا کے شہر نیویار ک میں ایک امیگریشن سینٹر کو نشانہ بنایا ۔ گزشتہ روز ایک شخص نے نیویارک کے علاقے پنگھامٹن میں امریکن سوک ایسوسی ایشن کی عمارت میں موجود امیگریشن سینٹر کے دفتر میں داخل ہو کر فائرنگ کر دی تھی جس میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت نے بیت اللہ محسود پر پچاس لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی مقرر کر رکھی ہے
thamker voa

مسلح شخص کی فائرنگ، تیرہ ہلاک

Posted by Anonymous on 1:38 PM

امریکی ریاست نیویارک میں ایک مسلح شخص نے امیگریشن مرکز میں موجود درجنوں افراد کو یرغمال بنانے اور ان میں سے تیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔
ریاست نیویارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نیویارک کے شمال مغرب میں واقع علاقے بنگ ہیمٹن میں پیش آیا جہاں ایک ویتنامی نژاد امریکی شخص نے امیگریشن مرکز میں داخل ہو کر امریکی شہریت کا امتحان دینے والے افراد پر فائرنگ کر دی۔
بنگ ہیمٹن پولیس کے سربراہ جوزف زکسکی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ امریکن سوک ایسوسی ایشن کی عمارت سے چودہ لاشیں ملی ہیں جن میں حملہ آور کی لاش بھی شامل ہے جس نے خودکشی کی۔ ان کے مطابق حملہ اور کے پاس سے دو دستی بندوقیں، گولیاں اور ایک شکاری چاقو بھی برآمد ہوا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق وضع قطع سے ایشیائی دکھائی دینے والا ایک شخص جس کی عمر بیس کے لگ بھگ تھی امریکی سوک ایسوسی ایشن کے امیگریشن مشورہ مرکز میں جمعہ کی صبح داخل ہوا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس شخص کا قد قریباً چھ فٹ تھا اور اس نے شوخ سبز رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ حکام کے مطابق حملہ آور نے پہلے عمارت کے عقبی دروازے کو اپنی گاڑی کھڑی کر کے بند کیا اور پھر صدر دروازے سے اندر آ کر فائرنگ کر دی۔
ریاست نیویارک میں معصوم شہریوں پر اس قسم کی فائرنگ کی نہ تو کوئی وجہ ہو سکتی ہے اور نہ بہانہ‘۔یہ نیویارک کے لیے ایک المناک دن ہے۔
ڈیوڈ پیٹرسن، گورنر ریاست نیویارک
حملہ آور نے پہلے استقبالیہ مرکز پر موجود دو خواتین کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد ان کمروں میں داخل ہو کر فائرنگ کی جہاں لوگ امریکی شہریت کا تحریری امتحان دینے میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق عمارت میں موجود چھبیس افراد گولیوں کی آواز سن کر تہہ خانے میں چھپ گئے جبکہ دیگر چالیس لوگ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ان میں سے چار شدید زخمی تھے۔ایک عینی شاہد کے مطابق اس نے پندرہ افراد کو عمارت سے اپنے ہاتھ سروں پر رکھے باہر نکلتے دیکھا۔' پولیس اہلکاروں نے انہیں ایمبولنسوں تک پہنچایا جو انہیں جائے وقوعہ سے لے گئیں‘۔
ایک مقامی ہسپتال کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں تیس کے قریب افراد کو لایا گیا ہے جن میں سے کچھ کوگہرے زخم آئے تھے۔ریاست نیویارک کے گورنر پیٹرسن نے اس واقعے کو ’انتہائی خوفناک واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست نیویارک میں معصوم شہریوں پر اس قسم کی فائرنگ کی نہ تو کوئی وجہ ہو سکتی ہے اور نہ بہانہ‘۔یہ نیویارک کے لیے ایک المناک دن ہے‘۔
امریکہ میں حالیہ ماہ میں مسلح افراد کی جانب سے عام شہریوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ہی امریکی ریاست الباما میں ایک مسلح شخص نے گیارہ افراد کو گولی مار دی تھی جبکہ گزشتہ برس کے آخری دنوں میں ریاست کیلیفورنیا میں کرسمس سے ایک دن قبل سانتا کلاز کے لباس پہنے ایک شخص نے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
Thanker from bbc

لیزر سے دماغ کے کینسر کا علاج

Posted by Anonymous on 9:26 PM
کینسر دنیا بھر کی مہلک ترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 2004ءمیں 70 لاکھ سے زیادہ افراد کینسر کی کچھ مخصوص اقسام کے باعث ہلاک ہوئے۔دماغ میں کینسر زدہ رسولیوں کی سرجری اکثر اوقات سب سے مشکل ہوتی ہے تاہم اس سلسلے میں ایک نیا طریقہ علاج دریافت کرلیا گیا ہے جس میں لیزر ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔

اوہائیو میں کلیولینڈ کلینک کے سرجن لیزر کے ایک مخصوص طریقے سے اپنی ایک مریضہ کے دماغ کی رسولی کا علاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر جین بارنٹ کلیولینڈ کلینک سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہٴ علاج میں ہم عام دماغ کو محفوظ رکھنے اور رسولی سے متاثرہ حصے کے علاج کے لیے لیزر شعاعوں کا استعمال کرتے ہیں۔

سرجری کے اس طریقے میں سرجن ایم آر آئی سکینر کی مدد سے دماغ کے متاثرہ حصے کا علاج لیزر سے کرتے ہیں۔ایم آرآئی تصویروں کی مدد سے ڈاکٹر لیزر کی شعاعوں سے رسولی کو ہدف بناتے ہیں اور اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سٹیون جونز بھی کلیولینڈ کلینک سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ہم مریض کے دماغ کی سیکنگ کرتےہوئے رسولی میں درجہٴ حرارت میں اضافے کی سیکنڈوں کے حساب سے نگرانی کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم رسولی کو ختم کررہے ہیں۔

ڈاکٹر بارنٹ کا کہنا ہے کہ سرجری کے دوران جب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ لیزر کی حرارت سے دماغ کے صحت مند خلیے متاثر ہونا شروع ہورہے ہیں تو ہم لیزر بند کردیتے ہیں۔

یہ طریقہٴ علاج ابھی تجرباتی مراحل میں ہے تاہم مریضوں کےایک چھوٹے گروپ پر یہ کارگر ثابت ہوا ہے۔ اگر اس طریقہٴ علاج کی حکومت کی طرف سے منظوری مل گئی تو ڈاکٹروں کو توقع ہے کہ دماغ کی کینسرزدہ رسولیوں کا علاج کرسکیں گے جن کو اس وقت سرجری کے ذریعے نکالنا بہت مشکل ہے۔

عورتیں مردوں سے تین گنا زیادہ بولتی ہیں: نئی تحقیق

Posted by Anonymous on 9:19 PM
آپ نے شاید یہ لطیفہ سن رکھا ہوکہ جھوٹ بولنے کا مقابلہ ایک ایسے شخص نے جیتا جس نے کہا تھا کہ میں نے ایک جگہ دوعورتوں کو چپ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس لطیفے سے ظاہر ہے کہ خواتین کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ باتونی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایسے مردوں کی بھی کمی نہیں ہے جو دوسروں کو بولنے کاموقع ہی نہیں دیتے اور ایسی خواتین بھی اکثر مل جاتی ہیں جو بہت ہی کم بولتی ہیں۔ تاہم اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بولنے میں خواتین کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اوسطاً مردوں کی نسبت تین گنا زیادہ زیادہ بولتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب ایک خاتون نے لکھی ہے جو ماہرنفسیات بھی ہیں۔ڈاکٹر لویان بریزن ڈین نے اپنی کتاب ’فی میل برین
Dr. Louann Brizendine‘ میں لکھا ہے کہ ایک عام عورت پورے دن اوسطاً 20 ہزار الفاظ بولتی ہے جوکہ ایک عام مرد سے اوسطاً 13 ہزار الفاظ یعنی تین گنا زیادہ ہیں۔ڈاکٹر بریزن ڈین کہتی ہیں کہ عورتوں کے زیادہ باتونی ہونے کی کئی وجوہات ہیں،اول یہ کہ وہ مردوں کی نسبت زیادہ تیز بولتی ہیں۔دوسرا یہ کہ گفتگو میں ان کا دماغ زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے اور بولتےوقت مردوں کےمقابلے میں ان کے دماغ کے زیادہ خلیے کام کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین بولتے ہوئے خود کو اچھا محسوس کرتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ خواتین کے زیادہ بولنے کی ایک اہم وجہ ان کے دماغ کی ساخت ہے۔ قدرتی طورپر عورت اور مرد کے دماغ میں فرق ہوتا ہے اور عورت کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بولنے سے ہے، زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ باتیں کرتی ہیں۔ڈاکٹر بریزن ڈین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ خواتین کے زیادہ بولنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بولنے کے دوران ان کے دماغ کے مخصوص حصوں میں بڑی تیزی سے کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ تبدیلیاں ان تبدیلیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جو ہیروئن کے عادی ایک شخص کے دماغ میں اس وقت آتی ہیں جب اس پر گہرا نشہ طاری ہوتا ہے۔ڈاکٹر بریزن ڈین کا کہنا ہے کہ زیادہ بولنے کا تعلق ان ہارمونز سے ہے جو جنس کا تعین کرتے ہیں اور جذبات اور یاداشت سے بھی متعلق ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون پیدائش سے پہلے ہی جسم میں بن جاتے ہیں۔ چنانچہ لڑکے اور مرد، لڑکیوں اور عورتوں کی نسبت کم بولتے ہیں اور وہ اس طرح اپنے جذبات اظہار بھی نہیں کرپاتے جس طرح عورتیں کرسکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبات کے اظہار میں عورت کا دماغ آٹھ رویہ شاہراہ کی مانند ہوتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں مرد کا دماغ دیہی علاقوں کی چھوٹی سی سڑک کی طرح ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں لڑکے اورمرد صنف مخالف کی نسبت کم گفتگو کرتے ہیں۔
The Female Brainکتاب کی منصفہ ڈاکٹر بریزن ڈین کہتی ہیں کہ اس مخصوص ہارمون کی وجہ سے دماغ کا وہ حصہ بھی متاثر ہوتا ہے جس کا تعلق سننے سے ہے۔اس بنا پر مردوں کی قوت سماعت میں ایک خاص نوعیت کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اکثر بیویاں عام طورپر یہ شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ان کا خاوند یا تو ان کی بات پر دھیان نہیں دیتا یا اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیتا ہے جیسے کہ وہ بہراہو۔ مصنفہ کہتی ہیں کہ مرد اکثر اوقات جان بوجھ کر ایسا نہیں کررہے ہوتے۔ اس کی وجہ ان کی دماغ کی وہ قدرتی ساخت ہے جس کا تعلق سننے کی صلاحیت سے ہے۔ ڈاکٹر بریزن ڈین کی یہ کتاب ایک ہزار سےزیادہ ان مریضوں کے مطالعے اور تحقیق پر مبنی ہے جو ان کے کلینک میں آئے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ میری نظر سے ابھی تک کوئی ایسا شخص نہیں گذرا جس کے دماغ میں عورتوں اور مردوں دونوں کی خصوصیات موجود ہوں۔وہ کہتی ہیں کہ دماغ یا تو صرف مرد ہوتا ہے یا پھر صرف عورت۔مرد اور عورت دونوں دنیا کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔باتونی ہونے کے ساتھ ساتھ عورت میں قدرتی طورپر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنے گردو پیش کی تبدیلیوں کا ادراک کرکے اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلے کرسکے۔تاہم کئی دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ وہ مخصوص ہارمون جس کا ذکر ڈاکٹر بریزن ڈین نے اپنی تحقیق میں کیا ہے مرد اور عورت کی شخصیت میں فرق قائم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے لیکن اس سلسلے میں معاشرتی عوامل اور ماحول بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔آکسفرڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیبرا کیمرن کہتی ہیں کہ ہماری گفتگو میں روانی اور تیزی کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم کس سے بات کررہے ہیں اور ہم کیا کہنے جارہے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ اس بارے میں بہت سے تحقیقی مطالعوں کو سامنے رکھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ بولنے کے حوالے سے عورتوں اور مردوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔
Thanker for voa

سائبر کرائمز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

Posted by Anonymous on 4:20 PM

مشہور سائنسی رسالے سائنٹفک امریکن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انٹرنیٹ کرائمز کمپلینٹ سینٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2008ء میں سائبر کرائمز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔انٹرنیٹ کرائمز کمپلینٹ سینٹر ، ایف بی آئی اور نیشنل وائٹ کالر کرائمز سینٹر کے تعاون سے کام کرنے والا ایک ادارہ ہے جس کی مالی معاونت کانگریس کرتی ہے ۔ یہ غیر فلاحی ادارہ قانون نافذ کرنے والوں کو مالیاتی اور سائبرکرائمز کی تفتیش کے طریقوں کے بارے میں تربیت فراہم کرتا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ 2008ءمیں اسے سائبر فراڈ، کمپیوٹر ہیکس، چائلڈ فونو گرافی اور دوسرے آن لائن جرائم کے بارے میں 275284 شکایات موصول ہوئیں جو 2007ءکی نسبت 33 فی صد زیادہ تھیں، جب ادارے نے 206884 شکایات ریکارڈ کی تھیں۔ ادارے کا کہناہےکہ ان جرائم سے لوگوں کو لگ بھگ 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جو 2007ءکے مقابلے میں دس فی صد زیادہ تھا۔گذشتہ سال ادارے کو جوکل شکایات موصول ہوئیں ان میں سے 33 فی صد کا تعلق آن لائن خرید و فروخت سے تھا۔ جن میں یا تو چیزیں خریداروں تک نہ پہنچ سکیں یا ان کی قیمت کی ادائیگیاں نہ ہوسکیں۔ یہ شرح 2007ءکے مقابلے میں 32 فی صد زیادہ تھی۔ آن لائن نیلامی کے فراڈ کے واقعات 25 فی صدرہے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں معمولی کم تھے۔ کمپیوٹر فراڈ، اور چیک فراڈ کی شکایات کل تعداد کا ساڑھے 19 فی صد تھیں۔مجموعی طورپر ان جرائم کا ہدف بننے والے افراد کو اوسط 931 ڈالر فی کس کا نقصان اٹھانا پڑا۔ادارےکے مطابق حکام سے رابطہ کرنے والوں میں سے لگ بھگ 74 فی صد نے کہا کہ انہوں نے اس فراڈ کے بارے میں شکایات ای میل کے ذریعے درج کرائیں۔جب کہ دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ گذشتہ سال جعلی ای میلز کے سب سے بڑے فراڈ میں ایف بی آئی کے نام سے بھیجی جانے والی جعلی ای میلز کی ایک خاصی بڑی تعداد بھی شامل تھی جن میں لوگوں سےان کی ذاتی معلومات، مثلاً بینک اکاؤنٹ نمبر اس جھوٹے دعوے کے ساتھ مانگے جاتےتھے کہ ادارے کو ایک بڑے مالیاتی فراڈ کی تحقیق کے لیے ان نمبروں کی ضرورت ہے۔کچھ جعلی ای میلز میں تو یہ دعویٰ تک کیا گیا کہ وہ ایف بی اے کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر، ڈپٹی ڈائریکٹر جان ایس اسٹول یا بیور کے کسی اعلیٰ عہدے دار یا تفتیشی یونٹ سے براہ راست بھیجی جارہی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آئی کی طرف سے نجی مالیاتی امورکے بارے میں امریکی شہریوں سے امی میل کے ذریعے رابطہ نہیں کیا جاتا۔2008ءمیں ایک اور سب سے عام سائبر کرائم میں وہ ہیکرز شامل تھے جنہوں نے لوگوں کے ذاتی ای میل اکاونٹس میں نقب لگائی ۔یہ جرم اس طریقے سے کیا گیا کہ کسی شخص کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کرکے اس میں موجود دوسرے لوگوں کے ای میل پتوں پر ، متعلقہ شخص کی جانب سے کسی خاص اکاؤنٹ نمبر میں رقم منتقل کرنے کے لیے کہا گیا۔مثلاً یہ کہہ کر میں اس وقت کسی دوسرے ملک میں پھنس گیا ہوں جہاں مبینہ طورپر مجھے لوٹ لیا گیا ہے اور مجھے ہوٹل کے بلوں اور سفر کے اخراجات کے لیے اس وقت ایک ہزار ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔
I thanker from voa

مشیر داخلہ کا بیان انتہائ مایوس کن

Posted by Anonymous on 10:51 AM


لاہور مناوا بھاگہ کے مقام پر صبح 7:30 کے لگ بھگ انڈین دہشتگردوں کا حملہ جس میں ابتدای (شیخوپورہ نیوز) اطلاعات کے مطابق 30 کے لگ بھگ ہلاکتیں ہویئں اور 50سے زائد افراد کے زخمی ہو گیے ہیں ۔۔ تازہ اطلاع کے مطابق ایک فائر سے ایک دیہاتی کے پیٹ میں لگا۔۔ مشیر داخلہ کا نجی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو بہت ہی مایوس تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں پاکستان کی جہادی آرگنایزئشن ملوث ہو سکتی ھیں۔۔ جبکہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ھے جب انڈیا میں انتخابات قریب ھیں۔۔ ایک ماہ قبل بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے بمبی حملوں کے خلاف کاروائ نہ کی تو ایسے حملے مزید ہوں گے، جس سے ظاہر ہوتا ھے کہ ان حملوں میں براہ راست انڈین خفیہ ایجنسی راء ملوث ھے۔۔ اگر ان حملوں کو ماضی کی طرح بھلا دیا گیا تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہوا گا۔۔ اور ان حملوں میں عوام پاکستانی حکومت کو ہی ملوث سمجھے گی۔۔

مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں جیش محمد ،لشکر جنگھوی ،تحریک طالبان پاکستان ،اور لشکر طیبہ ملوث ہو سکتی ھے۔۔
جبکہ لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی کا دعوا ھے کہ انھوں نے آج تک پاکستان میں کاروائ نہیں کی اگر اسکا پاکستان کی حکومت کے پاس ثبوت ھے تو ہمیں فراہم کرے ۔۔ آج تک پاکستان کی خکومت اس بات کا ثبوت نہیں دی سکی۔۔ ان کا مزید کہنا تھا کی انکی تحریک کشمیر کی آزادی کے لیے ھے جو کشمیر کی آزادی تک جاری رھے گی۔۔

دوسری جانب جماعتہ الدعوہ کے شیخو پورہ کے امیر نے اسکی مزمت کرتے ہوے اسے دشمن کی پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش قرار دیا ۔۔

’پاکستانی کرکٹر آئی سی ایل سے آزاد‘

Posted by Anonymous on 10:34 AM




راؤنڈر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ بھارت کی متنازعہ انڈین کرکٹ لِیگ نے پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدے ختم کر کے انہیں کسی بھی اور جگہ معاہدہ کرنے کے لیے این او سی بھی جاری کر دیے ہیں۔

عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تمام پاکستانی کھلاڑی جو آئی سی ایل کے لیے کھیل رہے تھے پاکستان کے لیے کھیلنے کے لیے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں وہ اپنی دستیابی سے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر دیں گے۔

یہ خبریں بھی آئیں ہیں کہ محمد یوسف نے آئی سی ایل سے اپنا معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع پاکستان کرکٹ بورڈ کو دے دی ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کے مطابق ابھی کسی کھلاڑی نے باضابطہ طور پر کرکٹ بورڈ کو اس کی اطلاع نہیں دی اور اگر ان کھلاڑیوں نے کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا تو وہ اس کی تصدیق آئی سی ایل کی انتظامیہ سے کریں گے اور پھر ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس لِیگ میں پاکستان کے اکیس کھلاڑی شامل ہوئے تھے جن میں محمد یوسف، عبدالرزاق، عمران فرحت، عمران نذیر، شبیر احمد اور رانا نوید الحسن ایسے تھے کہ جن کا پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں بھی مستقبل تھا لیکن آئی سی ایل میں شرکت کے سبب وہ پاکستان کے لیے نہیں کھیل سکتے تھے۔

آئی سی ایل کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مؤقف واضح تھا کہ کوئی کرکٹ بورڈ بھی انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو اپنی قومی ٹیم میں شامل نہیں کر سکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تو آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی لیکن اس سال فروری میں سندھ ہائی کورٹ نے ان کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی
بشکریہ بی بی سی۔

لاہور، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ

Posted by Anonymous on 10:11 AM

لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس کے ٹریننگ سنیٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کے بعد قبضہ کرلیا ہے۔

ٹریننگ سنیٹر سے فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنائی دی گئی ہے اور کم از کم تیس پولیس اہلکارزخمی ہونے اور متعدد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے ٹریننگ سینٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ ٹریننگ سنیٹر جی ٹی روڈ پر لاہور سے کوئی بیس کلومیٹر واہگہ کی جانب واقع ہے اورصبح تقریباً پونے سات بجے چند مسلح افراد نے اس وقت حملہ کیا جب وہاں پولیس اہلکار تربیت لے رہے تھے۔عینی شاہدوں کےمطابق پہلے دھماکے اور پھر فائرنگ کی آواز سنائی دی گئی۔متعدد افراد زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں تاہم ابھی تک ان کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی چینل ایکسپریس نے چند ایسے مناظر دکھائے ہیں جن میں آٹھ کے قریب پولیس اہلکاروں کو کھلے میدان میں بے حس و حرکت پڑے دکھایا گیا ہے جبکہ تین دیگر اہلکار زمین پر رینگ کر ان کی جانب جانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سروسز ہسپتال میں چھ پولیس اہلکاروں کو داخل کرایا گیا ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ چھ سے سات ایسے شدت پسندوں نے کیا جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ٹریننگ سینٹر کے گارڈز کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔شدت پسندوں نے زیر تربیت غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کم از کم چھ ہلکے دھماکوں کی آواز بھی سنی گئی جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ دستی بم چلائے جانے کی آواز بھی ہوسکتی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی بھی شدت پسند ٹریننگ سنیٹر کے اندر موجود ہیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز آرہی ہے۔رینجرز کے علاوہ پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی اور ایلیٹ فورس کے جوان موقع پر پہنچ چکے ہیں۔اس سینٹر کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔خدشہ ہے کہ شدت پسندوں نے ابھی بھی زیرتربیت پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موقع پر موجود ہے اور وہ پولیس اہلکاروں کے کہنے کے باوجود جگہ خالی نہیں کر رہے۔

لاہور میں اسی مہینے کے شروع میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر پندرہ کے قریب شدت پسندوں نے راکٹ لانچر اور فائرنگ کے ذریعے دن دہاڑے حملہ کیا تھا۔اس حملہ میں کرکٹ ٹیم کے کارکن تو زخمی ہوئے تھے جبکہ متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد شدت پسند اطمینان سے فرار ہوگئے تھے اور پولیس ابھی تک ان میں سے کسی کو گرفتار نہیں کرسکی۔

سیکیورٹی ماہرین یہ خدشہ ظاہرکررہے تھےکہ وہ خطرناک شدت پسند کبھی بھی دوبارہ حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حالیہ حملہ میں وہ ہی شدت پسند ملوث ہیں یا کوئی نیا گروہ ہے۔


سیکیورٹی فورسز چاہتی ہیں کہ حملہ آوروں میں سے چند ایک کو زندہ گرفتار کیا جاسکے تاکہ پورے نیٹ ورک کو پکڑا جاسکے

بشکریہ بی بی سی۔


فا سٹ فوڈ بچوں کو موٹا پے کا شکار کر د یتی ہے ۔ سروے

Posted by Anonymous on 2:09 PM




مغربی ممالک میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق جن بچوں کے سکولوں کے نزدیک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس زیادہ ہوتے ہیں ان کی اکثریت موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔ سکول اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے درمیان جتنا فاصلہ کم دیکھا گیا موٹاپے کی شرح میں بھی اسی حساب سے اضافہ نوٹ کیا گیا۔ فاسٹ فوڈ غزاﺅں اور موٹاپے کے درمیان تعلق پر ہونے والی اس تحقیق میں سکولوں میں زیر تعلیم طالب علموں سے جب پوچھا گیا کہ آپ ہفتے میں کتنی مرتبہ فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ دو سے تین مرتبہ ہم وقفہ کے دوران فاسٹ فوڈ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سروے پر طبی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نئی نسل کو موٹاپے سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور دوسری جانب اس طرح کی قانون سازی کی جانی چاہیے جس کے تحت سکولوں کے نزدیک فاسٹ فوڈ کا کاروبار منع ہونا چاہیے
بشکریہ اردو ٹایم۔

زندہ بچھو کھانے کا ورلڈ ریکارڈ

Posted by Anonymous on 2:05 PM

یہ بات بہت سے لوگوں کے لئے ناپسندیدگی و کراہت کا باعث ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیت ہے کہ سعودی شہری ماجد المالکی ایک ہی بار 50 زندہ بچھو نگل سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ محیر العقول شخص سانپ، چھوٹے مگرمچھ اور چھپکلیاں بھی کھانے کے طور پر کھاتا ہے۔



ایک عرب ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے ماجد المالکی نے کہا کہ اسے ان حشرات اور جانوروں کا زہر نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے سب سے زیادہ زہریلے پیلے بچھو کھانے میں زیادہ مزا آتا ہے۔



ماجد المالکی نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر "گینیز بک آۡف ورلڈ ریکارڈ" کی ویب سائٹ پر موجود متعدد ویڈیو کلپ اور تصاویر بھی دکھائیں کہ جن میں اسے ایسے حشرات کو نگلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔۔ المالکی کا نام گذشتہ مہینے "گینیز بک" میں اس وقت شامل کیا گیا کہ جب اس نے سعودی عرب کے دارلحکومت میں 22 بچھو کھا کر ایک امریکی شہری ڈین شیلڈن کا ایک نشت میں 21 بچھو کھانے کا ریکارڈ توڑا۔



ایک سوال کے جواب میں ماجد المالکی نے کہا کہ " کہ میں 22 برس سے یہ کام کر رہا ہے، مجھے ایک مرتبہ بھی ان زہریلے حشرات کھانے سے زہر خورانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچھو کھاتے ہوئے اس کے ڈنگ والے حصے کو تھوڑا توڑ لیتا ہوں تاکہ یہ منہ کی جلد میں نہ پیوست ہو۔ انہوں نے کہا میں ایسے حشرات کھانے سے پہلے ان کا ڈنگ نہیں نکالتا۔ کسی بچھو کے ڈسنے پر مجھ پر زہر اثر نہیں کرتا۔



ماجد المالکی نے کہا کہ بچھو کے ڈسنے سے انسان مرتا نہیں، لیکن ایسی صورت میں کوئی شکار اگر خوف میں مبتلا ہو جائے تو وہ شدید بخار کیوجہ سے فوری طور پر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ "بچھو سے ڈسے جانے والوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ پرسکون رہیں کیونکہ ایسی صورت میں خوف ہی خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان کے معدے یا دانتوں میں السر نہیں تو بچھو کا زہر خطرناک نہیں ہوتا

بشکریہ اردو ٹایم۔

ملازمت پیشہ ماﺅں کے بچے عملی زندگی میں زیادہ ناکام ہوتے ہیں

Posted by Anonymous on 1:58 PM

نئی تحقیق کے مطابق ملازمت پیشہ خواتین کے بچے ،گھریلو خواتین کے بچوں کی نسبت ذہنی اور جسمانی سطح پر زیادہ کمزور اورسست واقع ہوتے ہیں اور یہ بچے عملی زندگی میں زیادہ ناکامیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ چرچ آف انگلینڈ چلڈرن سوسائٹی اور آرچ بشپ آف کنٹربری کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے میں موجودہ عالمی اقتصادی صور تحال، خواتین کی ملازمتوں اور معاشی خود کفالت کیلئے جدوجہد کے تناظر میں بچوں کی فلاح وبہبود سے متعلق حقائق جاننے کی کوشش کی گئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ جن بچوں کی مائیں انہیں ایک سال سے پہلے ہی دوسروں کے حوالے کر کے ملازمت پر جاتی ہیں وہ بچے ڈر خوف کے علاوہ متعدد جسمانی مسائل کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ ملازمت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ایسی مائیں بچوں پر خود پر اور نہ ہی ملازمت پرتوجہ دے پاتی ہیں جس سے پورا خاندان ذہنی دباﺅ کاشکار ہو جاتا ہے۔ سروے میں دیکھا گیا کہ جن 70 فیصد ماﺅں نے 25 سال پہلے 6 سے 9 ماہ کے بچوں کو ” بچے پالنے والے پیشہ ورلوگوں“ کے حوالے کیا تھا وہ بچے16 سال کی عمر تک ذہنی اور جسمانی کمزوری کا شکار نظر آئے جس کی وجہ سے ان کی عملی زندگی متاثر ہوئی، سروے میں ایسے 50 فیصد جوڑوں کے بچوں کو بھی شامل کیا گیا جن کے درمیان طلاق واقع ہوئی ان بچوں کی حالت زار بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ سروے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی ضرورتوں کوپورا کرنے کیلئے خواتین کی ملازمت بظاہر ضروری نظر آتی ہے مگر ان کے بدلے بچوں کی تباہی کا سودا بہت مہنگا ہوتا ہے۔ بچوں کو مکمل تحفظ والد اور والدہ کی ہم آہنگی توجہ اور شفقت سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ مردوں کے بچے پالنے کے عمل میں بیویوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہیے کیونکہ بچے والد اور والدہ کے مکمل اشتراک عمل اور توجہ کے شدید بھوکے ہوتے ہیں
بشکریہ اردو ٹایم۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی کے القاعدہ سے روابط ہیں ، مولن ، پیٹریاس

Posted by Anonymous on 1:52 PM
واشنگٹن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی فوج کے سربراہوں ایڈمرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایک مرتبہ پھر الزام لگایا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے عناصر کے طالبان اور القاعدہ سے گہرے روابط ہیں، تعلقات ختم نہ کئے گئے تو آپریشن ناکام ہوجائے گا۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے اس الزام کو دہرایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے عناصر کے افغانستان اور بھارت میں عسکریت پسندوں سے روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی کامیابی کیلئے سب سے پہلے ان تعلقات کا ختم ہونا لازمی ہے۔ سینٹ کام کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایک اور امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے عناصر نے خود عسکریت پسندوں کے گروپ بنائے ہیں اور ان سے ان کے روابط کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں سے یہ تعلقات ختم نہ ہوئے تو امریکا کی خطے میں قیام امن کی کوششیں ناکام اور اعتماد کی فضا ختم ہوجائے گی۔

عالمی معاشی بحران: لندن میں ہزاروں افراد کا احتجاج

Posted by Anonymous on 1:50 PM


لندن: عالمی معاشی بحران کا شکار ہزاروں افراد نے لندن میں پانچ روزہ احتجاجی مارچ شروع کردیا۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں تاجروں کی تنظیموں، عالمگیریت کے مخالفوں، اور ماحولیات کے لئے کام کرنے والے اداروں کے ہزاروں کارکنان نے پانچ روزہ احتجاجی مارچ کا آغاز کردیا۔ احتجاجی مارچ کا مقصد پانچ روز بعد لندن میں ہونے والے جی ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس کی توجہ اصل مسائل کی جانب مبذول کروانا ہے۔ مارچ کوپٹ پیو پل فرسٹ کا نام دیا گیا ہے ۔مارچ میں مظاہرین نے عالمی رہنماوٴں سے مطالبہ کیا کہ مستقبل کی پالیسیوں میں نوکریوں کا تحفظ، انصاف کی بحالی، اور ماحولیاتی اصلاحات اولین ترجیحات ہونی چاہیں۔ پانچ روزہ مارچ وکٹوریا ایم بینک منٹ سے ہائیڈ پارک تک جاری رہے گا۔ ٹریڈ یونین کانگریس کے جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ احتجاجی مارچ عالمی رہنماوٴں کے لیے کھلا پیغام ہے،کہ کھلی منڈیوں اور معاشی بے قاعدگی کے نظریات ناکام ہوچکے،جنہیں ترک کرنا ہوگا۔ تجارتی کمپنی کے ترجمان جیک کورن نے کہا ہے کہ عوامی مفادات پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ احتجاج میں شرکت کے لیے پورے برطانیہ سے لوگ لندن میں جمع ہوئے احتجاج کے دوران بینکرز کے خلاف تلخ زبان استعمال کرنے پرایک پروفیسر کو معطل کردیا گیا۔ مارچ کے دوران پر تشدد واقعات کا خدشہ ہے۔

قطب جنوبی کے لیے خواتین کا مشن

Posted by Anonymous on 1:38 PM




خواتین پر مشتمل ایک ٹیم قطب جنوبی کے لیے روانہ ہو رہی ہےاور اس کی کوشش ہے کہ وہ دولتِ مشترکہ کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر یہاں پہنچے۔

پانچ برِ اعظموں سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین چھ ہفتے کے دوران آٹھ سو کلومیٹر(تقریباً پانچ سو میل) کا فاصلہ طے کریں گی۔وہ منفی تیس ڈگری فارن ہائٹ تک کے درجہ حرارت میں سفر کریں گی۔

انٹارکٹیکا کے اس دورے کا مقصد ماحولیاتی مسائل اور عالمی حدت کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے۔

ٹیم کی قیادت اکتیس سالہ فلِسٹی ایسٹن کر رہی ہیں جن کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک سے ٹیم کے باقی سات ممبران کا انتخاب کیا۔ اس سفر پر آنے کے لیے آٹھ سو خواتین نے درخواستیں دی ہوئی تھیں۔ ٹیم کی خواتین کا تعلق بھارت، قبرص، گھانا، سنگاپور، برونئی، نیو زی لینڈ اور جمیکا سے ہے۔

انٹارکٹکا میں سفر کرنا خاصا دشوار ہوگا۔ ٹیم کی کئی خواتین نے اس سفر کے لیے ناروے میں ہونے والی تربیت سے پہلے تو کبھی برف بھی نہیں دیکھی تھی۔

بھارت کی رینا کوشل دھرمشکتو اس ٹیم میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی واحد خاتون ہیں۔ وہ قطب جنوبی تک سفر کرنے والی پہلی بھارتی خاتون ہونگی۔ ان کا کہنا ہے کہ 'میرا اس مہم میں شریک ہونا جنوبی ایشیا کی خواتین کے لیے بڑی بات ہوگی کیونکہ اس خطے میں خواتین کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کیا جاتا۔

ناروے میں دو ہفتے کی تربیت کے بعد ٹیم لندن آئی جہاں اس کی ملکہ برطانیہ سے ملاقات ہوئی۔

ٹیم کی قیادت کرنے والی فلسٹی ایسٹن ماہرِ موسمیات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ماحولیاتی مسائل اور عالمی حدت کے بارے میں آگہی بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے رویوں اور عادتوں میں چھوٹی سی تبدیلی بھی بڑے پیمانے پر اثر کر سکتی ہے۔ان کے بقول ا س کی ایک اچھی مثال پلاسٹک کے تھیلوں کی ہے، اب لوگوں میں یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ ان کو پھینکنے کے بجائے ان کو صاف کر کے دو بارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں ماحول کو فائدہ ہوا ہے۔

قطب جنوبی کا یہ خصوصی مشن جنوری سنہ دو ہزار دس کو اختتام پذیر ہوگا۔ امکان ہے کہ اس کے بعد یہ تمام خواتین عالمی حدت کو کم کرنے کی ضرورت کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کوششوں میں مصروف رہیں گی۔

رینا کوشل دھرمشکتو کہتی ہیں کہ لوگوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ یہ دنیا ان کی نہیں، بلکہ انسانی نسلوں سے ادھار لیا ہوا ہے، ایک امانت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 'اس سلسلے میں لوگوں کی بے حِسی اور غیر ذمہ دار رویہ ختم کرنا ضروری ہے۔‘

اس انتہائی مشکل سفر پر جانے والی ٹیم کی ایک اور رکن قبرص کی سٹیفانی سولوموندیس کہتی ہیں کہ اس مہم میں شرکت سے وہ دنیا بھر کی خواتین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ 'ہم سب خواتین میں یہ صلاحیت ہے کہ ہم جس چیز کا بھی فیصلہ کر لیں، وہ ہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں بس یہ ارادہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم یہ کام کر کے ہی دکھائیں گے اور ہم کسی سے کم نہیں۔‘

قطب جنوبی جانے والی اس ٹیم میں گھانا کی باربرا ایریفوا یانئی، برونئی کی نجیبہ السفری، نیو زی لینڈ کی شارمین ٹیٹ، جمیکا کی کِم ماری سپینس اور سنگاپور کی صوفیا پینگ شامل ہیں
بشکریہ بی بی سی

امریکہ: برفانی موسم نے سیلاب کو سُست کردیا

Posted by Anonymous on 1:34 PM
شدید سردی میں درجۀ حرارت کے نقطۀ انجماد سے نیچے چلے جانے وجہ سے اُس سیلاب کی رفتار سُست ہوگئى ہے ، جس سے شمالی ریاستوں نارتھ ڈکوٹا اور منی سوٹا کے دو شہروں کو خطرہ درپیش ہے۔

ماہرین نے اب پیش گوئى کی ہے کہ رَیڈ رِیور میں پانی اُترنے سے پہلے اتوار کے روز بلند ترین سطح پر پہنچ جاےٴ گا ، جو 13 میٹر سے زیادہ بلند ہوسکتی ہے۔

یہ دریا پہلے ہی طغیانی کا گذشتہ بلند ترین ریکارڈ توڑ چکا ہے ، اور اس سے منی سوٹا کے شہر مور ہیڈ اور نارتھ ڈکوٹا کے شہر فارگو میں بدستور سیلاب آجانے کا خطرہ ہے۔

لوگوں نے ان شہروں میں رضاکاروں اور ہنگامی کارکنوں کی مدد سے بڑی محنت کے ساتھ ریت کے تھیلوں سے پُشتے تعمیر کیے ہیں۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ پُشتے سیلاب کا مقابلہ نہ کرسکیں۔

نیشنل گارڈ کے کم سے کم ایک ہزار 700 فوجی علاقے میں گشت پر ہیں اور وہ پُشتوں سے پانی کے ممکنہ اخراج اور ٹوٹ پھوٹ پر نظر رکھے ہوےٴ ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

صدر بارک اوباما نے ریڈیو پر اپنی ہفتہ وار تقریر میں کہا ہے کہ وہ صورتِ حال کا غور سے جائزہ لے رہے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ حکومت مدد کے لیے جو بھی ضروری ہوا وہ کرے گی۔

مسٹر اوباما کی تقریر میں اگرچہ بیشتر توجہ اقتصادی بحران پر مرکوز رہی ، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ ” قدرت کی طاقتیں ایسے طریقوں سے مداخلت کرسکتی ہیں، جو دوسرے بحرانوں کا سبب بن جاتے ہیں اور ہمیں اُن کا لازماً جواب دینا چاہےٴ اور فوراً جوابی اقدامات کرنے چاہئیں۔“

ISIکے خلاف الزمات مسترد

Posted by Anonymous on 1:32 PM




فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے ISPRکے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والے اعتراضات غلط اور بے بنیاد ہیں۔

ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کا اندازہ اس کی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی قربانیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ترجمان نے آئی ایس آئی کے خلاف الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر مصدقہ خبریں بدنیتی پر مبنی ایک مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد ملکی سلامتی کے ادارے کو بدنام کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اس ہفتے بین الاقوامی میڈیا میں افغانستان کے خفیہ اداروں کے سربراہ سے منسوب ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کی طرف سے بعض عناصر افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں مدد فراہم کررہے ہیں
بشکریہ وی او اے۔

خواتین اپنی عمر کے ساڑھے آٹھ سال شاپنگ میں گذارتی ہیں

Posted by Anonymous on 1:14 PM




عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین کا پسندیدہ مشغلہ خریداری ہے۔ تاہم بعض خواتین اس سے انکار کرتی ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں جی ای منی نے یہ جاننے کے لیے سروے کرایا کہ خواتین اوسطاً اپنا کتنا وقت خریداری پر صرف کرتی ہیں۔ اس سروے کے حیرت انگیز نتائج میل آن لائن میں شائع ہوئے ہیں۔


برطانیہ میں کیے جانے والے اس تازہ ترین جائزے سے معلوم ہو اہے کہ خواتین اپنی پوری زندگی میں کا آٹھ سال سے زیادہ عرصہ صرف خریداری پر صرف کرتی ہیں، یعنی اپنے خاندانوں کے لیے کھانے پکانے اور لباس کا بندو بست کرنے کے ساتھ ساتھ اور خریداری کے تھوڑے بہت نشے کے ساتھ ، اوسطاً ایک خاتون اپنی63 سال کی عمر میں حیرت انگیز طور پر 25184 گھنٹے اور53 منٹ تک کا عرصہ خریداری کرتے ہوئے گذارتی ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے 63 کی عمر کو پہنچنے تک ایک خاتون اوسطاً 3148 دن خریداری کے نام کرتی ہے یا آپ اسے اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے ساڑھے آٹھ سال خریداری کرتے ہوئے گذارتی ہے۔

یہ تازہ ترین جائزہ جی ای منی نے کروایا تھا اور اس میں 3000 سے زیادہ خواتین کو شامل کیا گیا تھا ۔ اس جائزے سے معلوم ہواکہ خواتین سال بھر کے دوران اوسطاً 301 مرتبہ خریداری کے لیے جاتی ہیں اور کل 399 گھنٹے اور 46منٹ خریداری میں صرف کرتی ہیں ۔

اس تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوا کہ خواتین خوراک کی خریداری میں ہر بار صرف ایک گھنٹہ صرف کرتی ہیں اور یوں ایک سال میں اوسطاً 84 مرتبہ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے لیے بازار جاتی ہیں او ر اس طرح کل 94 گھنٹے اور 55 منٹ سپر مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیا خریدنے پر صرف کرتی ہیں ۔
خواتین سال میں 90 مرتبہ اپنی ذاتی شخصیت کو بہتر بنانےکے سلسلے میں اشیاء خریدنے بازار جاتی ہیں ۔ اور وہ 30 مرتبہ لباس ، 15 مرتبہ جوتے ، باقی دوسری استعمال کی چیزیں 18 بار اورہار سنگھار کی چیزوں کےلیے27 بار بازارکا رخ کرتی ہیں ۔ وہ کل 100گھنٹے اور48 منٹ لباس اور فیشن کی چیزیں خریدنے پر صرف کرتی ہیں ۔

وہ مزید 40 گھنٹے اور 30 منٹ پیروں کے استعمال کی چیزوں اور 29 گھنٹے اور31 منٹ ایسی چیزیں مثلاً ہینڈ بیگ ، جیولری اور سکارف وغیرہ خریدے پر صرف کرتی ہیں ۔ وہ مزید چھوٹی موٹی چیزوں مثلاً ڈی اوڈرینٹ، شاور جیل وغیرہ خریدنے پرایک سال میں 17 گھنٹے اور 33 منٹ صرف کرتی ہیں
وہ مزید 19 بار یا 36 گھنٹے اور17 منٹ دوستوں اور خاندان کےلیے تحائف خریدنے پر صرف کرتی ہیں ۔

جائزے سے یہ بھی ظاہر ہواکہ خواتین سال میں 15بار ونڈو شاپنگ کے لیے جاتی ہیں اور 48 گھنٹے اور 51 منٹ صرف اپنی اگلی خریداری کی اشیاءکا جائزہ لینے میں صرف کرتی ہیں ۔جی منی کے اسٹیورٹ میک فیل کہتے ہیں کہ خواتین بہت سا وقت صرف اس یقین دہانی کے حصول میں خرچ کرتی ہیں کہ انہیں اپنی ضروریات کے لیے انتہائی موزوں چیزیں انتہائی موزوں قیمت میں مل سکیں ۔


کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اس لیے شاپنگ پرزیادہ وقت صرف کرنا پڑتاہےکہ گھروں کےمرد اس کام میں دلچسپی نہیں لیتے ۔ وہ باقاعدگی سے خریداری کےلیے بازارنہیں جاتے وہ لباس نہیں خریدے ۔جب کہ خواتین ہی ان کےلیےخریداری کرتی ہیں اور جب ان کو وہ چیز پسند نہیں آتی تو اسے واپس کرنےبھی جاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں خریداری میں اس لیے بھی زیادہ وقت لگتا ہے کہ دکاندار چند ہفتوں کے بعد دکان کی اشیاء کی جگہیں تبدیل کر دیتے ہیں اور اس لیے انہیں اپنی پسند کی چیز ڈھونڈھنے میں کافی وقت لگ جاتاہے
۔ بشکریہ وی او اے

لشکرِ طیبہ کی دھمکی کے بعد بھارتی کشمیر میں ہائی سیکیورٹی الرٹ

Posted by Anonymous on 5:07 PM

سرکاری ذرائع کے مطابق، بھارتی زیر ِ انتظام کشمیر میں پولیس کے علاوہ فوج، نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس کے شورش مخالف آپریشن گروپ کوچوکس کر دیا گیا ہے۔

ایسا اقدام لشکرِ طیبہ کی طرف سے دی گئی دھمکی کے نتیجے میں کیا گیا ہے کہ آئندہ ایام بھارتی حفاظتی دستوں کے لیے زیادہ بھاری ثابت نہ ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ دھمکی لشکرِ طیبہ کے سرکاری بیان میں درج تھی جو گذشتہ دِنوں اُس کے جنگجوؤں اور بھارتی فوج کے درمیان سرحدی ضلعے کُپواڑہ میں چھ دِٕن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

بھارتی عہدے داروں نے اعتراف کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران ایک میجر سمیت آٹھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 17 عسکریت پسند بھی مارے گئے جِن میں 15کا تعلق لشکرِ طیبہ سے اور باقی کا البدر مجاہدین سے تھا۔تاہم، لشکرِ طیبہ نے 25فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا کہ اُس کے صرف دس اراکین ہلاک ہوئے۔

لشکر نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں بھارتی فوجیوں اور دوسرے حفاظتی دستوں کو، اُس کے بقول، اِس سے بھی زیادہ شدید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

بھارتی فوج کے اعلیٰ کمانڈر بریگیڈیئر گُرمیت سنگھ نے الزام لگایا کہ لشکرِ طیبہ کو کنٹرول لائن کو عبور کرنے میں پاکستانی فوج کی مدد حاصل تھی۔

لشکرِ طیبہ کی طرف سے مزید حملے کرنے کی دھمکی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کشمیر میں ہائی سیکیورٹی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ بھارتی کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نئی دہلی میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ صورتِ حال اِس قدر گھمبیر نہیں کہ اِس پر تشویش کا اظہار کیا جائے، سری نگر میں عہدے داروں نے بتایا کہ پورے صوبے میں حفاظتی دستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چوکس رہیں۔

سینٹرل رزور پولیس فورس کے سربراہ ڈی کے پاٹک نے کہا کہ لشکر کی طرف سے سری نگر جیسے شہری علاقوں میں پُر تشدد کارروائیاں کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔لہٰذا، ہر جگہ حفاظتی دستے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہیں
بشکریہ وی او اے۔